حضرت سید امیر علی صاحبؓ سیالکوٹی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 6؍جنوری 1999ء میں مکرم ملک محمد اکرم صاحب کے قلم سے حضرت سید امیر علی صاحبؓ کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔
حضرت سید امیر علی صاحبؓ سیالکوٹی اندازاً 1841ء میں سیدانوالی ضلع سیالکوٹ کے ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ محکمہ پولیس میں سارجنٹ کے عہدہ پر ملازم ہوئے۔ آپؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کے ابتدائی صحابہؓ میں شمولیت کا شرف حاصل تھا اور حضورؑ سے آپؓ کا تعلق 1888ء سے تھا۔ آپؓ بیان کرتے ہیں کہ قبولِ احمدیت سے پہلے میرا خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان ہی نہ تھا مگر جب سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور حضورؑ کی صحبت اختیار کی تو خدا تعالیٰ کے عجیب و غریب جلوے دیکھے۔ ہر روز خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی الہام کرتا ہے یا کسی بزرگ سے ملاقات کرواتا ہے۔ چنانچہ آپؓ کے کشوف و الہامات حضرت اقدسؑ کے حکم کے تحت اخبار میں شائع کئے جاتے تھے۔ آپؓ کی مستقل ڈائری بھی اخبار میں شائع ہوتی رہی۔
حضرت شاہ صاحبؓ اکثر قادیان آیا کرتے۔ 4؍مئی 1898ء کے جلسہ قادیان میں بھی شریک ہوئے۔ باوجود سرکاری ملازمت میں ہونے کے دعوت الی اللہ کا ایک چسکا رکھتے تھے۔ آپؓ کی اہلیہ نے آپؓ کی طویل دعوت الی اللہ کے بعد مارچ 1901ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد باقی خاندان کی توجہ بھی احمدیت کی طرف ہوگئی۔
آپؓ کو کشفاً بتایا گیا کہ آپؓ حضرت مسیح موعودؑ سے تبتّل کے معانی دریافت کریں۔ اس کشف کی بناء پر جب آپؓ نے معانی دریافت کئے تو حضورؑ نے ایک لمبی تقریر فرمائی اور آخر میں خلاصۃً فرمایا: ’’خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تبتّل ہے اور پھر تبتّل اور توکّل توام ہیں۔ تبتّل کا راز ہے توکّل اور توکّل کی شرط ہے تبتّل ۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے‘‘۔
حضورؑ نے آپؓ کا نام 313 صحابہ کی فہرست میں 79ویں نمبر پر درج کرکے فرمایا: ’’شاہ صاحب کو تو ایسے ہمارے تصدق کے زنجیر پڑے ہوئے ہیں۔ اور خدا کرے کہ اس قسم کے زنجیر سب کو پڑیں۔ ہم حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ ان کا خاتمہ اسی ایمان پر ہوگا‘‘۔ اسی طرح حضورؑ نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بعض خاص صحابہ کی تعریف فرمائی اور 25ویں نمبر پر آپؓ کا نام یوں درج فرمایا: ’’حبی فی اللہ سید امیر علی صاحب۔‘‘
اخبار شحنہ ہند کے ایڈیٹر نے حضورؑ کے خلاف جب بہت گند اچھالا تو بعض احباب نے اُس کو حضورؑ کے مقابل تفسیر نویسی کا چیلنج دیا۔ اُن احباب میں حضرت شاہ صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ آپؓ نے 23؍اکتوبر 1906ء کو اپنے گاؤں سیدانوالی میں وفات پائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں