حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ ، پہلی خاتون امریکی وزیر کی نظر میں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍اگست 2009ء میں مکرم محمد ادریس صاحب ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ صدر کلنٹن کی صدارت کے دوران میڈلین البرائٹ 1993ء سے 1997ء تک اقوام متحدہ میں مستقل مندوب اور 1997ء سے 2001ء تک سیکرٹری آف سٹیٹ وزیرخارجہ رہیں۔ آپ 1937ء میں چیکوسلواکیہ کے شہر پراگ میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم سوئٹزرلینڈ میں پائی۔ آپ کے والد یوگوسلاویہ میں چیکوسلواکیہ کے سفیر رہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنی فیملی کے ہمراہ لندن میں پناہ گزین رہے۔ بعد میں وہ امریکی یونیورسٹی آف ڈینور (Dennor) میں سیاسیات کے شعبہ کے ڈین مقرر ہوئے۔ میڈلین البرائٹ نے بچپن میں بچوں کی ایک فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ اپنی کتاب “The Mighty and Almighty” میں لکھتی ہیں کہ میری عمر دس سال ہونے تک میرے والد اقوام متحدہ کے انڈیا اور پاکستان کے متعلق کمیشن کے چیئرمین کے طور پر خدمت بجالاچکے تھے۔ اس کمیشن کو کشمیر کی صورتحال پر مفاہمت کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جہاں مسلمان اکثریت میں اور ہندو اقلیت میں تھے۔ڈینور میں مسلمان اکّادکّا ہی تھے لیکن میرے والد کے بعض سے تعلقات قائم ہوچکے تھے جن میں سے ایک سر ظفراللہ خان تھے۔ وہ پاکستان کے وزیرخارجہ رہ چکے تھے۔ ان کی شخصیت پُروقار اور جاذب تھی۔ ان کی گفتگو عالمانہ تھی جس سے مَیں بہت متأثر ہوئی اور اُن کی مداح بن گئی۔ ایک دن جب وہ مجھے ناشتہ کے لئے اپنے ساتھ لے گئے تو میری حاسد کلاس فیلوز نے مذاقاً کہا کہ وہ پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی چُن لینے کے مجاز ہیں۔ اُن کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میرے لئے بہت دلنشین تھی۔ مَیں محسوس کرنے لگی کہ جب ایک جھگڑے کو مذہب اور قومیت کے شعلے بھڑکانے لگتے ہیں اور فریقین میں سے ہر ایک کو یہ یقین کامل ہو کہ حقانیت پر صرف اسی کو واحد ملکیت حاصل ہے تو زندگی پیچیدگیوں سے کس قدر آلودہ ہوجاتی ہے۔
سالہاسال بعد دفتر وزارت خارجہ میں بیٹھے ہوئے مَیں ظفراللہ خان کا سوچ رہی تھی کہ ڈینور میں وہ اپنے لوگوں سے کس قدر جدائی محسوس کر رہے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج 1997ء میں وہ اگر اس دفتر میں ہوتے تو اپنے اور ماحول کے درمیان اچھی خاصی غیرمطابقت محسوس کرتے۔ وزارت خارجہ کے سینئر عہدوں میں کام کرنے والوں میں ہمارے پاس کوئی مسلمان نہ تھے۔ درمیانہ درجہ میں چند ایک ہی تھے۔ میں نے ہر پہلو کا جائزہ لیا اور ملازمین کی بھرتی اور ٹریننگ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ نیز سرکاری کیلنڈر میں عیسائی اور یہودی کی چھٹی کے ناغوں کے ساتھ مسلمانوں کی چھٹی کے دنوں کا اضافہ کیا گیا۔ مسلمان لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیالات شروع کرنے کے لئے رمضان المبارک کے افطار ڈنر میں انہیں مدعو کرنا شروع کیا گیا۔ مسلمان ممالک میں متعین سفارتکاروں کے لئے اسلام پر ایک تعارفی گائیڈ تیار کی گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X