خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 8؍اگست2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ہر پہلو سے اس کی ادائیگی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ حکم دیتاہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپر دکرو
امانت کے مضمون کو جس قدر سمجھیں گے اسی قدر تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۸؍ اگست ۲۰۰۳ء مطابق ۸؍ظہور۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن(برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-
اِنَّ اللہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا۔ وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ۔ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ۔ اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا (سورۃ النساء :۵۹)

اللہ تعالیٰ فرماتاہے یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقینا بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ یقینا اللہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنے والا ہے۔
علامہ فخرالدین رازیؔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو تمام امورمیں امانتوں کو ادا کرنے کا ارشاد فرمایاہے۔ خواہ وہ امورمذہب کے معاملات میں ہوں یادنیوی امور اور معاملات کے بارہ میں- اُن کے نزدیک انسان کامعاملہ یا تو اپنے رب کے ساتھ ہوتاہے یا بنی نوع انسان کے ساتھ یا اپنے نفس کے ساتھ اور ان تینوں اقسام میں امانت کے حق کی رعایت رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں-
آپ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے معاملات میں امانت کی رعایت کرنے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق ان افعال کے ساتھ ہے جن کے کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ یا جن افعال کے کرنے سے منع کیا گیاہے ان کو ترک کرنے کے ساتھ۔ پھر کہتے ہیں کہ جہاں تک زبان کی امانت کا تعلق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو کذب بیانی، غیبت، چغل خوری ، نافرمانی، بدعت اور فحش کے لئے نہ استعمال کرے۔ اور آنکھ کی امانت یہ ہے کہ انسان آنکھ کوحرام کی طرف دیکھنے میں استعمال نہ کرے اور کانوں کی امانت یہ ہے کہ انسان ا ن کو بیہو دہ کلامی اور ایسی باتوں کے سننے میں استعمال نہ کرے جن سے منع کیا گیاہے۔ نیز فحش کلامی اور جھوٹی باتوں کے سننے سے پرہیز کرے۔
پھر دوسری بات لکھتے ہیں کہ :
جہاں تک امانت کا تمام مخلوقات کو ادا کرنے کا تعلق ہے اس میں ماپ تول میں کمی کو ترک کرنا، اور یہ کہ لوگوں میں ان کے عیوب نہ پھیلائے جائیں اور امراء اپنی رعیت کے ساتھ عدل سے فیصلے کریں- عوام الناس کے ساتھ علماء کے عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ عوام کو باطل تعصبات پر نہ ابھاریں بلکہ وہ ایسے اعتقادات اور اعمال کے بارہ میں ان کی ایسی رہنمائی کریں جو ان کی دنیا اور آخرت میں ان کے لئے نفع رساں ہوں ……۔
اب آج کل کے علماء ہماری بات تو نہیں سنتے۔ علامہ فخرالدین رازیؔ کی اس با ت پہ ہی غور کریں اور اس پر عمل کریں تو دنیا میں امن قائم ہو سکتاہے۔
پھر تیسری بات لکھتے ہیں کہ جہاں تک امانت کا تعلق انسان کے اپنے نفس کے بارہ میں ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان اپنے لئے صرف وہی پسند کرے جو زیادہ نفع رساں اور زیادہ مناسب ہو اس کے دین کے لئے اور د نیا کے لئے۔ اور یہ کہ وہ اپنی خواہشات کا تابع ہو کر یاغضبناک ہو کر کوئی ایسافعل نہ کرے جو اس کو آخرت میں تکلیف پہنچائے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اُس سے اُس کی رعیت کے بارہ میں دریافت کیا جائے گا۔ ارشاد الٰہی

یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا

میں یہ سب باتیں داخل ہیں-(تفسیر کبیر رازیؔ)
اب اگر ہم دیکھیں تو یہ جو تین صورتیں بیان کی گئی ہیں ہر انسان کے معاملات میں تقریباً ان صورتوں کے گرد ہی اس کی زندگی گھوم رہی ہے۔ لیکن اس آیت کے آخر پر جو بات بیان ہوئی ہے اس کی مَیں پہلے وضاحت کرنا ضرور ی سمجھتاہوں- اللہ تعالیٰ اس آیت کے آخر پر فرماتاہے کہ جو مَیں تمہیں حکم دے رہاہوں وہ انتہائی بنیادی حکم ہے۔ اگر تم اس پر عمل کرتے رہے تو کامیابیاں تمہاری ہیں- ساتھ یہ بھی بتادیا کہ جب خداتعالیٰ تمہیں کسی بات کا حکم دیتاہے تو حکم کرکے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ تم پر گہری نظر رکھنے والا بھی ہے کہیں اس کے احکام کی ادائیگی میں تم خیانت تو نہیں کرر ہے۔ اگر خیانت کررہے ہوتو اس کے جو منطقی نتائج سامنے آنے چاہئیں جو نکلنے چاہئیں وہ تو نکلیں گے اور ساتھ ہی جو امانت تمہارے سپرد کی گئی ہے وہ بھی تم سے واپس لے لی جائے گی۔ تم خدمت سے محروم کر دئے جاؤ گے۔ ایک اعزاز تمہیں ملاتھا وہ تم سے چھین لیا جائے گا کیونکہ جن کے تم نگران بنائے گئے ہو ان کی دعاؤں کو اگر وہ نیک اور متقی ہیں اللہ تعالیٰ سنتاہے اور اپنی مخلوق پر ظلم اور زیادتی کی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔تو جیسے کہ پہلے مَیں نے بیان کیاہے کہ وہ نصیحت ہے کیا جس پر تم نے کاربند ہوناہے۔ وہ باتیں ،وہ حکم ہے کیا جن پر ہم نے عمل درآمد کرناہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپر د کرو۔ اب و ہ کونسی امانتیں ہیں جو ہمارے پاس خداتعالیٰ نے رکھی ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے سپرد کرو جو کہ صحیح حق دار ہیں-
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔یہی رعایا کی لوگوں کی طرف سے ادائے امانت ہے اور پھر حکام کی طرف سے، افسران کی طرف سے امانت کا ادا کرنا، اپنی رعایا کی، اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا، ان کے حقوق کا خیال رکھنا،حکام اور افسران کی طرف سے امانت کی صحیح ادائیگی ہے۔
ہمارے نظام جماعت میں عہدیداروں کا نظام مختلف سطحوں پرہے۔ اس زمانے میں ہر احمدی جہاں ، جس ملک میں رہتاہے اس ملک میں دنیاوی سطح پر امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرنے کی کوشش کرتاہے، ان تک پہنچانے کی کوشش کرتاہے۔ اور اس کا فرض ہے کہ اپنے اس فرض کی صحیح ادائیگی کرے اور حق دار لوگوں تک اس امانت کو پہنچائے وہاں نظام جماعت بھی ہر احمدی سے خواہ عہدیدار ہو یا عام احمدی اس سے یہی توقع رکھتاہے کہ وہ اپنی امانتوں کی صحیح ادائیگی کرے۔ ا ب سب سے پہلے تو افراد جماعت ہیں جو نظام جماعت چلانے کے لئے عہدیدار منتخب کرتے ہیں-ان کا کیا فرض ہے، انہوں نے کس طرح جماعت کی اس ا مانت کو جو ان کے سپرد کی گئی ہے صحیح حقدار وں تک پہنچانا ہے۔تواس کے لئے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں انتخابات سے پہلے قواعد بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ،عموما ً یہ جماعتی روایت ہے۔دعا کرکے اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کی کوشش کی جاتی ہے اورپھر آپ کس کو ووٹ دیتے ہیں یا کم از کم یہی ایک متقی کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس کو ووٹ دیا جائے جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اللہ کاخوف رکھنے والاہے۔ جس عہدے کے لئے منتخب ہو رہاہے اس کا کچھ نہ کچھ علم بھی اس کو ہو۔ پھر جماعت کے کاموں کے لئے وقت بھی دے سکتاہو۔ جس حد تک اس کی طاقت میں ہے وقت کی قربانی بھی دے سکتاہو۔ پھر صرف اس لئے کسی کو عہدیدار نہ بنائیں کہ وہ آپ کا عزیز ہے یا دوست ہے۔اور اتنا مصروف ہے کہ جماعتی کاموں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہے۔لیکن عزیز اور دوست ہونے کی وجہ سے اس کو عہدیدار بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ ہے امانت کے حقدار کو امانت کو صحیح طرح نہ پہنچانا۔ اس نیت سے جب انتخابات ہوں گے کہ صحیح حقدار کو یہ امانت پہنچائی جائے تو اس میں برکت بھی پڑے گی، انشاء اللہ۔اور اللہ سے مدد مانگنے والے، نہ کہ اپنے اوپر ناز کرنے والے، اپنے آپ کو کسی قابل سمجھنے والے عہدیدار اوپر آئیں گے۔ اور جن کے ہر کام میں عاجزی ظاہر ہوتی ہوگی اور یہی لوگ آپ کے حقوق کا صحیح خیال رکھنے والے بھی ہوں گے۔اورنظام جماعت کو صحیح نہج پر چلانے والے بھی ہوں گے۔بعض دفعہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں عہدیدار بناؤ۔ ان کے بارہ میں یہ حدیث ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے حقائق الفرقان میں Quote کی ہے کہ حضرت نبی کریم ؐکے روبرو دو شخص آئے کہ ہمیں کام سپرد کیجئے، ہم اس کے اہل ہیں- فرمایا: جن کو ہم حکم فرمادیں ، خُدا اُن کی مدد کرتا ہے۔ جو خود کام کو اپنے سر پر لے، اس کی مدد نہیں ہوتی۔ پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو۔‘‘(حقائق الفرقان جلد نمبر ۲صفحہ ۳۰)
پھر عہدیداران ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے بلکہ جماعت کاہر کارکن یہ بات یاد رکھے کہ اگر کسی دفتر میں کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتاہے یا کسی کارکن کے علم میں کوئی معاملہ آتاہے چاہے وہ ان کی نظر میں انتہائی چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہو۔وہ اس کے پاس امانت ہے اور اس کوحق نہیں پہنچتا کہ اس سے آگے یہ معاملہ لوگوں تک پہنچے۔ ایک راز ہے، ایک ا مانت ہے،پھر کسی کی کمزوریوں کو اچھالنا تو ویسے بھی ناپسندیدہ فعل ہے اور منع ہے بڑی سختی سے منع ہے۔ اور بعض دفعہ تو یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا وجود ہی نہیں ہوتا اوروہ بات بازار میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔ اورجب تحقیق کرو تو پتہ چلتاہے کہ فلاں کارکن نے فلاں سے بالکل اور رنگ میں کوئی بات کی تو جو کم از کم نہیں تو سو سے ضرب کھا کر باہر گردش کر رہی ہوتی ہے۔ تو جس کے متعلق بات کی جاتی ہے جب اس تک یہ بات پہنچتی ہے تو طبعی طورپر اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ اول تو بات اس طرح ہوتی نہیں اور اگر ہے بھی تو تمہیں کسی کی عزت اچھالنے کا کس نے اختیار دیاہے۔
پھر مشورے ہیں اگر کوئی کسی عہدیدار سے یا کسی بھی شخص سے مشورہ کرتاہے تو یہ بالکل ذاتی چیز ہے،ایک امانت ہے۔ تمہارے پاس ایک شخص مشورہ کے لئے آیا، تم نے اپنی عقل کے مطابق اسے مشورہ دیا تو تم نے امانت لوٹانے کا حق ادا کردیا۔ اب تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ اس مشورہ لینے والے کی بات آگے کسی اور سے کرو۔اور اگر کرو گے تو یہ خیانت کے زمرے میں آ جائے گی۔عہدیداران کو بھی، کارکنان کو بھی اس حدیث کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔سائل نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا:جب نااہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ (بخار ی۔کتاب الرقاق۔باب رفع الامانۃ)
پھرطبرانی کبیر میں یہ روایت آئی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: جس میں امانت نہیں ، اس میں ایمان نہیں جس کو عہد کا پاس نہ ہو اس میں دین نہیں ، اُس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کسی بندے کا اُس وقت تک دین درست نہ ہوگا جب تک اُس کی زبان درست نہ ہو۔ اور اُس کی زبان درست نہ ہوگی جب تک اُس کادل درست نہ ہوگا۔ اور جو کوئی کسی ناجائز کمائی سے کوئی مال پائے گا اور اُس میں سے خرچ کرے گا تو اُس کو اُس میں برکت نہیں دی جائے گی، اور اگر اُس میں سے خیرات کرے گا تو قبول نہیں ہوگی اور جو اُس میں سے بچ رہے گا وہ اُسے دوزخ کی طرف لے جانے کا موجب ہوگا۔ بُری چیزبُری چیز کا کفارہ نہیں بن سکتی ہے، البتہ اچھی چیز اچھی چیز کا کفارہ ہوتی ہے۔(کنزالعمال۔ جلد ۲ صفحہ ۱۵۔حیدرآ باد)
ہمیشہ یادرکھنا چاہئے عہدیداران کو، کارکنان کو کہ عہدہ بھی ایک عہد ہے، خدمت بھی ایک عہد ہے جو خدا اور ا س کے بندوں سے ایک کارکن، ایک عہدیدار، اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کرتاہے۔ اگر ہر عہدیدار یہ سمجھنے لگ جائے کہ نہ صرف قول سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس بات پر قائم ہو کہ خدمت دین ایک فضل الٰہی ہے۔ میری غلط سوچوں سے یہ فضل مجھ سے کہیں چھن نہ جائے تو ہماری ترقی کی رفتار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ہم سب کے لئے لمحہ ٔفکریہ ہے، ایک سوچنے کا مقام ہے کہ امانت ایمان کا حصہ ہے، اگر امانت کی صحیح ادائیگی نہیں کر رہے،اگر اپنے عہد پر صحیح طرح کاربند نہیں ،جو حدود تمہارے لئے متعین کی گئی ہیں ان میں رہ کر خدمت انجام نہیں دے رہے تو اس حدیث کی رُو سے ایسے شخص میں دین ہی نہیں اور دین کو درست کرنے کے لئے اپنی زبان کو درست کرنا ہوگا۔ اور فرمایا کہ زبان اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک دل درست نہ ہوگا۔ اور پھر ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی چلی جائے گی۔ تو حسین معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ان تمام امور کی درستگی ضروری ہے۔
ایک بات اور واضح ہو کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میرا دل درست ہے،کافی نہیں- ہروقت ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ دلوں کا حال جانتاہے۔ وہ ہماری پاتال تک سے واقف ہے۔وہ سمیع وبصیر ہے اس لئے اپنے تمام قبلے درست کرنے پڑیں گے۔ تو خدمت دین کرنے کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔تو یہ تقویٰ کے معیار قائم رہیں گے تو نظام جماعت بھی مضبوط ہوگا اور ہوتا چلا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ایسے عہدیدار جو پورے تقویٰ کے ساتھ خدمت سرانجام دیتے ہیں اور دے رہے ہیں ان کے لئے ایک حدیث میں جو مَیں پڑھتاہوں ، ایک خوشخبری ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر وہ ا مین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتاہے اسے صحیح صحیح نافذ کرتاہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خو ش دلی کے ساتھ اس کاحق سمجھتے ہوئے دیتاہے تو ایساشخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا۔(مسلم کتاب الزکوٰۃ )
تو دیکھیں نیکی سے کس طرح نیکیاں نکلتی چلی جا رہی ہیں- خداکی جماعت کی خدمت کا موقع بھی ملا،خدا کی مخلوق کی خدمت کا موقع بھی ملا، حکم کی پابندی کرکے، امانت کی ادائیگی کر کے، صدقے کا ثواب بھی کما لیا۔ بلاؤں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ کر لیا۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو گئی۔
پھر مجالس کی امانتیں ہیں-کسی مجلس میں اگر آپ کو دوست سمجھ کر،اپنا سمجھ کر آپ کے سامنے باتیں کر دی جائیں تو ان باتوں کوباہر لوگوں میں کرنا بھی خیانت ہے۔ پھر مجالس میں کسی کے عیب دیکھیں ، کسی کی کوئی کمزوری دیکھیں تو اس کو باہر پھیلانا کسی طرح بھی مناسب نہیں- جب کہ کسی اور شخص کو بھی بتانا جس کا اس مجلس سے تعلق نہ ہو یہ بھی خیانت ہے۔ایک بات اور واضح ہواور ہر وقت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر کسی مجلس میں نظام کے خلاف یا نظام کے کسی کارکن کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں تو اس کو پہلے تو وہیں بات کرنے والے کو سمجھاکر اس بات کو ختم کردینا زیادہ مناسب ہے اور وہیں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ ہو توپھر بالا افسران تک اطلاع کرنی چاہئے۔ لیکن بعض دفعہ بعض کارکن بھی اس میں Involve ہو جاتے ہیں- پتہ نہیں آج کل کے حالات کی وجہ سے مردوں کے اعصاب پر بھی زیادہ اثر ہو جاتاہے یا مردوں کو بھی بلا سوچے سمجھے عورتوں کی طرح باتیں کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اس میں بعض اوقات اچھے بھلے سلجھے ہوئے کارکن بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی باتیں کرجاتے ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور اس طرح غیرمحسوس طورپر ایک کارکن دوسرے کارکن کے متعلق بات کرکے یا ایک عہدیدار دوسرے بالا عہدیدار کے متعلق بات کرکے یا اپنے سے کم عہدیدار کے متعلق بات کرکے، لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بن رہاہوتاہے۔ کمزور طبیعت والے ایسی باتوں کا خواہ وہ چھوٹی باتیں ہی ہوں ، برااثر لیتے ہیں- اور ایسے کارکنوں کو بھی جو اپنے ساتھی عہدیداران کے متعلق باتیں کرنے کی عادت پڑ جائے تومنافق بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نظام بھی متأثر ہوتاہے۔اس لئے تمام کارکنان اور عہدیداران کو جو ایسی باتیں خواہ مذاق کے رنگ میں ہوں کرتے ہیں ان کو اپنے عہدوں اور اپنے مقام کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔اور ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کے لئے یہاں اجازت ہے۔ اب ویسے تو مجلس کی باتیں امانت ہیں باہر نہیں نکلنی چاہئیں لیکن اگر نظام کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو یہاں اجازت ہے کہ چاہے وہ اگر نظام کے متعلق ہے یا نظام کے کسی عہدیدار کے متعلق ہیں اور اس سے یہ تأثر پیدا ہورہاہے کہ اس میں کئی اعتراض کے پہلو ابھرسکتے ہیں ،نکل سکتے ہیں تو اس کو افسران بالا تک پہنچانا چاہئے۔ اور ایک حدیث میں اس کی اس طرح اجازت ہے کہ حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مجالس کی گفتگو امانت ہے سوائے تین مجالس کے۔ایسی مجلس جہاں ناحق خون بہانے والوں کے باہمی مشورہ کی مجلس ہو۔ پھر وہ مجلس جس میں بدکاری کا منصوبہ بنے۔ اور پھروہ مجلس جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کامنصوبہ بنایاجائے۔تو جہاں ایسی سازشیں ہو رہی ہوں جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، ایسی باتیں سن کر متعلقہ لوگوں تک یا افسران تک پہنچانا یہ امانت ہے۔ان کو نہ پہنچانا خیانت ہو جائے گی۔ تو نظام کے متعلق جو باتیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ اگر کوئی نظام کے خلاف بات کررہاہو اور بالا افسران تک نہ پہنچائیں- پھر بعض دفعہ عہدیداران کے خلاف شکایات پیدا ہوتی ہیں تو بعض اوقات یہ صرف غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں-یا بعض دفعہ کسی نے اپنے ذاتی بغض کی وجہ سے کسی عہدیدار کے ساتھ ہے اپنے ماحول میں بھی لوگ اس عہدیدار کے خلاف باتیں کرکے لوگوں کو اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں- ایسی صورت میں بھی آپ کوچاہئے کہ امانتیں ان کے صحیح حقدار وں تک پہنچائیں- یعنی باتیں بالا افسران تک، عہدیدارن تک، نظام تک پہنچائیں- لیکن تب بھی یہ کوئی حق نہیں پہنچتا بہرحال کہ ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کی جائیں- بلکہ جس کے خلاف بات ہورہی ہے مناسب تو یہی ہے کہ اگر آپ کی اس عہدیدار تک پہنچ ہے تو اس تک بات پہنچائی جائے کہ تمہارے خلاف یہ باتیں سننے میں آ رہی ہیں- اگر صحیح ہیں تو اصلاح کرلو اوراگر غلط ہے تو جوبھی صفائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہو کرو۔ پھر کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یاغلط یہ غیبت یا جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں- اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہوجائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں :۔
’’ہم اُسی وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خدا وند منعم نے ہمیں دیا ہے ہم اُس کوواپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہوجائیں- ہماری جان اُس کی امانت ہے اور وہ فرماتاہے

تُؤَدُّ والْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا-‘‘

(تفسیر فرمودہ حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم۔ صفحہ ۲۴۵، جدید ایڈیشن۔ مطبوعہ ربوہ)
آپ ؑمزید فرماتے ہیں :
’’امانتوں کو ان کے حقداروں کو واپس دے دیا کرو۔ خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
پھر آپ نے فرمایا:
’’مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارہ میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قویٰ اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اورہاتھوں اور پیروں کی قوت یہ سب خداتعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اس نے ہمیں دی ہیں اور جس وقت چاہے اپنی امانت کو واپس لے سکتاہے۔پس ان تمام امانتوں کی رعایت رکھنا یہ ہے کہ باریک در باریک تقویٰ کی پابندی سے خداتعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اس کے تمام قویٰ اور جسم اور اس کے تمام قویٰ اور جوارح سے لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں-اور اُس کی مرضی اس کی نہیں بلکہ خداکی مرضی کے موافق ان تمام قویٰ اور اعضاء کا حرکت اورسکون ہو۔ اوراس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اس میں کام کرے اور خداتعالیٰ کے ہاتھ میں اس کا نفس ایساہوجیساکہ مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتاہے۔ اور یہ خود رائی سے بے دخل ہو (یعنی اپنا وجود ہی نہ ہو)۔ اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پرہو جائے۔یہاں تک کہ اُسی سے دیکھے اور اُسی سے سنے اور اُسی سے بولے اور اسی سے حرکت یا سکون کرے۔ اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خوردبین سے بھی نظر نہیں آ سکتیں دور ہو کر فقط روح رہ جائے۔ غرض مہیمنت خدا کی اس کا احاطہ کرلے۔(یعنی انسان خداتعالیٰ کے مکمل طورپر قبضہ میں ہو)۔ اور اپنے وجود سے اس کو کھو ہ دے اور اس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے۔ اور انسانی جوش سب مفقود ہوجائیں-اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں-اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کرکے خاک میں ملا دی جائیں-اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہر کا دل میں دل میں تیارکیاجاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکیں اوراس کی روح اس میں آباد ہو سکے۔ اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں تب ایسے شخص کو یہ آیت صادق آئے گی

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰـنٰـتھِمْ وَعَہْدِھِمْ رَاعُوْنَ ‘‘۔

پھر آپ فرماتے ہیں :
’’ انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں- ایک حسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خداتعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے اداکرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی عمل حتی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔ جیساکہ خداتعالیٰ کے کلام میں ’’رَاعُوْنَ‘‘ کے لفظ اسی طرف اشارہ کرتاہے ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تقویٰ سے کام لے جو حسن معاملہ ہے۔ یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے‘‘۔
آپ مزید فرماتے ہیں :
’’خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیاہے۔چنانچہ

لِبَاسُ التَّقْویٰ

قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اورروحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اورعہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کاربند ہوجائے ‘‘۔
فرمایا:’’امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزّت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خداتعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتاہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت

اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّ وا لْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا

اس ساری امانت کوجناب الٰہی کو واپس دے دیتاہے یعنی اُس میں فانی ہو کر اُس کے راہ میں وقف کر دیتاہے … اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طورپر ہمارے سیّد، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، نبی امّی صادق اور مصدوق محمد مصطفی ﷺمیں پائی جاتی تھی۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ۱۶۱۔۱۶۲)
پس یاد رکھیں کہ امانت کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اور جتنے زیادہ عہدیداران جماعت اور … میں جا کر امانت کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اتنے ہی زیادہ تقویٰ کے اعلیٰ معیارقائم ہوتے چلے جائیں گے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اعلیٰ معیارقائم ہوں گے۔ نظام جماعت مضبوط ہوگا،نظام خلافت مضبوط ہوگا۔ آپ کی نظام سے وابستگی قائم رہے گی۔ خلافت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے خلیفہ ٔ وقت کی تو ہمیشہ یہی دعاہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے متقیوں کا امام بنائے۔ تو پھر ان دعاؤں کے مورد، ان کے حامل تو وہی لوگ ہوں گے جو اپنی امانتوں کا پاس کرنے والے،اپنے عہدوں کاپاس کرنے والے،اپنے خدا سے وفا کرنے والے ہوتے ہیں اور تقویٰ پر قائم ر ہنے والے ہوتے ہیں-اللہ تعالیٰ جماعت کے ہرفرد کو یہ معیار قائم ر کھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/bjPo5]

اپنا تبصرہ بھیجیں