حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ (لاہور) اور حضرت امۃالعزیز بیگم صاحبہؓ (گوجرانوالہ)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍فروری2011ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب نے دو ایسی صحابیات کا تذکرہ کیا ہے جنہیں دو مختلف شہروں میں اوّلین صدر لجنہ رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
٭ حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ اہلیہ حضرت میر کریم بخش صاحبؓ پہلوان ولد جمال الدین صاحب آف لاہورکے ابتدائی حالات کا علم نہیں۔ حضرت میر کریم بخش صاحبؓ نے 17جون 1946ء کو قریباً 103 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ موصی تھے۔
آپؓ کے بھائی حضرت بابو غلام محمد اختر صاحبؓ نے 1897ء میں بیعت کی۔ آپؓ کی وفات اپریل 1946ء میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔ آپؓ کو 1905ء میں امرتسر میں اُس وقت حضور علیہ السلام کی حفاظت کے لئے حضورؑ کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہونے کی توفیق ملی جب اشرار نے اینٹوں اور پتھروں کی بارش برسائی ہوئی تھی۔ ایک لٹھ بردار نے اس زور سے لٹھ گھمائی کہ گاڑی کی لکڑی کی جھرمنیاں ٹوٹ گئیں۔ حضورؑ نے آپؓ سے پوچھا کہ لٹھ آپ کو تو نہیں لگی۔ آپؓ نے عرض کیا درمیانی حصہ تھا، اگر سِرا لگتا تو شاید میری کمر بھی ٹوٹ جاتی۔ بعد میں حضورؑاکثر آپؓ کویہ واقعہ یاد دلایا کرتے تھے۔ بلکہ جب آپؓ کی بھاوج حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ نے حضورؑ کی خدمت میں بیعت لینے کے عرض کیا تو حضورؑ نے بلاتأمّل فرمایا کہ سوچ لو! بابو غلام محمد کو وہ لٹھ پڑا تھا کہ اگر اس کا سِرا اُس کی کمر پر پڑتا تو ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ احمدیت میں یہ چیزیں لازمی ہیں تم ان چیزوں کے لئے تیار ہو؟ انہوں نے کہا: حضور! مَیں تیار ہوں۔ چنانچہ حضورؑ نے بیعت لے لی۔
1925ء میں لاہور میں لجنہ کا قیام ہوچکا تھا جس کی صدر حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ تھیں۔ آپؓ نے 23جون 1929ء کو وفات پائی۔ ابتدائی موصیان میں سے تھیں (وصیت نمبر 590)۔ تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔
آپؓ کی وفات پر رسالہ مصباح میں ایک خاتون نے لکھا کہ آپؓ دیندار و پرہیزگار خاتون تھیں۔ گو تعلیم یافتہ نہ تھیں مگر اپنی عقل و دانش کے لحاظ سے سینکڑوں علم والوں کو مات کرتی تھیں۔ ہر مالی تحریک پر دل کھول کر حصہ لیتیں۔ احمدیت کی انتہائی غیرت رکھتی تھیں۔ ایک بار کسی احمدی نے آپؓ سے ایک ہزار روپیہ قرض لیا لیکن حسب وعدہ ادائیگی نہ کرسکے۔ آپؓ نے انہیں کہا: احمدی ہوکر عہدشکنی کرتے ہو!۔ وہ کہنے لگے کہ مَیں ایسی احمدیت چھوڑنے کو تیار ہوں۔ آپ نے کہا: مَیں اپنا روپیہ تم کو چھوڑتی ہوں مگر خدا کے لئے تم احمدیت مَت چھوڑو۔
لجنہ کی ترقی کے لئے آپؓ نے بہت کام کیا۔ آپؓ لجنہ کی روح رواں تھیں۔ سلسلہ کے اخبارات خریدتیں اور کسی سے پڑھواکر سنا کرتیں۔ آپؓ کا ایک ہی بیٹا تھا جو جوانی میں وفات پاگیا تھا۔
٭ حضرت امۃالعزیز بیگم صاحبہؓ 1881ء میں پیدا ہوئیں۔ حضرت حکیم محمد دین صاحبؓ (سابق امیر جماعت گوجرانوالہ) کی زوجیت میں آنے کے بعد احمدیت سے آگاہی ہوئی۔ گھر میں آنے والے اخبار البدر و الحکم بھی پڑھنے کو ملے۔ امام مہدی کی خواب میں زیارت کرنے کے بعد جب 1908ء میں لاہور میں پہلی بار حضورؑ کو دیکھا تو فوراً کہا کہ یہی تو خواب والے امام مہدی ہیں۔ حضورؑ اُس وقت نماز ظہر کے لئے وضو فرمارہے تھے۔ آپ نے بیعت کے لئے عرض کیا تو فرمایا کہ نماز کے بعد بیعت لیں گے۔ چنانچہ نماز کے بعد گھر کے صحن میں بیعت کی تقریب ہوئی اور پھر حضورؑ نے بہت لمبی دعا کروائی۔ وہاں پر آپؓ کا تعارف کرواتے ہوئے حضرت حکیم محمد دین صاحبؓ کی ہمشیرہ حضرت غلام فاطمہ صاحبہؓ نے عرض کیا کہ حضورؑ یہ حکیم صاحب کی نئی بیوی ہے اس کے لئے دعا کریں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ حکیم صاحب کی زندگی بہت اچھی گزر جاوے گی۔
ایک بار حضرت حکیم صاحبؓ بیمار ہوگئے اور علاج کے لئے چھ ماہ قادیان میں قیام کیا۔ حالت بہت خراب تھی۔ بیماری میں سر درد زیادہ ہوگئی اور دل کی کمزوری بڑھتی گئی۔ حضورؑ نے اپنی رومی ٹوپی آپؓ کو عنایت فرمائی اور پانی بھی دَم کرکے پلایا کرتے۔ ایک واسکٹ بھی عطا فرمائی۔ جب آپؓ تندرست ہوگئے تو حضورؑ نے ارشاد فرمایا کہ اب گوجرانوالہ جاکر رہائش کریں۔ حضرت حکیم صاحبؓ کی وفات کے بعد حضرت امۃالعزیز بیگم صاحبہؓ قادیان میں آبسیں۔ 20؍مئی 1937ء کو حضرت مولوی سیّد سرور شاہ صاحبؓ نے دارالعلوم میں آپؓ کے مکان کی بنیاد رکھی۔ 1944ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک وقف جائداد پر لبّیک کہتے ہوئے آپؓ نے اس مکان کا نصف پیش کردیا۔ آپ تحریک جدید کے پانچ ہزار مجاہدین میں بھی شامل تھیں۔
تاریخ لجنہ 1929ء کے مطابق حضرت امۃالعزیز صاحبہؓ کو گوجرانوالہ کی پہلی صدر لجنہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپؓ 10دسمبر 1950ء کو 70 سال کی عمر میں وفات پاکر بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X