خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍جنوری 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
وقف جدید حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی آخری تحریک تھی۔ اس تحریک کو اب 50سال مکمل ہو گئے ہیں۔
خلافت کی پہلی صدی کے آخری سال کا اختتام اس الٰہی تحریک کے اعلان سے ہو رہاہے۔ اس لحاظ سے بھی وقف جدید کی اہمیت ہے۔
جماعتی نظام اور ناصرات واطفال کی ذیلی تنظیمیں بھی اس طرف توجہ کریں کہ زیادہ سے زیادہ بچے وقف جدید کے چندے میں شامل کریں۔
گزشتہ دس سال میں جتنے احمدی ہوئے ہیں، جو بیعتیں ہوئی ہیں انہیں بھی بطور خاص وقف جدید میں شامل کریں۔ اگر غریب بھی ہیں تو چاہے ٹوکن کے طورپر معمولی چندہ دیں لیکن مالی قربانی میں شامل ہونا چاہئے۔
مالی قربانی کی عادت پڑے گی تو پھر یہ تقویٰ کی ترقی کا باعث بنے گی۔
دعاؤں اور قربانیوں سے تقویٰ میں بڑھیں اور خلافت کی نئی صدی کا استقبال کریں اور اس میں داخل ہوں۔
اس سال مجموعی طورپر وقف جدید میں 24 لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ مالی قربانی ہوئی۔ پاکستان نمبر ایک پر، امریکہ دوسرے نمبر پر اور برطانیہ تیسرے نمبر پر رہا۔ مختلف پہلوؤں سے جماعتوں کی قربانی کا جائزہ۔
وقف جدید کے 51ویں سال کے آغاز کا اعلان
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 04؍جنوری 2008ء بمطابق04؍صلح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
اَلَّذیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآاَنْفَقُوْا مَنًّاوَّلَآاَذًی لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَرَبِّھِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْن (البقرہ:263-262)

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے نیک عمل کا ذکر کیا ہے اور پھر ان پر اپنے فضل کا اور انعام کا۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر جو خرچ کرتے ہیں اس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے اُن کا اجراُن کے ربّ کے پاس ہے اور اُن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔
یہ لوگ کون ہیں؟ یہاں مخاطب کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والے کو اجر دیتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی خاطر نیکی نہیں بھی کرتے لیکن نیکی ہوتی ہے۔ دکھاوا بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تو ان کو اجر دیتا ہے۔ سیاق وسباق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مومنین کی جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے

وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّاابْتِغَآء وَجْہِ اللہِ (البقرۃ:273)

یعنی تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ کبھی خرچ نہیں کرتے۔ پس یہ مومن کی شان ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ اپنا ہر فعل خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرے۔ یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی بھی یہی نشانی بتائی کہ کیونکہ اللہ کی رضا کا حصول خرچ کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے اس لئے

لَا یُتْبِعُوْنَ مَآاَنْفَقُوْا مَنًّاوَّلَآاَذًی

جو خرچ ہیں اس کا پھر تکلیف دیتے ہوئے، احسان جتلاتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے۔ جبکہ غیر مومن کی یہ نشانی ہے کہ

یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَآء النَّاسِ (النساء:39)

یعنی اپنے اموال لوگوں کے سامنے دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔ اور فرمایا یہ لوگ جو دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (النساء:39)

اور جونہ اللہ پر ایمان رکھتا ہونہ یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ شیطان کے ساتھی ہیں ان کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پس ایک مومن جو شیطان سے دُور بھاگتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑتا ہے اور جوڑنا چاہتا ہے وہ کبھی دکھاوے کے لئے خرچ نہیں کرتا اور جب کسی قسم کا دکھاوا نہیں ہوتا، خالص اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ خرچ ہے، اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ اپنا ہر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو فرمایا

لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَرَبِّھِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْن

کہ اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا، نہ وہ غم کریں گے۔
پس کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے اپنامال خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے پھر بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی اللہ کی راہ میں کچھ خرچ بھی کیا ہے کہ نہیں۔ کبھی یہ احسان نہیں جتاتے کہ ہم نے فلاں وقت اتنا چندہ دیا اور فلاں وقت اتنا چندہ دیا۔ آج ہم جائزہ لیں، نظریں دوڑائیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ہی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو ایک کے بعددوسری قربانی دیتے چلے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہم نے جماعت پر احسان کیا ہے۔ اگر کوئی اِکّا دُکّا ایسا ہوتا بھی ہے تو وہ بیمار پرندے کی طرح پھڑ پھڑاتا ہوا ڈار سے الگ ہو جاتا ہے اور کہیں جنگل میں گم ہو جاتا ہے اور پھر درندوں اور بھیڑیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ نہ دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا۔ یہی ہم نے اب تک دیکھا ہے۔ جب بھی کوئی عافیت کے حصار سے باہر نکلے تو یہی انجام ہوتا ہے۔ بہرحال ضمناً مَیں یہ ذکر کر رہا تھا۔ جو بات مَیں کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل کر کے ان لوگوں میں شامل فرما دیا جن کو نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم ہے اور جو بھی قربانی کریں، جو بھی مال لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیں، اللہ تعالیٰ بے شمار اجر دیتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ(الحدید:7)

پس تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ اللہ کی طرف سے تو جو بھی اجر ہے اتنا بڑا ہے کہ انسان کی جو سوچ ہے وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن فرمایا صرف اجر ہی نہیں ایسے مومنوں کے لئے اجر کبیر ہے۔ پس کتنے خوش قسمت ہیں وہ جنہیں اللہ تعالیٰ ایسے اجروں سے نوازے اور کتنے خوش قسمت ہیں احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آئے اور آپ نے یہ روح ہمارے اندر پیدا کی۔ صحیح اسلامی تعلیم کے حسن و خوبی سے ہمیں آگاہ کیا روشناس کروایا۔ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کے راستے ہمیں دکھائے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے حسن کو کھول کھول کر ہم پر ظاہر فرمایا، جس سے احمدی کے دل میں مرضات اللہ کی تلاش کی چنگاری بھڑکی۔
ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:’’مال کے ساتھ محبت نہیں چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران:93)

تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے کو ئی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن سے تم پیار کرتے ہو۔ اگر آنحضرت ﷺ کے زمانے کے ساتھ آج کل کے حالات کا مقابلہ کیا جاوے تو اس زمانہ کی حالت پر افسوس آتا ہے کیونکہ جان سے پیاری کوئی شے نہیں اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان ہی دینی پڑتی تھی۔ تمہاری طرح وہ بھی بیوی اور بچے رکھتے تھے۔ جان سب کو پیاری لگتی ہے مگر وہ ہمیشہ اس بات پر حریص رہتے تھے کہ موقع ملے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان قربان کر دیں ‘‘۔
(تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جلد دوم۔ سورۃ آل عمران زیر آیت 93 صفحہ131-130)
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’خدا کی رضا کو تم کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔ لیکن اگر تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔ …… لیکن اگر تم اپنے نفس سے در حقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے‘‘۔
(الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 308-307)
فرمایا کہ یہ اس صورت میں ہو گا جب تم اپنے نفس سے درحقیقت مر جاؤ گے، اپنے نفس کو چھوڑ دو گے، تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے’’اور خدا تمہارے ساتھ ہو گا اور وہ گھر بابرکت ہو گا جس میں تم رہتے ہو گے۔ اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہو گی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں۔ اور وہ شہر بابرکت ہو گا جہاں ایسا آدمی رہتا ہو گا’‘۔
(ایضاً)
پس کتنے خوش قسمت ہیں ہم جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا امام عطا فرمایا جس نے ہمیں خدا سے ملنے کے راستے روشن کر کے دکھائے۔ آنحضرت ﷺ کے غلاموں کی حقیقی روح ہم میں پیدا کی، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کا فہم و ادراک ہم میں پیدا کیا، جس پر چل کر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کو بھی اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی اہمیت ہم پر واضح فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے کا کام بخوبی ہو سکے اور ہر فرد جماعت اس کو بخوبی انجام دے سکے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلفاء بھی اس طرف جماعت کو توجہ دلاتے رہے ہیں اور دلاتے رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عبادات کے ساتھ ہر قسم کی قربانیوں کا بھی ذکر ہے اور مالی قربانیاں بھی ان میں سے ایک ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کا عرصہ خلافت تقریباً 52سال پر پھیلا ہواتھا، آپ نے جماعتی نظام کو مضبوط در مضبوط فرمایا۔ اس کی تنظیم کی۔ تربیتی، تبلیغی، روحانی، مالی پروگرام جماعت کو دئیے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کے حصول کے لئے ہم تیزی سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔ انہی تبلیغی اور تربیتی پروگراموں کے لئے ایک سکیم وقف جدید کی بھی تھی جو آپ ؓ نے جماعت کے سامنے رکھی اور اس کے لئے مالی قربانی کی بھی اور واقفین زندگی معلمین کی بھی تحریک فرمائی تاکہ برصغیر پاک و ہند کے دیہاتوں میں، زیادہ تر پاکستان میں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام تیزی سے پھیلا یاجا سکے۔ 27دسمبر 1957ء کو آپ نے اس کا اعلان فرمایا تھا۔ گویا آج اس تحریک کو بھی 50سال پورے ہو گئے ہیں اور 51واں سال شروع ہو گیا ہے۔ یہ تحریک شروع میں جیسا کہ مَیں نے کہا پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لئے ہی تھی اور زیادہ تر انہی ملکوں کے احمدی اس میں حصہ لیتے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ صحیح طور پر صرف پاکستانی احمدی اس میں حصہ لیتے تھے جس میں ایک مالی پہلو بھی تھا، مالی قربانی بھی تھی اور وقف جدید کے لئے بہت بڑی رقم جواس کام کے لئے تھی پاکستانی احمدی ہی مہیا کرتے تھے۔ اسی طرح واقفین زندگی معلمین تھے وہ بھی انہی میں سے تھے۔ توبہرحال 1985ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے احمدیوں نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے دنیا میں پھیلانے میں مالی جانی اور وقت کی قربانی دی ہے۔ وہ لوگ قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ اب باہر کی جماعتیں خاص طور پر جویورپ اور امریکہ کی جماعتیں ہیں اُن کو اس احسان کو یاد کرتے ہوئے تبلیغی اور تربیتی پروگراموں میں ان کی مدد کرنی چاہئے اور خاص طور پر ہندوستان کی جماعتوں کی کیونکہ وہاں تعداد تھوڑی ہے اور اکثریت غریبوں کی ہے۔ گوبعد میں ہندوستان میں نئی بیعتوں کی وجہ سے تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن وہاں بھی اکثریت غریب لوگوں کی ہے جن کا چندہ، وہاں کے جو اخراجات ہیں اس کے مقابلے پہ بہت کم ہے۔ بہرحال وقف جدید کے چندہ کی تحریک کو 1985ء سے تمام دنیا پر لاگو کر دیا گیا۔ یورپ اور امریکن ممالک کا چندہ وقف جدید زیادہ تر ہندوستان اور افریقن ممالک کے جو تبلیغی اور تربیتی پروگرام ہیں ان پر خرچ ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک تمام دنیا میں جاری ہے۔ تمام دنیا کے احمدی اس میں حصہ لیتے ہیں اور احمدی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے اپنی توفیق کے مطابق جیسا کہ مَیں نے کہا اس کی جو مالی ضرورت ہے اس کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ 1957ء میں جب وقف جدید کی سکیم کا آغاز ہوا تو اُس وقت اِس کا جو پہلا سال تھا 1958ء تھا۔ اس لئے ہر سال اس تحریک کا، وقف جدید کا مالی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور مالی قربانیاں جو احباب جماعت کر تے ہیں ان کو ایک سال کے بعد جنوری کے شروع میں جماعت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مَیں بھی آج وقف جدید کے بارے میں ہی بات کر رہا ہوں۔ یہ اس سال2008ء کا پہلا جمعہ ہے اور اس کے ساتھ نئے سال کا اعلان بھی کرتا ہوں اور اس بارے میں مزید چند باتیں بھی کروں گا۔
جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ یہ سکیم زیادہ تر پاکستان بنگلہ دیش وغیرہ میں شروع تھی اور خلیفہ وقت کے مخاطب عموماً وہیں کے احمدی ہوتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے پاکستانی احمدی بچوں کو کہا تھا کہ تم وقف جدید کا بوجھ اٹھاؤ اور اپنے بڑوں کو بتا دو کہ احمدی بچے بھی جب ایک فیصلہ کر کے کھڑے ہو جائیں تو بڑے بڑے انقلاب لانے میں مددگار بن جاتے ہیں۔ چنانچہ احمدی بچوں اوربچیوں نے اس اعلان کے بعد جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا اورجو کام بچوں کے سپرد کیا تھا ایک دوسرے سے بڑھ کر مالی قربانیاں دینے کی کوششیں کیں اور وقف جدید کا چندہ اطفال و ناصرات کے چندے کے نام سے احمدی بچوں اور بچیوں کی پہچان بن گیا۔ بچوں کی آمدنی تو کوئی نہیں ہوتی، وہ تو اپنے جیب خرچ میں سے جب کوئی بڑا ان کو پیسے دے دے تو اس میں سے چندہ دے دیتے ہیں یا بعض والدین بھی ان کی طرف سے دیتے ہیں۔ لیکن یہ بچوں کا جوش اور جذبہ ہے کہ پاکستان میں وقف جدید کے چندوں میں بچوں کی جو شمولیت ہے وہ بڑوں کی شمولیت کا تقریباً نصف ہے۔ گو کہ میرے خیال میں یہاں بھی اضافے کی بڑی گنجائش ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تسلی بھی ہے کہ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے اور اب جب کہ یہ وقف جدید کی تحریک تمام دنیا میں رائج ہے تو بچے بھی اور ماں باپ بھی اور سیکرٹریان وقف جدید بھی اس طرف خاص توجہ کریں۔ جماعتی نظام اورناصرات و اطفال کی ذیلی تنظیمیں بھی اس طرف توجہ کریں کہ زیادہ سے زیادہ بچے وقف جدید کے چندے میں شامل کریں۔ بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہوولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے، لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔ پس ہمیشہ اس بات کو بڑے بھی یاد رکھیں اور بچے بھی، عورتیں بھی اور مرد بھی کہ انقلاب قربانیوں سے ہی آتے ہیں اور اس زمانے میں جب ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے مالی قربانی نفس کی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ بچوں کی خواہشات بھی ہیں اوربڑوں کی خواہشات بھی ہیں لیکن اپنی خواہشات کو دبا کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مالی قربانی اس زمانے میں ایک بہت بڑا جہاد ہے۔ دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرنا تو آسان ہے لیکن دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی قربانی دینا یقینا ایک جہاد ہے۔
پھر دوسری بات مَیں نومبائعین سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور نومبائعین کو سنبھالنے والوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ نومبائعین کی جماعت سے تعلق میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب وہ مالی قربانی میں شامل ہوتے ہیں۔ جب وہ اس اصل کو سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک ذریعہ مالی قربانی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو نومبائعین اس حقیقت کو سمجھ گئے ہیں وہ جماعت سے تعلق، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت اور اخلاص اور آنحضرت ﷺ کے عشق میں فنا ہونے کی منازل دوڑتے ہوئے طے کر رہے ہیں۔ بعض نومبائعین قربانیوں میں اوّل درجے کے شمار ہو نے کے بعدبھی لکھتے ہیں کہ یہ قربانی ہم نے دی ہے لیکن حسرت ہے کہ کچھ نہیں کر سکے۔ ا نہیں یہ احساس ہے کہ ہم دیر سے شامل ہوئے تو قربانیاں کرتے ہوئے اُن منزلوں پر چھلانگیں مارتے ہوئے پہنچ جائیں جہاں پہلوں کا قرب حاصل ہو جائے۔ پس یہ وہ موتی اور ہیرے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے اور عطا فرما رہا ہے۔ جن کی حسرتیں دنیاوی خواہشات کے لئے نہیں بلکہ قربانیوں میں بڑھنے کے لئے ہیں اور جس قوم کی حسرتیں یہ رخ اختیار کر لیں اس قوم کو کبھی کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ جب کہ خدائی وعدے بھی ساتھ ہوں اور اللہ تعالیٰ یہ اعلان کر رہا ہو کہ مَیں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں۔ پس جو کمزور ہیں، نئے احمدی ہوں یا پرانے، تربیتی کمزوریوں کی وجہ سے بھول گئے ہیں یا قربانیوں کی اہمیت سے لا علم ہیں، ہمیشہ یاد رکھیں کہ مسلسل کوشش اور جدوجہد اُنہیں وہ مقام دلائے گی جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا مقام ہے۔ اس اہم کام کی سر انجام دہی کے لئے جہاں ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس اہمیت کو سمجھے وہاں انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ احباب جماعت کو اس کی اہمیت بتائیں۔ نومبائعین کو اس کی اہمیت بتائیں۔
جب تک عہدیداران کے اپنے معیار قربانی نہیں بڑھیں گے ان کی بات کا اثر نہیں ہو گا۔ جہاں عہدیداران اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں وہاں کی رپورٹس بتا دیتی ہیں کہ حق ادا ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے کارکنان بھی ہیں جو اپنا سب کچھ بھول جاتے ہیں، بیوی بچوں کو بھی بھول جاتے ہیں، اپنے نفس کے حق بھی ادا نہیں کرتے۔ صبح اپنے کام پر جاتے ہیں اور وہاں سے شام کو سیدھے جماعتی
ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ ا نہیں کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا اور تمہارے بیوی بچوں کا بھی تم پر حق رکھا ہے۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہت محنت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ یہ جو محنت کرنے والے ہیں یہ بھی صحیح طریق پر محنت نہیں کر رہے ہوتے۔ مثلاً چندوں کے معاملے میں۔ جوچندہ دینے والے مخلصین ہیں ہر تحریک کی کمی پورا کرنے کے لئے انہیں کو بار بار کہا جاتا ہے۔ جب کہ کئی دفعہ کہا گیا ہے کہ نئے شامل ہونے والوں کو بھی شامل کریں اور تعداد بڑھائیں۔ ہر ایک میں قربانی کی روح پیدا کریں۔ اگر شعبہ تربیت اور مال یا وقف جدید، تحریک جدید مشترکہ کوشش کریں تو کمزوروں کو بھی ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ شروع میں بعض دقتیں پیش آئیں گی لیکن دعا اور صبرسے یہ روکیں اور مشکلات بھی دور ہو جائیں گی انشاء اللہ۔ بعض لوگ لکھتے بھی ہیں اور زبانی بھی موقع ملے تو کہہ دیتے ہیں کہ بعض افراد جماعت پوری طرح تعاون نہیں کرتے، پروگراموں میں حصہ نہیں لیتے تو مَیں انہیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ تمہارا کام یہ ہے کہ مسلسل دعا اور صبر سے کوشش کئے جاؤ۔ جو احمدی ہے اس میں کوئی نہ کوئی نیک فطرت کا حصہ ہے جس کی وجہ سے وہ احمدیت پر قائم ہے۔ پس کمزوروں کو ساتھ ملا کر چلنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اس لئے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئے۔
اب جبکہ ہم خلافت کی نئی صدی میں چندماہ تک داخل ہونے والے ہیں۔ جماعتی نظام جو مختلف شہروں اور ملکوں میں قائم ہیں اور ذیلی تنظیمیں بھی ایسے پروگرام بنائیں جس سے ہماری قربانیوں کے ہر قسم کے معیار بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی تڑپ ہر ایک میں پید اہو جائے۔ ہر احمدی بھی، نئے بھی اور پرانے بھی اپنے جائزے لیں کہ کیا بہترین تحفہ ہم شکرانے کے طور پراللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔
مجھے خیال آیا کہ وقف جدید کی یہ تحریک حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی وہ آخری تحریک ہے جس میں تبلیغی، تربیتی اور مالی قربانیوں کا پروگرام دیا گیا ہے اور جیسا کہ مَیں نے بتایا یہ بھی 50سال پورے کر کے اپنے 51ویں سال میں داخل ہو رہی ہے اور یہ خلافت کی پہلی صدی کی وہ خاص تحریک ہے جس کا سال کے آخر پر مختصر رپورٹ پیش کر کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔ وقف جدید، تحریک جدیدکا تو اعلان کیاجاتا ہے لیکن اَور بھی تحریکات ہیں ان کا اس طرح باقاعدہ سال کے سال اعلان نہیں ہوتا اور یہ تحریک خلافت کی پہلی صدی کی وہ آخری تحریک ہے جس کا مَیں آج اعلان کر رہاہوں یعنی خلافت کی پہلی صدی کے آخری سال کا اختتام بھی اس الٰہی تحریک کے اعلان سے ہو رہا ہے۔ اس لحاظ سے بھی وقف جدید کی ایک اہمیت ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع نے 13، 14سال پہلے وقف جدید کا اعلان کرتے ہوئے ہمارے ایک ماریشین واقف زندگی جہانگیر صاحب کی خواب کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ جماعت ایک میز کی شکل میں ہے جس کے چار پائے ہیں۔ جس میں سے میزکا ایک پایہ یا ٹانگ جو ہے وہ بڑھنی شروع ہوتی ہے اور یہ وقف جدید کا پایہ ہے جس سے توازن خراب ہوتا ہے تومیز کی تحریک جدید کی جو ٹانگ ہے یا جو پایہ ہے وہ بھی بڑھنا شروع کرتا ہے تاکہ بیلنس قائم رکھے لیکن وہ وقف جدید کے پائے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ وہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تو پھراس پائے کو زبان ملتی ہے اور وہ وقف جدید کے پائے کو کہتا ہے کہ اپنی رفتار کم کرو تاکہ مَیں بھی تمہارے ساتھ مل جاؤں۔ اس پر وقف جدید کا پایہ یہ کہتا ہے کہ مَیں مجبور ہوں اپنی رفتار کم نہیں کر سکتا کیونکہ مَیں نے بڑھنا ہی اسی رفتار سے ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں بتایا تھا کہ ایک تو مالی قربانی کی رفتار ہے۔ دوسرے یہ تعبیر کی تھی اور دعا کی تھی کہ یہ تعبیر سچ ہو کہ وقف جدید کے تحت جو تینوں ممالک خاص کام کر رہے ہیں ان میں انقلابی تبدیلی پیدا ہو اور جماعت تیزی سے ترقی کرے۔ ان تمام باتوں کی اہمیت کے پیش نظر مَیں بھی ان جماعتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ حالات میں جس تیزی سے تبدیلی پیدا ہو رہی ہے یہ ملک اپنے تبلیغ اور تربیت کے کام کو بھی خاص طور پر سمجھیں اور کوشش کر کے اس رفتار کو تیز کرنے کی کوشش کریں اور جب اللہ تعالیٰ کی تائید اور دعا بھی ساتھ ہو تو کوئی نہیں جو اس رفتارترقی کو روک سکے۔ اس نے بڑھنا ہی ہے۔ پس آگے بڑھیں اور جہاں مالی قربانیوں میں مثالیں قائم کر رہے ہیں وہاں دیہاتوں میں تبلیغی اور تربیتی کام کو بھی تیز کردیں۔ تینوں ملکوں میں بھی اور افریقہ میں بھی وقف جدید کے تحت خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اللہ کرے کہ جو تعبیر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمائی تھی اس کو آج ہم تیزی سے پورا ہوتے دیکھیں۔ اس کے لئے مالی قربانی بھی ایک اہم حصہ ہے۔ کیونکہ مالی ضروریات بھی بڑھیں گی جب کام میں تیزی پیدا ہو گی۔ پس تمام ممالک اس میں مددکریں۔ بچوں کی تربیت کے لئے جیسا کہ مَیں نے کہا تھا بچوں کو بھی بطور خاص توجہ دلائیں۔ ان کو بھی احساس ہو کہ یہ سب انقلاب اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر سے آرہا ہے اس میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ اس طرح گزشتہ دس سال میں جتنے احمدی ہوئے ہیں، جو بیعتیں ہوئی ہیں، انہیں بھی بطور خاص وقف جدید میں شامل کریں۔ مَیں نے نومبائعین سے رابطے بحال کرنے کے لئے کہا ہوا ہے۔ بہت سارے رابطے ضائع ہو گئے۔ اس پر بعض ملکوں میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔ ان رابطوں کی بحالی کے لئے بھی مالی قربانی کی ضرورت ہے اورجب رابطے بحال ہوتے ہیں تو ان کو بھی مالی قربانی کی عادت ڈالیں اور ان کو اس کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔ اگر غریب بھی ہیں تو چاہے ٹوکن کے طور پر معمولی چندہ دیں لیکن مالی قربانی میں شامل ہونا چاہئے۔ مالی قربانی کی عادت پڑے گی تو پھر یہ تقویٰ کی ترقی کا باعث بھی بنے گی۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ میں بڑھنے والوں کے لئے عبادات کے ساتھ قربانی کا بھی ذکر فرمایا ہے جس میں مالی قربانی بھی شامل ہے۔ پس مالی قربانی بھی دلوں کی پاکیزگی اورتقویٰ میں بڑھنے کے لئے ضروری چیز ہے۔
پس دعاؤں اور قربانیوں سے تقویٰ میں بڑھیں اور خلافت کی نئی صدی کا استقبال کریں اور اس میں داخل ہوں۔ ان قربانیوں کی عادت جو پڑے گی، یہ جاگ جو بچوں میں اور نئے آنے والوں میں لگے گی، قربانیوں کا احساس اور تقویٰ میں بڑھنے کا احساس جو تمام احمدیوں میں پید اہو گا یہ جہاں آئندہ انقلاب میں سب کو حصہ دار بناتے ہوئے خوشخبریاں دے گا اور ترقیات دکھائے گا۔ انشاء اللہ، وہاں فوج در فوج آنے والوں کو بھی قربانیوں کی اہمیت دلاتے ہوئے مالی قربانیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دلائے گا۔ اور یوں جب خالصتاً للہ ان عبادتوں اور قربانیوں کے اعلیٰ معیار کے حصول کی کوشش ہو رہی ہو گی تو یہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام کا باعث بنے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والی ہو گی۔ آنحضرت ﷺ کے جھنڈے کو تمام دنیا میں گاڑنے کا باعث بن رہی ہوگی۔ پس اس جذبے سے اپنے بھی جائزے لیں اور بچوں اور نومبائعین کو بھی خاص طور پر وقف جدید میں شامل کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان مقاصد کا حصول کر کے جن کا مَیں نے ذکر کیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔
اب میں حسب روایت وقف جدید کے کوائف پیش کروں گا یعنی دنیا کے مختلف ممالک کا موازنہ اور وصولی پیش ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر وقف جدید میں 24لاکھ 27ہزار پاؤنڈ مالی قربانی ہوئی ہے اور یہ جو وصولی ہے گزشتہ سال سے تقریباًدولاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔ تو وقف جدید کے پائے کے اونچا ہونے کی ایک تو یہ ظاہری شکل ہمیں نظر آتی ہے کہ گزشتہ سال سے وقف جدید کی وصولی دو لاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔ جبکہ نومبر میں مَیں نے جب تحریک جدید کا اعلان کیا تھا تواس میں گزشتہ سال سے تحریک جدید میں جووصولی تھی وہ ایک لاکھ دس ہزار پاؤنڈ زیادہ تھی۔ یعنی وقف جدید کا اس سال کاجواضافہ ہے وہ تحریک جدید کی نسبت کافی زیادہ ہے تقریباً دوگنا۔
دنیا میں وقف جدید کی قربانی میں شامل جو پہلی دس جماعتیں ہیں ان میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، پھر امریکہ ہے، برطانیہ نمبر تین پہ ہے۔ نمبر4پر جرمنی، نمبر پانچ پہ کینیڈا، نمبر چھ پہ ہندوستان اور نمبر سات پہ انڈونیشیا، نمبر آٹھ پہ بلجیم، نمبر نو پہ آسٹریلیا اور نمبر دس پہ فرانس۔ کینیڈا اور جرمنی کا بڑ امعمولی فرق ہے۔ کینیڈا اگر ذرا سا زور لگائے تو میرا خیال ہے آرام سے چوتھی پوزیشن آسکتی ہے۔
پاکستان کے حالات کے بارے میں ایک اخبار میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا کہ 2007ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین سال ہے اور معاشی لحاظ سے بھی بہت برا سال تھا۔ بہت سے جائزے پیش کئے گئے تھے۔ اس کے باوجود کہ غربت انتہاء کو پہنچ گئی۔ کاروباری لحاظ سے، معاشی لحاظ سے پاکستان بہت پیچھے تھا لیکن پھر بھی پاکستانی احمدیوں کے معیار قربانی نہیں گرے۔ اس میں پہلے سے بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اس دفعہ میں سوچ رہا تھا کہ گزشتہ دنوں دسمبر میں جو حالات ہوئے ہیں، کراچی کے حالات بھی بہت زیادہ خراب تھے تو شاید اس سال پاکستان کی پوزیشن کوئی نہ ہو یا شاید وصولیاں کم ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جب مَیں نے ترقی دینی ہے تو پھر مدد بھی فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ باوجود اس کے کہ ہر روز ہم نظارے دیکھتے ہیں اور مَیں خاص طور پر جماعتی ترقی کے نظارے دیکھتا ہوں اس لئے اپنی اس سوچ پر شرمندگی بھی ہوئی کہ خدا تعالیٰ پر بھی حسن ظن نہیں رکھا۔ اللہ رحم کرے۔
پس یہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیارے لوگ ہیں کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں اپنی قربانیوں کے معیار کو نہیں گرنے دیتے۔
فی کس چندے کے لحاظ سے بھی جو جائزہ ہے اس کے مطابق امریکہ نمبر ایک پہ ہے 65پاؤنڈ فی کس اوربرطانیہ نمبر دو پہ 34 پونڈ، فرانس نمبر تین پر 31پونڈ، کینیڈا نمبرچار پہ 21پونڈ اور بلجیم نمبرپانچ پہ 18پونڈ۔
افریقہ کی جماعتوں میں ترتیب کے لحاظ سے پہلی پانچ جماعتیں گھانا، نائیجیریا، بینن، بورکینا فاسو اور نمبر 5تنزانیہ ہیں۔ گھانا بھی مالی قربانی میں کچھ سست ہو گیا تھا۔ شکر ہے میرے کہنے پر اب گھانا میں بھی ہل جل پیدا ہوئی ہے۔ افریقنوں میں عمومی طو رپر مَیں نے دیکھا ہے کہ قربانی کا مادہ بہت ہے لیکن گھانا میں تو مَیں نے خود رہ کے دیکھا ہے۔ اتنا قربانی کا مادہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ اگر ان میں کسی جگہ قربانی کی کمی ہے، اگر کچھ سستی ہے تو عام احمدیوں میں نہیں ہے، لوگوں میں نہیں ہے، بلکہ انتظامیہ اور کام کرنے والے اور کارکنان اور عہدیداران میں سستی ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو بہتر کریں اور اپنے لوگوں کو قربانیوں کے معیار حاصل کرنے سے محروم نہ رکھیں۔
وقف جدید کے چندہ دینے والوں کی کل تعداد 5لاکھ دس ہزار ہے لیکن اس میں بھی بہت گنجائش موجود ہے۔ گزشتہ سال مَیں نے ہندوستان کو 5لاکھ کا ٹارگٹ دیا تھاان کو پورا کرنا چاہئے۔ وہ تقریباً سو الاکھ کے قریب پہنچے ہیں۔ ا ن کو چاہئے کہ وہ مزید اس سے بہتر کریں۔
انگلستان کی جماعتوں میں سے فی کس ادائیگی کے لحاظ سے مسجدبیت الفضل لندن میرا خیال ہے نمبر ایک پہ ہے اور ساؤتھ ایسٹ لندن نمبردوپہ اور نیو مالڈن نمبر تین پہ۔
امریکہ میں وصولیوں کے لحاظ سے سیلیکون ویلی، لاس اینجلس ایسٹ، شکاگو ویسٹ، ڈیٹرائٹ اور نمبرپانچ پہ لاس اینجلس ویسٹ۔
جرمنی میں ہمبرگ، گراس گیراؤ، فرینکفرٹ اورویز بادن (اگر میں صحیح بول رہا ہوں تو) اور نمبر پانچ ڈامسٹڈ۔
پاکستان میں اطفال اوربالغان کا علیحدہ علیحدہ دفتر ہوتا ہے جیسا کہ مَیں نے بتایا تھا۔ اطفال میں ناصرات بھی شامل ہیں تو اس میں پہلی پوزیشن بڑوں میں لاہور، کراچی اور نمبرتین ربوہ۔ اور اضلاع میں پہلا ضلع سیالکوٹ، نمبردو راولپنڈی، نمبرتین اسلام آباد، نمبرچار فیصل آباد، نمبرپانچ شیخوپورہ نمبرچھ گوجرانوالہ، نمبرسات میر پور خاص، نمبرآٹھ سرگودھا، نمبرنوملتان، نمبردس گجرات۔
اطفال میں بھی اوّل، دوم سوم کی وہی ترتیب ہے لاہور، کراچی، ربوہ اور ضلعوں میں بھی تقریباً وہی ہے سوائے اس کے کہ بالغان میں نمبر9ملتان تھا اور یہاں نمبر9نارووال ہے۔ یہاں تھوڑی سی پوزیشن بدل گئی ہے۔ اسلام آباد نمبرایک، سیالکوٹ نمبردو، گوجرانوالہ نمبرتین، شیخوپورہ چار، فیصل آباد پانچ، راولپنڈی چھ، میر پور خاص سات، سرگودھا آٹھ، نارووال نواور حیدر آباددس۔
اللہ تعالیٰ ان تمام مخلصین اور قربانیاں کرنے والوں کو بے انتہا اجر دے۔ ان کے مال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔ جو قربانیاں کرنے والے ہیں وہ قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے حوالے سے ایسے لوگوں کے بارے میں جو قربانیوں میں بہت بڑھ رہے ہیں ایک دفعہ یہ کہا تھا کہ ان کے اخلاص کو دیکھ کے ڈر لگتا ہے۔ اور یہ اخلاص میں بڑھنے والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر ملک میں پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے اخلاص سے یہ ڈر ہے کہ اخلاص کی وجہ سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔ اپنے وعدے کے مطابق جزائے کبیر عطا فرمائے۔ ا ن مخلصین کی قربانی کی روح آگے جاگ لگاتی چلی جائے اور ایسے قربانی کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں جو اس قربانی کی روح کو کبھی مرنے نہ دیں۔ کبھی ماندہ نہ ہوں اور کبھی نہ تھکیں۔ ایسے نمونے بکھیرتے چلے جائیں کہ آئندہ آنے والوں کے دل ہمیشہ آپ کے لئے نیک جذبات اور دعاؤں سے بھر ے رہیں اور آپ کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے جنہوں نے ایسے نیک نمونے قائم کر کے آئندہ نسلوں میں بھی وہ روح قائم کی اور پیدا کی جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی روح تھی۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/KGxsc]

اپنا تبصرہ بھیجیں