حضرت شماس بن عثمان قریشی رضی اللہ عنہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27 جولائی 2009ء میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت شماس بن عثمان قریشی ؓ کی سیرت و سوانح پر مشتمل ایک مضمون مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔
حضرت شماسؓ کا اصل نام تواپنے والد کے نام پر عثمان تھا۔ مگر سرخ و سفید رنگ میں اتنے حسین اور خوبصورت تھے کہ چہرہ سورج کی طرح دمکتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کا لقب ہی شمس اور پھر شماس پڑ گیا یعنی سورج کی طرح روشن چہرہ والے۔
آپؓ قبیلہ بنی مخزوم میں سے تھے۔ والدہ صفیہ بنت ربیعہ بنو عبد شمس میں سے تھیں۔ اہلیہ اُمّ حبیب ابتدائی ہجرت کرنے والی مسلمان خواتین میں سے تھیں۔ آپؓ نے ابتدائی زمانے میں ہی قبول اسلام کی سعادت حاصل کی۔ اہل مکہ کی مخالفت کاسامنا کرنے کے بعد بالآخر حبشہ ہجرت کرنا پڑی۔ حبشہ ہجرت کرنے والے دوسرے گروہ میں حضرت شماسؓ بھی شامل تھے۔ بعد میں انہوں نے مدینہ ہجرت کی بھی توفیق پائی۔ یہاں آکر محلہ بنی عمرو بن عوف میں ٹھہرے اور حضرت مبشر ؓبن عبدالمنذرکے پاس قیام کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حنظلہؓ بن ابی عامر کے ساتھ ان کی مواخات قائم کرکے اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک فرمایا تھا۔
حضرت شماسؓ بدر اور اُحد کی غزوات میں نہایت دلیری اور بہادری کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ مگران کی غیرمعمولی خدمت میدانِ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو جانا ہے۔ میدان اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑنے والوں میں جہاں مشہور تیرانداز حضرت ابو طلحہؓ انصاری تھے اور حضرت طلحہؓ بن عبید اﷲ ہاشمی بھی تھے جنہوں نے اپنا ہاتھ بطورڈھال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے سامنے کررکھا تھااور ہر آنے والا تیر اپنے ہاتھ پر لیتے تھے۔ وہاں حضرت شماس ؓ بھی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اس طرح سینہ سپر ہوگئے کہ خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’’شماسؓ کو اگر میں کسی چیز سے تشبیہ دوں تو اسے ڈھال سے تشبیہ دے سکتا ہوں کہ وہ اُحد کے میدان میں میرے لیے ایک ڈھال ہی توبن گیا تھا اور میرے آگے پیچھے دائیں اور بائیں ہوکر حفاظت کرتے ہوئے آخر دم تک لڑتا رہا ۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جدھر نظر ڈالتے شماس ؓ آپ کو نہایت بہادری اور دلیری سے لڑتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔ آپ ؐ نے دیکھا کہ جو حملہ آور بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا شماس ؓ اپنی تلوار کے ساتھ مقابلہ کرکے ان کو پیچھے ہٹاتا ہے۔
ظاہر ہے دشمن کا ہدف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ جب وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ میں کامیاب ہوئے اور زخمی ہونے کے بعدرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی کی کیفیت طاری ہوگئی، تب بھی شماسؓ آگے ڈھال بن کر کھڑے رہے یہاں تک کہ خود شدید زخمی ہو گئے ۔اس حا لت میں ان کو مدینے لا یا گیا اور حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں تیمارداری کے لئے رکھا گیا۔ حضرت اُم سلمہ ؓ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں میرے گھر میں ان کی تیمارداری ہونی چاہیے۔ چنانچہ وہیں ان کی تیمارداری ہوئی۔اس شدید زخمی حالت میں ایک دن اورایک رات اس طرح گزارا کہ وہ کچھ کھا پی نہ سکتے تھے ۔اسی حال میں ان کی وفات ہوگئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شماس کوبھی اس کے کپڑوں میں ہی دفن کیا جائے جس طرح دوسرے شہداء کو ان کے لباس میں دفن کیا گیا۔ نیز فرمایا کہ شہداء کی طرح ان کی کوئی الگ نماز جنازہ بھی نہیں ہو گی اور تدفین بھی میدان اُحد میں کی جائے جہاں دیگر شہداء اُحد کی تدفین ہوئی۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہرپہلوسے شہداء اُحد کے زمرے میں شامل فرمایا۔
اس خوش بخت حسین و جمیل جوان ر عناکی عمر صرف چونتیس برس تھی جب وہ اپنے آقا و مولا حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہو گیا ۔ اس جوان موت سے حضرت شماس ؓکے اہل و عیال اور بہن بھائیوں کو صدمہ ہونا طبعی امر تھا ۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس پر مرثیہ کہا جس میں ان کی بہن کو تعزیت کرتے ہوئے وہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ ’’اے شماسؓ کی بہن! صبر کرو، دیکھو شماسؓ بھی تو ایک انسان تھا۔ وہ بھی حضرت حمزہ ؓکی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرفدا ہوگیا ہے۔ پس یہ ایک صبر کا معاملہ ہے تم بھی اس پر صبر کرو ۔‘‘

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/eAwXD]

اپنا تبصرہ بھیجیں