حضرت فضل عمرؓ کی اہلی زندگی

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ فروری 2000ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی اہلی زندگی کے بارہ میں حضرت (چھوٹی آپا) سیدہ مریم صدیقہ صاحبہؒ کا ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں اسی سلسلہ میں آپؒ کا ایک دوسرا مضمون ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 4؍فروری 2000ء کے اسی کالم کی زینت بن چکا ہے۔
حضرت سیدہ لکھتی ہیںمیری پیدائش 7؍اکتوبر 1918ء کو ہوئی۔ بظاہر ممکن نہیں تھا کہ آپؓ سے میری شادی ہوگی۔ حضرت اماں جان (سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ) کہا کرتی تھیں کہ میری خواہش ہے کہ میرے بھائی کے بیٹی ہو تو مَیں محمود کے لئے لوں۔ لیکن حضرت اباجان (میر محمد اسماعیل صاحبؓ) کی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ 1917ء میں اباجان نے دوسری شادی کی جس سے اولاد ہوئی۔ اباجان نے میری پیدائش پر میرا تاریخی نام نکالا تو نذرالٰہی نکلا اور مَیں چھوٹی ہی تھی کہ ایک موقع پر انہوں نے مجھے وقف بھی کردیا۔ میری پیدائش بھی کمزور تھی۔ ہم جوڑا بہنیں پیدا ہوئی تھیں۔ میرا نام اباجان نے مریم اور دوسری کا صدیقہ رکھا تھا جو ڈھائی ماہ کی ہوکر وفات پاگئی اور یہ پورا نام اباجان نے میرا رکھ دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اباجان کی دعاؤں اور قربانی کو قبول فرمالیا اور میری شادی 30؍ستمبر 1935ء کو حضورؓ سے ہوگئی جبکہ ابھی مَیں سترہ سال کی بھی نہیں ہوئی تھی اور بارہویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔ یہ عمر ایسی نہیں تھی کہ مَیں اُن ذمہ داریوں کو اٹھاسکتی جو ایک امام جماعت کے ساتھ شادی ہونے سے مجھ پر عائد ہوتی تھیں اور ایک بڑے گھرانے میں جہاں پہلے تین بیویاں اور بچے موجود تھے، اپنے فرائض کو ادا کرسکتی۔ آپؓ نے ہر قدم پر میری راہنمائی فرمائی اور میری ہمت کو پست نہ ہونے دیا۔
آپؓ نے بڑی بیویوں کا ہمیشہ ادب کروایا۔ آپؓ کا سلوک بیویوں سے اتنا اچھا تھا کہ ہر ایک یہی سمجھتی تھی کہ شاید مجھ سے ہی زیادہ تعلق ہے۔ چونکہ آپؓ کی دینی مصروفیات بہت زیادہ تھیں اس لئے بچوں کی طرف توجہ دینے کے لئے وہی وقت ہوتا تھا جب آپؓ کھانے پر تشریف لاتے تھے۔
سیر و شکار کا بھی بہت شوق تھا۔ سفر میں سب ہی ساتھ ہوتے، بچوں کو گھوڑے کی سواری کرنا سکھاتے، ہمیں مچھلیاں پکڑنا سکھاتے، مرغابیاں اور مگ شکار کرتے۔ پکنک پر جاتے تو چھوٹی چھوٹی جزئیات میں ا تنی دلچسپی لیتے کہ کسی اجنبی کو یہ محسوس ہوتا کہ شاید آپؓ کو اَور کوئی کام ہی نہیں۔ زندہ دلی اور شگفتگی آپؓ پر ختم تھی۔ ہنسی مذاق میں بھی کڑی نظر ہر ایک پر رہتی تھی۔ جہاں ذرا بھی وقار یا شریعت یا جماعت کی روایات کے خلاف کوئی بات نظر آتی پھر کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔
اکثر نظمیں آپؓ نے سفر کے دوران کہی ہیں جب قدرے فراغت ہو۔ کبھی کسی محاورہ کے متعلق آپؓ کو شک ہوتا تو مجھے کہتے ابھی لغت نکالو اور دیکھو، یا حضرت اماں جانؓ کے پاس جاؤ اور اُن سے پوچھو کہ کیا یہ محاورہ اس طرح بولا جاتا ہے۔ چونکہ مَیں تیز لکھتی تھی اس لئے آپؓ نے ابتدا سے ہی مجھ سے لکھوانے کا کام لینا شروع کیا۔ خطوط، جلسہ کی تقاریر، تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر۔ اسی طرح کلیدالقرآن سے آیات قرآنیہ نکلوانی ، یہ سب خود سکھایا۔
1948ء میں ہجرت کے بعد ہم کچھ عرصہ لاہور میں رہے تو بیگم تصدق حسین اور بیگم شاہنواز وغیرہ کئی دفعہ ملنے آئیں اور اپنی کئی تقریبات میں ہمیں بلایا۔ اس مشاعرہ کا دعوت نامہ بھی آیا۔ طرحی مشاعرہ تھا۔ مَیں نے حضورؓ سے عرض کیا تو کہنے لگے: مَیں لکھ دیتا ہوں۔ مَیں نے کہا نہیں، اگر اپنی ہوتی تو پڑھ دیتی۔ فرمایا: کیوں، حضرت مسیح موعودؑ نے بزبان حضرت اماں جان نظم نہیں کہی ہوئی!۔ خیر آپؓ نے ایک غزل کہی جو صاحبزادی امۃالباسط نے عورتوں کے مشاعرہ میں خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ یہ ناصحانہ نظم تھی اور بہت پسند کی گئی۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں:-

کیسے بچاؤں نوح کے طوفاں سے گھر کو مَیں
رکتی نہیں ہے کیا کروں، اس چشم تر کو مَیں
جس سے بہارِ خانہ تھی جب وہ نہیں رہا
اُس کے بغیر کیا کروں دیوار و در کو مَیں
رہبر بھی مصطفی، میرے دلبر بھی مصطفی
جاتے تھے وہ جدھر کو چلوں گی ادھر کو مَیں
راہ وفا میں موت سے ڈرنا خدا بچائے
ملتی ہوں اپنے ہاتھ سے اپنے جگر کو مَیں
ہے میری آبرو تیرے ہاتھوں میں اے خدا
رکھتی ہوں تیرے پاؤں پہ لے اپنے سر کو مَیں
ہر لحظہ کارواں ہوا جاتا ہے دُور دُور
حسرت سے تک رہی ہوں پڑی راہگزر کو مَیں
یا نو چ ڈال پر مرے یا کھول دے قفس
قید قفس میں کیا کروں گی بال و پر کو مَیں

گرمیوں میں ڈلہوزی جاتے تو اکثر قرآن مجید کا درس دیتے جس میں گھر والے بھی شامل ہوتے اور دوسرے لوگ بھی۔ عربی صرف و نحو بھی گھر میں پڑھاتے رہے اور آپؓ سے پڑھ کر پہلی دفعہ یہ احساس ہوا کہ یہ تو مشکل مضمون ہی نہیں۔ قادیان میں درس القرآن گھر میں شروع کیا اور لوگوں کی درخواستوں پر اسے مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ میں دینا شروع کردیا تاکہ دوسرے لوگ بھی استفادہ کرسکیں۔
جیسی محبت حضورؓ کو حضرت اماں جانؓ سے تھی اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپؓ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے اور بیویوں سے بھی یہی امید رکھتے کہ حضرت اماں جانؓ کی جتنی ممکن ہو خدمت کریں گی۔ بہنوں اور بھائیوں سے بھی بہت محبت تھی۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ سے سب سے زیادہ بے تکلفی تھی۔ حضرت سیدہ امۃالحفیظ بیگم صاحبہ سے بھی بہت محبت تھی اور بالکل چھوٹی بہنوں والا پیار تھا۔ ان کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں تھی۔ اُن کے آپریشن کا معلوم ہوا، ہم لاہور گئے۔ آپریشن ہوگیا تو واپس آگئے۔ واپس آتے ہی علم ہوا کہ پھر دوبارہ طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ ساری رات بے چین رہے اور سو نہ سکے، صبح ہوتے ہی لاہور روانہ ہوئے اور جب تک طبیعت نہ سنبھلی وہیں رہے۔
1947ء میں ہجرت کے بعد لاہور میں قیام کے دوران اپنے سارے خاندان کے اخراجات کا بوجھ اٹھایا اور جب تک حالات بہتر نہ ہوئے سب کا کھانا اکٹھا رہا لیکن انتہائی سادہ۔ فی کس ایک روٹی اور ایک وقت سالن اور ایک وقت دال۔ خود تو نصف روٹی بھی نہ کھاتے تھے، وہ بھی کسی بچہ کو جسے زیادہ بھوک لگی ہو دے دیتے تھے۔ جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ خاندان حضرت اقدسؑ کی مستورات کو لاہور بھجوادیا جائے اور حضورؓ خود قادیان میں ٹھہرے تو مجھے حضورؓ کے ساتھ ہی ٹھہرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ میرے علاوہ صاحبزادی منصورہ بیگم بھی پیچھے ٹھہریں۔ آپؓ نے انہیں خرچ کی رقم دی کہ وہ کھانے کا انتظام کریں اور مَیں حضورؓ کے ساتھ کام میں لگی رہتی تھی۔ ہر وقت ادھر ادھر سے اطلاعات کے فون آتے تھے۔ آدھی رات حضورؓ جاگتے تھے۔ پھر مجھے جگا دیتے تھے اور آپؓ آرام فرما لیتے ۔
1951ء میں ربوہ میں حضورؓ نے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ نصرت کا اجراء فرمایا۔ کوئی عمارت نہیں تھی، اپنی کوٹھی کالج کیلئے دی۔ فرخندہ بیگم سید محموداللہ شاہ صاحب کو لاہور میں M.A. انگریزی کرنے کیلئے بھجوایا اور مجھے کالج کی ڈائریکٹرس مقرر کردیا۔ پہلے دو سال میرے علاوہ کالج میں سب مرد پڑھاتے رہے۔ مَیں عربی پڑھاتی تھی اور کالج کے انتظامی کام بھی کرتی تھی۔ روزانہ مجھ سے کالج کی رپورٹ لیتے۔ 1955ء کے بعد آپؓ کی بیماری کی وجہ سے مَیں نے پڑھانا چھوڑ دیا، صرف نگرانی کرتی تھی۔
40ء میں مَیں نے بی۔اے کیا تھا۔ پھر پڑھائی چھوڑ دی۔ 1947ء میں لاہور کے قیام کے دوران بعض بچیاں ملیں جو ایم۔اے عربی فائنل کی تھیں۔ ان کی کتب دیکھیں تو مجھے بہت آسان لگیں۔ مَیں نے آپؓ سے ذکر کیا تو آپؓ فرمانے لگے کہ یہاں لاہور میں رہتے ہوئے تم بھی امتحان دیدو۔ کتب ملتی نہیں تھیں۔ یونیورسٹی لائبریری سے قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم کے ذریعہ سے لے کر اُن کی نقلیں کرواکے دیں اور جہاں سے کوئی بات سمجھ نہ آتی تو آپؓ خود سمجھا دیتے۔ آپؓ کے حوصلہ دینے سے صرف سات ماہ کی پڑھائی کے بعد امتحان دیدیا۔
تیس سال کا عرصہ آپؓ کے ساتھ گزرا۔ کہنے کو تو تیس سال تھے لیکن مَیں تو یہی کہوں گی:

روئے گُل سیر نہ دیدم کہ بہار آخر شد
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد

(یعنی: ابھی پھولوں کے نظارے سے میری نظر سیر نہیں ہوئی تھی کہ بہار ختم ہوگئی۔ افسوس کہ پلک جھپکنے میں یار کی صحبت ختم ہوگئی۔)

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں