حضرت طلحہ بن براء انصاریؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اپریل 2010ء میں حضرت طلحہ بن براہ انصاریؓ کی سیرۃ و سوانح پر ایک مختصر مضمون مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت طلحہ ؓ بن براء انصاری بنی عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو یہ نوعمر لڑکے تھے، آنحضورؐ کو پہلی مرتبہ دیکھتے اور ملتے ہی آپؐ کی گہری محبت ان کے دل میں گھر کر گئی جس کے نتیجہ میں وہ دیوانہ وار آپؐ کے قریب ہوکر چمٹ جاتے اور آپؐ کی قدم بوسی کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان لڑکے میں اچانک یہ تبدیلی پاکر حیران ہوئے اور مسکرائے بھی۔ اس نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں میں کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیں اور میری بیعت قبول کریں۔ آپؐ نے ازراہ امتحان فرمایا کہ ’’ خواہ میں والدین سے قطع تعلق کا حکم دوں تو بھی مانو گے‘‘۔ یہ سوچ میں پڑگئے۔ کہتے ہیں کہ حضرت طلحہؓ اپنی والدہ سے بہت محبت اور احسان کا سلوک کرنے والے تھے۔دوسری بار پھر بیعت کے لئے عرض کیا تو یہی جواب ملا۔ تیسری مرتبہ عرض کیا تو آپؐ نے پوچھا پھر کس چیز کی بیعت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا دین اسلام قبول کرنے اور آپؐ کی اطاعت کرنے کی بیعت! آپؐ نے فرمایا: ’’اچھا جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کرکے آؤ۔‘‘اب طلحہ اٹھے اور تعمیل ارشاد کے لئے چل پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس بلوایا اور فرمایا ’’مجھے قطع رحمی کرنے اور رشتوں کے کاٹنے کیلئے نہیں بھیجا گیا ۔ میں نے چاہا تھا کہ تمہاری آزمائش کروں کہ بیعت میں شک و شبہ کی کوئی کسر تو باقی نہیں‘‘۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اس اطاعت شعار صحابی سے ایک عجیب محبت و الفت ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد جب طلحہؓ بیمار ہوگئے تو سخت سردی کے ایام اور بارش کا موسم تھا۔ نبی کریمؐ اس کے باوجود طلحہؓ کے گھر ان کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لے گئے ۔ آپؐ نے انہیں مدہوشی کی حالت میں پایا اور فرمایا ’’جب انہیں ہو ش آجائے تو مجھے بلوا لینا‘‘۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’مجھے لگتا ہے کہ طلحہ موت کے اس حملہ سے جانبر نہ ہوسکیں گے اگر وفات ہوجائے تو مجھے اطلاع کر دینا اور جلدی دفن کرنا کیونکہ مسلمان کی میت کو گھر میں روک رکھنا اچھا نہیں‘‘۔
حضرت طلحہ ؓآدھی رات کے قریب ہوش میں آئے تو اپنے آقا کا خیال آیا اور پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ میری عیادت کیلئے تشریف لائے تھے۔ اہل خانہ نے آنحضرتؐ کی آمد کا ذکر کیااور ہوش میں آنے پر انہیں بلوالینے کی بات بتائی۔وہ کہنے لگے اب آدھی رات کے وقت آنحضرتؐ کو نہ بلاؤ۔ مجھے رات کے وقت بلوانے میں آپ کے بارہ میں ایک تویہود کی طرف سے بھی خطرہ ہے دوسرے یہ خدشہ ہے کہ کوئی سانپ بچھو اندھیری رات میں نقصان نہ پہنچائے۔
پھرکہا: ’’اگر آج رات میری موت واقع ہو جائے تو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور میرے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنے کی درخواست کر دینا۔‘‘ادھر رسول کریمؐ کو بھی اپنے اس غلام صادق کی فکر تھی۔ فجر کی نماز کے بعد آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے طلحہؓ کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ وفات پاگئے ہیں آپ نے فوراً دعا کی:

اَللّٰھُمَّ اَلۡقِہُ یَضۡحَکُ اِلَیۡکَ وَ اَنۡتَ تَضۡحَکُ اِلَیۡہِ۔کہ

اے اللہ اس سے اس حال میں ملاقات کرنا کہ تو ا س سے خوش ہو اور وہ تجھ سے خوش ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی موت کی اطلاع کرنا تاکہ میں خود جنازہ میں شامل ہوں اور تدفین جلدی کرنا۔ رات جلد تدفین کے باعث آنحضرتؐ کواطلاع نہ ہو سکی اور نبی کریم ﷺ بنی سالم بن عوف نہ پہنچ سکے۔ خود حضرت طلحہؓ کی بھی یہی وصیت تھی کہ مجھے جلد دفن کر دینا اور میرے ربّ کے پاس مجھے پہنچا دینا۔ پھر صبح کے بعد نبی کریمؐ حضرت طلحہؓ کی قبر پر تشریف لے گئے۔ صحابہ نے صف بنائی۔ آپؐ نے طلحہؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اوران کی خواہش کے مطابق دعائے مغفرت کی۔ بلاشبہ آنحضرتؐ کی طلحہ ؓ کے حق میں یہ دعاکہ اے اللہ تو انہیں خوش کر اور راضی ہو اس مناسبت سے تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان سے راضی تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/EnRhl]

اپنا تبصرہ بھیجیں