حضرت سیدہ امتہ الحئی بیگم صاحبہؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍فروری 2007ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ کے قلم سے حضرت سیدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں 20؍اکتوبر 1995ء اور 9؍فروری 1996ء کے شماروں میں حضرت سیدہ کی سیرت پر ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں روشنی ڈالی جاچکی ہے۔
حضرت سیدہ امۃالحئی بیگم صاحبہؓ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃالمسیح الاول کی بیٹی تھیں جو آپ کی اہلیہ ثانیہ حضرت اماں جی صغریٰ بیگم صاحبہ کے بطن سے یکم اگست 1901ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ بچپن سے ہی نہایت ذہین اور زیرک تھیں۔ حضورؓ آپ کی بچپن کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ہماری ایک چھوٹی سی بچی ہے وہ عقل نہیں رکھتی پر ہمیں دیکھ کر کاغذ، قلم، دوات سے لکیریں ڈالتی رہتی ہے‘‘۔
حضرت حافظ غلام رسول صاحب لنگوی آپؓ کی ذہانت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک روز نماز فجر کے بعد حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ، مولوی محمد احسن صاحبؓ امروہی اور دیگر صحابہؓ بھی موجود تھے۔ حضرت امۃالحیٔ مرحومہ کی عمر اُس وقت قریباً چار سال کی تھی اور وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہتی تھیں۔ میں نے حضرت اقدس کا یہ شعر پڑھا:

آسماں اے غافلو! اب آگ برسانے کو ہے

اور سادگی سے غافِلو کی بجائے غافَلوپڑھ دیا۔ حضرت امۃ الحئی صاحبہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ نہیں مولوی صاحب! غافَلو نہیں بلکہ غافِلو ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے مجھے فرمایا کہ اس نے تو آپ کی غلطی نکال لی۔ اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا: دیکھو کس قدر فہیم بچی ہے اور اس کا ذہن رسا کیسا ہے۔ میں نادم سا ہوا، اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا: ندامت کی کوئی بات نہیں انسان سے سہو ہو ہی جاتا ہے۔
حضرت خلیفہ اولؓ نے بچپن ہی سے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا۔ ایک بار آپؓ سے فرمایا: اگر تم سورۃ بقرہ ہماری منشاء کے مطابق ہم کو سنا دو تو ہم تم کو سردست دوسوروپیہ بطور انعام دیں گے۔ چنانچہ حضرت سیدہ نے یہ انعام حاصل کرلیا۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کے متعلق جو آرزوئیں اور خواہشیں حضورؓ کی تھیں وہ بھی قرآن مجید ہی کے مرکز اور محور کے گرد گھومتی تھیں۔
حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحبؓ کی اہلیہ خلافت اولیٰ کے زمانہ میں پہلی بار قادیان آئیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ اُس وقت سیدہ امتہ الحئی کی عمر آٹھ نو سال کی ہوگی اور آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ نیزہ بازی کا کھیل کھیلا کرتی تھیں اور سر پر ایک سفید رومال باندھے رکھتی تھیں کیونکہ حضورؓ اُن کو ننگے سر پھرنے سے منع کرتے تھے۔ ماہ رمضان میں عبدالمحی عرب سحری کے وقت حضورؓ کے گھر پر تراویح پڑھایا کرتے تھے اور بہت خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھتے تھے۔ سیدہ امۃالحئی باوجود چھوٹی عمر ہونے کے روزانہ باقاعدہ تراویح پڑھتی تھیں اور دینی کاموں کو بہت شوق سے کرتی تھیں۔ آپ کو حضورؓ کا درس سننے کا بھی بہت شوق تھا۔ جب بھی حضورؓ عورتوں میں درس دیتے تو فوراً قرآن شریف لے کر آبیٹھتیں۔
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ کے سامنے ذکرہوا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے کسی دوست کو اپنی لڑکی کا رشتہ کسی احمدی سے کرنے کو ارشاد فرمایا مگر وہ دوست راضی نہ ہوا۔ اتفاقاً اس وقت امۃالحئی صاحبہ، جو اس وقت بہت چھوٹی تھیں، سامنے آگئیں۔ آپؓ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ مجھے تو اگر مرزاکہے کہ اپنی اس لڑکی کو نہالی (ایک مہترانی) کے لڑکے کو دیدو تو میں بغیر کسی انقباض کے فوراً دیدوں گا۔ یہ کلمہ سخت عشق و محبت کا تھا مگر نتیجہ دیکھ لیں کہ بالآخروہی لڑکی حضور کی بہو بنی اور اس شخص کی زوجیت میں آئی جو خود حضرت مسیح موعودؑ کا حسن و احسان میں نظیر ہے۔
حضرت سیدہ امۃالحئی ؓ 31؍مئی 1914ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے عقد میں آئیں اور یہ رشتہ بے شمار خیر و برکات کا موجب بنا۔ آپؓ نے ہی حضرت مصلح موعودؓ کو احمدی خواتین کی ترقی کیلئے لجنہ اماء اللہ بنانے کی تحریک کی اور اس کی سب سے پہلی سیکر ٹری بھی آپؓ ہی تھیں۔ آپؓ نے ساری زندگی احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ آپؓ شادی کے بعد دس سال زندہ رہیں اور یہ سارا عرصہ خدمت دین سرانجام دیتی رہیں۔ 10؍دسمبر 1924ء کو قادیان میں آپؓ نے وفات پائی جبکہ حضورؓ اپنے پہلے سفر یورپ سے ابھی واپس آئے ہی تھے۔ آپؓ کی وفات پر حضور نے فرمایا:… سلسلہ کی عورتوں کی علمی ترقی کی اُن کے دل میں اس قدر تڑپ تھی کہ میرے نزدیک ساری جماعت میں اس قسم کی کوئی عورت موجود نہیں ۔ مزید برآں وہ مجھ سے اس قسم کا عشق رکھتی تھیں کہ شاید کسی خاوند کو ایسی محبت کرنے والی بیوی نہ ملی ہو۔
اسی طرح بہشتی مقبرہ میں تدفین کے متعلق حضورؓ نے مجلس معتمدین کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرمایا:
…مرحومہ کی جائداد، مہر و دیگر زیورات وقیمت زمین جو مرحومہ نے خود اپنی زندگی میں فروخت کردی تھی کل تین ہزار روپیہ سے کچھ کم تھی۔ میں مرحومہ کی وصیت کے مطابق اس کے ایک تہائی (ایک ہزار روپیہ) کو صدر انجمن کو بھیجتا ہوں۔ مرحومہ کی جائیداد میں سے جو حصہ شرعاً میرا بنتا ہے اس کے متعلق بھی وعدہ کرتا ہوں کہ روپیہ میسر ہوتے ہی میں فی سبیل اللہ کارکنان مقبرہ بہشتی کے حوالہ کردوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر شریعت اجازت دیتی تو مرحومہ موجودہ وصیت سے بہت زیادہ وصیت کرتی۔ …
آپؓ کا جنازہ حضورؓ نے 11؍دسمبر کی صبح جماعت کثیر کے ساتھ اُس مقام پر پڑھایا جہاں حضرت مسیح موعودؑ کا جنازہ رکھ کر پڑھاگیا تھا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ کے قدموں میں تدفین ہوئی۔ 12؍دسمبر 1924ء کو نماز جمعہ کے بعد حضور نے ایک مرتبہ پھر ان کا جنازہ پڑھایا اور خطبہ جمعہ میں فرمایا: …میرے دل کی یہ بھی خواہش ہے کہ میں ان کا جنازہ آج پھر اس بابرکت مقام میں بھی پڑھوں جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ ہے…۔ میں اس بات کے کہنے سے بھی نہیں رک سکتا کہ عورتوں پر خصوصیت سے میری اس بیوی کا احسان ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ کی وفات کے بعد میرا منشاء نہیں تھا کہ میں عورتوں میں درس دیا کروں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت ہی بڑی ہمت کا کام ہے کہ ایسے عظیم الشان والد کی وفات کے تیسرے روز ہی امتہ الحئی نے مجھ کو رقعہ لکھا، اس وقت میری ان سے شادی نہیں ہوئی تھی کہ مولوی صاحب مرحوم اپنی زندگی میں ہمیشہ عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے اب آپکو خدا نے خلیفہ بنایا ہے، حضرت مولوی صاحب نے اپنی آخری ساعت میں مجھے وصیت فرمائی کہ میرے مرنے کے بعد میاں سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں درس دیا کریں اسلئے میں اپنے والد صاحب کی وصیت آپ تک پہنچاتی ہوں۔ وہ کام جو میرے والد صاحب کیا کرتے تھے اب آپ اس کو جاری رکھیں۔ وہ رقعہ ہی تھا جس کی وجہ سے میرے دل میں ان سے نکاح کا خیال پیدا ہوا۔ پس اگر اس درس کی وجہ سے کوئی فائدہ عورتوں کو پہنچا ہو تو یقیناً اس کے ثواب کی مستحق بھی مرحومہ ہی ہے کیونکہ میرا اپنا منشاء عورتوں میں درس جاری رکھنے کابالکل نہ تھا بلکہ حق تو یہ ہے کہ عورتوں میں خطبہ، لیکچرز اور سوسائٹیاں اور ہر ایک خیال جو عورتوں کے متعلق ہوسکتا ہے اس کی محرک وہی ہیں۔
ایک خاتون اہلیہ محمد حسین بٹ صاحب نے اپنے جوشِ تبلیغ کو بیان کرنے کے بعد لکھا کہ میں خیال کرتی ہوں کہ اس کا تمام ثواب حضرت سیدہ امۃ الحی صاحبہ مرحومہ کو ملے گا جنہوں نے کمال شوق سے طبقہ اِناث میں تعلیم احمدیت کو حضور کی ہدایات کے مطابق رواج دیا۔
حضرت مصلح موعودؑ نے آپؓ جیسی وفادار اور وفاشعار بیوی کو بعد میں بھی یادرکھا اور جب حضرت سارہ بیگم صاحبہ سے نکاح کیا تو خطبہ نکاح میں فرمایا:
… اس وقت تک کوئی ایسی حالت مجھ پر نہیں گزری کہ میں نے اس نقصان (حضرت سیدہ کی وفات) کو بھلایا ہو اور آج تک میں نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں امتہ الحئی مرحومہ کے لیے دعا نہیں کی۔… میں سمجھتا ہوں کہ میری روح کو امتہ الحئی کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی۔ … مَیں نے یہ سمجھ کر شادی کی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اس خواہش کو پورا کروں کہ مسیح موعودؑ کے خاندان سے آپ کے خاندان کا خونی رشتہ قائم ہو جائے۔ لیکن میں نہیں جانتا تھا یہ میری نیک نیتی اور اپنے استاذ اور آقا کی خواہش کو پورا کرنے کی آرزو ایسے اعلیٰ درجہ کے پھل لائے گی اور میرے لئے اس سے ایسے راحت کے سامان پیدا ہوں گے … میں نے عمر بھر کوئی ایسی کامیاب اور خوش کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی…ان کے اندر ایک ایسا ایمان تھا حضرت مسیح موعودؑ پر، ایک ایسا یقین تھا اسلام کی صداقت پر کہ جو ایمان اور یقین بہت کم عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ … میں نے ہمیشہ ان کے ایمان کو خلافت کے متعلق ایسا مضبوط پایا کہ بہت کم مردوں میں ایساہوتا ہے۔ ان کی دین سے محبت، ان کی حضرت مسیح موعودؑ سے محبت، ان کی وہ حالت ایمانی جو دین کے دوسرے شعبوں کے ساتھ تھی میرے حساس قلب کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے متعدد مواقع پر آپؓ کی محبت اور اخلاص کا ذکر فرمایا ہے۔ آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ یعنی محترمہ صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، محترمہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ اہلیہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4bNqt]

اپنا تبصرہ بھیجیں