خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 19؍ستمبر2003ء

حضرت مسیح موعود ؑ سے رشتہ ٔ اخوت اور اطاعت قائم کرنا بیعت کی شرط ہے
تنگدستی اور خوشحالی ہر حالت میں امیر اور امام کی ا طاعت کرنا واجب ہے
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۱۹؍ستمبر ۲۰۰۳ء بمطابق۱۹؍ تبوک ۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-

شرائط بیعت کا جو مضمون شروع کیا ہوا تھا اس میں آج آخری شرط جو ہے، دسویں شرط بیعت کی وہ بیان کروں گا۔

دسویں شرط یہ ہے۔ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو‘‘۔

اس شرط میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام ہم سے اس بات کا عہد لے رہے ہیں کہ گوکہ اس نظام میں شامل ہوکر ایک بھائی چارے کا رشتہ مجھ سے قائم کر رہے ہو کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے لیکن یہاں جو محبت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم ہو رہا ہے یہ اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں برابری کا تعلق اوررشتہ قائم نہیں ہو رہابلکہ تم اقرار کررہے ہوکہ آنے والے مسیح کو ماننے کا خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس لئے یہ تعلق اللہ تعالیٰ کی خاطر قائم کررہاہوں- اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اسلام کو اکناف عالم میں پہنچانے کے لئے، پھیلانے کے لئے رشتہ جوڑ رہے ہیں- اس لئے یہ تعلق اس اقرار کے ساتھ کامیاب اور پائیدار ہو سکتاہے جب معروف باتوں میں اطاعت کا عہد بھی کرو اور پھراس عہد کو مرتے دم تک نبھاؤ۔ اور پھر یہ خیال بھی رکھو کہ یہ تعلق یہیں ٹھہر نہ جائے بلکہ اس میں ہر روز پہلے سے بڑھ کر مضبوطی آنی چاہئے اور اس میں اس قدر مضبوطی ہو اور اس کے معیار اتنے اعلیٰ ہوں کہ ا س کے مقابل پر تمام دنیاوی رشتے،تعلق، دوستیاں ہیچ ثابت ہوں- ایسا بے مثال اور مضبوط تعلق ہوکہ اس کے مقابل پر تمام تعلق اور رشتے بے مقصد نظر آئیں- پھر فرمایاکہ : یہ خیال دل میں پیدا ہو سکتاہے کہ رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو، کبھی مانو اورکبھی منواؤ کا ا صول بھی چل جاتاہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔تم نے یہ اطاعت بغیر چون وچرا کئے کرنی ہے۔کبھی تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہ کہنے لگ جاؤ کہ یہ کام ابھی نہیں ہو سکتا، یا ابھی نہیں کرسکتا۔ جب تم بیعت میں شامل ہو گئے ہو اور حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی جماعت کے نظام میں شامل ہو گئے ہوتو پھر تم نے اپنا سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا اور اب تمہیں صرف ان کے احکامات کی پیروی کرنی ہے،ان کی تعلیم کی پیروی کرنی ہے۔ اور آپ کے بعد چونکہ نظام خلافت قائم ہے اس لئے خلیفۂ وقت کے احکامات کی، ہدایات کی پیروی کرنا تمہارا کام ہے۔ لیکن یہاں یہ خیال نہ رہے کہ خادم اور نوکر کاکام تو مجبوری ہے، خدمت کرنا ہی ہے۔خادم کبھی کبھی بڑبڑا بھی لیتے ہیں- اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ خادمانہ حالت ہی ہے لیکن ا س سے بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ کی خاطر اخوت کا رشتہ بھی ہے اوراللہ کی خاطر اطاعت کا اقرار بھی ہے اور اس وجہ سے قربانی کا عہد بھی ہے۔توقربانی کاثواب بھی اس وقت ملتاہے جب انسان خوشی سے قربانی کر رہا ہوتاہے۔تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس پر آپ جتنا غور کرتے جائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں ڈوبتے چلے جائیں گے اور نظام جماعت کا پابند ہوتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے۔
بعض دفعہ بعض لوگ معروف فیصلہ یا معروف احکامات کی اطاعت کے چکر میں پڑ کر خود بھی نظام سے ہٹ گئے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں اورماحول میں بعض قباحتیں بھی پیدا کر رہے ہوتے ہیں- ان پر واضح ہو کہ خود بخودمعروف اور غیر معروف فیصلوں کی تعریف میں نہ پڑیں-غیرمعروف وہ ہے جوواضح طورپر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جیساکہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے ایک لشکر روانہ فرمایا اوراس پرایک شخص کو حاکم مقرر کیا تاکہ لوگ اس کی بات سنیں اورا س کی اطاعت کریں- اس شخص نے آگ جلوائی اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ آگ میں کود جائیں-بعض لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوئے ہیں-لیکن کچھ افراد آگ میں کودنے کے لئے تیارہو گئے۔آنحضرت ﷺ کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو ہمیشہ آگ میں ہی رہتے۔نیزفرمایا :اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے رنگ میں کوئی اطاعت واجب نہیں- اطاعت صرف معروف امورمیں ضروری ہے۔(سنن ابو داؤد۔ کتاب الجہاد)
تو ایک تو اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا کہ نہ ماننے کا فیصلہ بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔ کچھ لوگ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ ہر حالت میں امیر کی اطاعت کا حکم ہے، انہوں نے سناہواتھااور یہ سمجھے کہ یہی اسلامی تعلیم ہے کہ ہر صورت میں ، ہر حالت میں ، ہر شکل میں امیر کی اطاعت کرنی ہے لیکن بعض صحابہ جو ا حکام الٰہی کا زیادہ فہم رکھتے تھے، آنحضرت ﷺکی صحبت سے زیادہ فیضیاب تھے، انہوں نے انکار کیا۔نتیجۃً مشورہ کے بعد کسی نے اس پرعمل نہ کیا کیونکہ یہ خودکشی ہے اورخودکشی واضح طورپر اسلام میں حرام ہے۔ ابتدائی زمانہ تھا،بہت سے اموروضاحت طلب تھے اور اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺنے وضاحت فرما کر معروف کا اصول وضع فرما دیا کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے۔ تو بعض لوگ سمجھتے ہیں ، میں بتادوں آج کل بھی اعتراض ہوتے ہیں کہ ایک کارکن اچھا بھلا کام کررہاتھا اس کوہٹا کر دوسرے کے سپرد کا م کردیا گیاہے۔خلیفہ ٔوقت یا نظام جماعت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور گویا یہ غیر معروف فیصلہ ہے۔ وہ او ر تو کچھ نہیں کرسکتے اس لئے سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتاہے، خود ہی تعریف بنا لی انہوں نے۔اس لئے ہمیں بولنے کا بھی حق ہے،جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں- اس بارہ میں پہلے بھی مَیں تفصیل سے روشنی ڈال چکاہوں-تمہارا کام صر ف اطاعت کرناہے اور اطاعت کا معیار کیاہے مَیں حدیثوں وغیرہ سے اس کی وضاحت کروں گا۔ ایسے لوگوں کو حضرت خالد بن ولید کا یہ واقعہ ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ جب ایک جنگ کے دوران حضر ت عمر ؓ نے جنگ کی کمان حضرت خالدؓ بن ولید سے لے کر حضرت ابو عبیدہ ؓکے سپرد کردی تھی۔ تو حضرت ابوعبیدہ نے اس خیال سے کہ خالدؓ بن ولید بہت عمدگی سے کام کررہے ہیں ان سے چارج نہ لیا۔تو جب حضرت خالد ؓبن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓکی طرف سے یہ حکم آیاہے تو آپ حضرت ابوعبیدہؓ کے پا س گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفۂ وقت کا حکم ہے اس لئے آپ فوری طورپر اس کی تعمیل کریں-مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ مَیں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں-اور مَیں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتارہوں گا جیسے میں بطور کمانڈر ایک کام کررہاہوتاتھا۔ تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔کوئی سر پھرا کہہ سکتاہے کہ حضرت عمر ؓکا فیصلہ اس وقت غیر معروف تھا، یہ بھی غلط خیال ہے۔ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمر ؓنے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے۔بہرحال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہراًبالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلا ف ہو۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓکے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجو د اس کے کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سو سو دشمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے آقا کی غلامی میں ، ایسی غلامی جس کی نظیر نہیں ملتی، حَکَم اورعَدَل کا درجہ ملاہے اس لئے اب اس زمانے میں حضرت اقد س مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت اور محبت سے ہی حضرت اقد س محمد مصطفی ﷺکی اطاعت اور محبت کا دعویٰ سچا ہو سکتاہے اورآنحضرت ﷺکی ا تباع سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ سچ ہو سکتاہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران :۳۲)

تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’مَیں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اوربرگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر مَیں اپنے سید ومولیٰ، فخرالانبیاء،خیرالوریٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا-سومَیں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اورمَیں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتاہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺکے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پا سکتاہے۔ اورمَیں اس جگہ یہ بھی بتلاتاہوں کہ وہ کیاچیزہے جو سچی اور کامل پیروی آنحضرت ﷺکے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ سو یاد رہے کہ و ہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اوردل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہوجاتاہے اور پھر بعد اس کے ایک مصفّٰی اورکامل محبت الٰہی بباعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اوریہ سب نعمتیں آنحضرت ﷺکی پیروی سے بطوروراثت ملتی ہیں-جیساکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتاہے

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران :۳۲)

یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہوتوآؤ میری پیروی کرو تا خدابھی تم سے محبت کرے۔ بلکہ یکطرفہ محبت کا دعویٰ بالکل ایک جھوٹ اور لاف وگزاف ہے۔جب انسان سچے طورپر خدا تعالیٰ سے محبت کرتاہے تو خدا بھی اس سے محبت کرتاہے تب زمین پر اس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوت جذب اس کوعنایت ہوتی ہے اورایک نُور اس کو دیا جاتاہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتاہے۔جب ایک انسان سچے دل سے خداسے محبت کرتاہے اور تمام دنیا پر اس کو اختیار کر لیتاہے اور غیراللہ کی عظمت اور وجاہت اس کے دل میں باقی نہیں رہتی بلکہ سب کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی بدتر سمجھتاہے تب خدا جو اس کے دل کو دیکھتا ہے ایک بھاری تجلّی کے ساتھ اُس پر نازل ہوتاہے اور جس طرح ایک صاف آئینہ میں جو آفتاب کے مقابل پر رکھا گیاہے آفتاب کا عکس ایسے طورپر پڑتاہے کہ مجاز اور استعارہ کے رنگ میں کہہ سکتے ہیں کہ وہی آفتاب جو آسمان پر ہے اس آئینہ میں بھی موجود ہے۔ایسا ہی خدا ایسے دل پر اترتاہے اوراس کواپنا عرش بنا لیتاہے۔یہی وہ امر ہے جس کے لئے انسان کو پیدا کیاگیاہے‘‘۔(حقیقۃالوحی صفحہ ۶۲۔۶۳)
پس اس محبت وعشق کی وجہ سے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرتﷺ سے تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاک دل کو بھی اپنا عرش بنایا (حفظ مراتب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ آئندہ بھی دلوں پر اترتا رہے گا۔لیکن اب آنحضرت ﷺکی محبت کا دعویٰ، آپ ؐ کی کامل اطاعت کا دعویٰ تبھی سچ ثابت ہوگا جب آپ کے روحانی فرزند کے ساتھ محبت اور اطاعت کا رشتہ قائم ہوگا۔ اسی لئے تو آپ فرما رہے ہیں کہ سب رشتوں سے بڑھ کر میرے سے محبت و اطاعت کا رشتہ قائم کرو توتم اب اسی ذریعہ سے آنحضرت ﷺکی اتباع کروگے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کروگے۔آپ یہ بات یونہی نہیں فرما رہے بلکہ رسول خدا ﷺ خود ہمیں یہ بات فرما چکے ہیں جیسے کہ فرمایا کہ اگر مسیح اورمہدی کا زمانہ دیکھو تواگرگھٹنوں کے بل تمہیں جانا پڑے تو جاکرمیرا سلام کہنا۔ اتنی تاکید سے، اتنی تکلیف میں ڈال کر یہ پیغام پہنچانے میں کیا بھید ہے، کیا رازہے۔ یہی کہ وہ میرا پیاراہے اور مَیں اس کا پیاراہوں-اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ پیاروں تک پہنچ پیاروں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ اس لئے اگر تم میری اتباع کرنے والے بنناچاہتے ہو تو مسیح موعود کی اتباع کرو، اس کو امام تسلیم کرو،اس کی جماعت میں شامل ہو۔اس لئے حدیث میں آتاہے- روایت ہے کہ خبردار رہو کہ عیسیٰ بن مریم (مسیح موعود) اور میرے درمیان کوئی نبی یا رسول نہیں ہوگا۔ خوب سن لو کہ وہ میرے بعد امت میں میرا خلیفہ ہوگا۔ وہ ضرور دجال کو قتل کرے گا۔ صلیب کو پاش پاش کرے گا یعنی صلیبی عقیدے کو پاش پاش کردے گا اور جزیہ ختم کردے گا‘‘۔ (اس زمانے میں جو آپ ہی کا زمانہ ہے اس کا رواج اٹھ جائے گا کیونکہ اس وقت مذہبی جنگیں نہیں ہوں گی۔جزیہ کا رواج اُٹھ جائے گا۔) ’’یاد رکھو جسے بھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو وہ انہیں میرا سلام ضرور پہنچائے‘‘۔(طبرانی الاوسط و الصغیر)
اس حدیث پر غور کرنے کی بجائے اور جنہوں نے غورکیاہے، اس کی تہ تک پہنچے ہیں ان کی بات سمجھنے کے بجائے آج کل کے علماء اس کے ظاہری معنوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو اس طرح غلط راستے پر ڈال دیا ہواہے اور وہ طوفان بدتمیزی پیدا کیاہواہے کہ خدا کی پناہ۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی پناہ ہی ڈھونڈتے ہیں ، وہ ان سے نمٹ بھی رہاہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی نمٹے گا۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود منصف مزاج حاکم ہوگا جس نے انصاف کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرنی اورایسا امام ہے جس نے عدل کو دنیا میں قائم کرناہے اس لئے اس سے تعلق جوڑنا، اس کے حکموں پرچلنا، اس کی تعلیم پرعمل کرنا کیونکہ اس نے انصاف اورعدل ہی کی تعلیم دینی ہے اوروہ سوائے قرآنی تعلیم کے اورکوئی ہے ہی نہیں-تو آج کل اب لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ صلیب کو توڑنے کے پیچھے چل پڑے ہیں کہ ہتھوڑے لے کر مسیح آئے گا اور صلیب توڑے گا۔یہ سب فضول باتیں ہیں-صاف ظاہر ہے کہ وہ آنے والا مسیح اپنے آقا اورمطاع کی پیروی میں دلائل سے قائل کرے گا اور دلائل سے ہی صلیبی عقیدے کا قلع قمع کرے گا،اس کی قلعی کھولے گا۔ دجال کو قتل کرنے سے یہی مراد ہے کہ دجالی فتنوں سے امت کو بچائے گا۔پھرچونکہ مذہبی جنگوں کا رواج ہی نہیں رہے گا اس لئے ظاہرہے کہ جزیہ کا بھی رواج اٹھ جائے گا۔ اور پھر اس حدیث میں سلام پہنچانے کا بھی حکم ہے۔ ا ور مسلمان سلام پہنچانے کی بجائے آنے والے مسیح کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں- اللہ ہی انہیں عقل دے۔
پھر ایک اور حدیث ہے جس سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مقام کا پتہ چلتاہے کہ کیوں ہمیں آپ سے اطاعت کا تعلق رکھنا ضروری ہے۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا: جب تک عیسیٰ بن مریم جو منصف مزاج حاکم اور امام عادل ہوں گے معبوث ہوکر نہیں آتے قیامت نہیں آئے گی۔ (جب وہ معبوث ہوں گے تو) وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کے دستور کو ختم کریں گے اور ایسا مال تقسیم کریں گے جسے لوگ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب فتنہ الدجال و خروج عیسی بن مریم و خروج یاجوج و ماجوج)
تو اس حدیث میں بھی چونکہ سمجھنے کی ضرورت تھی، موٹی عقل کے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی اور وہ ظاہری معنوں کے پیچھے چل پڑے۔ عجیب مضحکہ خیز قسم کی تشریح کرتے ہیں-صاف ظاہر ہے کہ خنزیر کو قتل کرنے سے مراد خنزیر صفت لوگوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ سوروں کی برائیاں، باقی جانوروں کی نسبت تو اب ثابت شدہ ہیں- تووہی برائیاں جب انسانوں میں پیدا ہوجائیں تو ظاہر ہے کہ ان کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔ پھریہ ہے کہ وہ مال دیں گے، مال تقسیم کریں گے۔ تو ذہن میں آیا کہ ابھی چند دن پہلے پاکستان میں علماء نے جلسہ کیااور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف، جماعت کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے ایک یہ بھی سوال اٹھایاکہ مسیح نے آ کرتو مال تقسیم کرناتھا نہ کہ لوگوں سے مانگنا تھا۔ دیکھو احمدی ( وہ تو قادیانی کہتے ہیں ) چندہ وصول کرتے ہیں-اس سے ثابت ہوا کہ یہ جھوٹے ہیں و ہ یہ ثابت کررہے ہیں- ا ب ان عقل کے ا ندھوں کوکوئی عقلمند آدمی سمجھا نہیں سکتا کہ مسیح جو روحانی خزائن بانٹ رہاہے تم اس کو لینے سے بھی انکاری ہوچکے ہو۔اصل میں بات یہی ہے کہ ان کی دنیا کی ایک آنکھ ہی ہے۔ اوراس سے آگے یہ لوگ بڑھ بھی نہیں سکتے۔ ان کا یہ کام ہے، ان کو کرنے دیں ، پاکستانی احمدیوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے گند اورلغویات سن کر صبر دکھاتے ہوئے، حوصلہ دکھاتے ہوئے، منہ پھیرکر گزر جایاکریں- ان کے گند کے مقابلے میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی ہم اپنی ہار مانتے ہیں-ہم ان کے گند کا مقابلہ کرہی نہیں سکتے۔ لیکن ایک بات بتادوں ، واضح کردوں کہ جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتاہے اورجب خدا بولتاہے تومخالفین کے ٹکڑے ہوامیں بکھرتے ہوئے ہم نے دیکھے ہیں اور آئندہ بھی دیکھیں گے انشاء اللہ۔ پس احمدی مسیح موعود سے سچا تعلق قائم رکھیں اور دعاؤں پر زوردیں ، ہر وقت دعاؤں میں لگے رہیں- تو ان حدیثوں سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ آنے والا مسیح امام بھی ہوگا، حَکَم بھی ہوگا، عدل وانصاف کا شہزادہ ہوگا تو اس سے تعلق ضرور جوڑنا اور اس حَکم اور امام کی حیثیت سے اطاعت بھی تم پرضروری ہے اس لئے تمہاری بہتری کے لئے، تمہاری تربیت کے لئے یہ باتیں جو بتائی ہیں ان پر عمل کرو۔ تاکہ آنحضرت ﷺکے پیارو ں میں بھی شامل ہوجاؤ اور خداتعالیٰ کے قرب پانے والوں میں بھی شامل ہوجاؤ۔
اطاعت کے موضوع پر اب چند احادیث پیش کرتاہوں جن سے اطاعت کی اہمیت کاپتہ چلتاہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:تنگدستی اورخوشحالی، خوشی اورناخوشی،حق تلفی اور ترجیحی سلوک ،غرض ہرحالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننااور اطاعت کرنا واجب ہے۔(مسلم کتاب الامارۃ)
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا:جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دورہوتاہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ (بخاری کتاب الفتن۔باب قول النبی سترون بعد ی اموراً)
پھر حضرت عرفجہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم ایک ہاتھ پرجمع ہو اور تمہارا ایک امیر ہواور پھرکوئی شخص آئے اورتمہاری وحدت کی اس لاٹھی کو توڑنا چاہے تا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرے تواسے قتل کردو۔ یعنی اس سے قطع تعلق کرو اوراس کی بات نہ مانو۔(اس کے احکامات کوبالکل سنی ان سنی کردو)۔(مسلم با ب حکم من فرق امر المسلمین ھو مجتمع)
حضرت عبادہ ؓبن صامت سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکی بیعت اس نکتہ پر کی کہ سنیں گے اوراطاعت کریں گے خواہ ہمیں پسند ہو یاناپسند۔ اور یہ کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی امر کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے ، حق پر قائم رہیں گے یاحق بات ہی کہیں گے اوراللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(مسلم کتا ب الامارۃ باب وجود طاعۃ الامراء)
حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حالت میں ملے گا کہ نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی اورنہ عذر۔ اورجو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا۔ (مسلم کتاب الامارۃ باب الامربلزوم الجماعۃ عند ظہور الفتن)
پس آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے امام وقت کو مانا اوراس کی بیعت میں شامل ہوئے۔اب خالصتاً للہ آپ نے اس کی ہی اطاعت کرنی ہے ، اس کے تمام حکموں کو بجا لاناہے ورنہ پھرخدا تعالیٰ کی اطاعت سے باہرنکلنے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کواطاعت کے ا علیٰ معیار پرقائم فرمائے اوریہ ا علیٰ معیارکس طرح قائم کئے جائیں- یہ معیار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرکے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں-
آپ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتاہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتاہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتاہے۔ لیکن جو محض نام لکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا تو یاد رکھے کہ خداتعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیاہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھوانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آ جائے گا کہ وہ الگ ہوجائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔
ایک اقتباس میں اپنی تعلیم کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ :’’فتنہ کی بات نہ کرو۔ شر نہ کرو۔ گالی پر صبر کرو۔ کسی کا مقابلہ نہ کرو۔ جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ۔ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کرکے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔ دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔‘‘ ــ (ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ ۶۲۰۔۶۲۱)
اب یہاں جس طرح آپ نے فرمایاکہ فتنہ کی بات نہ کرو۔ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ صرف مزا لینے کے لئے عادتاًایک جگہ کی بات دوسری جگہ جا کر کردیتے ہیں اور ان سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ مختلف قسم کی طبائع ہوتی ہیں ،جس کے سامنے بات کی اور بات بھی اس کے متعلق کی تو قدرتی طورپر اس شخص کے دل میں اس دوسرے شخص کے بارہ میں غلط رنجش پیدا ہوگی جس کی طرف منسوب کرکے وہ بات کی جاتی ہے۔ اور وہ بات اسے پہنچائی گئی ہے تو یہ رنجش گو میرے نزدیک پیدا نہیں ہونی چاہئے۔ ایسے فتنوں کو روکنے کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جس کی طرف منسوب کرکے بات پہنچائی گئی ہواس کے پاس جا کر وضاحت کردی جائے کہ آیا تم نے یہ باتیں کی ہیں یا نہیں ،یہ بات میرے تک اس طرح پہنچی ہے-تو وہیں وضاحت ہو جائے گی اور پھرایسے فتنہ پیدا کرنے والے لوگوں کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔تو بعض دفعہ اس طرح بھی ہوتاہے کہ ایسے لوگ، فتنہ پیداکرنے والے، خاندانوں کو خاندانوں سے لڑا دیتے ہیں- تو ایسے فتنہ کی باتوں سے خود بھی بچو اور فتنہ پیدا کرنے والوں سے بھی بچو۔اور اگر ہو سکے تو ان کی ا صلاح کی کوشش کرو۔ پھر شرّ ایک تو براہ راست لڑائی جھگڑوں سے،گالی گلوچ سے پیدا ہوتاہے، اس سے فتنہ بھی پیدا ہوتاہے۔ تو فرمایا کہ اگر تمہیں میرے ساتھ تعلق ہے اور میری اطاعت کا دم بھرتے ہو تو میری تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کے فتنہ اور شرّ کی باتوں سے بچو۔ تم میں صبر اور وسعت حوصلہ اس قدرہو کہ اگرتمہیں کوئی گالی بھی دے تو صبر کرو۔پھر اس تعلیم پر عمل کرکے تمہارے لئے نجات کے راستے کھلیں گے- تم خداتعالیٰ کے مقربین میں شامل ہوگے۔ کسی بھی معاملے میں مقابلہ بازی نہیں ہونی چاہئے۔سچے ہوکر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔ اور جو مرضی تمہیں کوئی کہہ دے تم محبت پیار اور خلوص سے پیش آؤ۔ ایسی پاک زبان بناؤ،ایسی میٹھی زبان ہو، اخلاق اس طرح تمہارے اندر سے ٹپک رہاہو کہ لوگ تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں- تو تمہارے ماحول میں یہ پتہ چلے،ہر ایک کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ احمدی ہے۔اس سے سوائے اعلیٰ اخلاق کے اورکسی چیز کی توقع نہیں کی جا سکتی۔تمہارے یہ ا خلاق بھی دوسروں کو کھینچنے اور توجہ حاصل کر نے کا باعث بنیں گے۔ اور پھر یہ ہوتاہے کہ بعض لوگ مقدمات میں ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹی گواہیاں بھی دے دیتے ہیں ، جھوٹا کیس بھی اپنا پیش کر دیتے ہیں- تو فرمایا کہ تمہارا ذاتی مفاد بھی تمہیں سچی گواہی دینے سے نہ روکے۔بعض لوگ یہاں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بعض دفعہ باہر آنے کے چکر میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں ، توان باتوں سے بھی بچو۔ جو صحیح حالا ت ہوں اس کے مطابق اپنا کیس داخل کرواؤ اور اس میں اگر مانا جاتاہے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جائیں-کیونکہ غلط بیانیوں کے باوجود بھی بعضوں کے کیس ریجیکٹ(Reject) ہو جاتے ہیں توسچ پر قائم ر ہتے ہوئے بھی آزما کر دیکھیں انشاء اللہ فائدہ ہی ہوگا۔ یا اگر ریجیکٹ ہوں گے بھی تو کم از کم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث تو نہیں بنیں گے۔
پھر آپس میں محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتے ہوئے حضرت اقد س مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :
آپس میں اخوت ومحبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتاہے۔آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ہرایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔ اللہ تعالیٰ سے سچی صلح پیدا کرلو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ۔ہرایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۶۶ تا۲۶۸ مطبوعہ لندن)
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’ہماری جماعت کو خداتعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہئے۔ اور ان کو شکر کرنا چاہئے خداتعالیٰ نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑا بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدر ت کے صدہا نشان دکھائے ہیں ‘‘۔
پھر فرماتے ہیں کہ: کیا تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہہ سکے کہ مَیں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔مَیں دعویٰ سے کہتاہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کاموقع ملاہو۔ اور ا س نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ سے نہ دیکھاہو۔ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے، خداتعالیٰ پر سچا یقین اورمعرفت پیدا ہو، نیک اعمال میں سستی اور کسل نہ ہو کیونکہ اگر سستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتاہے۔ چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔اگر اعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت الی ا لخیرکے لئے جوش نہ ہو تو پھرہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔(ملفوظات جلد دوم۔جدید ایڈیشن صفحہ ۷۱۰۔۷۱۱)
اس شرط بیعت میں جو دسویں شرط چل رہی ہے- حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سے اس قدر تعلق جس کی مثال کسی دنیاوی رشتے میں نہ ملتی ہو پر اس قدر زور دیاہے-جس کی وجہ بھی صر ف اور صرف ہماری ہمدردی ہے۔ ہمیں تباہ ہو نے سے بچانے کے لئے آپ نے فرمایا ہے کیونکہ سچا اسلام صرف اور صرف آپ کوماننے سے مل سکتاہے اور اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچاناہے تو لازماً ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کشتی میں سوار ہونا ہوگا۔
آپ فرماتے ہیں :’’میری طرف دوڑو کہ وقت ہے کہ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں- سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت تحقیر کی یعنی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔(دافع البلائ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۳۳)۔ کیونکہ آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے۔
پھر آپ فرماتے ہیں :’’غرض اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسرے مامور کے سامنے توبہ کرنے سے طاقت ملتی ہے اور انسان شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو کیونکہ دنیا تو گزرنے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی

؎ شب تنور گذشت و شب سمور گذشت۔

دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ ان کو دین کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔(ملفوظات جلد ششم صفحہ۱۴۵)
پھرآپ فرماتے ہیں :’’اور تم اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خداتعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبور ی سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں- میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔ مجھے کون پہچانتا ہے صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں- اور مجھے اس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں- دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں- مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔ جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے مَیں آیا ہوں- میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔ اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں- جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔ مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے۔ اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔ مجھ میں کون داخل ہوتا ہے؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا ہے اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور کجی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خداتعالیٰ کا ایک بندئہ مطیع بن جاتا ہے۔ ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اس میں ہوں- مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خداتعالیٰ نفس مزکی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔ تب وہ اس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پیر رکھ دیتا ہے تو وہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اس میں کبھی آگ نہیں تھی۔ تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خداتعالیٰ کی روح اس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تجلی خاص کے ساتھ رب العالمین کا استواء اس کے دل پر ہوتا ہے‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ اس کے دل پر اپنا عکس قائم کرتاہے )’’تب پرانی انسانیت اس کی جل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اس کو عطا کی جاتی ہے اور خداتعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اس سے تعلق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان اسی عالم میں اس کو مل جاتا ہے‘‘۔(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۴۔۳۵)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام سے کئے ہوئے تمام عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی تمام شرائط بیعت پر ہم مضبوطی سے قائم رہیں ،آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنی زندگی کو بھی جنت نظیر بنادیں اوراگلے جہان کی جنتوں کے بھی وارث ٹھہریں- اللہ تعالیٰ ہماری مددفرمائے۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X