حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ایک بار قادیان پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کو مسجد مبارک میں بٹھا کر فرمایا ’’آپ بیٹھئے میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں‘‘۔ کچھ ہی دیر میں حضورؑ خود سینی اٹھائے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا ’’آپ کھانا کھائیں میں پانی لاتا ہوں‘‘۔
حضرت مفتی صاحبؓ کی سیرت پر محترم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب کا مضمون ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جنوری 1996ء کی زینت ہے۔
حضرت مفتی صاحبؓ کی حضور اقدسؑ سے بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ ایک سرد رات آپؓ نے حضورؑ کی خدمت میں سردی زیادہ ہوجانے کا پیغام بھیجا تو حضور علیہ السلام نے دھسّہ اور رضائی بھجواتے ہوئے فرمایا ’’رضائی محمود کی ہے اور دھسہ میرا ۔ جو پسند ہو رکھ لیں‘‘۔
حضرت مفتی صاحب ؓ جب لاہور میں رہائش پذیر تھے تو ایک روز کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی لاہور تشریف لائے اور آپؑ کی متلاشی نگاہوں نے مفتی صاحبؓ کو نہ پاکر انکے متعلق دریافت فرمایا۔ معلوم ہوا کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ ایک قدم بھی چل نہیں سکتے۔ یہ سنتے ہی حضورؑ خود مفتی صاحبؓ کی عیادت کو تشریف لے گئے، دیر تک تشریف فرما رہے، تسلی اور دعاؤں سے نوازا اور رخصت ہوتے وقت فرمایا ’’بیمار کی دعا بھی قبول ہوتی ہے، آپ ہماری کامیابی کے لئے دعا کریں‘‘۔
ایک عدالتی کارروائی کے دوران حضرت مفتی صاحبؓ نے محسوس کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے پاؤں اونچی کرسی پر بیٹھے بیٹھے تھک گئے ہیں۔ چنانچہ آپؓ نے اپنا کوٹ اتارا اور اپنی پگڑی کو اس میں لپیٹ کر چوکی سی بنا کر حضورؑ کے پاؤں تلے رکھ دی۔
1905ء میں حضورؑ زلزلہ کی وجہ سے بہشتی مقبرہ والے باغ میں مقیم تھے۔ ایک روز آپؓ سے فرمایا ’’مفتی صاحب یہ کاغذ لیں اور لاہور چلے جائیں‘‘۔ ایک صحابی کا بیان ہے کہ حضرت مفتی صاحبؓ وہاں سے سیدھے اڈّہ کی طرف چل دیئے اور لاہور روانہ ہوگئے۔
حضرت مفتی صاحبؓ نے وصیت میں اپنی ساری جائیداد پیش کرکے لکھا ’’سارے ترکہ کا دینا اس شرط کے ساتھ مشروط نہیں کہ میں اس مقبرہ بہشتی میں دفن کیا جاؤں بلکہ میرا ترکہ ہر حال میں اس راہ میں دیدیا جاوے … میں اپنے آپ کو ایک ناکارہ اور نابکار اور بے عمل اور بہت عاجز انسان پاتا ہوں۔ پس اس مقبرہ میں جگہ پانے کی بات کو اپنے رب کی غفاری، ستاری اور اس کے فضل و احسان پر چھوڑتا ہوں‘‘۔
حضرت مفتی صاحبؓ کا وطن بھیرہ تھا۔ مارچ 1908ء میں کچھ روز کے لئے آپؓ کو وہاں جانا پڑا تو آپؓ کے جذبات کچھ یوں تھے ’’لوگ کہتے ہیں کہ یہ تیرا وطن ہے، تیرا گھر ہے … یہ کس گناہ کی شامت ہے جو میں چند روز کے واسطے مسیح کے قدموں سے دور پھینکا گیا!‘‘۔
1907ء میں حضرت اقدسؑ کی تحریک پر آپؓ بھی اولین واقفین میں شامل ہوئے اور سات سال تک برطانیہ و امریکہ میں خدمت اسلام کی توفیق پائی۔ انگریزی میں رسالہ ’’مسلم سن رائز‘‘ جاری کیا اور شکاگو میں پہلی احمدیہ مسجد کی تعمیر کی توفیق پائی۔ بعد میں حضرت مصلح موعودؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں