حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب

حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی سیرت کے بہت سے خوبصورت واقعات، متفرق احباب کے قلم سے، ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ مارچ 2000ء کی زینت ہیں۔
٭…مکرم سید قمر سلیمان احمد صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت میاں صاحب ایک ایسے انسان تھے جو تصنع سے بالکل پاک تھے۔ چھوٹی چھوٹی شفقتیں بس یونہی بکھیرتے رہتے۔ ایک دفعہ نو سال کی عمر میں مجھے ٹائیفائیڈ ہوا اور ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے بستر سے اٹھنے پر پابندی لگ گئی۔ اس دوران آپ تقریباً روزانہ صبح ہمارے یہاں تشریف لے آتے اور میرا دل بہلانے کے لئے بہت سی باتیں میرے ساتھ کرتے۔ اُس وقت آپ نے مجھے شطرنج کھیلنا بھی سکھایا۔
٭…مکرم حافظ مظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت میاں صاحب نے بیان فرمایا کہ قادیان میں بچپن کے زمانہ میں سب سے پہلے جس بزرگ نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ پہلے دایاں جوتا پہننا چاہئے اور بایاں پہلے اتارنا چاہئے، آج بھی جوتا پہنتے ہوئے اُس بزرگ کے لئے دعا کرتا ہوں۔
آپ کو انجمن کے بجٹ آمدو خرچ اور دیگر اہم مدات کے اعداد و شمار اکثر یاد ہوتے تھے۔ فرماتے تھے کہ جو اعداد و شمار ایک دفعہ میرے سامنے سے گزر جائیں، پھر بھولتے نہیں۔ اسی طرح لوگوں کی شکلیں خوب یاد رہتی ہیں۔
مخلوق خدا سے آپ کو بے انتہا محبت تھی۔ ایک بار یہ غیرمصدقہ اطلاع ملی کہ مخالفین احمدیت کی ایک کانفرنس جو ربوہ کے نواح میں منعقد ہورہی ہے، اُس میں سازش کے تحت بم دھماکہ کرکے ہمارے سر ڈالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کا ردّعمل جماعت کے حق میں بہت مضرّ ہوسکتا تھا۔ نہایت پریشانی کے عالم میں یہ بات جب حضرت میاں صاحب کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ ظاہر ہونے والے ردّعمل کو چھوڑو، پہلے یہ سوچو کہ اگر خدانخواستہ یہ حادثہ ہوگیا تو پھر بے گناہ انسانی جانوں کا کیا بنے گا اور ہم اس صورت میں اُن کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟۔
ایک دفعہ یہ اظہار فرمایا کہ مَیں ملاقات کے لئے پہلے وقت طے کرنے کے تکلّف میں نہیں پڑتا، ہر وقت دروازے کھلے ہیں، جو چاہے آئے۔
٭…مکرم محمد بشیر خالد صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1966ء میں جب حضرت میاں صاحب ناظر امور عامہ تھے تو میرے والد صاحب نے اپنے مالک کے خلاف شکایت کی کہ اُس نے تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی۔ آپ نے دریافت کیا تو مالک نے بتایا کہ اُسے تین ماہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کب سے آپ کے پاس ملازم ہیں۔ اُس نے کہا تین سال سے۔ آپ نے فرمایا کہ تین سال سے آپ نے انہیں رکھا ہوا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے آپ کو نقصان نہیں پہنچایا ورنہ آپ نہ رکھتے۔ اس لئے اب اگر چند ماہ کا نفع نہیں ہوا تو خود فیصلہ کریں کہ ان کی تنخواہ کیوں نہ دی جائے۔ حضرت میاں صاحب کی اس بات سے مالک قائل ہوگیا اور والد صاحب کا حق دیدیا۔
ایک مرتبہ مکان کی تعمیر کے سلسلہ میں مجھے تیس ہزار روپے کی فوری ضرورت تھی کہ اس رقم کے نہ ملنے سے کافی نقصان کا خدشہ تھا۔ خاکسار قرضہ کے لئے ناظر صاحب مال کے پاس گیا، انہوں نے بتایا کہ اب تو قرضہ ملنا ناممکن ہے کیونکہ سال کا آخر ہے، ہاں ایک صورت ہے کہ ناظر صاحب اعلیٰ کے پاس چلے جائیں۔ مَیں نے میاں صاحب کے سامنے درخواست پیش کی تو آپ نے بھی بجٹ کے ختم ہونے کا ذکر فرمایا ۔ جب مَیں نے تفصیل سے اپنی ضرورت پیش کی تو آپ نے اپنے ذاتی حساب سے مطلوبہ رقم دیئے جانے کی ہدایت فرمائی اور لکھا کہ جب تک رقم ادا نہ ہو، دفتر کھلا رہے۔ پھر قرضہ کی واپسی کیلئے پندرہ صد ماہانہ قسط کی ادائیگی کرنا تھی جو میری آمد کے لحاظ سے زیادہ تھی۔ ناظر صاحب نے حضرت میاں صاحب کو بتایا کہ یہ ایک ہزار روپے قسط ادا کرنے پر آمادہ ہیں تو آپ نے ازراہ نوازش فرمایا کہ جس طرح وہ ادا کرسکتے ہیں، ادا کردیں۔
٭…مکرم صالح محمد صاحب سابق باڈی گارڈ حضرت خلیفۃالمسیح بیان کرتے ہیں کہ خاکسار عملہ حفاظت کی کسی ضرورت کے لئے جب بھی حضرت میاں صاحب کے پاس گیا تو آپ نے بڑی دلداری سے توقع سے بڑھ کر عطا کیا۔ اگر کبھی کسی چیز کا اندازہ خرچ پیش کیا جو زیادہ معلوم ہوتا تھا، تو فرمایا کہ جس کے لئے ہم خرچ کر رہے ہیں اور جو تم مانگ رہے ہو، وہ کم ہے۔ ان کے لئے خرچ کرنا ضروری ہے، ان کی برکت سے تو اللہ ہمیں دیتا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس قسم کے فکر نہ کریں۔
٭…مکرم سید طارق محمود صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد 1983ء میں اسیر راہ مولیٰ رہے۔ جب رہا ہوکر آئے تو حضرت میاں صاحب نے بلاکر پوچھا کہ کوئی خواہش ہو تو بتائیں۔ والد صاحب نے عرض کی کہ میرا بیٹا فارغ بیٹھا ہے، اس کو ملازم رکھ لیں۔ آپ نے وعدہ فرمایا کہ کہیں بھی جگہ خالی ہو تو بتائیں۔ والد صاحب نے عرض کی کہ میرا بیٹا پڑھا ہوا نہیں۔ آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔ چنانچہ خاکسار کو مددگار کارکن کے طور پر رکھ لیا گیا۔
٭…مکرم برکت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1987ء کے لگ بھگ شیخوپورہ کے کسی گاؤں سے بعض دوست ایک شخص کو زنجیروں میں باندھ کر لائے۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ لانے والوں نے بتایا کہ یہ خطرناک پاگل ہے۔ حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کھول دو۔ چنانچہ اسے آزاد کردیا گیا تو حضرت میاں صاحب نے اُس بدحال شخص کو اپنے قریب بٹھایا اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں کرتے رہے۔ اس پر وہ شخص بالکل ٹھیک ہوگیا۔ آپ نے فرمایا کہ دوبارہ بھی اُس کو لے کر آئیں۔
حضرت میاں صاحب بہت باہمت اوربے تکلف تھے۔ ایک مرتبہ چند دن بیمار رہنے کے بعد دفتر تشریف لائے تو دفتر کے ایک کارکن مکرم محمد صدیق خان صاحب نے عرض کیا کہ آپ کچھ کمزور لگ رہے ہیں۔ حضرت میاں صاحب نے انہیں کہا کہ کرسی میرے قریب کرکے بیٹھو۔ پھر اپنی کہنی میز پر رکھ کر اپنا ہاتھ کھڑا کیا اور فرمایا کہ زورآزمائی کرو اور میرا ہاتھ میز پر لگاؤ۔ مکرم صدیق صاحب پہلے تو جھجکے، پھر پوری کوشش کی مگر آپ کا ہاتھ نیچے نہ لگاسکے۔ اس کے بعد انہوں نے اسی طرح ہاتھ کھڑا کیا تو حضرت میاں صاحب نے ایک ہی جھٹکے سے اُسے نیچے لگادیا۔
٭…مکرم خواجہ عبدالشکور صاحب (ڈرائیور) بیان کرتے ہیں کہ میری سروس کا آغاز تھا، نئی گاڑی تھی، لاہور جاتے ہوئے شیخوپورہ کے قریب ایک سائیکل سوار سے جو کھڑی ہوئی بس کے پیچھے سے سڑک کراس کر رہا تھا، گاڑی ٹکراگئی۔ سائیکل سوار ایک طرف گرا۔ وہ خود تو محفوظ رہا لیکن گاڑی کو نقصان پہنچا۔ واپس آکر اس حادثہ کی اطلاع حضرت میاں صاحب کو اس طرح دی کہ افسوس ہے کہ گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ آپ نے فرمایا: گاڑی کو چھوڑو، یہ بتاؤ کہ سائیکل والا بچ گیا؟۔ عرض کیا کہ اُسے کچھ بھی نہیں ہوا لیکن گاڑی نئی تھی…۔ فرمایا: یہ کہاں لکھا ہے کہ نئی گاڑی کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوسکتا، کوئی بات نہیں، شکر کرو آدمی بچ گیا۔
٭…مکرم نصراللہ خان ناصر صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب آپ جلسہ سالانہ کے موقع پر لنگرخانہ میں افسر بھی ہوا کرتے تھے تو آپ کا مزدوروں اور پکوائی والوں سے کام لینے کا عجیب رنگ تھا۔ جب روٹی کا سٹاک کم ہونے کی اطلاع ملتی تو نانبائیوں کا مقابلہ کروادیتے اور اوّل آنے والے نانبائی کو پچاس پچاس روپے کا انعام دیتے۔
اپنے خدام کے ساتھ ایسی عنایات ہوتیں اور بے تکلفی کا وہ رنگ ہوتا کہ نوجوان آپ کے اشارے پر چلتے، شفٹ اور چھٹی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ لنگر میں ایک بار میری ڈیوٹی دیگوں کی پکوائی پر تھی۔ آپ ایک مٹی کا پیالہ پکڑے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ پیالے میں سالن ڈلوا لاؤ۔ مَیں سالن لایا تو فرمایا یہ مجھے دو اور گرم روٹیاں لے آؤ۔ جب روٹیاں لایا تو وہیں بیٹھ گئے اور فرمایا: آؤ، دونوں مل کر کھاتے ہیں۔
آپ کی عنایت و احسانات کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ جو بھی حاجت مند آپکے پاس پہنچا، اُس نے یہی سمجھا کہ یہ کریمانہ سلوک خاص اُسی کیلئے ہے۔ اس عاجز پر تین چار بار ایسے احسان بھی کئے کہ قواعد کے مطابق حق نہیں بنتا تھا لیکن آپ نے فرمایا کہ یہ ضرورت مند ہیں اور جائز ضرورت کی وجہ سے ان کا حق ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/cP7mR]

اپنا تبصرہ بھیجیں