خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 23؍نومبر 2007ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
آج کل چاہے وہ حکمران ہیں یا سیاستدان ہیں یاکوئی بھی ہے خدا سے زیادہ ان کو خوف اُن لوگوں کا ہے جو مذہب کے نام پر فساد پیدا کرتے ہیں اور ہرحکومت انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ سارے فساد جوملک میں ہو رہے ہیں اورآفات بھی جو آرہی ہیں اگر غور کریں تو اس کا سبب زمانے کے امام کا نہ صرف انکار بلکہ اس کا استہزاء اور اس کے ماننے والوں پر ظلم ہے۔
باوجود اس کے کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی ہیں اور ہورہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی ہم نے قانون کی پابندی کرنی ہے اور وقت کی حکومت کے خلاف کسی قسم کا بھی جو فساد ہے اس میں حصّہ نہیں لینا۔ ہمارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔
اپنے اپنے حلقہ میں، اپنے دائرے میں ان لوگوں کو بتانا چا ہئے کہ سوچو، غورکرو کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ اللہ کے قانون میں دخل اندازی کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا۔ یہ خداتعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے تونہیں ؟
ہر جگہ کے احمدی ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ انہوں نے قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کسی مخالفت کی وجہ سے ہمدردی خلق سے ہاتھ نہیں اٹھانا۔ کسی مخالفت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو جو حقیقی اسلام کا پیغام ہے، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسوہ رسولﷺ کی تعلیم ہے اس کو پھیلانے سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ پس یہ کام تو ہم نے کرنا ہے۔ اس کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی، ابتلاء بھی آئیں گے۔
الٰہی جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ سلوک ہوتا بھی رہا ہے۔ لیکن انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آئے گی۔ ہمیشہ آتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنی قدرت کے نظارے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے۔ ہمارا کام پیغام پہنچانا اور ہمدردی بنی نوع ہے جو ہم نے کرنی ہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 23؍نومبر 2007ء بمطابق23؍نبوت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہرطرف ایک افراتفری کا عالم ہے۔ چاہے وہ مشرقی ممالک ہوں یا مغربی، ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک ہوں یا ترقی پذیر یا نسبتی لحاظ سے غیر ترقی یافتہ۔ بعض ملک یا ملکوں کے رہنے والے اپنے ملکوں کے اندر فسادوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور خوف کا شکار ہیں۔ بعض دوسرے ممالک اَور حکومتوں کی دخل اندازیوں کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔ بعض دہشت گردوں کی کارروائیوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور خوف کا شکار ہیں۔ یہ دہشت گردی سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہو یا نام نہاد مذہب کی وجہ سے۔ نام نہاد مَیں اس لئے کہتا ہوں کہ مذہب کے نام پر یا مذہب کی طرف منسوب کرکے جو دہشت گردی ہوتی ہے اور اس منسوب کرنے والوں میں جیسا کہ مَیں نے کہا کچھ تو مذہب کے نام پر کرنے والے ہیں اور کچھ خود ساختہ تصور پیدا کرکے اور خاص طور پر اسلام کے خلاف تصور پیدا کرکے پھر اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ بہرحال مذہب کبھی بھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور خاص طور پر اسلام کی تعلیم تو کلیتاً اِس حرکت کے خلاف ہے اور پھر کسی حکومت میں رہ کر اس کا شہری ہو کر پھر اس قسم کی حرکتیں کرنا تو کسی بھی صورت میں اسلام میں قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی ہے کہ انسانیت اور خدا کی مخلوق پر بعض طبقات کی طرف سے ظلم خدا کے نام پر ہوتا ہے۔ پھر بعض ممالک جنگ کے خوف کی وجہ سے پریشان ہیں۔ بعض کو قدرتی آفات نے گھیرا ہوا ہے اور ان ملکوں میں بسنے والے پریشانی اور خوف کا شکار ہیں۔ غرض کہ آج ہر ہمدردِ انسانیت اور خداکا خوف رکھنے والا دل اس امر کی طرف متوجہ ہے اور غور کرتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مکمل طور پر کہیں بھی کسی کو اطمینان قلب اور امن نصیب نہیں ہے اور اس درد کے ساتھ فی زمانہ صرف احمدی سوچتا ہے۔ مجھے ڈاک میں اکثر خطوط ملتے ہیں کہ دنیا کے امن کے لئے، ملک کے امن کے لئے دعا کریں۔ یہ خطوط لکھنے والے گو کہ چند ایک ہوں گے لیکن مجھے علم ہے، کئی ذریعوں سے علم ہوتا رہتا ہے کہ اکثریت احمدیوں کی دنیا کے یا اپنے اپنے ملکوں کے حالات کی وجہ سے پریشان ہے کہ کس قسم کے پریشان کن حالات ملکوں میں، دنیامیں پیدا ہوئے ہوئے ہیں۔ اور یہ جو سوچ ہے یہ اُس انقلاب کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں پیدا کیا۔ یہ جذبات اِس وجہ سے احمدی کے دل میں پیدا ہوتے ہیں کہ اُس کی ایمانی حالت کو اس زمانے کے امام نے بدلا ہے۔ خدا کا خوف اور خدا کی مخلوق سے ہمدردی اس کے دل میں پیدا کی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مختلف جگہ پر اپنی بعثت کی غرض بیان فرمائی ہے۔ آپؑ یہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خداتعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کرکے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالَم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اُس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے، یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خداتعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ …سو مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آئے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ293-291۔ حاشیہ۔ مطبوعہ لندن)
پھر آپؑ فرماتے ہیں۔ وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دُور کرکے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اورسچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں ‘‘۔ (لیکچرلاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ180۔ مطبوعہ لندن)
آپؑ فرماتے ہیں ’’قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں، ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزّاِسمہ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور بنی نوع کی‘‘۔
پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے زمانے کی اصلاح کے لئے اُس وقت بھیجا جب دنیا میں ہر طرف فساد اور خود غرضی کا دَور دَورہ تھا۔ اس امام کو ماننے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُن برائیوں اور فسادوں سے بچنے کے راستے دکھادئیے۔ اب یہ ہر احمدی کا کام ہے کہ توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کوشش کرے۔ خدا سے ذاتی تعلق پیدا کرے۔ مخلوق کی ہمدردی میں ہر وقت کوشاں رہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے ہمدردی کے جذبہ کے تحت ان فرائض کی ادائیگی کے لئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔ اور اس وجہ سے ہی کہ ہمارے دلوں میں ہمدردی ہے، ہمیں ان لوگوں کو ان آفات کی اور ان فسادات کی وجوہات بھی بتانی چاہئیں۔ دنیا کے ہر شخص تک یہ پیغام پہنچانا چاہئے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اپنے اپنے حلقہ احباب میں بھی، اخباروں کو خطوط لکھ کر یاد وسرے ذرائع استعمال کرکے دنیا کو اب پہلے سے زیادہ کوشش کے ساتھ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر خدا کو نہیں پہچانو گے، اگر اس کے قوانین پر عمل نہیں کرو گے تو یہ بے چینی کبھی ختم نہیں ہو گی، یہ فساد کبھی ختم نہیں ہوں گے، یہ ارضی اور سماوی آفات کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کے ساتھ استہزاء اور حد سے زیادہ زیادتیوں میں بڑھنا اور اس پر ڈھٹائی اور ضد سے قائم رہنا یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو کبھی دنیا کا امن اور سکون قائم نہیں رہنے دیں گی۔
اب آفات کو ہی لے لیں، جہاں ان کی شدت بڑھ رہی ہے، ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان موسمی آفات کو زمینی، موسمی اور مختلف تغیرات کی وجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنے والی چیز ہے اور دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ سو سال پہلے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میری تائید میں اللہ تعالیٰ زمینی اور سماوی نشانات دکھائے گا۔ زلزلے آئیں گے، آفتیں آئیں گی، تباہیاں ہوں گی اگر لوگوں نے توجہ نہ دی۔ اور اس کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ باتیں سچ ہوتی نظرآ رہی ہیں۔ زلزلے بھی اس کثرت اور اس شدّت سے آرہے ہیں جن کی مثال سو سال پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اب گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں بڑا سخت طوفان آیا۔ کہتے ہیں کہ 47سال بعد ایسا طوفان آیا ہے۔ اس میں ایک اندازے کے مطابق 15ہزار اموات متوقع ہیں۔ متوقع اس لئے کہ ابھی تک سیلاب زدہ علاقوں میں، طوفان زدہ علاقوں میں مکمل طور پر رسائی نہیں ہو سکی کہ نقصان کا اندازہ لگایاجا سکے۔ 6لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ اس علاقے میں احمدیوں کی بھی کچھ تعداد ہے، جن کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ظاہر ہے طوفان جب آتے ہیں تو مالی نقصان تو ہوتا ہے۔ لیکن ابھی تک اطلاع کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں کو محفوظ رکھے۔
ہیومینیٹی فرسٹ کے رضا کار، یو کے سے بھی اور کینیڈا سے بھی مدد کا سامان لے کر وہاں جا رہے ہیں۔ جماعت ہمدردی کے جذبے کے تحت وہاں کام کرنے جا رہی ہے اور ہر اس جگہ پہنچتی ہے جہاں بھی کوئی ستم زدہ یا مصیبت زدہ مدد کے لئے پکارے۔ گزشتہ ایک دو سال سے احمدیوں کے حالات بنگلہ دیش میں مُلّاں نے کافی تنگ کئے ہوئے ہیں۔ جلسے جلوس توڑ پھوڑ مسجدوں کو نقصان پہنچانا۔ اب مُلّاں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ اَن پڑھ اور معصوم عوام کو اسلام کے نام پر ابھار کر ظلم کروائے جائیں اور وہ کروا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جماعت ہرضرورت مند کی مدد کرتی ہے کیونکہ یہ ایک احمدی کی امتیازی خصوصیت ہے اور ہونی چاہئے اور یہی فرق ہے جو ایک احمدی اور غیر میں ہے۔ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے کاموں میں سے ایک اہم کام بنی نوع سے ہمدردی ہے۔
پھر بنگلہ دیش کیا، پاکستان جہاں احمدیوں کے خلاف ایک ظالمانہ قانون بنا کر احمدیوں کی مذہبی آزادی کے حق کوغصب کیا گیا۔ خدائے واحد ویگانہ کا حقیقی فہم و ادراک رکھنے والے اور ہر قسم کے شرک سے پاک معصوم احمدیوں کو

اَللّٰہُ اَکْبَر

کہنے پر پابندی لگا دی گئی۔ عشق رسول عربیﷺ سے سرشار لوگوں کو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ پر درود بھیجنے سے منع کیا گیا اور اس جرم کی سزا یا ان جرموں کی سزا کئی سال قید ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ احمدیوں کے دلوں سے نہ یہ قانون اللہ تعالیٰ کی محبت چھین سکے، نہ عشق رسولؐ کے اظہار سے دلوں پر پابندی لگا سکے۔ لیکن کہنا مَیں یہ چاہتا ہوں کہ اِن ظلموں کے باوجود جب پاکستان میں تقریباً دو سال ہوئے شدید زلزلہ آیا جس سے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ کئی آبادیاں زمین میں دفن ہو گئیں، کئی آبادیاں زمین بو س ہو گئیں تو اس وقت بھی ان سب ظلموں کے باوجود، جو حکومت اپنے قانون کے تحت احمدیوں سے روا رکھتی ہے جماعت نے دل کھول کرآفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی۔ کیمپ لگائے، کئی مہینے خوراک مہیا کی، علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی۔ باوجود اس کے کہ ہمارے کیمپ میں دوائیوں اور دوسری اشیاء کے سٹور پر ایک دفعہ مخالفین نے آگ بھی لگا دی لیکن ہمدردی کے جذبے کے تحت ہم نے اس کام میں فرق نہیں آنے دیا۔
پھر زلزلے کے بعد اعصابی امراض کی شکایت بھی بڑھ جاتی ہے، لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو کشمیر کے ایک علاقے میں اعصابی امراض کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ کرکے ہیومینیٹی فرسٹ نے اعصابی امراض کا ایک وارڈ بنایا، جسے پورا Equiped کیا۔ تو ہم نے تو ان کے ظلم کے باوجود اپنا کام کیا اور کئے جاتے ہیں کہ ہماری فطرت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بات پیدا کر دی ہے کہ تم نے بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کرنی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کی حمایت میں وارننگ دیتا ہے اور دیتا چلا جا رہا ہے اگر ان لوگوں کو سمجھ آجائے۔
اب دیکھیں ایک زلزلہ آیا۔ ملک کے ویسے حالات پہلے کیا تھے؟ اورپھر اس میں بدسے بدتر حالات ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سیاسی بھی، معاشی بھی۔ اب پاکستان میں ہر طرف بے چینی، فساد، قتل و غارت عام پھیلاہوا ہے۔ حکومت وقت کچھ کہتی ہے تو اسی بات کے مخالف حکومتی کارندے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حکومت ایک بات کہتی ہے تو عدلیہ دوسری بات کہہ دیتی ہے۔ سیاستدان ہیں، وہ ملک کی ہمدردی کی بجائے، ذاتی اناؤں اور عزتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے کہ لاقانونیت زوروں پر ہے۔ قانون توڑنے والے بھی اور قانون نافذ کرنے والے بھی اور عدل قائم کرنے والے بھی سب اس دوڑمیں لگے ہوئے ہیں کہ اپنی عزتوں کی حفاظت کی جائے اور ملک کو داؤ پر لگایا دیا جائے۔ پہلے اسلام آباد میں حکومت کے اندر حکومت تھی۔ اب سوات میں بغاوت پھیلی ہوئی ہے۔ وہی لوگ جو حکومت کے پروردہ تھے وہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سوات میں دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ ایک اخبار میں ایک کالم نویس نے کھل کر یہ لکھا ہے کہ یہی شخص جس نے سوات میں اپنی الگ حکومت قائم کی ہے، حکومت کے سامنے سب کچھ کرتا رہا بلکہ اسے حکومت کی مدد بھی حاصل رہی اور جب وہ زور پکڑ گیا اور بغاوت پر آمادہ ہو گیا تواب حکومت وہاں فوج کا استعمال کر رہی ہے۔ فوج ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ باہر کے دشمن سے تو کوئی خطرہ نہیں، اندر کا دشمن جوسب سے زیادہ خطرناک ہے وہ ملک کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہے اور فوج کا کام اب اس کوکنٹرول کرنا رہ گیا ہے۔ 74ء میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینے والے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے والے جو یہ کہتے تھے کہ ربوہ میں احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہے۔ اب یہ بتائیں کہ احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی یا اب مختلف جگہوں پر ملک کے اندر حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ بعض جگہ تو حکومت بالکل بے بس نظر آتی ہے۔
احمدی تو قانون کی پابندی کرنے والے ہیں، ہمیشہ رہے ہیں، اوررہیں گے انشاء اللہ۔ انہوں نے تو قانون کے احترام میں اپنی ملکیتی زمین جو دارالنصر میں دریا کی طرف، دریا کے قریب، ربوہ کی زمین تھی وہاں پر قبضہ کرنے والوں سے لڑائی کی بجائے قانون کا سہارا لیا۔ لیکن قانون وہی ہے کہ طاقت والے سے ڈرو اور طاقت والے کے کام کرو۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ تو کر دیا کہ اس وقت تک کوئی فریق اس پر کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتا، کوئی تعمیر نہیں کر سکتا جب تک کورٹ فیصلہ نہ کرے۔ لیکن آج 32-30 سال کے بعد بھی کورٹ کو فیصلہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ احمدی تو اس حکم کی پابندی کر رہے ہیں۔ لیکن دوسرا فریق جو اسلام کے نام پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کا گروپ ہے تعمیر پر تعمیر کرتا چلا جا رہا ہے اور جب ہائی کورٹ کو کہو کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہ ہتک عدالت ہے تو کورٹ کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہتک ہماری ہو رہی ہے، تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ بالکل دوہرے معیار ان کے حکموں اور فیصلوں کے ہوگئے ہیں۔ کہنے کو عدلیہ بڑی انصاف پسند ہے۔ غرض کہ ہر طبقہ، ہر محکمہ، کرپشن کے جو اعلیٰ ترین معیار ہیں ان کو چھُو رہا ہے۔ نیکی کے معیار حاصل نہیں کر رہے، برائیوں کے معیار حاصل کرنے کی طرف دوڑ لگی ہوئی ہے اور اس کی وجہ وہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالتیں انتہائی کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔ پس آج کل تو لگتا ہے کہ ان نام نہاد اسلام کے ٹھیکے داروں کا ایمان دنیا اور اس کے جاہ ومراتب ہیں۔ یہ سارے فساد جو ملک میں ہو رہے ہیں اور آفات بھی جو آرہی ہیں، اگر غور کریں تو اس کا سبب زمانے کے امام کا نہ صرف انکار بلکہ اس کا استہزا ء اور اس کے ماننے والوں پر ظلم ہے۔
اب ایمرجنسی پاکستان میں نافذ ہوئی تو فوراً ساتھ ہی دستور کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ اختیار ہے یا نہیں یا اس کی کیاقانونی اور آئینی حیثیت ہے لیکن جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ملک میں یہی ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی بنائی اور دستور کو کالعدم کر دیا۔ لیکن یہ قانون اتنے جوش اور غصے میں بھی نہیں بنایا گیا۔ اتنے ہوش و حواس ان کے قائم رہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی جو شقیں ہیں وہ قائم رہیں گی، ان کو نہیں چھیڑا گیا۔ خاص طورپر اناؤنس کیا گیا کہ وہ قائم ہیں۔ تو آج کل چاہے وہ حکمران ہیں یا سیاستدان ہیں یا کوئی بھی ہے خدا سے زیادہ ان کو خوف ان لوگوں کا ہے جومذہب کے نام پر فساد پیدا کرتے ہیں اور ہر حکومت انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
پس جیسا کہ مَیں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ ملک کے لئے دعائیں کریں اور دعاؤں کے ساتھ جوپاکستان میں رہنے والے احمدی ہیں، کسی کو بھی، کسی بھی طرح، کسی بھی شکل میں ان فسادوں میں حصہ دار نہیں بنناچاہئے۔ باوجود اس کے کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی، ہم نے قانون کی پابندی کرنی ہے اور وقت کی حکومت کے خلاف کسی قسم کا بھی جو فساد ہے اس میں حصہ نہیں لینا۔ ہمارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے اور جس حد تک ہو سکے یہ کرنا چاہئے کہ اپنے اپنے حلقے میں، اپنے دائرے میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہئے کہ سوچو، غور کرو کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں دخل اندازی کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا؟۔ یہ ہلکے ہلکے جو جھٹکے دئیے جا رہے ہیں یہ خداتعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے تو نہیں ؟ اب غیر لکھنے والے بھی لکھنے لگ گئے ہیں۔ (غیر سے مراد جو احمدی نہیں ہیں ان کے اپنے لوگ) اور کہنے والے یہ کہنے لگ گئے ہیں، اخباروں میں بھی آتا ہے، اَور جگہ بھی بیانات آتے ہیں، گزشتہ کسی خطبہ میں کچھ بیان پڑھ کر بھی سنائے تھے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ خداتعالیٰ کو ناراض کرنے کی وجہ سے ہے۔ لیکن ان کویہ سمجھ نہیں آرہی کہ خداتعالیٰ کیوں ناراض ہو رہا ہے ؟ غور کریں کہ کیوں ناراض ہو رہا ہے۔ ایک دعویٰ کرنے والے نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا میری تائید میں نشانات دکھائے گا۔ ان نشانوں کو دیکھو اور غور کرو اور خدا کے بھیجے ہوئے کے انکار سے باز آؤ۔
اللہ تعالیٰ ظالم کو نہیں چھوڑتا۔ دنیا کے نمونے ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان میں صرف ظالمانہ قانون ہی اسمبلی نے پاس نہیں کیا بلکہ اس وجہ سے کئی احمدی صرف اس لئے شہید کئے گئے اور آج تک کئے جا رہے ہیں کہ وہ احمدی ہیں، وہ زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں۔ اس قانون نے جرأت دلائی ہے کہ ظالم اپنے ظلموں پر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گو اب حکومت نے، عدالت نے بعض جگہ ایسے ظالموں کو ایک دو کیسز میں سزائیں بھی دی ہیں لیکن جب تک ظالمانہ قانون قائم ہے جو حکومت بھی آئے گی وہ ان ظلموں میں برابرکی شریک ہو گی۔
بہرحال ہم نے ان دنیا والوں سے تو کچھ نہیں لینا لیکن ہمدردی کے جذبات سے اور یہ بات کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، ہم حکومت کو بھی اور عوام کو بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اگر امن قائم کرنا ہے اور خدا کی پکڑ سے باہر آنا ہے تو انصاف کے تقاضے پورے کرو۔
اپنے ہمسایہ ملک افغانستان سے سبق سیکھو جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں دو شہید کئے گئے۔ جن کے ذکر میں آپؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ’’اس مصیبت اور اس سخت صدمے سے تم غمگین اور اداس مت ہو کیونکہ اگردو آدمی تم میں سے مارے گئے تو خدا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا اور وہ اپنے بندے کے لئے کافی ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ73)
پس آج بھی جو شخص احمدیت کی وجہ سے شہید کیا جاتا ہے اور اپنے ایمان پر حرف نہیں آنے دیتا وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں سے حصہ پانے والا ہے۔ کیا ان دو کو شہید کرکے احمد یت کا جو پودا تھا اس کو بادشاہ وقت نے اکھیڑ دیا ؟ کیادنیا سے اس وجہ سے احمدیت ختم ہو گئی؟ آج گو تھوڑی تعداد میں ہی سہی لیکن احمدی افغانستان میں بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق قومیں جماعت میں شامل کی ہیں۔ ہر قوم کے سعید فطرت جماعت میں شامل ہو رہے ہیں لیکن آپؑ نے افغانستان کی سرزمین کے بارے میں جو انذار فرمایا تھا اس کو ہم آج تک پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ آج تک افغانستان میں بے امنی کی کیفیت ہے۔
خدا کے مسیح کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ہائے اس نادان امیر نے کیا کیاکہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کرکے اپنے تئیں تباہ کر لیا……‘‘۔
فرماتے ہیں ’’اے کابل کی زمین! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ اے بدقسمت زمین! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ74)
پس ہر عقل رکھنے والے اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے یہ کافی ثبوت اس بات کا ہونا چاہئے کہ جو شخص ان الفاظ کا کہنے والا ہے وہ یقینا خدا کا مرسل ہے۔ خدا کی طرف منسوب کرکے ایک بات کہہ رہا ہے اور آج سو سال بعد تک ہم ان الفاظ کے اثرات دیکھ رہے ہیں۔ وہ بادشاہ جو مولویوں سے ڈر گیا تھا کیا اسے کوئی مولوی بچاسکا؟ یا اس کے خاندان کوبچا سکا؟ اورپھر آج تک کی بے امنی کی کیفیت کیا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ الفاظ، یہ انذار خدا کے خاص بندے کے ہیں؟
مَیں صرف اہل وطن کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عقل کے ناخن لو، حکومت بھی اور پڑھے لکھے عوام بھی کہ لوگوں کو خدا نہ بناؤ، خدا کا حقیقی خوف اپنے دل میں پیدا کرو۔ پاکستان کی سرزمین مسلمانوں کی آزادی کے لئے لی گئی تھی اور اس سوچ کے ساتھ قائداعظم نے یہ ملک بنایا تھا کہ مسلمانوں کو ظلم سے نکالا جائے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو لاگو کیا جائے، اس طرح کہ تمام مذاہب کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق دیا جائے۔ انصاف کے ساتھ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق ادا ہوں، بلاامتیاز اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اگر حکومتیں دوسروں کے مذہب میں دخل اندازی شروع کر دیں، اگر انصاف کا فقدان ہو، اگر ایک طبقے کے حقوق پامال ہوں اور دوسرے کے لئے کہا جائے کہ ٹھیک ہے جو کر رہا ہے وہ کرے، اگر ہتک ہے تو عدالت کی ہے تمہیں کیا ؟تو یہ انصاف نہیں، ظلم ہے۔ پس جب دنیاوی انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ کئے جائیں اور اللہ والوں کو مذہب کے نام پر ظلم کی چکّی میں پیسا جائے تو ایسے لوگ، ایسی حکومتیں پھر خداتعالیٰ کے انعاموں کی حقدار نہیں ٹھہرتیں۔ اس لئے اہل وطن بھی اللہ کا خوف کریں، ہم احمدی بھی سب سے بڑھ کر اپنے وطن سے محبت کرنے والے ہیں۔ پاکستان کی خاطر ہم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ تقسیم کے وقت بھی جب پاکستان معرض وجود میں آیا، اُس وقت بھی ہم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اس کے لئے بڑا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی آزادی میں احمدیوں کا سب سے زیادہ کردار ہے اور مختلف جنگوں میں بھی۔ آج بھی ہم اہل وطن کی خدمت اور ملک کی ترقی کے لئے اپنے وسائل استعمال کرتے ہیں جیسا کہ زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلہ میں بیان کر چکا ہوں۔ آج مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی احمدی ہی ہیں جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے ہیں جوسب سے زیادہ پاکستان کی بقا اورسالمیت کے لئے کوشش کرتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں اور ہمارا کام بھی یہی ہے کہ اس کوشش میں اہل وطن کو اپنے اپنے حلقہ میں جیسا کہ مَیں نے کہا بتا ئیں کہ خدا کا خوف کرو اور ملک کو داؤ پر نہ لگاؤ۔
پاکستان میں بہت بڑی تعداد احمدیوں کی ہے اور مَیں سمجھتاہوں کہ یہ احمدیوں کی دعائیں ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے۔ ورنہ یہ جو نام نہاد محب وطن ہیں، ان کے کام ایسے نہیں ہیں کہ جو پاکستان کو بچا سکیں۔ ان کی تو ہر کوشش ایسی ہے کہ پاکستان کے توڑنے کے درپے ہیں۔ ہر ایک نے پاکستان کو داؤ پر لگا یا ہوا ہے۔ حیرت ہوتی ہے خبریں دیکھ کر۔ یہاں یورپین پارلیمنٹ کی کارروائی مَیں نے ٹی وی پر دیکھی، وہاں ایک ممبر پارلیمنٹ اس بات سے سخت اختلاف کر رہی تھیں اور بڑی شدت سے اس بات کا ردّ کررہی تھیں کہ پاکستان کی امداد بند کی جائے کیونکہ بعض پاکستانی سیاسی حلقوں سے ہی یہ شور تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ غریب عوام پر اس کا اثر ہو گا۔ جس مقصد کے لئے ہم امداد دے رہے ہیں وہ جاری رہنی چاہئے۔ یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے کہ پاکستان کو امداد لینی چاہئے یا نہیں، ضرورت ہے کہ نہیں لیکن مَیں سوچ بتا رہا ہوں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارے سیاستدانوں میں ایک لیڈر صاحبہ یہ فرما رہی تھیں اور اسی طرح دوسرے لیڈر بھی کہ یورپین یونین اور یورپی ممالک پہ زور دیاجائے کہ پاکستان کی امداد بند کریں اور پھر اس طرح حکومت دباؤ میں آئے گی۔ تو یہ ہیں ملک کے ہمدرد جو شور مچاتے ہیں کہ ہم ہی ملک کو بچانے والے ہیں۔ غیروں کو بلایاجاتا ہے، ان سے کوششیں کرائی جاتی ہیں کہ آؤ اور ہماری مدد کرو بلکہ بعض تو اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ گو الفاظ میں تو نہیں لیکن عملاً یہ دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ اور ہمارے ملک کو سنبھالو۔ پس یہ لو گ تو ملک کے ہمدرد نہیں بلکہ ملک کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔
اس بات پر فخر ہے، یہ لیڈر اس بات پربڑے خوش ہیں کہ ہم نے 90سالہ مسئلہ حل کر دیا۔ اللہ رحم کرے ہمارے ملک پر بھی اور ان عقل کے اندھوں کی بھی آنکھیں کھولے۔ اگر ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی تو ایسے لیڈر ملک کو دے جو ملک کا دَرد رکھنے والے ہوں، غریبوں کا خیال رکھنے والے ہوں۔ اپنی ذاتی اَناؤں اور مفادات کی بجائے ملک کے مفاد میں کام کرنے والے ہوں۔ پس اس لحاظ سے ہر احمدی کو دعا کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ خاص طورپر پاکستانی احمدیوں کو جو پاکستان میں بھی رہتے ہیں اور باہر کی دنیا میں بھی رہتے ہیں۔
پھر انڈونیشیا کے جو جماعتی حالات ہیں ان کا مَیں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ آج کل پھر وہاں اُبال آیا ہوا ہے۔ بعض دور دراز کے چھوٹے قصبوں میں جہاں احمدی تھوڑی تعداد میں ہیں انہیں پھر ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے گھروں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ مسجدوں پر حملے کرکے انہیں گرایا جا رہا ہے۔ ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے تاکہ جماعت چھوڑ دیں۔ اور مقامی طور پر اس کی پشت پناہی بعض حکومتی ادارے کر رہے ہوتے ہیں تاکہ اس فساد کے حوالے سے پھر حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ کیونکہ اس وجہ سے احمدیوں کی جانوں کو خطرہ ہے(وہی پاکستان والی حکمت عملی اور یا کم از کم جواب جو بیرونی دنیا کو پاکستانی حکومتیں دیتی ہیں کہ ان کی جانوں کو خطرہ ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے)۔ اس لئے ان کو اسمبلی میں حکومتی سطح پر غیر مسلم قرار دیا جائے تبھی امن قائم ہو سکتا ہے۔ تو بڑی پلاننگ سے اب انہوں نے یہ ترکیب استعمال کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کے تمام مکروں کو توڑنے والا ہے اور انشاء اللہ توڑے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ ان کا یہ خیال کہ ہم اس طرح احمدیت کا خاتمہ کریں گے کبھی بھی صحیح ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ ان لوگوں کی بڑی خام خیالی ہے۔ پچھلے سو سال سے زائد عرصہ سے یہ کوشش ہورہی ہے لیکن جہاں بھی کوشش ہوئی ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں۔ اگر کسی انسان کا کام ہوتا توکب کی جماعت احمدیہ ختم ہو چکی ہوتی۔ لیکن یہ خداتعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ بڑھے گا اورپھولے اور پھلے گا انشاء اللہ۔ کوئی نہیں جو اس کو ختم کر سکے۔ پس اس بات کی تو کوئی فکر نہیں کہ یہ لوگ احمدیت کو ختم کر سکیں یا انڈونیشیا سے ختم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بھی بڑے مضبوط ایمان کے اور قربانیاں کرنے والے احمدی ہیں۔ اگر کہیں کوئی اِکّادُکّا خوفزدہ ہو کر کچھ عرصہ کے لئے کوئی کمزوریٔ ایمان دکھاتا ہے یا یہ کسی کو خوفزدہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ مضبوط ایمان کے احمدی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ یہی سلوک رہا ہے۔ پاکستان میں غیر مسلم قرار دے کر اس زُعم میں کہ احمدیوں کے ہاتھ میں کشکول پکڑا دوں گا کیا نتیجہ نکلا؟ احمدیت کو تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بڑھ کر وسعت عطا کی۔ دوسرے نے اور بھی سخت قانون بنایا کہ اب تو کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تیزی سے احمدیت پھیلی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیغام پہنچانے کے وہ وسائل بھی مہیا فرما دئیے جو اگر انسانی منصوبہ بندی ہوتی تو شایداس پر عمل کرنے کے لئے ہمیں مزید کئی سال درکار ہوتے۔
اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدہ ہے کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یہ ہر روز نئی شان سے پورا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی تو کوئی فکر نہیں کہ یہ احمدیت کو ختم کر سکیں گے یا احمدی کے ایمان کو متزلزل کر سکیں گے لیکن یہ فکر ضرور ہے اور اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ انڈونیشیا کے احمدی اور دنیا کے رہنے والے ہر جگہ کے احمدی بھی ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ انہوں نے قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کسی مخالفت کی وجہ سے ہمدردی خلق سے ہاتھ نہیں اٹھانا۔ کسی مخالفت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو جو حقیقی اسلام کا پیغام ہے، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسوہ رسولﷺ کی تعلیم ہے اس کو پھیلانے سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ پس یہ کام تو ہم نے کرنا ہے۔ اس کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی، ابتلاء بھی آئیں گے۔ الٰہی جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ سلوک ہوتا بھی رہا ہے۔ لیکن انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آئے گی۔ ہمیشہ آتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنی قدرت کے نظارے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے۔ ہمارا کام پیغام پہنچانا اور ہمدردی بنی نوع ہے جو ہم نے کرنی ہے۔
انڈونیشیا میں جب سونامی آیا تھا تو جس علاقے میں یہ سمندری طوفان تھا، اس میں اس سے پہلے بڑی شدید مخالفت تھی۔ وہاں جا کر بھی ہم نے ان لوگوں کی ضرورتیں پوری کیں اور انہوں نے ہمارے سے مددبھی حاصل کر لی۔ تو ہمارے دل تو ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمدردی بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ تیار ہیں اور اس ہمدردی سے پُر رہتے ہیں۔ ہم نے خدمت کرنی ہے۔ ان لوگوں نے، جو ڈنگ مارنے والے ہیں، ان کی فطرت میں ڈنگ مارنا ہے جس طرح گائے اور بچھو کا قصہ ہے۔ ایک بچھو نے گائے کو کہا کہ مجھے دریا پار کر ادو۔ اس نے اپنی کمر پر اس کو سوار کر لیا۔ دریا پار ہوکے جب وہ بچھو اترنے لگا۔ تو اس نے گائے کو ڈنگ مار لیا۔ تو کسی نے کہا تمہیں بچھو کو دریا پارکرانے کی ضرورت کیا تھی۔ اس نے کہا میری فطرت میں جو اللہ تعالیٰ نے کام رکھا ہے وہ مَیں کر رہی ہوں اور اس کی فطرت میں جو ڈنگ مارنا ہے وہ اس نے کرنا ہے۔ تو ہم نے تو خدمت انسانیت کرنی ہے اور اگر کوئی مجبور ہے تو اس کی مدد کرنی ہے قطع نظر اس کے کہ ان لوگوں نے کیا سلوک کرنا ہے۔ جزا اُن سے نہیں لینی بلکہ خداتعالیٰ کے پاس ہمارے اجر ہیں اس لئے وہ تو ہم نے کرتے رہنا ہے۔ جو اُن کا کام ہے وہ یہ کرتے ہیں۔ ہمارا کام دنیا کو ہر لحاظ سے فیض پہنچانا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر فیض پہنچانا ہے۔ پس اس کے لئے ہر احمدی کو اپنی بھرپور کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ دعاؤں اور صبر کے ساتھ یہ کام کرتے چلے جانا چاہئے۔ خداتعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ظلم ہوتے ہیں ان سے تم نے تھکنا نہیں بلکہ اپنے کام تم صبر سے کئے چلے جاؤ، جو تمہاری ذمہ داریاں ہیں ان کو ادا کرتے چلے جاؤ اور دعا کرتے رہو۔ فرماتا ہے

وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ(البقرۃ:46)

اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو اور یہ یقینا عاجزی کرنے والوں کے سوا سب پر بوجھل ہیں۔ پھر فرمایا

یٰٓاَیَّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(البقرۃ:154)

اے وہ لوگو!جو ایمان لائے ہو اللہ سے صبر اورصلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
پس یہ آیات تسلّی دلا رہی ہیں کہ نہایت عاجزی سے خدا کے حضور جھکے رہو۔ یہ ظلم جو مخالفین کی طرف سے ہو رہے ہیں یہ امتحان ہیں۔ صبر یہی ہے کہ ثابت قدم رہو۔ یہ سختیاں اور تنگیاں تم پر وارد کی جا رہی ہیں ان کے خلاف کسی بھی دنیاوی مدد کی بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر اور جو تعلیم اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے اس پر عمل کرو اور برائیوں سے بچو۔
انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی اور ضرور آئے گی اور آخری فتح انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ انشاء اللہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے غلبہ پانا ہے، آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت نے دنیا پر غالب آنا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ اپنے رسولوں کے حق میں فرماتا ہے کہ

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ (ابراھیم:48)

پس تو ہرگز اللہ کو اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے والا نہ سمجھ۔ یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور ایک سخت انتقام لینے والا ہے۔
پس ہر احمدی کو تسلّی رکھنی چاہئے کہ انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید ہمیشہ اپنے پیارے کی جماعت کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ دعا بھی مانگیں کہ ان لوگوں کی بے عقلی اور ظلم اور جلدبازی کی وجہ سے یہ کہیں

ذُوانْتِقَام

خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں۔ وہ غلبہ تو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمانا ہے لیکن اللہ کہتا ہے کہ مَیں عزیز بھی ہوں،

ذُوانْتِقَام

بھی ہوں اور جو وارننگ مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ دے رہا ہے اس کو یہ لوگ سمجھنے والے ہوں۔ مخالفین پر واضح کر دیں کہ ہم تو واضح نشان دیکھ کر زمانے کے امام کو مان چکے ہیں۔ اس لئے تم عارضی طور پر تو ہمیں تکلیف پہنچا سکتے ہو، چاہے وہ انڈونیشیا میں ہے یا بنگلہ دیش میں ہے یا سری لنکا میں ہے یا پاکستان میں ہے یا کسی بھی اور ملک میں۔ تو عارضی تکلیفیں تو تُم ہمیں پہنچا سکتے ہو۔ لیکن اس قبولیت کی وجہ سے، اس ایمان کی وجہ سے، جو دلوں کا سکون ہم نے حاصل کیا ہے وہ دلوں کا سکون تم ہم سے نہیں چھین سکتے۔ کیونکہ
اللہ تعالیٰ کا ہم سے وعدہ ہے کہ وہ حقیقی مومنوں کو اطمینان قلب عطا فرماتا ہے۔ پس ہم تو ہمیشہ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم(الفاتحہ:6)

تا کہ تم لوگوں کی ظلم اور زیادتی کی وجہ سے کہیں ہم اپنے راستہ سے نہ بھٹک جائیں اور یہ نہ ہو کہ ہم ظلم کا جوا ب ظلم سے دینے لگ جائیں۔ یہ نہ ہو کہ ہم میں بے صبری پیدا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو بھول جائیں کہ

اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْن۔

پس ہماراکام صبر کرناہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں۔ اور اس تعلیم کے مطابق کام کئے جائیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتاری اورجس کا فہم وادراک ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عطا فرمایا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٰ ٔبیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔ اگر وہ پیدا نہ ہو تا تو اس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان کے ساتھ سخت کراہت سے پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجے سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ یہ وہی ہیں جن کا قدم صد ق کا قدم ہے۔ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ309۔ مطبوعہ لندن)
اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ اس صدق کے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق، آپؑ کی خواہش کے مطابق، حقیقی رنگ میں احمدیت کی تعلیم کو، اسلام کی تعلیم کو سمجھنے والے ہوں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/fekNA]

اپنا تبصرہ بھیجیں