حضرت سعد الاسود رضی اللہ عنہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22دسمبر 2009ء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مقرّب صحابی حضرت سعد الاسودؓ کی سیرۃ کا ایک روشن واقعہ مکرم قریشی محمد کریم صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سعدالاسودؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ یہاں موجود ہیں اور جو نہیں ہیں میں نے سب کو اپنی شادی کے لئے پیغام دیا لیکن ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ رشتہ داری قائم کرنے پر تیار نہ ہوا۔
حضرت سعدؓ اگرچہ ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے جاذب نظر نہیں تھے لیکن آپ کا دل نور ایمان سے منور ہو چکا تھا۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست پر ان کا نکاح حضرت عمر بن وہبؓ کی ایک خوبصورت ذکی اور حسین صاحبزادی سے کرادیا اور فرمایا کہ اب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔ چنانچہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر بازار میں اپنی نئی دلہن کے لئے کچھ تحائف خریدنے تشریف لے گئے۔ بازار میں ہی آپ نے منادی کرنے والے کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ اے خدا کے شاہسوارو! جہاد کے لئے سوار ہوجاؤ اور اس کے عوض میں جنت کی بشارت لو۔ حضرت سعدؓ کا اس آواز کو سننا تھا کہ تمام ولولے اور جوش سرد پڑگئے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کا خون رگوں میں دوڑنے لگا اور اپنی نئی نویلی دلہن کے لئے تحائف کا خیال ترک کر دیا اور جہاد کے لئے تلوار، نیزہ اور گھوڑا خریدا اوراور عمامہ باندھ کر مہاجرین کی جماعت میں پہنچے۔ آپ کو اس لباس میں کسی نے نہ پہچانا۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو دیکھا مگر پہچان نہ سکے۔ آپؓ نے میدان جنگ میں خوب شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ جب گھوڑے نے چلنے سے جواب دے دیا تو آستین چڑھا کر پیدل لڑنے لگے۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی آواز کو پہچانا اور آپ کو آواز دی۔ مگر آپؓ پر وارفتگی کا عالم طاری تھا۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کا علم نہیں ہوا اور لڑتے لڑتے خدا تعالیٰ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی شہادت کی خبر ہوئی تو ان کی نعش کے پاس تشریف لائے اور آپ کا سر ا ٹھا کر گود میں رکھ لیا اور ان کا اسلحہ اور گھوڑا آپ کی بیوہ کے پاس بھجوادیا اور ان کے سسرال کو یہ پیغام کہلا بھیجا کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری لڑکی سے بہتر لڑکی کے ساتھ ان کی شادی کر دی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/nk8Oz]

اپنا تبصرہ بھیجیں