حضرت زبیر ؓ بن العوام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جولائی 2009ء میں صحابیٔ رسولؐ حضرت زبیر ؓ بن العوام (کنیت ابوعبداللہ) کی سیرت پر ایک مضمون مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت زبیرؓ کے والد کا نام عوام اور والدہ کا نام صفیہ تھا جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپؓ حضرت خدیجہؓ کے حقیقی بھتیجے تھے اور آپ کا نسب پانچویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپؓ حضرت ابو بکر ؓ کے داماد تھے۔
حضرت زبیرؓ ہجرت نبوی سے28سال قبل پیدا ہوئے۔ والد بچپن میں انتقال کر گئے تھے۔ والدہ نے تربیت میں تادیب اور سختی سے کام لیا تاکہ آپ ایک بہادر اور دانا انسان بن جائیں۔ لڑکپن میں ایک جھگڑے میں آپ نے مکہ کے ایک نوجوان کو مکّہ مار کر اُس کا ہاتھ توڑ دیا۔ حضرت صفیہّؓ کو شکایت پہنچی تو انہوں نے شکایت کرنے والوں سے پوچھا پہلے بتاؤ کہ تم نے زبیر کو کیسا پایا ۔بہادر یا بزدل؟
حضرت زبیرؓ کا قد لمبا تھا۔ سواری پر بیٹھتے تو پاؤں زمین کو چھوتے۔ رنگ سفید، جسم ہلکا پھرتیلا، رخسار ہلکے، داڑھی بھی ہلکی اور سرخی مائل تھی۔
حضرت زبیرؓ نے سولہ برس کی عمر میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر اسلام قبول کیا۔ ابتدائے اسلام میں حضرت زبیرؓ پربھی بہت سختیاں ہوئیں۔ ان کا چچا ان کو چٹائی میں باندھ کر دھوئیں کی دھونی دیتا۔ آپ کا دم گھٹنے لگتا مگر آپ ایمان پر قائم رہے۔ ظلم وستم انتہا کو پہنچا تو پہلے حبشہ اور کچھ عرصہ بعد مدینہ ہجرت کی سعادت پائی۔
کمسن ہونے کے باوجود بہادری اور جاںنثاری آپ کا طرّہ امتیاز تھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں کسی نے مشہورکردیا کہ نبی کریمؐ کو مشرکین نے گرفتار کرلیا ہے۔ آپؓ نے سنا تو تلوار سونت کر فوراً رسول اللہ ؐ کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا؟۔ عرض کیا کہ حضورؐ میں توآپ کی گرفتاری کا سن کر دیوانہ وار آپ کی طرف چلا آیا ہوں۔ رسول اللہ ؐنے نہ صرف اس فدائی کے لئے بلکہ آپ کی تلوار کے لئے بھی دعا کی۔
مکہ میں ابتدا میں آپ کی مؤاخات حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے ہوئی۔ مکّہ میں قیام کے دوران بعد میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہؓ کوبھی آپکا بھائی قراردیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد حضرت سلمہ ؓبن سلامہ سے بھائی چارہ ہوا جو بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے انصار میں سے معزز بزرگ تھے۔
حضرت زبیرؓ تمام غزوات میں شامل ہوئے۔ آپ کی شجاعت و بہادری ضرب المثل تھی۔ غزوۂ بدر میں زرد رنگ کا عمامہ سر پہ باندھ رکھا تھا۔ مسلمانوں کے پاس کُل دو گھوڑوں میں سے ایک پر آپؓ سوار تھے۔ اس جنگ میں وہ اس جانبازی اور دلیری سے لڑے کہ جس طرف نکل جاتے دشمن کی صفیں تہ و بالا کرکے رکھ دیتے۔مشہور تھا کہ اس روز فرشتے بھی زبیرؓ کی پگڑی جیسی زرد پگڑیاں پہنے نازل ہوئے تھے۔
ایک مشرک نے بلند ٹیلے پر کھڑے ہوکر دعوتِ مبارزت دی۔ حضرت زبیرؓ لپک کر اس پر حملہ آور ہوئے مگر تھوڑی دیر میں دونوں قلابازیاں کھاتے ہوئے ٹیلے سے نیچے آنے لگے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں میں سے جو پہلے زمین پر آرہے گا وہی ہلاک ہوگا۔ ایساہی ہوا۔ وہ مشرک پہلے زمین پر گرا اور مارا گیا۔
میدان بدر میں ایک اور سُورما عبیدہ بن سعید سرسے پاؤں تک زرہ بند تھا اور صرف آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔حضرت زبیرؓ اس کے مقابلے میں بھی نکلے اور تاک کر اُس کی آنکھ میں ایسا نیزہ مارا کہ وہ دوسری طرف سے باہر نکل گیا۔ اس کی لاش پر بیٹھ کر بمشکل کھینچ کر نیزہ نکالا گیا تو پھل ٹیڑھا ہوچکاتھا۔ آنحضرت ؐ نے زبیر کی بہادری کے نشان کے طور پر وہ نیزہ حضرت زبیرؓ سے مانگ کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ رسولؐ اللہ کی وفات کے بعد خلفائے راشدین میں یہ امانت بطور تبرک منتقل ہوتی رہی۔ یہاںتک کہ حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت زبیرؓ کے بیٹے حضرت عبداللہؓ کے پاس یہ نیزہ پہنچا جو اُن کی وفات تک ان کے پاس رہا۔
حضرت زبیرؓ نے جس بے جگری سے میدان بدر میں داد شجاعت دی اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سارا بدن زخموں سے چھلنی تھا۔ ایک زخم تو اتنا گہرا تھا کہ ہمیشہ کے لئے بدن میں گڑھا پڑگیا۔ آپؓ کی تلوار میں بدر کے دن گردنیں مارتے مارتے دندانے پڑگئے۔
غزوۂ اُحد میں مشرکین کے اچانک حملے کے وقت جو چودہ صحابہؓ ثابت قدم رہے ان میں حضرت زبیرؓ بھی شامل تھے۔ جنگ کے بعد رسول کریم نے جب بعض اطلاعات پر یہ خطرہ محسوس کیا کہ دشمن پھر پلٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو آپؐ نے ستّر صحابہ کے ساتھ دشمن کا تعاقب فرمایا۔ ان میں آپؓ بھی شامل تھے۔
غزوۂ خندق میں حضرت زبیرؓ کی ڈیوٹی خواتین کی حفاظت پر تھی جس کا حق آپ نے خوب ادا کیا۔ مدینہ کے یہود بنو قریظہ کے ساتھ اگرچہ مسلمانوں کا معاہدہ تھا لیکن مشرکین عرب کا چاروں طرف سے مدینہ پر ہجوم دیکھ کر وہ بھی بدعہدی پر اترآئے۔ یہ شدید سردی کے دن تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو آواز دی کہ کوئی ہے جو بنو قریظہ کی خبر لائے؟ تین مرتبہ آواز دینے پر ہر دفعہ ایک ہی آواز آئی اور یہ آواز جس جری پہلوان کی تھی وہ زبیرؓ تھے۔ انہوں نے ہر دفعہ لبیک کہا اور عرض کیا یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، مَیں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ پھر دشمن کی خبریں لے کر جب آپؓ واپس لوٹے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر نبی کا ایک حواری یعنی خاص مددگار ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے‘‘۔ اسی طرح فرمایا ’’اے زبیر! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!‘‘۔
حضرت زبیرؓ کو حدیبیہ میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔ اور رسول کریمؐ نے بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کے بارہ میں فرمایا تھا کہ ان میں سے کوئی آگ میں داخل نہ ہوگا۔
غزوۂ خیبر میں یہود کا رئیس مرحب حضرت علیؓ سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔ اُس کا دیوہیکل بھائی یاسر نہایت غضبناک ہوکر اپنے بھائی کا انتقام لینے کے لئے آگے آیا اور کہا کہ کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے۔ حضرت زبیرؓ آگے بڑھے تو آپ کی والدہ صفیہؓ پریشان ہوکر کہنے لگیں کہ آج زبیرؓ کی خیر نہیں۔ مگر آنحضورؐ نے فرمایا: نہیں ایسا نہیں ہو گا، زبیرؓ اس پرلازماً غالب آئے گا۔ چنانچہ آپؓ نے چند ہی لمحوں میں اُس کو زیر کرلیا۔
فتح مکہ کے موقع پر بھی حضرت زبیرؓ کو کلیدی خدمات کی توفیق ملی۔ پہلے آپؓ حضرت علی ؓ کے ساتھ اُس مہم میں شامل ہوئے جو مخبری کرنے والی شُتر سوار عورت کو گرفتار کرنے کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر بھجوائی تھی۔ پھر مکّہ میں داخلہ کے وقت لشکر کے چھوٹے چھوٹے دستے بنائے گئے۔ آخری دستہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور اس دستہ کے علمبردار حضرت زبیرؓ تھے۔ مکہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہونے کے بعد حضرت زبیرؓ اور حضرت مقدادؓ گھوڑوں پر سوار آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہؐ نے خود بڑی محبت کے ساتھ اپنے دست مبارک سے ان مجاہدوں کے چہروں سے گردو غبار صاف کی اور ان کے مالِ غنیمت کے حصے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ گھوڑسواروں کے لئے ہم نے عام مجاہدین سے دوگنے حصے مقرر کئے ہیں۔ یہ گویا حضرت زبیرؓ کی شاندار خدمات پر رسولؐ اللہ کی طرف سے انعام کا اعلان تھا۔
فتح مکہ کے بعد حنین کا معرکہ پیش آیا۔ حنین کی گھاٹیوں میں چھپے ہوئے تیر انداز مسلمان مجاہدین کی نقل و حرکت دیکھ رہے تھے۔ حضرت زبیرؓ کی بہادری اتنی زبان زد عام تھی کہ کمین گاہوں میں چھپے ہوئے دشمن پر جب آپ نے حملے کا ارادہ کیا تو اُن میں سے ایک شخص نے آپ کو پہچان کر اپنے ساتھیوں کو پکا را کہ لات و عُزّی کی قسم! یہ طویل القامت شہ سوار یقینا زبیر ہے۔ اس کا حملہ بڑا خطرناک ہوتا ہے، تیا ر ہوجاؤ۔ اس اعلان کے ساتھ ہی دشمن کے ایک دستے نے آپؓ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ حضرت زبیرؓ نے نہایت جرأت اور دانشمندی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے یہ گھاٹی دشمنوں سے بالکل خالی کرواکردم لیا۔
جنگ یرموک میں بھی حضرت زبیرؓ کی غیرمعمولی شجاعت دیکھنے میں آئی۔ دورانِ جنگ چند نوجوانوں نے آپؓ سے کہا کہ اگر آپ دشمن کے قلب لشکر میں گھس کر حملہ کریں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ حضرت زبیرؓ کو تائید الٰہی سے اپنی قوتِ بازوپر ایسا اعتماد تھا کہ فرمانے لگے تم میرا ساتھ نہیں دے سکتے۔ مگرجب ان نوجوانوں نے اصرار کیا تو آپؓ اُن کے دستے کو ساتھ لے کر دشمن کے قلب لشکر پر حملہ آور ہوئے اور رومی فوج کے قلب کو چیرتے ہوئے تنہا لشکر کے اُس پار نکل گئے۔ پھر آپؓ حملہ کرتے ہوئے واپس لَوٹے تو رومی گھیراڈال کر ہرطرف سے آپؓ پر حملہ آور ہوئے اور سخت زخمی کردیا۔ آپؓ کی گردن پرتلواروں کے اتنے کاری زخم آئے کہ اچھے ہونے کے بعد بھی اس میں گڑھے باقی رہ گئے۔
آپؓ کے فرزند حضرت عروہؓ کہا کرتے تھے حضرت زبیرؓ کی پشت پر بدر کے زخم کے بعد یرموک کے زخم کا گڑھا تھا جس میں انگلیاں داخل کرکے مَیں بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔
فتح شام کے بعد حضرت عمروبن العاص ؓ نے مصر کا قصد کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کی مدد کے لئے دس ہزار سپاہ اور چارافسروں کی کمک بھیجی اور لکھا کہ ان افسروں میں سے ہر ایک ہزار سوار کے برابر ہے۔ ان میں سے ایک کمانڈرحضرت زبیرؓ بھی تھے۔ حضرت عمروبن العاصؓ نے محاصرہ فسطاط کے جملہ انتظامات آپؓ کے سپرد فرمائے۔ سات ماہ ہوگئے محاصرہ ٹوٹنے کو نہ آتا تھا۔ حضر ت زبیر ؓ نے ایک دن تنگ آکر کہا کہ آج مَیں مسلمانوں پر اپنی جان فدا کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے اور قلعہ کی دیوار کے ساتھ سیڑھی لٹکائی اور اوپر چڑھ گئے تاکہ فصیل کو پھلانگ کر قلعے میں داخل ہوجائیں۔ چند اور صحابہ نے بھی ساتھ دیا۔ فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔ تمام فوج نے جواباً ساتھ دیا۔ فسطاط کی سرزمین نعرہ ہائے تکبیر سے دہل اُٹھی۔ عیسائی سمجھے کہ مسلمان قلعے کے اندر گُھس آئے ہیں وہ بدحواس ہوکر بھاگے۔ دریں اثناء حضرت زبیرؓ نے موقع پاکر قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ اسلامی فوج اندر داخل ہوگئی اور مقوقس شاہ مصر کی درخواست پر ان کے ساتھ صلح کا معاہدہ طے پایا۔
اسکندریہ کے محاصرہ نے طول کھینچا توآپ نے سیڑھی لگا کر قلعے کی فصیل پارکرنا چاہی تو ساتھیوں نے کہا کہ قلعے میں سخت طاعون کی وَبا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہم بھی طعن و طاعون کے لئے ہی آئے ہیں پھر موت کاکیا خوف! یہ کہہ کر سیڑھی لگا کر دیوار پر چڑھ گئے۔
حضرت عمرؓ نے حضرت زبیرؓ کی ذہانت وفراست اور آپؓ کی خدمات کے باعث انتخاب خلافت کمیٹی میں آپؓ کا بھی نام بھی شامل فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ فرماتے تھے اگر میں کوئی عہد کروں یا ترکہ کی وصیت کسی کے حق میں کروں تو پسند کروں گا کہ زیبرؓ کے حق میں کروں کہ وہ ارکان دین میں سے ہے۔
حضرت عثمان ؓکے زمانہ میں حضرت زبیرؓ بڑھاپے کی عمر میں داخل ہوچکے تھے، اس لئے خاموشی سے زندگی بسر کردی۔ حضرت عثمان ؓ آپؓ پر بہت اعتماد کرتے تھے چنانچہ ایک بار شدید نکسیر پھوٹنے سے جب اتنے زیادہ بیمار ہوگئے کہ اس سال حج پر بھی نہیں جاسکے اور اپنی نازک حالت کی بنا پر ذاتی وصیت تک کردی تو قریش کے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ اپنا جانشین مقرر کر دیں۔ آپؓ نے مشورہ کیا تو حضرت زبیرؓ کا نام آنے پر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جہاں تک میرا علم ہے وہ سب سے بہتر ہے اور وہ رسول اللہ کو بھی بہت زیادہ پیارے تھے۔
35 ہجری میں فتنہ پردازوں نے حضرت عثمان ؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا تو حضرت زبیرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو خلیفۂ وقت کی حفاظت کے لئے بھجوایا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت زبیرؓ نے رات کے وقت نماز جنازہ ادا کرکے ان کی وصیت کے مطابق مضافاتِ مدینہ میں سپردخاک کیا۔
حضرت زبیرؓ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی تھی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
ایک دفعہ رسول کریم ؐ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو اس میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا اے حرا! تھم جا کہ تجھ پر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی نہیں۔
حضرت زبیرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرے جسم کا کوئی عضوایسا نہیں جو رسول اللہ کی معیت میں زخمی نہ ہوا ہو۔
حددرجہ احتیاط اور خشیّت الہٰی کا یہ عالم تھا کہ حضرت زبیرؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات بھی کثرت سے بیان نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے بیٹے حضرت عبداللہؓ نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب سے اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا مگررسول اللہ کی اس تنبیہ سے ڈرتا ہوں کہ ’’جس نے میری طرف غلط بات منسوب کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘۔
خداخوفی، حق پسندی، بے نیازی، سخاوت اور ایثار بھی حضرت زبیرؓ کے خاص اوصاف تھے۔ امانت دیانت کا یہ عالم تھا کہ لوگ کثرت سے امانتیں آپ کے پاس رکھتے تھے۔
حضرت زبیرؓ مالدارانسان تھے۔ مگر اس سے کہیں بڑھ کر وہ فیاض تھے۔آپؓ کے ایک ہزار غلام تھے جو روزانہ اجرت پر کام کرکے خاص رقم لے کر آتے تھے مگرکبھی آپؓ نے یہ مال اپنے اوپر خرچ کرنا پسند نہ کیا بلکہ جو آتا وہ خدا کی راہ میں صدقہ کردیتے۔
اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔ مال غنیمت سے بھی اس بہادر مجاہد نے بہت حصّے پائے۔ آپ کے تمام اموال کا تخمینہ اس زمانہ میں پانچ کروڑ دولاکھ درہم مکانات اور جائیداد غیرمنقولہ کی صورت میں تھا۔ رسول کریمؐ نے آپؓ کو مدینہ میں ایک وسیع قطعہ برائے مکان اور بنی نضیر کی اراضی میں سے بھی ایک قطعہ زمین عطا فرما یا تھا۔
مقام جُرف اور وادی عقیق میں بھی آپ کی جاگیر تھی جو حضرت ابوبکرؓ نے عطا کی تھی۔
حضرت زبیرؓ بیان کرتے تھے کہ رسول کریمؐ نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے بھی دعا کی تھی۔ آنحضورؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’تم میں سے جس کا واسطہ زبیر سے پڑے تو زبیراسلام کا ستون ہے‘‘۔
حضرت زبیرؓ کواپنی اولاد سے بہت محبت تھی اور
ان کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اپنے نو بیٹوں کے نام بدر اوراحدمیں شہید ہونے والے بزرگ صحابہ کے نام پر رکھے جیسے عبداللہ ؓ،حمزہؓ،جعفرؓ۔ اس تمنا کے اظہار کے لئے کہ خداکی راہ میں قربان ہوجائیں۔ ان میں بھی اپنی طرح شجاعانہ رنگ پیداکرنا چاہتے تھے۔
حضرت زبیرؓ کی طبیعت میں سادگی تھی۔ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود اسراف کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ البتہ آلاتِ حرب کا بہت شوق تھا جو یقینا جہاد کی محبت کی وجہ سے تھا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد جو شورش ہوئی اس میں آپ کی رائے بھی قاتلین عثمانؓ سے قصاص کے حق میں تھی ۔ جبکہ بلوہ کی صورت میں ہونے والی اس شہادت کے قاتلوں کی تعیین اور بار ثبوت اپنی جگہ ایک مسئلہ تھی۔ اس اختلاف رائے میںہی حضرت عائشہؓ او رحضرت علیؓ کے مابین جنگ جمل میں آمنا سامنا ہوا۔ حضرت زبیر ؓ اور حضرت طلحہؓ حضرت عائشہؓ کے ہمراہ تھے۔ حضرت علیؓ نے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ اگر آپ ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو ہمارے خلاف بھی کسی کی مدد نہ کریں۔ حضرت زبیرؓ نے عرض کیا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں آپؓ کے مقابلہ سے دستبردار ہوجاؤں۔حضرت علی ؓ نے کہا کہ میں کیسے نہ پسند کروں گا جبکہ آپ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد ہیں اور دیگر فضائل بیان کئے جس پر زبیرؓ راضی ہوگئے۔ پھر حضرت ابن عباسؓ وغیرہ نے بھی توجہ دلائی تو آپؓ میدان جنگ سے واپس لوٹ آئے۔ اس دوران ایک ظالم نے آپ پر حملہ کرکے شہید کر دیا۔ حضرت علیؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ زبیر کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو۔ بیان کیا جاتا ہے کہ قاتل کی طرف سے نیزہ مارنے سے پہلے اچانک حملہ کے بعد حضرت زبیرؓ نے دفاع کیا تو حملہ آور کو اندازہ ہوگیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا تب اُس نے اللہ کا واسطہ دے کر امان چاہی تو آپؓ نے تلوار روک لی۔ اُس نے پھر ساتھیوں کی مدد سے آپؓ کو شہید کیا۔
حضرت علی ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ طلحہ ؓ اور زبیرؓ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم ان (جنتیوں) کے سینوں سے کینہ نکال باہر کریں گے۔ وہ آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے بھائی بھائی ہوں گے۔ (الحجر:47)
حضرت زبیرؓ کی وفات پر حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنے اشعار میں کہا کہ حواری رسولؐ حضرت زبیرؓ نے نبی کریمؐ کی سنت اور آپؐ کے عہد پر خوب قائم رہ کر دکھا دیا اور وہ جو کہتے تھے اس پر عمل کرتے۔ وہی مشہور شہ سوار اور بہادر انسان تھے کہ جب دن روشن ہوتا تو وہ حملہ آور ہوتے تھے (رات کو حملہ نہ کرتے)۔ جب جنگ میں گھمسان کا رن ہوتا تو وہ اسے دہکا کر سفید کرتے اور دوڑتے ہوئے پہلے موت کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے۔
حضرت زبیرؓ نے 64 برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/bProV]

اپنا تبصرہ بھیجیں