حضرت مصلح موعودؓ کی پاکیزہ سیرت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کا 16؍فروری 2007ء کا شمارہ ’’مصلح موعود نمبر‘‘ ہے۔ اس میں حضورؓ کی سیرۃ پر مکرم مولوی عبدالرحمن انور صاحب کا ایک مضمون بھی شامل اشاعت ہے جو ماہنامہ ’’خالد‘‘ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے۔
حضرت المصلح الموعود کی ساری زندگی دعوت الی اللہ کے لئے ہی وقف تھی۔ ہر وقت خیال اس طرف ہی رہتا تھا۔ ایک دفعہ جب حضور ناصرآباد اسٹیٹ میں تشریف لے گئے تو حضور گھوڑوں پر سوار ہو کر عملہ ناصرآباد کے ساتھ فصل کا معائنہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔ ڈیرہ پر محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے اور وہ اپنے ساتھ مچھلی پکڑنے کا سامان بھی لے کر گئے تھے۔ مکرم ڈاکٹر صاحب نے خاکسار کو کہا کہ اس عرصہ میں ہم ڈھورے پر مچھلی کا شکار کرلیں، شکار کا سامان تو ہے۔ چنانچہ ہم ڈھورے پر گئے ابھی چار پانچ مچھلیاں پکڑی تھیں کہ حضورؓ مع احباب اس جگہ پہنچ گئے اور گھوڑے سے اتر کر فرمایا: ڈاکٹر صاحب! ہم بھی شکار کرتے ہیں۔ چنانچہ مکرم ڈاکٹر صاحب نے کنڈی پرگنڈویہ لگا کر کنڈی حضورؓ کو دی۔ جونہی کنڈی سے باندھا ہوا سرکنڈا مچھلی کے گنڈویہ کھانے کی کوشش میں ہلتا حضورؓ ڈوری کھینچ لیتے۔ دو تین مرتبہ ایسا ہوا تو حضورؓ نے ڈوری ڈاکٹر صاحب کے حوالہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے لئے اس کام میں وقت لگانا معلوم ہوتا ہے منشاء الٰہی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں مچھلی پکڑنے کے لئے نہیں بلکہ آدمیوں کو پکڑنے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔
تحریک جدید کے ابتدائی عرصہ میں حضورؓ نے تحریک جدید کے زیر انتظام کچھ اشتہارات کی فوری اشاعت کا انتظام فرمایا۔ حضورؓ کی طرف سے ان اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے لئے مضمون عموماً جمعرات کے دن عصر کی نماز کے بعد ایک ایک ورق کی صورت میں ملتا تھا۔ یعنی جس قدر مضمون حضورؓ تحریر فرماتے ساتھ ساتھ نیچے بھجوا دیتے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی نظر ثانی کے بعد فوراً کاتبوں کے حوالہ کیا جائے پھر بعد طباعت مختلف جماعتوں کے نام پیکٹ بناکر دستی اور باقیوں کو بذریعہ ریلوے پارسل بھجوا دیا جاوے۔ چنانچہ حضورؓ کی ہدایت کے مطابق راتوں رات چھپوا کر ہزاروں کی تعداد میں باہر جماعتوں کو تقسیم کے لئے بھجوایا جاتا رہا اور صبح سویرے روانہ ہونے والی گاڑی پر کارکن کے ذریعہ بٹالہ، امرتسر، لاہور، لائل پور جمعہ کے وقت سے پہلے پہنچا دیا جاتا۔
ایک مرتبہ حضورؓ نے یاد فرمایا تو دیکھا کہ حضورؓ نے ریش مبارک کو مہندی لگائی ہوئی ہے اور اوپر کپڑا باندھا ہوا ہے اس حالت میں بجائے آرام سے لیٹنے کے کاغذات پیش کرنے کا موقعہ عطا فرمایا اور ہدایت سے نوازتے رہے۔ اسی طرح جبکہ حضور کو غالباً 1951-52ء میں گلے میں سخت تکلیف تھی اور بولا بھی نہیں جاسکتا تھا حضور نے کاغذات پیش کرنے کے لئے فرمایا اور حضور کاغذات کا مضمون سن کر ایک دوسرے کاغذ پر قلم سے ارشاد نوٹ فرما دیتے تھے۔ ایک اور موقعہ پر جب حضورؓ بیمار تھے اور ربوہ کے کچے چوبارہ میں مقیم تھے، ایک معاملہ کے متعلق تحقیقات کا کام تھا۔ حضورؓ نے متعلقہ احباب کو اوپر کے چھوٹے سے کچے کمرہ میں ہی بلوا لیا۔ حضور انڈونیشین دھوتی پہنے ہوئے تھے۔ اسی حالت میں حضور چار پائی پر تشریف فرما رہے اور باقی دوست فرش پر بیٹھ گئے اور کئی گھنٹہ تک بیانات ہوتے رہے۔ حضورؓ نے ظاہری ٹیپ ٹاپ کو نظرانداز فرماتے ہوئے کام کو مقدم سمجھا اور اس حالت میں بھی کام جاری رکھا۔ چنانچہ حضورؓ نے اپنے
دستور عمل کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے ایک مرتبہ واقفین زندگی کے لئے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ جب تک کوئی شخص شدید بیمار نہ ہو جاوے کہ کام کرنے کے قابل نہ ہو، وہ کام کرتا رہے اور رخصت منظور نہ کی جایا کرے۔
جب خاکسار انچارج تحریک جدید تھا تو حضورؓ نے وقت کی تنگی کی وجہ سے خاکسار کو بھی کاغذات پیش کرنے کے لئے یاد فرمایا اور مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس کو بھی ارشاد فرمایا کہ وہ کشمیر کمیٹی سے متعلقہ کاغذات پیش کریں۔ پہلے حضورؓ میرے کاغذ پیش کرنے پر ہدایت دیتے۔ میں حضورؓ کی ہدایت کو لکھنے میں مصروف ہوتا تو اس وقت میں مکرم شمس صاحب حضورؓ کی خدمت میں کاغذ پیش کرتے اور وہ حضورؓ کی ہدایت کو نوٹ کرنے میں مصروف ہوتے تو خاکسار دوسرا کاغذ پیش خدمت کر دیتا۔
حضور نے کئی دفعہ اظہار فرمایا تھا کہ آدمی کے لئے کسی کام کے کر سکنے سے کلّی طور پر معذوری کا اظہار نامناسب ہے۔ ہر کام براہ راست یا بالواسطہ سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ کانگریس کے زیر اہتمام و ٹھل نگر علاقہ بمبئی میں اخبارات میں ایک صنعتی نمائش کا بہت پروپیگنڈا تھا۔ اُن دنوں دارالصناعت کے ضمن میں صنعتی معلومات حاصل کرنے کی غرض سے حضورؓ نے خاکسار کو اس نمائش کے دیکھنے کے لئے ارشاد فرمایا اور خاکسار کے ساتھ دو گریجویٹ واقفین زندگی کو بھجوایا تاکہ اگر وہاں لیڈروں سے ملنے کا موقع ہو یا صنعتی نمائش کے موقعہ پر ترجمان کی ضرورت ہو تو ان سے کام لیا جاوے۔ کیونکہ گجرات کاٹھیا واڑ کے علاقہ کی زبان گجراتی ہے۔ لیکن انگریزی سے کام لیا جاسکتا ہے اور خاکسار انگریزی سے زیادہ واقف نہ تھا اس لئے حضور نے ذمہ دار تو خاکسار کو ہی رکھا لیکن سہولت کے لئے دو گریجویٹ نوجوانوں کو میری علمی کمی کو پور اکرنے کے لئے ساتھ بھجوادیا۔
ایک موقعہ پر جبکہ حضور سندھ میں اپنی اراضی محمود آباد اسٹیٹ کے قریب کے نالہ ڈھورہ میں کشتی پر سوار سیر فرما رہے تھے۔ خاکسار بھی حضورؓ کے ہمراہ تھا حضورؓ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم کشتی چلا سکتے ہو؟ خاکسار نے عرض کیا کہ قادیان کی ڈھاب میں تو کئی مرتبہ موقعہ ملا ہے۔ فرمایا کہ کشتی پانی کے بہاؤ کی طرف جا رہی ہے، اس نالے میں سر کنڈے کے پودے جگہ جگہ اُگے ہوئے ہیں۔ تمہارا امتحان لیتے ہیں کہ کتنی دُور تک ان سے الجھنے کے بغیر کشتی چلا سکتے ہو۔ چنانچہ خاکسار نے اکیلے ہی کشتی چلانا شروع کی۔ تین چار جگہ سے تو بچ نکلا۔ بالآخر ایک جگہ کشتی رُک گئی تو حضورؓ مسکرائے اور دوسرے آدمی کو امداد کے لئے فرمایا۔
ایک بار کراچی میں جبکہ حضورؓ منوڑہ تشریف لے گئے وہاں ایک ڈچ کار گو جہاز حضور نے دیکھا۔ حضورؓ نے اظہار فرمایا کہ ڈچ جہاز بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ حضورؓ کے اہل خانہ بھی ہمراہ تھے۔ اس جہاز کے کپتان سے جہاز کو دیکھنے کیلئے اجازت بھی فوراً مل گئی۔ جب حضورؓ اسے دیکھ کر بہت خوش خوش واپس تشریف لائے تو مجھے مخاطب ہو کر فرمایاکہ کیا کبھی پہلے جہاز اندر سے دیکھا تھا؟ مَیں نے عرض کیا کہ نہیں۔ تو دریافت فرمایا کہ جو تصور تمہارے دل میں جہاز کے متعلق تھا یہ جہاز اس سے بڑا تھا یا چھوٹا؟ خاکسار نے عرض کیا کہ تصور کے مطابق ہی تھا۔ حضور نے فرمایا کہ یہ کیسے۔ کیونکہ عموماً جہاز کے متعلق اسے دیکھنے سے پہلے یہ تصور ہوتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہوتا ہے اور دیکھنے پر چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ جہاز ران کمپنیوں کے لٹریچر کی وجہ سے اس کی لمبائی چوڑائی اور کمروں کے متعلق تصور جو قائم ہوگیا تھا یہ اس کے مطابق ہی نکلا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ ہاں پھر تو ٹھیک ہے۔
جب قادیان میں تحریک جدید کو رجسٹرڈ کرانے کا خیال پیدا ہوا تو حضور نے فرمایا کہ یہ کام ایک ہفتہ کے اندر ہو جانا ضروری ہے۔ اسی طرح قادیان سے 1947ء میں لاہور آجانے پر حضور کا یہ ارشاد مجھے ملا کہ ایک ہفتہ کے اندر رجسٹر کرایا جاوے۔ چنانچہ دونوں موقعوں پر دن اور رات ایک کرکے اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر ہی مقیم ہو کر دونوں مرتبہ یہ کام اس عرصہ کے اندر اندر سر انجام پاگیا۔ یہ سب کچھ حضورؓ کی توجہ، دعا اور جذبہ کے ماتحت ہی ہوا حالانکہ عام حالات میں ایسے کام کیلئے بہت وقت صرف ہو جاتا ہے۔
ایک موقعہ پر قادیان میں صبح صبح مکرم خان میر خانصاحب (سابق پہرہ دار) ایک معمولی کاغذ پر حضورؓ کا رُقعہ لے کر میرے مکان پر آئے۔ جس کا مضمون یہ تھا کہ آٹھ ہزار روپے ساتھ لے کر ایک گھنٹہ کے اندر اندر باہر جانے کے لئے تیار ہو کر رپورٹ کرو۔ خاکسار نے رُقعہ لے لیا اور سوچ میں پڑ گیا کہ یہ سارا کام ایک گھنٹہ کے اندر کیسے ہوگا۔ کیونکہ روپیہ خزانہ سے نکلوانا ہے اور دفاتر 9 بجے کھلتے ہیں۔ پھر باہر جانے کے لئے بھی کچھ معلوم نہیں کہ کس جگہ یا کس علاقہ میں جانا ہے اور کتنے عرصہ کے لئے جانا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے بستر وغیرہ کے متعلق کیا فیصلہ کیا جائے۔ بالآخر دل نے یہی فیصلہ کیا کہ فوراً رقم برآمد کرانے کا انتظام کیا جاوے۔ معقول رقم پاس ہوگی سفر کے حالات کے مطابق جو انتظام ضروری ہوگا ہو جائے گا چنانچہ خاکسار مکرم و محترم مرزا محمد شفیع صاحب محاسب کے مکان پر حاضر ہوا اور حضور کا رقعہ دکھایا۔ انہوں نے سید محمود عالم صاحب امین کی طرف بھجوایا کہ باقاعدہ رقم برآمد کرانے میں تو دیر ہو جائے گی اس لئے حضور کے ارشاد کی وجہ سے خزانہ سے ہی اس رقعہ پر وصولی کراکر رقم دیدی جائے۔ حضورؓ سے ہدایت بعد میں حاصل کرلی جائے گی۔ خاکسار مکرم سید محمود عالم صاحب کے ہاں گیا۔ وہ فوراً تیار ہو کر میرے ساتھ آگئے۔ چنانچہ ابھی گھنٹہ میں چند منٹ باقی تھے کہ خاکسار نے حضور کی خدمت میں تعمیل ارشاد کی رپورٹ کردی۔ حضور نے فرمایا بہت اچھا۔ ابھی قادیان سے باہر جا رہا ہوں تم نے بھی ساتھ جانا ہے۔ چند منٹ کے بعد حضور تشریف لائے اور پہلی دفعہ حضور کی کار میں حضور کے ساتھ بیٹھنے کا موقعہ ملا۔ حضورؓ پہلے لاہور پہنچے پھر ایک خاص کام کے لئے مجھے ایک دوسرے شہر بھجوایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی دقت پیش نہ آئی۔ خاکسار نے بھی سردی کے موسم کے پیش نظر گرم اچکن اور ایک لوئی کے علاوہ کوئی کپڑا نہ لیا کہ اس طرح سے پیدل سفر بھی ہو سکتا ہے اور کسی کمرہ کے کونے میں بیٹھ کر وقت گزر سکتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ سبق ملا کہ فوری طور پر جو انتظام ہوسکے کرلیا جائے اور غیرضروری دُوراندیشی سے اپنی پریشانی کو بڑھانا مناسب نہیں ہوتا۔
حضور غالباً 1938-39ء میں سندھ تشریف لے گئے۔ خاکسار بھی ہمراہ تھا۔ میرپورخاص پہنچ کر حضورؓ خود تو ناصرآباد تشریف لے گئے اور مجھے فرمایا کہ میں رات کی گاڑی سے ناصرآباد پہنچوں۔ حضور نے ایک چیک دیا کہ بنک سے رقم برآمد کرائی جاوے اور ریزگاری اور چھوٹے نوٹ لئے جائیں جن کی چنائی کپاس کے موسم کی وجہ سے اسٹیٹوں میں بڑی ضرورت ہے۔ اور مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانیؓ اور مکرم نیک محمد خانصاحب کو بھی میرے ساتھ ہی رات کو آنے کا ارشاد فرمایا اس لئے کہ نقدی پاس ہوگی اور رات کا وقت ہوگا، حفاظت ضروری ہے۔ جب ہم کنجے جی کے ریلوے سٹیشن پر رات بارہ بجے پہنچے تو گھوڑے سٹیشن پر موجود تھے۔ جب ناصر آباد اسٹیٹ پہنچے تو دیکھا کہ حضور ایک کچے کمرہ میں مقیم ہیں (ابھی حضور کی کوٹھی تعمیر نہیں ہوئی تھی)۔ حضورؓ کے کمرہ کے ساتھ کے کمرہ میں مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضورؓ کی خدمت میں ہمارے آنے کی اطلاع دی گئی۔ حضورؓ نے مکرم ڈاکٹر صاحب کو فرمایا کہ انور صاحب سے ریزگاری وغیرہ لے لیں تا کہ یہ رات کو آرام سے سو سکیں۔ یہ حضورؓ کی خاص شفقت اور مہربانی تھی کہ حضورؓ نے اپنے ادنیٰ خدام کا اس قدر خیال فرمایا۔ اس کمرہ کی حالت یہ تھی اس کے صحن کے باہر دروازہ بھی نہ تھا۔ حضور جو کئی اسٹیٹوں کے مالک تھے ان کے لئے کیا مشکل تھا کہ فوری طور پر اچھا مکان تعمیر کروا لیا جاتا لیکن حضور نے سادگی ہی کو پسند فرمایا اور محض ذاتی آرام کا زیادہ خیال نہ فرمایا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں