حضرت طلحہ بن عبیداللہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍فروری 2010ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ کی سیرۃ و سوانح پر مشتمل مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپؓ کے بارہ میں قبل ازیں 8؍اپریل 2005ء کے اسی کالم میں مضمون شائع ہوچکا ہے۔
حضرت طلحہؓ کے والد عبیدا للہ بن عثمان اور والدہ صعبہ بنت عبد اللہ تھیں۔ ساتویں پشت میں مرّہ بن کعب پر آپ کا نسب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتاہے۔ آپ کے والد آپ کے قبول اسلام سے قبل ہی وفات پاگئے تھے۔ البتہ والد ہ صاحبہ نے اسلام قبول کیا اورلمبی عمر پائی۔ شہادت حضرت عثمانؓؓ کے وقت بھی وہ زندہ تھیں۔ چنانچہ محاصرہ کے وقت یہ غیور خاتون اپنے گھر سے باہر آئیں اور بیٹے طلحہؓ سے کہا کہ وہ اپنے اثر سے معاندوں کو دُور کریں۔ حضرت صعبہؓ قریباً 80 سال تک زندہ رہیں۔ حضرت طلحہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے 25 برس قبل پیدا ہوئے۔ ان کا رنگ گندمی اور چہرہ خوبصورت تھا۔ بال زیادہ تھے۔
حضرت طلحہ ہوش سنبھالتے ہی تجارتی مشاغل میں مصروف ہوئے۔ اپنے تجارتی سفروں کے دوران شام کے شہر بصرہ میں ایک راہب نے آپ سے پوچھا کہ کیا ’’احمد‘‘ ظاہر ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کون احمد؟ اس نے کہاابن عبد اللہ بن عبد المطلب۔ اس نے اسی مہینہ میں ظاہر ہونا تھااور وہ آخری نبی ہے اور اس نے حرم سے ظاہر ہو کر کھجوروں والی جگہ کی طرف ہجرت کرنی ہے۔پس تم اس سے محروم نہ رہنا۔ حضرت طلحہؓ کہتے ہیں اسی وقت سے یہ بات میرے دل میں گڑ گئی۔ واپس مکّہ آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا علم ہوا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دوستی تھی اور اُن کی تبلیغ کے نتیجہ میں ہی آپؓ نے اسلام قبول کرلیا۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپؓ کا نمبر آٹھواں ہے۔ اسلام قبول کرنے پر آپؓ کا بھائی عثمان آپؓ کو اور آپ کو مسلمان کرنے والے حضرت ابوبکرؓ کو ایک ہی رسّی میں باندھ کر مارا کرتا مگر یہ ظلم ان دونوں کے پائے استقامت میں کوئی لغزش پیدا نہ کرسکا۔
مکّہ میں قیام کے دوران رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہؓ کو حضرت زبیرؓ کا بھائی بنادیا تھا۔ ہجرت مدینہ کے وقت آپؓ ملک شام اپنے تجارتی قافلہ کے ساتھ گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اہل مدینہ کس طرح بے چینی سے سراپا انتظار ہیں۔ جلد ہی حضرت طلحہؓ نے تجارتی امور سمیٹے اور پروگرام کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے اہل و عیال کو لے کر مدینہ روانہ ہوئے۔ مدینہ حضرت ابیؓ بن کعب انصاری کے ساتھ آپ کا رشتۂ اخوت قائم ہوا۔
غزوۂ بدر میں حضرت طلحہؓ شامل نہ ہوسکے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قافلۂ قریش کی اطلاعات لینے کے لئے بھجوایا تھا۔ چنانچہ آنحضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطافرمایا اور یہ ارشاد بھی فرمایا کہ آپؓ جہاد کے ثواب سے محروم نہیں ہیں۔
میدان اُحد میں کفار کے دوسرے حملہ کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی صفوں میں بھگدڑ مچی تو صرف چند صحابہ ثابت قدم رہ سکے۔ حضرت طلحہؓ ان میں سرفہرست تھے۔ بہادر اور جانباز طلحہؓ نے عہد کررکھا تھا کہ خود قربان ہو جائیں گے مگر اپنے آقا پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے وہ تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ لیتے تو نیزوں اورتلواروں کے سامنے اپنا سینہ تان لیتے۔ کبھی دشمن ہجوم کرکے آپ پر حملہ آور ہوتے تو آپ شیروں کی طرح ایسے جھپٹتے کہ دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرکے آپ رسول اللہ کو ان کے نرغے سے نکال لاتے۔ایک دفعہ ایک ظالم نے کسی ہلّہ میں موقع پاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار کا بھرپور وار کیا۔ حضرت طلحہؓ نے اپنے ہاتھ پر لیا اور انگلیاں کٹ کر رہ گئیں تو زبان سے کوئی آہ نہیں نکلی بلکہ کہا کہ بہت خوب ہوا کہ طلحہؓ رسول خدا کی حفاظت میں ’’ٹُنڈا ‘‘ہوگیا۔ ’’طَلْحَۃ اَلشَّلَّائٓ‘‘ کے نام سے آپؓ مشہور تھے۔ یعنی ٹنڈا طلحہ۔ اور بجاطور پر آپ کو حفاظت رسولؐ میں ٹُنڈا ہونے پر فخر تھا۔
جب مشرکین کے حملہ کی شدت میں کچھ کمی آئی تو رسول ؐخدا کو حضرت طلحہ ؓنے اپنی پشت پر سوار کیا اور اُحد پہاڑی کے دامن میں ایک محفوظ مقام پر پہنچادیا۔ اس موقع پر رسول اللہ نے فرمایا کہ اے طلحہ!جبریل ؑ آئے ہیں وہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور وہ یہ خوشخبری دے رہے ہیں کہ قیامت کے دن تمہیں کوئی خوف نہیں ہوگا اور ہر خوف سے تمہاری حفاظت ہوگی۔
حضرت طلحہؓ کا سار ا بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ صدیق نے آپ کے بدن پر ستّر سے زیادہ زخم شمارکئے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ اُحد کا دن تو طلحہؓ کا دن تھا۔ خود رسولؐ اللہ نے آپ کی جانبازی کو دیکھ کر آپ کو ’’طَلْحَۃ اَلْخَیر‘‘ کا لقب عطا فرمایا کہ طلحہؓ تو مجسم خیر ہے ۔ حضرت عمرؓ آپ کو صاحبِ اُحد کہہ کر خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے کیونکہ اُحد کے روز حفاظت رسولؐ کا سہرا آپ ہی کے سرتھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُحد میں ایسا وقت بھی آیا کہ دائیں جبریل ؑ اوربائیں طلحہؓ کے سوا کوئی نہ تھا۔
تمام غزوات میں حضرت طلحہؓ نمایاں خدمات کی توفیق پاتے رہے۔
حدیبیہ، فتح مکّہ اور حنین میں بھی آپ شریک تھے اور غزوہ اُحد کی طرح حنین میں بھی جب لوگوں کے پاؤں اکھڑگئے تو طلحہؓ ثابت قدم رہے۔ سن 9 ہجری میں قیصر روم کے حملہ کی خبر سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو غزوۂ تبوک کی تیاری کا حکم دیا۔حضرت طلحہ ؓ نے اس موقع پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایک بیش بہا رقم پیش کردی اور بار گاہ رسالت سے فیاض کا لقب پایا۔ اسی دوران منافقین نے مسلمانوں کے خلاف ایک یہودی کے مکان پر جمع ہوکر ریشہ دوانیاں شروع کردیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہؓ کو یہ فرض سونپا کہ وہ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جاکر ان لوگوں کا قلع قمع کریں۔ آپ کو کامیابی کے ساتھ یہ خدمت سرانجام دینے کی توفیق ملی۔
حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو طَلْحَۃ اَلْخَیر ان کے دست وبازو ثابت ہوئے۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے اپنی آخری بیماری میں حضرت عمرؓ کو خلیفہ منتخب کیا۔ تو یہ حضرت طلحہؓ ہی تھے جنہوں نے حضرت عمرؓ کی طبیعت کی سختی کا اندازہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ سے یہ عرض کی کہ آپ خدا کو کیا جواب دیں گے کہ اپنا جانشین کسے مقرر کرآئے ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ بھی چونکہ خالصتاً تقویٰ پر مبنی تھا آپؓ نے بھی کیاخوب جواب دیا فرمایا: ’میں خدا سے کہوں گا کہ میں تیرے بندوں پر اس شخص کو امیر مقرر کرآیا ہوں جواُن میں سب سے بہتر تھا‘۔ بعد کے واقعات نے یہی فیصلہ درست ثابت کیا کہ حضرت عمرؓ ہی اس منصب کے لئے سب سے زیادہ اہل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت طلحہؓ کو بھی ان کی بھر پور اعانت اور نصرت کی توفیق عطافرمائی۔ حضرت عمر ؓ بھی آپؓ کی اصابت رائے کے قائل تھے۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ نے جن چھ اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی انتخاب خلافت کے لئے مقررفرمائی تھی کہ وہ اپنے میں جس پر اتفاق کریں اسے خلیفہ منتخب کرلیں اس کمیٹی میں حضرت طلحہؓ بھی شامل تھے ۔ حضرت طلحہؓ کی بے نفسی، تواضع اور ایثار کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبدالرحمان ؓبن عوف کی رائے اور حضرت طلحہؓ کی تائید سے حضرت عثمانؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔
حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت کے آخری سالوں میں جب شورش عام ہوئی تو حضرت طلحہؓ نے حضرت عثمانؓ کی بھرپور تائید کی اور اپنے صاحبزادے محمد کو خلیفۂ وقت کی حفاظت کے لئے قصرخلافت بھجوایا۔ جب مفسدین نے حملہ کرنے میں پہل کردی تو محمد بن طلحہؓ نے بھی اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق ان کا مقابلہ کیا مگر بدبخت مفسد پچھلی طرف سے مکان میں داخل ہوئے اور حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا۔
حضرت طلحہؓ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ خشیّت الٰہی اور محبت رسول سے آپؓ کا پیمانہ لبریز تھا۔ جب آیت مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوا… الخ (الاحزاب:24) نازل ہوئی تو اس میں ان مردان خدا کا تذکرہ تھا جنہوں نے اللہ سے اپنے عہد سچ کر دکھائے اور اپنی منّتیں پوری کیں اور کچھ ہیں جو انتظار میں ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہؓ سے فرمایا کہ اے طلحہؓ! تم بھی ان خوش نصیب مردانِ وفامیں شامل ہو جو اپنی قربانی پوری کرنے کی انتظار میں ہیں۔
آپ کے ہم عصر قیس کہا کرتے تھے کہ میں نے طلحہؓ سے زیادہ کسی کو خدا کی راہ میں بے لوث مال خرچ کرتے نہیں دیکھا۔ غزوہ ذی القرد میں چشمہ بیسان کے پاس سے مجاہدین کے ساتھ گزرتے ہوئے حضرت طلحہؓ نے اسے خرید کر خدا کی راہ میں وقف کردیا تھا۔ اپنی جائیداد سات لاکھ درہم میں حضرت عثمان ؓکو فروخت کی اور سب مال خدا کی راہ میں خرچ کردیا۔
آپ کی بیوی سودہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ ایک دفعہ حضرت طلحہؓ کو اداس دیکھ کر وجہ پوچھی کہ کہیں مجھ سے تو کوئی خطا سرزد نہیں ہوگئی۔ تو فرمانے لگے نہیں ایسی توکوئی بات نہیں دراصل میرے پاس ایک بہت بڑی رقم جمع ہوگئی ہے اور میں اس فکر میں ہوں کہ اُسے کیا کروں۔ میں نے کہا اسے تقسیم کروادیجئے۔آپ نے اسی وقت اپنی لونڈی کو بلایا اور چار لاکھ کی رقم اپنی قوم کے مستحقین میں تقسیم کرادی۔
حضرت طلحہؓ بنو تمیم کے تمام محتاجوں اور تنگ دست خاندانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ لڑکیوں اور بیوگان کی شادیوں میں ان کی مددکرتے ۔ مقروضوں کے قرض ادا کرتے۔ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے کسی کو یہ شعر پڑھتے سنا: ؎

فَتًی کَانَ یُدْنِیِْہِ الْغِنٰی مِنْ صَدِ یِقِہٖ
اِذً امَّا ھُوَ اسْتَغْنٰی وَیُبْعِدُہُ الفَقْرٗ

یعنی میرا ممدوح ایسا شخص تھا کہ دولت و امارت اسے اپنے دوست کے اور قریب کر دیتی تھی جب بھی اسے دولت و فراخی نصیب ہوتی۔ اور غربت وفقر اسے اپنے دوستوں سے دور رکھتے یعنی کبھی تنگی میں بھی کسی سے سوال نہ کرتے۔ حضرت علیؓ نے یہ شعر سنا تو فرمایا ’’خدا کی قسم! یہ صفت حضرت طلحہؓ میں خوب پائی جاتی تھی‘‘۔
مہمان نوازی حضرت طلحہؓ کا خاص وصف تھا۔ ایک دفعہ بنی عُذرہ کے تین مفلوک الحال افراد نے اسلام قبول کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ صحابہؓ میں سے کون ان کی کفالت اپنے ذمہ لیتا ہے۔ حضرت طلحہؓ نے بخوشی حامی بھرلی اور ان تینوں نو مسلموں کو اپنے گھر میں لے گئے اور وہیں ٹھہرایا اور ان کی میزبانی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اُن میں سے دو ساتھی تویکے بعد دیگرے دو غزوات میں شہید ہوئے اور تیسرے طلحہؓ کے گھر میں ہی وفات پاگئے۔
حضرت طلحہؓ کی پہلی شادی حضرت حمنہ بنت حجش سے، دوسری حضرت اُمّ کلثوم بنت ابی بکرسے، تیسری شادی فارعہ بنت ابوسفیان سے اورچوتھی رقیّہ بنت ابی اُمیّہ سے ہوئی۔ ان چاروں بیویوں کی بہنیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں۔ یوں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف تھے۔ آپؓ کے اخلاق کا ایک خوبصورت نقشہ آپ کی اہلیہ اُمّ ابان نے کھینچا ہے۔ انہیں بہت رشتے آئے تھے مگر انہوں نے حضرت طلحہؓ کی کئی شادیوں کے باوجودان کے ساتھ نکاح کو ترجیح دی۔ ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی وجہ حضرت طلحہؓ کے اخلاق فاضلہ ہیں۔ وہ فرماتی تھیں کہ میں طلحہؓ کے ان اوصاف کریمانہ سے واقف تھی کہ وہ ہنستے مسکراتے گھر واپس آتے ہیں اور خوش و خرّم باہر جاتے ہیں۔ کچھ طلب کروتو بخل نہیں کرتے اورخاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے۔ نیکی کرو تو شکرگزار ہوتے ہیں اور غلطی ہوجائے تو معاف کردیتے ہیں۔
حضرت طلحہؓ کی کئی بیویوں سے اولاد تھی ۔ حضرت حمنہ بنت حجش سے ایک بیٹا محمد نامی بہت عبادت گزار تھا اور سجّاد لقب سے مشہورتھا۔ ایک بیٹا یعقوب بہت زبردست شہ سوار تھا جو واقعہ حرّہ میں شہید ہوگیا۔ حضرت اُمّ کلثوم ؓ بنت ابوبکرؓ سے دو بیٹے اور ایک بیٹی عائشہ تھی۔آپؓ کی ایک بیٹی اُمّ اسحاق سے حضرت امام حسنؓ نے شادی کی جس سے طلحہ نامی بیٹاہوا۔ حضرت حسن ؓ کی وفات کے بعد حضرت امام حسین ؓنے ان سے شادی کی اور ایک بیٹی فاطمہ ان سے ہوئیں۔
حضرت طلحہؓ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی شہادت کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا’’جو کوئی زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھنا چاہے وہ طلحہؓ کو دیکھ لے‘‘۔
شہاد ت عثمانؓ کے بعد حضرت طلحہؓ بھی ان اصحاب میں شامل تھے جو قتل عثمانؓ کا فوری انتقام لینے کے حق میں تھے۔ اسی جذباتی دور میں وہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ جنگ جمل میں بھی شامل ہوگئے۔ لیکن جب حضر ت علیؓ نے انہیں بلاکر ان کے فضائل کا ذکر کیا تو حضرت طلحہؓ بھی حضرت زبیرؓ کی طرح مقابلہ سے دستبردار ہوگئے۔لشکر سے جدا ہو کر پچھلی صفوں میں چلے گئے۔ اس دوران کوئی تیر ٹانگ میں لگا جس سے عرق النساء کٹ گئی اور اس قدر خون جاری ہوا کہ وفات ہوگئی۔اس وقت آپؓکی عمر64برس تھی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/AnEL7]

اپنا تبصرہ بھیجیں