حضرت مولوی قدرت اللہ سنوریؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4مئی 2009ء میں حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ کے نہایت ایمان افروز خودنوشت واقعات شامل اشاعت ہیں۔
حضرت مولوی صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ میری پیدائش 1881ء میں ہوئی۔ میرے غیرحقیقی دادا مولوی محمد یوسف صاحب نے 1880ء میں چچا عبداللہ صاحب کو بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ زمانہ کا امام قادیان میں پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن اُس وقت کسی کو قادیان کا پتہ معلوم نہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد مولوی صاحب نے لاہور کے ایک اخبار میں ایک مضمون پڑھا جو آریوں کے خلاف مرزا غلام احمد صاحب کا تھا اور معلوم ہوا کہ وہ قادیان گورداسپور کے رہنے والے ہیں۔ چنانچہ مولوی عبداللہ صاحب بٹالہ پہنچ کر گیارہ میل کا فاصلہ طے کرکے قادیان پہنچے۔
1889ء میں جب حضورؑ نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو سنورؔ کے نو آدمیوں نے اسی سال بیعت کی۔
مجھے بچپن میں ہی یہ خیال تھا کہ بیعت ضرور کرنی چاہئے خواہ کسی کی کرلی جائے لیکن جو یہاں قریب ہی ہو کیونکہ اتنی دُور قادیان کون جائے! اگرچہ حضورؑکا ذکر ہمارے گھروں میں رہتا تھا لیکن والد صاحب چشتیہ خاندان کے ایک سید صاحب سے ارادت رکھتے تھے اور مَیں بھی اُن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ میں نے جب بیعت کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا: جب بالغ ہوجاؤگے تو بیعت کر لینا۔ وہ قوالی کی مجالس میں بھی مجھے ساتھ لے جایا کرتے۔ نماز تو وہ ضرور پڑھتے لیکن اکثر وقت شطرنج و تاش کھیلتے رہتے۔ ایک دن مَیں اُن کی بیٹھک میں گیا تو پیر صاحب اندر گئے ہوئے تھے اور وہاں اُن کے دو برادرزادے بیٹھے تھے۔ ہم تینوں کھیلنے لگ گئے۔ اِس دوران وہ دونوں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر کرکے آپؑ کو گالیاں دینے لگے۔ میں نے کہا کہ ہمارے خاندان کے کئی بزرگوں نے اُن کی بیعت کی ہوئی ہے وہ نیک اور بزرگ ہیں، آپ سید زادے ہیں اس لئے فحش کلامی نہ کریں۔ مگر وہ باز نہ آئے ۔ تین بار منع کرنے کے بعد مَیں نے اُن دونوں کو مارنا شروع کیا اور وہ مجھے مارنے لگے۔ شور پڑگیا۔ پیر صاحب تشریف لائے اور پوچھا کیا بات ہے۔ میں نے کہا کہ یہ حضرت مرزا صاحب کو گالیاں دیتے ہیں، گووہ میرے پیر نہیں لیکن کسی کو پس پشت گالیاں نکالنا برا ہے۔ لیکن جب پیر صاحب نے بھی اپنے ہی بچوں کی طرفداری کی تو مَیں ناراض ہو کر وہاں سے چلاآیا اور گھر آکر بیعت کا خط حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں لکھ دیا۔
حضرت مولوی محمد یوسف صاحبؓ کو (جن کا ذکر ’’ازالہ اوہام‘‘ میں ہے) جب میری بیعت کا علم ہوا تو انہوں نے میری تربیت شروع کر دی۔ مجھے نمازوں میں ساتھ لے جاتے اور تہجد ساتھ پڑھاتے۔ آپؓ اس قدررُعب رکھتے تھے کہ قصبہ سنور میں چودہ مساجد تھیں اوروہ جس مسجد میں جاتے امامت کرا دیتے۔ لوگ ان کے اقتداء میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ایک دن والدہ صاحبہ نے مجھ سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی بیعت ہو جاؤں مگر مجھے خوف آتا ہے کہ تمہارے والد صاحب مجھ پر ناراض ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اُن سے دریافت کر لیں کہ قدرت اللہ نے جو عقیدہ اختیار کیا ہے اس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اس سے کیا سلوک کرے گا؟ وہ فرمائیں گے کہ اِس عقیدہ کی وجہ سے یہ جہنم میں جائے گا۔ تو آپ یہ عرض کر دینا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اگر یہ جہنم میں گیا تو میں جنت میں جا کر کیا کروں گی۔ مجھے اجازت فرماویں کہ میں بیعت کر لوں تاکہ اس کے ساتھ ہی میرا حشر ہوجائے۔ والدہ صاحبہ نے جب والد صاحب کے سامنے یہ بات پیش کی تو وہ ہنس پڑے اور فرمایا اگر تم چاہتی ہو تو بیشک بیعت کرلو۔ میں نے قدرت اللہ کو بھی کچھ نہیں کہا، تم کو بھی کچھ نہیں کہتا۔ چنانچہ والدہ صاحبہ کے کہنے پر مَیں نے ان کی طرف سے بیعت کا خط لکھ دیا۔
مَیں نے اپنے دادا صاحب کو بھی تبلیغ کرنی شروع کی۔ اُن کی عمر قریباً سو سال تھی مگر ان کے قویٰ بالکل صحیح و سالم تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں تو لکھا پڑھا نہیں صرف قرآن شریف پڑھ سکتا ہوں، تمہارا والد مولوی ہے اس نے بیعت نہیں کی۔ میں نے کہا: وہ ابھی تحقیق کر رہے ہیں آپ بیعت کر لیں۔انہوں نے فرمایا: میں مشروط بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بیعت کا خط یوں لکھ دو کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے آ جائیں تو میں بیعت توڑ کر ان کی بیعت میں شامل ہوجاؤں گا۔ چنانچہ میں نے مشروط بیعت کا خط حضورؑ کی خدمت میں لکھ دیا۔ جس کے جواب میں حضورؑ نے تحریر فرمایا کہ اگر مسیحؑ آ جائیں تو سب سے پہلے مَیں بیعت کروں گا۔
چوہدری کریم بخش صاحبؓ رائے پور کے نمبردار اور اوّلین صحابہ میں سے تھے۔ برسوں سے قادیان آیا جایا کرتے تھے اور ہرسال ایک دو ماہ وہاں قیام فرماتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ ان کو رہائش کے لئے اپنے مکان کے اندر جگہ دیا کرتے تھے۔ اُن کا چہرہ ایسا نورانی اور اخلاق ایسے پسندیدہ تھے کہ ایک د فعہ مہاراجہ نابھہ مسمیٰ ہیرا سنگھ صاحب جن کی عمر تقریباً 90 سال کی تھی، نے ریاست کے ہزار بارہ سو نمبرداروں کو بلایا۔ وہاں چوہدری صاحب سے سوال کیا کہ میاں کریم بخش! ان ہزار بارہ سو آدمیوں میں سرکار کو آپ کے اخلاق اور عادات کیوں اچھے لگتے ہیں؟ چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ حضور! مجھے تو اپنی کسی خوبی کا علم نہیں، یہ بات ضرور ہے کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا مرید ہوں اور وہ اس زمانہ کے لئے اوتار، گورو ہیں۔ اس پر مہاراجہ اُنہیں اپنے محل کے دیوان خانے میں لے گئے جہاں دوسرے گورؤوں کے ساتھ حضرت اقدسؑ کی تصویر بھی شاندار چوکھٹے میں لگی ہوئی تھی۔ پھر فرمایا میاں کریم بخش! یہ تصویر پہلے سے ہمارے پاس ہے۔ تم ایک رقم حضرت مرزا صاحب کے نذرانہ کے لئے لے جاؤ، آمد و رفت اور خوراک کا خرچ علیحدہ ملے گا، اور میری طرف سے درخواست کرکے اُن کو ساتھ لے آؤ۔ اُن کی آمدورفت کے اخراجات سب میں برداشت کروں گا۔ میں ضعیف العمر ہوں جا نہیں سکتا۔
چودھری صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے قادیان جا کر وہ رقم حضور کو دیدی اور مہاراج کا پیغام پہنچا دیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اُن سے عرض کردیں کہ ’’کنویں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتے بلکہ پیاسے کنویں کے پاس آیا کرتے ہیں۔‘‘ میں نے واپس نابھہ پہنچ کر مہاراجہ سے عرض کر دیا۔ فرمایا: اگر ہم وہاں جاویں تو یہ انگریز ہمیں فوراً گدی سے اتار دیں۔
جن رئیسوں کے پاس میری ملازمت رہی مَیں ان کو دعوت الی اللہ کرتا اور بتاتا کہ حضورؓ کی دعائیں خدا قبول کرتا ہے۔ وہ جب کسی مشکل میں ہوتے تو دعا کے لئے خط لکھنے کا کہتے۔ چنانچہ خط لکھا جاتا اور خداتعالیٰ کے فضل سے کامیابی ہوتی۔ اس سے اُن پر اثر ہوتا اور وہ بذات خود حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں جاکر ملتے تھے۔ ایک سردار نرنجن سنگھ صاحب نے حضورؓ کی خدمت میں تعبیر کے لئے یہ خواب لکھوایا کہ وہ حضورؓ کی خدمت میں گئے ہیں اور حضورؓ کی دعوت پر کھانا کھانے بیٹھے ہیں تو بہت سے کھانے تھے۔ حضورؓ نے جواباً فرمایا کہ ’مولوی صاحب آپ کے لئے دعا کراتے رہتے ہیں اور میں دعا کر دیتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو میری دعا سے مالی فراخی ملے گی‘۔
ایک دفعہ مَیں اور سردار نرنجن سنگھ کسی کام سے لاہور آئے اور وہاں سے حضورؓ کو ملنے قادیان آگئے۔ حضورؓ نے اُن سے پوچھا: آپ کا کھانا کہاں پکوایا جائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ مَیں تو مولوی صاحب کا جوٹھا کھالیتا ہوں، مجھے پرہیز نہیں ہے۔ پھر حضورؓنے جو کھانے تیار کروائے وہ تمام وہی تھے جو سردار صاحب کو خواب میں دکھائے گئے تھے۔ سردار صاحب نے عرض کیا کہ آپ کی یادداشت بڑی اچھی ہے۔
سردار صاحب کی سردارنی بیمار تھی۔ ایک رات وہ نہایت مغموم تھے۔ کہنے لگے کہ مہاراجہ صاحب کل ولایت جا رہے ہیں، کئی مہینے میں واپس آ ئیں گے۔ پرائیویٹ سیکرٹری مجھ سے کچھ ناراض ہیں وہ بعد میں مجھ کو سختی سے حاضر رکھیں گے۔ ایک تو میری بیوی بیمار ہے دوسرے جائیداد کے کاموں میں مجھے آپ کے ساتھ حصہ لینا پڑتا ہے۔ میں نے کہا: اس کا علاج تو ابھی کردیتا ہوں اور حضرت صاحب کو خط لکھ دیتا ہوں۔ وہ یہ سن کر ہنس پڑے۔ کہا: خط تو تین دن میں قادیان پہنچے گا اور مہاراج کل چلے جاویں گے۔ میں نے عرض کیا کہ ہمیں اس بات کا تجربہ ہے کہ بعض اوقات خط لکھ کر ڈالا گیا اور … اللہ تعالیٰ نے ہمارے خط کا علم حضورؓ کو دیدیا، آپ تجربہ کر لیں۔ چنانچہ ہم نے خط لکھ کر ڈال دیا۔ پھر اگلے روز جب سردار صاحب نے مہاراجہ سے اپنی مجبوری بیان کرکے رخصت مانگی تو مہاراجہ نے غیرمتوقع طور پر اُسی وقت انہیں اپنی واپسی تک رخصت عطا کردی۔
1953ء میں مَیں ناصر آباد (سندھ) میں مینیجر تھا اور فسادات کے دوران میرا بیٹا مسعود احمد لاہور میں تھا۔ مَیں نے خواب میں اُسے بہت پریشان دیکھا۔ اس پر مَیں نے صدقہ دیا اور دعا بھی کی۔ اُدھر فسادات میں مسعود کو جب خطرہ پیدا ہوا کہ دکان لوٹ لی جائے گی تو وہ اپنے کھاتہ جات کو گھر لے آیا اور دکان پر آنا جانا بند کردیا۔ دو تین روز بعد شریروں نے دوکان جلا دی اور سمجھا کہ حساب کتاب کی کاپیاں بھی جل گئی ہوں گی۔ مکان کی یہ حالت تھی کہ روزانہ دو دو تین تین دفعہ ہزار ہزار آدمی سڑک پر پہنچ کر گالیاں دیتا لیکن دروازہ نہیں توڑتے تھے اور کہتے تھے کہ اندر صرف دو آدمی ہیں اور ان کے پاس اسلحہ ہے۔ جتنے کارتوس ہوں گے اتنے یہ مار سکتے ہیں۔ نکلنے کے بعد پھر ان کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ایک دن مسعود نے اپنی بیوی کو مالک مکان کی بیوی کے پاس بھجوایا کہ ہمارا ستر ہزار کا مال آپ کے مکان میں پڑا ہے۔ ہم یہ آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ براہ مہربانی اپنی موٹر میں ہمیں پولیس لائن تک پہنچا دیں۔ اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ سب احمدیوں کو قتل کرنے کا دن مقرر ہوچکا ہے، مَیں اپنی بیس ہزار کی موٹر کیسے تڑوالوں۔ اس پر مسعود نے خود جاکر بھی مالک مکان سے درخواست کی مگر انہوں نے حامی نہ بھری۔ لیکن اگلی صبح قریشی محمد اقبال صاحب موٹریں لے کر وہاں پہنچے اور مسعود اور اُس کی بیوی کو صرف چار جوڑے کپڑوں کے ہمراہ پولیس لائن لے گئے۔ دو دن بعد مارشل لاء لگ گیا۔ خطرہ دُور ہوا تو مسعود واپس اپنے گھر گئے تو سارا سامان بدستور پڑا تھا۔ چار پانچ رو ز کے بعد بازار میں امن ہوگیا تو دوکان جاکر کھولی۔ جن لوگوں کے پاس روپیہ تھا اُن سے مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بہی کھاتہ دکھاؤ۔ جب دکھایا تو وہ حیران تھے کہ دوکان تو ساری جلا دی گئی تھی یہ بہی کھاتہ کہاں پڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دکان بھی بچادی مکان بھی اور جان بھی محفوظ رکھ لی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/xykEQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں