حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍مارچ 2010ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسلمہؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس سے تھا۔ آپؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے بائیس سال قبل پیدا ہوئے اور خوش قسمتی سے آپؓ کا نام محمد رکھا گیا۔ آپؓ دراز قد، دوہرے بدن اور گندم گوں رنگت کے مالک تھے۔ مدینہ میں پہلے مسلمان مبلغ حضرت مصعبؓ بن عمیر کی کوششوں سے ابتدا میں ہی اسلام قبول کرلیا۔ مؤاخات کا سلسلہ قائم ہوا تو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو آپؓ کا بھائی بنایا گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محمد بن مسلمہؓ کی فدائیت اور بہادری کی وجہ سے آپؓ پر بہت اعتماد فرماتے تھے اور کئی بڑی مہمّات بھی آپؓ کے سپرد فرمائیں جن میں کامیابی نے آپؓ کے قدم چومے۔ چنانچہ انہیں ’’فارسِ نبی اللہ‘‘ یعنی آنحضرتؐ کے شہسوار کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
آپؓ جنگ بدر میں شامل تھے۔ اس کے بعد جب یہودی قبیلہ بنو قینقاع کی طرف سے بدعہدی ظاہر ہوئی اور مدینہ سے اُن کے اخراج کا معاملہ سامنے آیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نازک ذمہ داری حضرت محمد بن مسلمہؓ کے سپرد فرمائی۔ اس کے بعد یہودی قبائل بنونضیر اور بنو قریظہ کے سرداروں کی طرف سے قتل کے منصوبوں، ریشہ دوانیوں اور دیگر سازشوں کو کچلنے کے لئے آپؓ نے غیرمعمولی اہم خدمات سرانجام دیں۔ چنانچہ یہودی سردار کعب بن الاشرف کی طرف سے جب عہدشکنی، بغاوت، فتنہ پردازی اور فحش گوئی کے الزامات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکمِ مدینہ کے طور پر کعب کو سزا دینے کا فیصلہ فرمایا لیکن ازراہ حکمت مدینہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے کعب کے باضابطہ اعلانِ قتل سے احتراز کیا۔ اور یہ نازک ذمہ داری خاموشی سے ادا کرنے کے لئے محمد بن مسلمہؓ کو مقرر کیا۔ آپؓ نے عرض کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے آپؓ کو کوئی عذر تراشنا پڑے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وسیع تر قومی و سیاسی مفاد کے پیش نظر اس کی اجازت دی۔ محمد بن مسلمہؓ دو تین صحابہ کے ساتھ کعب کے گھر گئے اور کہا کہ نبی کریم ہم سے صدقہ کا تقاضا کرتے ہیں اس لئے تم سے قرضہ لینے آئے ہیں۔ کعب نے شرارت سے اپنی عورتوں یا بیٹوں کو رہن رکھنے کا مطالبہ کیا۔ آخر طے پایا کہ ہتھیار رہن رکھے جائیں گے۔ اور محمد بن مسلمہؓ رات کا وعدہ کرکے واپس آگئے۔ اس طرح آپؓ کو ہتھیار کھلے عام کعب کے ڈیرہ پر لے جانے کی اجازت مل گئی۔ چنانچہ شام کو یہ پارٹی ہتھیاروں سے مسلح ہوکر کعب کے ڈیرے پہنچی اور کعب کا کام تمام کردیا۔
اگلے روز یہود کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کعب کے قتل کی شکایت لے کر آیا تو حضورؐ نے کعب کی عہدشکنی اور سازش قتل کے گھناؤنے جرائم گنوائے جس پر وہ خاموش ہوگئے۔
غزوۂ اُحد میں جب کفار کے درّہ سے اچانک حملہ سے مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے تو محمد بن مسلمہؓ ثابت قدم رہے۔
غزوۂ احزاب میں یہود قبیلہ بنوقریظہ کی غداری کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ کے قیدیوں کو جمع کرکے سنبھالنے کی ذمہ داری محمد بن مسلمہؓ کے سپرد فرمائی جسے آپؓ نے احسن رنگ میں ادا فرمایا۔
حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے تو ازراہ احتیاط ایک سو سواروں کا دستہ آگے بھیجا اور اس دستہ کاامیر محمد بن مسلمہؓ کو قرر فرمایا۔ بطور امیر محمد مسلمہؓ نے پہلے پہنچ کر قریش سے ملاقات کی اور انہیں آنحضورؐ کے عمرہ کے ارادہ سے مکّہ پہنچنے کی اطلاع بھی دی۔
غزوۂ تبوک اور بعض دیگر غزوات کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہؓ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔
سریہ ذی القصہ میں دس افراد کا امیر آپؓ کو مقرر کیا گیا۔ یہ بہت نازک مہم تھی جس میں آپؓ کے علاوہ باقی سب صحابہؓ شہید ہوگئے۔ آپؓ کو دشمن نے زخمی حالت میں برہنہ کرکے کہیں پھینک دیا۔ بعد میں بعض مسلمان وہاں سے گزرے تو انہوں نے انہیں سنبھالا اور اپنے ہمراہ مدینہ لے آئے۔
حضرت محمد بن مسلمہؓ باوجود نڈر ہونے کے بہت امن پسند اور صلح جُو تھے۔ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو اپنی تلوار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’جب تک مشرکین کے ساتھ تمہاری جنگ ہو، اس تلوار کے ساتھ اُن سے جنگ کرتے رہنا۔ جب وہ زمانہ آئے جب مسلمان باہم لڑنے لگیں تو یہ تلوار توڑ کر گھر میں بیٹھ رہنا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تم پر حملہ آور ہو یا تمہاری فیصلہ کُن موت آجائے‘‘۔ آنحضورؐ نے آپؓ کے بارہ میں یہ بھی فرمایا تھا کہ کوئی فتنہ آپؓ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد آپؓ نے وہ تلوار توڑ دی اور ایک لکڑی کی تلوار میان میں ڈال لی۔ پھر آپؓ شہر کے فتنوں سے نکل کر ایک ویرانہ میں چلے گئے خیمہ لگاکر وہاں رہنے لگے۔
حضرت عمرؓ کے دَور میں بھی حضرت محمد بن مسلمہؓ کو نمایاں خدمات کی توفیق ملی۔ آپؓ کو صدقات کی وصولی پر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح عمّال کی نگرانی اور احتساب کے سلسلہ میں بھی بعض نازک کام آپؓ کے سپرد فرمائے۔ جب حضرت عمرؓ کو اطلاع ملی کہ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے محل تعمیر کرواکر اس کے دروازہ پر دربان مقرر کئے ہیں تو حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو بھیجا کہ امیر کوفہ کے محل کے دروازہ کو آگ لگادیں۔ آپؓ تو صرف تعمیل کرنا جانتے تھے اس لئے ایسا ہی کیا۔ اس پر حضرت سعدؓ وہاں آئے تو آپؓ نے بتایا کہ مجھے خلیفۂ وقت نے یہی ارشاد فرمایا تھا۔ اس پر حضرت سعدؓ نے بھی یہ بات بخوشی قبول کی۔ حضرت عمرؓ نے امراء کے لئے مال کی ایک حد لگادی اور حضرت محمد بن مسلمہؓ کو مقرر فرمایا کہ وہ سارے امراء سے زائد مال وصول کرکے بیت المال میں جمع کروادیں۔
حضرت عثمانؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو پچاس سواروں پر امیر مقرر کرکے مصر سے آنے والے باغیوں سے گفتگو کے لئے بھیجا۔
صفر 46ہجری میں حضرت محمد بن مسلمہؓ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک شامی (اُردنی) نے گھر میں گھس کر اس الزام میں آپؓ کو شہید کردیا کہ آپؓ نے امیر معاویہ کے حق میں تلوار کیوں نہیں اٹھائی۔ آپؓ کے دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔
آپؓ سے بہت کم احادیث مروی ہیں لیکن اُن سے احتیاط اور قول سدید کے پہلو نہایت شان سے اجاگر ہوتے ہیں۔ یہ آپؓ کی ہی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی سے قبل لڑکی کو دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں میراث میں دادی کو حصہ دینے سے متعلق بھی حضرت محمد بن مسلمہؓ نے مغیرہؓ بن شعبہ کے حق میں گواہی دی کہ آنحضورؐ نے دادی کا چھٹا حصہ مقرر کیا ہے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے دَور میں حاملہ عورت کے چوٹ لگنے کے نتیجہ میں حمل ساقط ہونے کی دیت کے بارہ میں بھی آپؓ نے مغیرہؓ کی بیان کردہ روایت کی تصدیق کی کہ آنحضورؐ نے اس کا بدلہ ایک غلام یا لونڈی مقرر فرمایا ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/2qhHI]

اپنا تبصرہ بھیجیں