خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍جنوری 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

کوئی کتاب علاوہ قرآن کریم کے یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کا لفظ لفظ الہامی شکل میں قائم ہے۔
قرآ ن کریم میں تحریف کرنے کی کوششیں کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اس کتاب کی حفاظت اور اس شریعت کی حفاظت اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے فرماتا رہتا ہے اور اس زمانے میں بھی وہ جری اللہ مبعوث ہو گیا جس نے دجال کے توڑ کرنے تھے۔
قرآن ایسی کتاب ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ اس کے ایک ایک حرف کی حفاظت اللہ تعالیٰ اس کے نزول کے دن سے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا انشاء اللہ۔
وہ لوگ بھی جو مسلمان کہلا کر پھر تعلیم کے بعض حصوں کو دیکھ کر منہ چھپاتے پھرتے ہیں پریشان ہونے کی بجائے اس زمانے کے جری اللہ سے اس کتاب کی تعلیم کا فہم و ادراک حاصل کریں۔
(یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰب کے تحت لفظ کتاب کے مختلف معانی کے لحاظ سے قرآ ن مجید کے فضائل کا پُرمعارف بیان)

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 11؍جنوری 2008ء بمطابق11؍صلح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (البقرۃ:130)

گزشتہ خطبہ میں وقف جدید کے اعلان کی وجہ سے اس آیت کے مضمون کو جس کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے جاری نہیں رکھ سکا تھا۔ آج مَیں پھر اسی آیت کے مضمون کی طرف لوٹ رہا ہوں۔
اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو بیان ہوئی ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ خطبہ میں مَیں نے پہلا حصہ بیان کیا تھا۔ اس کا جو بقیہ حصہ ہے وہ بیان کرتا ہوں۔ یعنی دعا میں اس عظیم رسول کے لئے چار چیزیں مانگی تھیں۔ پہلی تو تھی۔

یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ

اس کا بیان ہو گیا ہے۔
اب ہے

یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ

یعنی انہیں کتاب کی تعلیم دے اور اس کی حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا جو آیات تُو اس عظیم رسول پر نازل فرمائے وہ عظیم رسول اُن اتری ہوئی آیات کی ان پرجن لوگوں کے لئے مبعوث ہوا ہے، تلاوت کرے گا۔ اب ان آیات کی تلاوت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو نشان بھیجے گئے ہیں یا جو آیات نازل کی گئی ہیں جن میں عبرت کے واقعات بھی ہیں، جن میں نصیحت بھی ہے، عذاب کی خبریں بھی ہیں، صرف پڑھ کر سنا دے بلکہ جیسا کہ گزشتہ سے پیوستہ خطبے میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ آئندہ آنے والوں کے لئے یہ نمونے جو دئیے گئے تھے وہ ایک سبق ہیں۔ اس لئے یہ دعا کی کہ یہ عظیم نبی جو تو آئندہ زمانے کے لئے مبعوث کرنے والا ہے اور جس کے لئے مَیں دعاکرتا ہوں کہ بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہو وہ نبی صرف اپنی زندگی تک ہی ان آیات کی تلاوت کرنے والا نہ ہو، یا اس کے زمانے کے لوگ ہی اس تعلیم سے فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں، اپنے وقت کے لوگوں کو ہی صرف تعلیم دینے والا نہ ہو بلکہ یہ عظیم نبی چونکہ قیامت تک کے لئے مبعوث ہونا ہے اس لئے یہ سب تعلیم جو ہے یہ لکھی ہوئی ملے۔ کتاب کی شکل میں ہو تاکہ قیامت تک اس پر عمل کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔
اس دعا سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم ہو چکا تھا کہ ایک زمانے میں ایک ایسا نبی مبعوث ہونا ہے جس کی تعلیم قیامت تک رہنی ہے۔ اس لئے دعا کی کہ وہ جن میں مبعوث ہو اور جس زمانے کے لئے مبعوث ہو، انہیں کتاب کی تعلیم دے۔ یہ تمام تعلیم، یہ تمام آیات یکجا تحریری صورت میں ہوں۔ اصل میں تو یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلامکو سکھائی تھی کہ جو عظیم رسول مبعوث ہونا ہے اس پر جو شریعت نازل ہونی ہے وہ تمام لکھی ہوئی صورت میں ہوگی اور اس طرح لکھی ہو گی کہ قیامت تک اس کا شوشہ بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج صرف یہ قرآن کریم ہی ہے جو مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد لکھی ہوئی صورت میں ملا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے حُفّاظ پیدا کئے بلکہ آج تک پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں جن کے دل و دماغ پر اور یادداشت میں قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اور حرف لکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے جو تعلیم جاری فرمائی اس کو ظاہر ی کتاب میں بھی محفوظ کر لیا اور دل و دماغ میں بھی نقش کر دیا۔ جس طرح اس کی حفاظت کے سامان فرمائے کسی اور نبی پر اترنے والی آیات اور احکامات کی حفاظت نہیں کی۔ کوئی کتاب علاوہ قرآن کریم کے یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کا لفظ لفظ الہامی شکل میں قائم ہے جبکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ پہلے دن سے جس طرح اُترا اُسی طرح محفوظ ہے۔ بلکہ زیر زبر پیش، کہاں رکنا ہے، کہاں نہیں رکنا، اس حد تک تفصیل سے قرآن کی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے۔ تو یہ ہے اس کتاب کی خوبی جو اس رسول پر اتری جس پر شریعت کامل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(المائدہ:4)

یعنی مَیں نے تمہارے فائدہ کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیااور تم پر احسان پور اکر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا اور تمام نعمتیں تمہیں عطا فرما دی ہیں۔ پس یہ اعلان ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا۔
یہ جہاں حضرت ابراہیمؑ کی قبولیت دعا کا بھی نشان ہے کہ اس عظیم رسول پر تمام نعمتیں مکمل ہو چکی ہیں، تمام احکام جمع ہو گئے ہیں، تمام تاریخی واقعات جمع کر دئیے گئے ہیں، سابقہ شریعتوں کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے۔ شریعت کے تمام احکام کے اعلیٰ معیار بتا دئیے گئے ہیں جن سے تمہاری شریعت کامل اور مکمل ہو گئی ہے۔ یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے کیا۔ کوئی سابقہ شریعت اب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کوئی سابقہ کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور حقیقت میں یہی ایک کتاب ہے جو اَلْکِتٰب کہلانے کی مستحق ہے۔ اور پھر صرف شرعی باتیں ہی نہیں، مذہبی باتیں نہیں، علمی اور سائنسی باتیں بھی بیان کیں۔ جو سابقہ شریعتوں کے لوگوں کے لئے سمجھنا تو دور کی بات ہے خود آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی بعض باتیں شاید صرف آنحضرتؐ کے علاوہ کوئی نہ سمجھتا ہو۔ جو ایسی باتیں اور مستقبل کی خبریں تھیں جو اس زمانے میں ظاہر ہوئیں۔ پس اس کے اَلْکِتٰب ہونے کایہ کمال ہے۔ اس میں تمام علوم بیان فرما کر اصل حالت میں آج تک قائم رکھا اور اس بات کا بھی خو داعلان فرمایا کہ اس کتاب کو، اس تعلیم کو جو عظیم رسولﷺ پر اتری ہے مَیں محفوظ رکھوں گا اور کوئی نہیں جو اس کی حالت کو بدل سکے۔ جیسا کہ فرماتا ہے

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:10)

کہ اس ذکر یعنی قرآن کریم کوہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اور یہ حفاظت کے سامان پہلے دن سے ہی فرما دئیے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ہی لکھ کر محفوظ کر لی گئی۔ قرآن کریم کی تمام آیات یا قرآن کریم محفوظ کر لیا گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس آیت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ:
‘’اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔ سوتیرہ سو برس سے اس پیشین گوئی کی صداقت ظاہر ہو رہی ہے۔ اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشرکانہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اس میں کسی نوع کی مشرکانہ تعلیم مخلوط ہو سکے’‘شامل ہو سکے ’’کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ ہزارہا اس کی تفسیریں ہیں۔ پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا، کروڑہا نسخے اس کے دنیا میں موجود ہونا، ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر و تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع ہے اور محال ہے‘‘۔
(براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد 1صفحہ102حاشیہ۔ مطبوعہ لندن)
یعنی اس بات کی یہ دلیل ہے کہ آئندہ بھی کبھی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کو آج تک بلکہ اُس وقت جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا اس پر بھی مزید سو سال گزرچکے ہیں، قرآن کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ آج بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ آئندہ بھی عقل تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس کی تعلیم میں کوئی ردّو بدل ہوسکے۔ وہ خدا جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی حفاظت بھی فرماتا رہے گا۔
فی زمانہ دجّال نے ایک یہ چال چلی کہ اس میں ردّو بدل کر سکے لیکن یہ کوششیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ جیسا کہ پہلے بھی مَیں ایک دو دفعہ ذکر کر چکا ہوں۔ اس قرآن کریم میں ردّو بدل کا یا اس کے مقابل پر نیا قرآن کریم پیش کرنے کی جو عیسائیوں کی ایک چال تھی، بہت بڑا خوفناک منصوبہ تھا اور اس کو پہلی دفعہ انہوں نے ’’فرقان الحق‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ خود ہی اپنے پاس سے الفاظ بنا کر، کچھ قرآن کریم کے الفاظ لے کر کچھ اپنے پاس سے ملا کر، جوڑ جاڑ کر کچھ آیتیں بنائیں اورکچھ سورتیں بنا لیں۔ ستّر یا ستتر میرا خیال ہے اور پہلی دفعہ اس کی اشاعت 1999ء میں ہوئی۔ ایوینجیلیکل چرچ کی طرف سے تھی اور اس لئے تھی کہ ان کا خیال ہے کہ جو آنے والا مسیح ہے اس کے آنے کی خبر دینے کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو پہلے ذہنی طور پر تیار کر لیا جائے اور فرقان الحق کے نام سے ایک کتاب ان میں متعارف کروا دی جائے۔ ایک خبر آئی تھی اس زمانے میں بھی کہ کویت میں یہ تقسیم ہو رہی ہے یا بچوں کو پڑھائی گئی ہے۔ اس بارہ میں عربی ڈیسک کو کہا تھا کہ پتہ کریں لیکن ان کی رپورٹ نہیں آئی۔ انہوں نے بڑی دیر لگا دی۔ پتہ لگنا چاہئے کیونکہ دو سال پہلے یہ خبر عام ہوئی تھی۔ بہرحال امریکہ سے یہ شائع ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ تحریف کرنے کی ایک اور کوشش بھی ہے۔ مسلمانوں کا ایک گروپ ہے جو شریعہ کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم میں سے جنگ اور جہاد کے بارہ میں جتنی آیات ہیں وہ نکال دی جائیں۔ انتہائی مداہنت اور بزدلی دکھانے والا یہ گروپ ہے جو مغربی معاشرہ کو یا دوسرے لفظوں میں عیسائیوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا مذہب سے ان کو کوئی لگاؤ ہی نہیں۔ قرآن کریم میں تحریف کر کے مسلمانوں کے اندر رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ بہرحال یہ تو ان لوگوں کی کوشش ہے۔ یہ کوششیں چاہے اب عیسائیوں کی طرف سے ہوں یا اس طبقے کی طرف سے ہوں جو مسلمان کہلاتے ہوئے اپنی ہی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں یا منافقین کا کردار ادا کررہے ہیں، جن کی طرف سے بھی ہوں، جو بھی قرآن شریف کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ اس میں تو بہرحال کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ یہ لوگ صرف دنیاکی نظر سے دیکھنے والے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بائبل میں انسانی دخل ہو گیا، اسی طرح قرآن کریم میں بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ بائبل کے ساتھ یا کسی بھی اور کتاب کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں تھا۔ قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جس کے ساتھ یہ وعدہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اُس عظیم رسول پہ اتری ہوئی کتاب ہے جس کی تعلیم قیامت تک رہنی ہے۔ پس ان لوگوں کو چاہے وہ غیرہیں یا اپنے ہیں اگر خدا پر ایمان ہو تو یہ سب کچھ دیکھ کر کہ واحدکتاب اپنی اصلی حالت میں ہے، دجل اور شرارت کرنے کی بجائے اس کتاب کی تعلیم پر غور کرتے کہ ایک طرف تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک عظیم رسول کے لئے ایک کتاب کی اور اس کی تعلیم کی دعا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ مَیں نے دعا سن بھی لی اور وہ عظیم رسول عرب میں مبعوث بھی ہو گیاجو اس کتاب کی تعلیم دیتاہے اور اس تعلیم کے اثرات دنیا نے دیکھ بھی لئے۔ اس کے باوجود یہ دشمنی تبھی ہو سکتی ہے کہ آنکھوں پر پٹی بندھی ہویا خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین نہ ہو، یا صرف اور صرف شرارت، فتنہ اور فساد کی غرض ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ کیونکہ یہ تعلیم اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ رسول بھی خاتم الانبیاء ہے اس لئے اس رسول کی اتباع کے بغیر نہ کوئی رسول، نہ کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اور کتاب کبھی آسکتی ہے۔ تم لوگوں نے یہ دجل کی کوششیں کرنی ہیں تو کر کے دیکھ لو لیکن کبھی کا میاب نہیں ہو گے۔ اس کتاب کی حفاظت اور اس شریعت کی حفاظت اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے فرماتا رہتا ہے اور اس زمانے میں بھی وہ جری اللہ مبعوث ہو گیا جس نے دجال کے توڑ کرنے تھے اس لئے چاہے جتنی بھی کوشش کر لو یہ خدا کی تقدیر ہے کہ اب شیطان کے بندوں اور رحمن کے بندوں کی آخری جنگ ہے جس میں یقینا رحمان کے بندوں نے کامیاب ہونا ہے۔ ان لوگوں کو، مخالفین کو جو اپنے کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی پیشگوئی فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ یہ بتا سکے کہ سب طاقتوں کا سرچشمہ مَیں ہوں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب مَیں کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہوں تو وہ ہو کر رہتی ہے۔ اس لئے ہمیں ان باتوں کی کوئی فکر نہیں کہ ان کے یہ دجل کا میاب ہو جائیں گے۔ ہاں بعض بے وقوفوں اور کم علموں کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور بعض مسلمانوں میں سے کچھ ان کی باتیں سن کے کچھ ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔ کچھ تو شرارت سے، کچھ معصومیت سے پھنس جاتے ہیں۔ پس وہ لوگ بھی جو مسلمان کہلا کر پھر تعلیم کے بعض حصوں کو دیکھ کر منہ چھپاتے پھرتے ہیں، پریشان ہونے کی بجائے اس زمانے کے جری اللہ سے اس کتاب کی تعلیم کا فہم و ادراک حاصل کریں۔ اس سے یہ تعلیم سیکھیں تاکہ پتہ چلے کہ کیا صحیح ہے او رکیا غلط ہے۔ قرآن کریم کے احکامات ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے ایک ایک حرف کی حفاظت اللہ تعالیٰ اس کے نزول کے دن سے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا انشاء اللہ۔ یہ اس کا وعدہ ہے۔
پس قرآن ایسی کتاب ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ بعض مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی بعض تعلیمات اب منسوخ ہونی چاہئیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ان کو اِس تعلیم کو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے آنحضرت ﷺ کے عاشق صاد ق اور اس زمانے کے امام سے سمجھنا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست اس زمانے میں اس کے لئے مقرر فرمایا ہے۔
قرآن کریم کی تعلیم کے بارے میں یہ اہم بات سمجھنے والی ہے۔ اس میں کتاب کا ایک مطلب احکامات اور فرائض بھی ہیں۔ تو اس میں کچھ فرائض ہیں، کچھ احکامات ہیں اور فرائض ایسی چیز ہیں جو ضروری ہیں، لازمی ہیں ردّو بدل نہیں ہو سکتیں اور ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ کس طرح ان کی ادائیگی کرنی ہے۔ بڑی واضح تعلیم ہے اور دیگر احکامات میں حالات کے مطابق کمی بیشی ہو جاتی ہے۔ ان احکامات میں سے بعض ذاتی نوعیت کے ہیں اور ایسے بھی جو جماعتی اور قومی نوعیت کے بھی ہیں۔ جو ذاتی ہیں ان میں بعض حالات اور مجبوریوں کی وجہ سے فرد کو اختیار دیا گیا ہے۔ مثلاً عبادت میں فرض نمازیں ہیں۔ یہ لازمی ہیں۔ نوافل ہیں یہ اختیاری ہیں۔ پھر فرض نمازوں میں باجماعت نماز ہے۔ کھڑے ہو کر پڑھنا ہے، باوضو ہونا ہے، اس طرح کے احکامات ہیں۔ پھر ساتھ ہی بیمار یا مسافر کو بعض سہولتیں بھی دی گئی ہیں۔ تو یہ ہے مکمل تعلیم جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔ اسی طرح کی اور بہت ساری مثالیں ہیں۔
پھر جو قومی یا اجتماعی احکامات ہیں مثلاً جہاد یا جنگ کا حکم ہے جس سے اُس طبقے کو شرم آتی ہے جو اِس میں تحریف کرنا چاہتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کیا یہ ممالک جن کے پیچھے چل کر یہ لوگ مداہنت دکھا رہے ہیں، بزدلی دکھا رہے ہیں، ان کی خوشامد کرنا چاہتے ہیں، جنگیں نہیں کرتے۔ ان لوگوں کی تاریخ ظالمانہ جنگوں سے بھری پڑی ہے اور پھر اس زمانے میں بھی بعض ملکوں پر ان لوگوں نے ظالمانہ تسلط قائم کیا ہوا ہے اور مسلسل جنگ کی صورت ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو، وہ جو صحیح مومن ہے، صحیح مسلمان ہے، شرمندہ ہونے کی بجائے ان لوگوں کو شرمندہ کرنا چاہئے کہ کہتے کیا ہو اور کر کیا رہے ہو۔
دوسرے قرآن میں جہاں جہاد کا حکم ہے جو جنگ کی صورت میں ہے۔ یعنی جنگ کی صورت میں جہاد، تلوار سے جہاد، اس کے لئے بعض شرائط ہیں کہ تمہارے پر کوئی ظلم کرتا ہے، حملہ کرتا ہے تو ظلم کا جواب دو۔ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے تو بہانے تلاش نہ کرو اور خون بہانے کی کوشش نہ کرو۔ اسی طرح بیشمار اور احکامات ہیں۔ جنگی قیدی ہیں ان کے ساتھ انصاف کرو، عدل سے کام لو۔ اور پھر یہ کہ جنگ اورجہاد یعنی تلوار اور بندوق کا جہاد کرنا ہے تو اس کا فیصلہ اولو الامر نے کرنا ہے۔ ہر ایرے غیرے نے نہیں کرنا اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم اور عدل بھیجا ہے جس نے یہ فیصلے اس کتاب کی تعلیم کے مطابق کرنے ہیں کہ اب کون ساعمل اللہ تعالیٰ کی نظر میں احسن ہے، جس نے یہ فیصلے کرنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تفصیل اور وضاحت کیا ہے۔ کون سا عمل اب اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہے تو اس حکَم اور عدل نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس زمانے میں میرے آنے کے ساتھ تیر وتفنگ، تلوار، بندوق کے ساتھ جہاد بند ہے اور اب جہاد کے لئے تم بھی وہی حربے استعمال کرو جو مخالفین استعمال کر رہے ہیں۔ یا تمہارا دشمن استعمال کر رہا ہے۔ مخالف لٹریچر اور میڈیا کے ذریعہ سے اسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے تو تم بھی لٹریچر کے ذریعہ سے نہ صرف اس کا دفاع کرو بلکہ قرآنی تعلیم کو پھیلا کر ثابت کرو کہ یہی ایک تعلیم ہے جو نجات دلانے والی تعلیم ہے جو کہ خدائے واحد کی طرف سے ہے۔ اگر یہ لوگ دجل سے کام لیتے ہوئے قرآن کی طرز پر کتاب شائع کر کے عیسائیت کی تعلیم دے رہے ہیں تو اس کا ردّ کرو۔
پس اس حکم کی اب یہ تشریح ہے کہ اب جہاد تعلیمی اور علمی جہاد ہے۔ جہاد کا مطلب صرف تلوار چلانا نہیں ہے۔ نہ ہی کبھی آنحضرت ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم نے صرف یہی مطلب سمجھا ہے۔ بلکہ جہاد اکبر قرآنی تعلیم پر عمل کرنا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اگر جہاد کی صورت میں جنگ کا جوا ب دینے کی اجازت ہے۔ اگر حکومت پر کوئی حملہ کرتا، ملکوں پر حملہ کرتا ہے اور حکومتیں جواب دیتی ہیں اور اب بھی اس صورت میں اجازت ہے نہ کہ تنظیموں کا کام ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو اب یہ بتاناجہاد ہے کہ دلیل سے ہم ثابت کرتے ہیں کہ تمہاری یہ کوشش جو ہے یہ بچگانہ کوشش ہے۔ اگر اس کتاب کو دیکھیں تو انتہائی بچگانہ کوشش لگتی ہے۔ بظاہر یہ دعویٰ ہے کہ بڑے عقلمندوں نے بنا یا ہے لیکن دیکھنے سے ہی پتہ لگ جاتا ہے، ایک عام فہم کا انسان اس کو دیکھتے ہی سمجھ لیتا ہے کہ انسانی کوشش ہے۔ تو بہرحال قرآن کریم کی اصل حالت میں حفاظت کی، اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم کے بارے میں اس اعلان کی مَیں بات کر رہا تھاہمیشہ اس کی حفاظت کروں گا۔
بعض مستشرقین جو ہیں جو اسلام کے خلاف توڑ مروڑ کر بھی پیش کرتے ہیں ان سے بھی یہ تائید کروائی ہے۔ انہوں نے بھی بالآخر مجبوراً یہ لکھا ہے۔ چنانچہ جان برٹن(John Burton) کی ایک کتاب “TheCollection of The Quran” ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں۔ تھوڑا سا حصہ میں پڑھتا ہوں کہ’’ہم تک پہنچنے والا متن بعینہ وہی ہے جو خود نبی(کریم ﷺ) کا مرتبہ اورمصدقہ ہے۔ چنانچہ آج ہمارے پاس جو کتاب ہے (یعنی قرآن) یہ دراصل مصحف محمدی ہی ہے‘‘۔
(John Burton, The Collection of The Quran, Cambridge University Press,1997. P. 239-240)
پھر H.A.R Gibb لکھتے ہیں کہ’’یہ ایک نہایت قوی حقیقت ہے کہ(قرآن کریم میں) کسی قسم کی کوئی تحریف ثابت نہیں کی جا سکی۔ اور یہ حقیقت بھی بہت قوی ہے کہ محمد (ﷺ) کے بیان فرمودہ الفاظ کو اصل حالت میں مکمل احتیاط کے ساتھ اب تک محفوظ رکھا گیا ہے‘‘۔
(H.A.R.Gobb, Muhammadanism,London, Oxford University Press 1969, P. 50)
سر ولیم میور بہت بڑے مستشرق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ’’دنیا کے پردے پر اور کوئی ایسا کام نہیں کہ جس کا متن بارہ صدیوں کے بعد بھی صحیح ترین حالت میں ہو‘‘۔
(Sir William Muir, Life of Muhammet, London 1878. P. 558)
ڈاکٹر موررس بکائے “The Bible ,The Quran and Science” میں لکھتے ہیں۔ فرنچ سے ٹرانسلیشن ہے کہ’’آج کے دور میں مہیا ہونے والے قرآن کریم کے تمام نسخے اصل متن کی دیانتداری سے کی گئی نقول ہیں۔ قرآن کے معاملہ میں اب تک کے شب و روز میں تحریف و تبدل کا کوئی سراغ نہیں ملتا‘‘۔
(The Bible, The Quran and Science, Translation from French by Alstair D.Pannel and The Author under heading Conclusion, P. 102)
پھر نولڈیکے جو بہت بڑے مستشرق تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’’اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد (ا) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ (بحوالہ تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ16)
پھر لکھتے ہیں کہ:’’ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں ہوں ‘‘۔ یعنی طرز تحریر میں ہوں تو ہوں، یہ ان کا طرز ہے شک میں ڈالنے کے لئے بہرحال۔ ’’لیکن جو قرآن عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس کا مضمون وہی ہے جو محمد نے پیش کیا ہے (ﷺ)۔ گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔ یورپ کے محققین کی وہ تمام کوششیں جو قرآن میں بعد میں بعض اضافہ جات ثابت کرنے کے لئے کی گئی تھیں قطعاً ناکام رہی ہیں۔
(Encyclopaedia Britanica. Edition:1911. Under heading “Quran”. P. 905)
اس طرح کے بہت سارے ہیں۔ پس یہی وہ کتاب ہے، اَلْکِتٰب ہے جو حضرت محمد مصطفیﷺ حضرت خاتم الانبیاء پر اتری۔ اس میں تحریف کی نہ پہلے بھی کوئی کوشش کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مَیں اس کی حفاظت کروں گا۔ یہ انسانوں کے ذریعہ ہمارے تک نہیں پہنچی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمائے تھے کہ اس کی حفاظت کے سامان ہمیشہ ہوتے رہے۔ اور ان کی کوششوں کے باوجود نہ ہی کبھی یہ الزام لگ سکتا ہے کہ اس میں کسی زمانہ میں بھی کبھی ردّو بدل ہوئی۔
کتاب کے معنی جمع کرنے والی چیز کے بھی ہیں۔ پس اس لحاظ سے قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام قسم کی تعلیمات جمع ہو گئی ہیں۔ اس میں تمدنی علم بھی ہے، مذہبی علم بھی ہے جیسا کہ مَیں نے کہا، اقتصادی بھی ہے، سائنسی بھی ہے، اخلاقی تعلیم بھی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ذَالِکَ الْکِتَابُ

یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے۔ پس جو تعلیمات اس میں جمع کی گئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اپنے کامل علم کے مطابق اتاری ہیں کیونکہ شریعت کامل ہو رہی تھی اس لئے تمام تعلیمات جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں اس طرح کسی اور شرعی کتاب میں اس اعلیٰ پائے کی نہیں اتریں۔ بعض احکامات ایک جیسے ہیں لیکن ان کے بھی معیار وہ نہیں ہیں۔ لَا رَیْبَ فِیْہِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مزید فرما دیا کہ میں جو تمام علوم کا سرچشمہ ہوں تمہیں بتا رہا ہوں کہ اس تعلیم کے اعلیٰ پائے کے ہونے میں کوئی شک نہیں اور کسی بھی شک و شبہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ تم لاکھ کوشش کرلو اس جیسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ دجل سے کام لے کر کوشش تو کر لو گے لیکن فوراً ننگے ہو جاؤ گے۔ چنانچہ ذرا سے غور سے جیسا کہ پہلے مَیں نے کہا ایک عام آدمی بھی، معمولی تعلیم یافتہ بھی اس کو دیکھ لے تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں کتنے سقم ہیں، کتنی بے ترتیبیوں سے ان کو جوڑا گیا ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ توحید کا بیان ہے، تو حیدکے اردگرد گھومتی ہے۔ جبکہ اس کو اگر پڑھیں تومسلمانوں کو بگاڑنے کے لئے کوشش کی گئی ہے اور بڑی ہوشیاری سے شروع میں ہی تثلیث کا بیان کر دیا گیا ہے۔ لیکن اسی آیت میں توحید کا بیان کر کے تثلیث کو توحید بنا دیا۔ ایک مسلمان جس کو بنیادی علم ہے وہ کس طرح اس کو قبول کر سکتا ہے یا تو ہوشیاری یہ ہوتی ہے کہ پہلے کچھ نہ کچھ توحید کا بیان کیا جاتا پھر گھوم پھرا کر اس میں تثلیث کا کچھ حصہ ڈال دیا جاتا۔ تو بے وقوفی تو یہاں تک ہے کہ شروع میں ہی ایک ہی آیت میں جو انہوں نے اپنی طرف سے آیت بنائی ہے اس میں توحید اور تثلیث کا بیان ہے۔ بہرحال اس کویہاں بیان کرنے کی تو ضرورت نہیں۔ اس میں فضول باتیں ہی ہیں۔
اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔ اس بات کی وضاحت میں کہ جو الہام الٰہی ہے اس کی جو ہدایت ہے ہر ایک طبیعت کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ الہام الٰہی کا یا اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا اُن طبائع پر اثر ہوتا ہے جن کی طبیعتیں صاف ہوں۔ ہر حکم جو ہے، جوتعلیم اترتی ہے ان لوگوں کے لئے ہے جو پاک طبیعت رکھتے ہیں، جو صفت تقویٰ اور صلاحیت سے متصف ہیں۔
آپ فرماتے ہیں :’’اس آیت پر یعنی

الٓمٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (سورۃ البقرہ آیت 3:)

پر غور کرنا چاہئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسہ مذکور کا جو اب دیا ہے‘‘ یعنی اگر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہر ایک اس تعلیم سے کیوں نہیں اثر لیتاتو اس کو اس آیت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ کس خوبی سے اللہ نے جواب دیا ہے۔ ’’اول قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی‘‘ یعنی اس کے نزول کی، اترنے کی وجہ’’اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرما یا اور کہا الٓمٓ مَیں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا مَیں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔ پھر بعد اس کے علّتِ مادّی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا

ذَالِکَ الْکِتٰبُ

وہ کتاب ہے۔ یعنی ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علّتِ مادّی‘‘ اس کے پیدا ہونے کی وجہ’’علم الٰہی ہے۔ یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حکیم مطلق ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ’’اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ’’وہ‘‘ کا لفظ اختیار کرنے سے جوبُعد اور دُوری کے لئے آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے۔ جس کے علوم کاملہ اور اسرار دقیقہ نظر انسانی کی حدّجولان سے بہت بعید اور دُور ہیں ‘‘۔ یعنی اس کے اندرجو کامل علم ہے، جو کامل تعلیم ہے اس کے اندر اور جو راز کی باتیں پوشیدہ ہیں اور جو گہرائی کی باتیں پوشیدہ ہیں وہ انسان کا، عام آدمی کاجو فہم و ادراک ہے اس سے بہت دور ہیں۔ ’’پھر بعد اس کے علّت صوری کا قابل تعریف ہونا ظاہر فرمایا۔ ‘‘ یعنی ظاہری شکل جو ہے’’اور کہا

لَارَیْبَ فِیْہِ

یعنی قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت ومدلل و معقول پر واقع ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔ یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں۔ بلکہ اَدِلّۂ یقینیہ و براہینِ قطعیہ پر مشتمل ہے‘‘ یعنی اس میں یقینی دلائل بھی موجود ہیں اور بڑے صاف ستھرے اور قطعی طور پر روشن نشان موجود ہیں۔ ’’اور اپنے مطالب پر حجج ِبیّنہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے‘‘۔ جو بھی اس کا مطلب ہے مکمل طور پرکھل کر ان کی دلیلوں کے ساتھ، کافی شافی دلیل کے ساتھ ان کو بیان کرتا ہے۔ ’’اور فی نفسہٖ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے‘‘۔ ایک ایسا معجزہ ہے جو ہر قسم کے شکوک و شبہات دور کردیتا ہے اور ایک تیز دھار تلوار کا حکم رکھتا ہے کہ اگر اس طرح اس کو سمجھاجائے توجو متقی ہے، جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرے گا اس کا ہر شک، ہر شبہ کٹ جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ ’’اور خدا شناسی کے بارے میں صرف ہونا چاہئے کے ظنّی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ ہونا چاہئے۔ ’’بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبے تک پہنچاتا ہے‘‘۔ اس بات پر قائم کرتا ہے کہ خدا ہے۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:’’یہ تو علل ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہر سہ علّتوں کے’‘ان سب وجوہات کے، جو تینوں وجوہات بیان کی ہیں ’’جن کو تاثیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے علّت رابعہ‘‘ چوتھی جو اس کی وجہ ہے، جو اس کا اصل مقصد ہے۔ ’’یعنی علّت غائی، نزول قرآن شریف کو جو راہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا‘‘۔ یعنی یہ باتیں ان لوگوں کو پہنچیں گی ان کو یہ باتیں سمجھ آئیں گی جو متقی ہوں گے۔ وہ لوگ عام لوگ نہیں۔ جب تک تقویٰ نہ ہوانہیں کوئی نہیں لے سکتا۔ ‘’اور فرمایا

ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن

کہ یہ کتاب صرف ان جواہر قابلہ کی ہدایت کیلئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقلِ سلیم و فہمِ مستقیم و شوقِ طلب حق و نیّتِ صحیح انجام کار درجۂ ایمان وخدا شناسی وتقویٰ کامل پر پہنچ جائیں گے‘‘۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کو ہدایت دے گی، ساری نصیحتیں ان لوگوں کو پہنچیں گی جو ایسے لوگ ہیں جو اس قابل ہیں جو ہدایت پائیں۔ اور کس طرح اس قابل بنیں گے جن کے اندر ونے پاک ہوں گے، جن کو عقل ہو گی اور فہم ہو گا۔ جو سیدھے راستے پر چلنے والا ہو اور حق کو پانے کے لئے ایک شوق ہو گا، طلب ہو گی اور صحیح نیت ہو گی تو پھر آخرکار ان کو خدا تعالیٰ کی پہچان ہو گی اور پھر وہ تقویٰ جوکامل ہے اس تک پہنچ جائیں گے۔ اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو قرآن کریم کی کسی کو سمجھ نہیں آسکتی۔ فرمایا:’’یعنی جن کو خدا اپنے علمِ قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسبِ حال واقعہ ہے اوروہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہرحال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی۔ اور قبل اس کے جووہ مریں خدا ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔
اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفتِ تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔ اور پھر اُن آیات میں جو اِس آیت کے بعد لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ
(خدا کے علم میں) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز‘‘ ابھی’’مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقۂ حقۂ اسلام قبول نہیں کریں گے‘‘۔ اسلام کا طریق قبول نہیں کریں گے۔ ’’اور گو ان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتبِ کاملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔ غرض ان آیات میں خد ائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت ِنفسانی کا نہیں ‘‘۔ وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہی لوگ نفع حاصل کرسکتے ہیں جن کی فطرت میں کسی قسم کا نفسانی اندھیرا اور گند نہیں ہے۔ ’’اوریہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی۔ یعنی جو لوگ متقی نہیں ہیں نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ خواہ نخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے۔
(براہین احمدیہ حصہ سوم۔ روحانی خزائن جلد1صفحہ202-200 حاشیہ۔ مطبوعہ لندن)
پس اس تعلیم کو سمجھنے کیلئے، سننے کے لئے تقویٰ ضروری ہے۔ اس تعلیم کو سننے والوں میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی تھے اور ابوجہل جیسے لوگ بھی تھے لیکن حق کی تلاش والے قبول کر کے بہترین انجام کو پہنچے۔ حضرت ابوبکرؓ نے وہ مقام پایا جو رہتی دنیا تک سنہری حروف میں لکھا جانے والا ہے اور جو ابوجہل جیسے لوگ تھے وہ اپنے بدترین انجام کو پہنچے۔ پس آج بھی دجّالی چالیں چلنے والے جو یہ کوششیں کرنے لگے ہیں کہ اس کتاب کو بدل دیں تو وہ بھی اپنے بد انجام کو دیکھ لیں گے اور وہ اس کو شش میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ لیکن جولوگ اس پاک کتاب کو، پاک تعلیم کو، پاک دل سے سنتے اور پڑھتے ہیں تو یہی تعلیم ہے جو ان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے والی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس ہے وہ مَیں پڑھتا ہوں۔ وقت تھوڑا ہے۔ میرا خیال تھا کہ خلاصہ بیان کردوں گا، لیکن خلاصہ نہیں کیونکہ اس اقتباس کی وضاحت تو ہو سکتی ہے خلاصہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اصل حالت میں ہی سنا رہا ہوں گو کہ لمبا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام فرماتے ہیں۔
‘’اللہ جلّشانہٗ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعویٰ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (المائدہ:4)

کہ آج مَیں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں ‘‘ یعنی کمال کس کو کہتے ہیں۔ ’’فرماتاہے

اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَافِی السَّمَآءِ۔ تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا۔ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ۔ وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْا َرْضِ مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ۔ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ۔ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْن (ابراھیم:25تا28)۔

کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ، درخت پاکیزہ کی مانند ہے‘‘ کہ پاکیزہ بات جو ہے وہ پاکیزہ درخت کی طرح ہے۔ ’’جس کی جڑ ثابت ہو‘‘۔ بہت مضبوط ہو ’’اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں اور ناپاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرارو ثبات نہیں۔ سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلّل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرنا کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتاہے۔ یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو‘‘۔ ظالم جو ہے اس کو ہدایت نہیں ملتی جب تک وہ خود کوشش نہ کرے۔ ’’… کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہئے کہ الہامی کتاب آپ کرے‘‘۔ یعنی آیات کے وہ معنے کرنے چاہئیں جو دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ’’اور الہامی کتب کی شرح دوسری کتابوں کی شرحوں پر مقدم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اورمقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔
اوّل یہ کہ اَصْلُھَا ثَابِتٌ یعنی اصول ایمانیہ اس کے ثابت اورمحقق ہوں ‘‘۔ یہ ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی ایماندار ہے۔ ایمان لایا ہوا ہے۔ ’’اور فی حدّ ذاتہ یقین کامل کے درجے پر پہنچے ہوئے ہوں ‘‘۔ یقین کامل ہو اس کو اپنے ایمان پر پہنچے ہوئے ہوں ’’اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ اَرْض کے لفظ سے اس جگہ فطرت انسانی مراد ہے جیسا کہ

مِنْ فَوْقِ الْا َرْض

کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے۔ …… خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہ ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرت کے موافق ہوں ‘‘۔ ایمان کی مضبوطی اور جڑ جو ہے اتنی ہو اور ایسا پکا ایمان ہو جو فطرت ایمانیہ کے موافق بھی ہو۔ یہ خلاصہ بیان فرمایا انہوں نے اصل ثابت کا۔
پھر دوسری نشانی یہ کہ فطرت انسانی اور ایمان ایک چیز بن جائیں۔ ’’پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ

فَرْعُھَا فِی السَّمَآء

یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یعنی صحیفۂ قدرت کو غور کی نگاہ سے مطالعہ کریں ‘‘۔ قرآن کریم کو غور سے مطالعہ کریں ’’تو اس کی صداقت ان پر کھل جائے۔ اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم یعنی فروعات اُس تعلیم کے جیسے اعمال کا بیان، احکام کا بیان، اخلاق کا بیان یہ کمال درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں جس پر کوئی زیاد ہ متصور نہ ہو۔ جیسا کہ ایک چیز جب زمین سے شروع ہوکر آسمان تک پہنچ جائے تو اس پر کوئی زیادۃ متصور نہیں’‘۔
پھر فرمایا کہ:’’پھر تیسری نشانی کمال کی یہ فرمائی کہ

تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ۔

ہر ایک وقت اور ہمیشہ کے لئے وہ اپنا پھل دیتا رہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی وقت خشک درخت کی طرح ہو جاوے جو پھل پھول سے بالکل خالی ہے۔ اب صاحبو! دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمودہ

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ

کی تشریح آپ ہی فرما دی کہ اس میں تین نشانیوں کا ہونا از بس ضروری ہے۔ سو جیسا کہ اس نے یہ تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں اسی طرح اس نے ان کو ثابت کر کے بھی دکھلا دیا ہے۔ اور اصول ایمانیہ جو پہلی نشانی ہے جس سے مراد کلمہ

لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ

ہے اس کو اس قدربسط سے‘‘یعنی کھول کر’’قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اگر مَیں تمام دلائل لکھوں تو پھرچند جزو میں بھی ختم نہ ہوں گے مگر تھوڑا سا ان میں سے بطور نمونہ کے ذیل میں لکھتا ہوں۔ جیسا کہ ایک جگہ یعنی سیپارہ دوسرے سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے

إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّہُ مِنَ السَّمَاء ِ مِن مَّاء فَأَحْیَا بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِن کُلِّ دَآبَّۃٍ وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِبَیْْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَ۔ )سورۃالبقرۃ (165

یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اوران کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اوراس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دئیے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخرّ کیا یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اوراُس کے الہام اور اُس کے مدبّر بالارادہ ہونے پر نشانات ہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جلّٰشانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنے ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اِس عالَم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہٗ لا شریک اور مدبّر بالارادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے۔ وجہ یہ کہ خداتعالیٰ کی یہ تمام مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ ُاس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہواور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہواور مدبر بالارادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کاملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔ ‘‘
فرماتے ہیں :’’دوسری نشانی یعنی

فَرْعُھَا فِی السَّمَآء

جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچی ہوئی ہیں اور آسمان پر نظر ڈالنے والے یعنی قانون قدرت کا مشاہدہ کرنے والے اس کو دیکھ سکیں اور نیز وہ انتہائی درجہ کی تعلیم ثابت ہو۔ اس کے ثبوت کا ایک حصہ تو اسی آیت موصوفہ بالا سے پیدا ہوتا ہے۔ کس لئے کہ جیسا کہ اللہ جلّشانہ ٗ نے مثلاً قرآن کریم میں یہ تعلیم بیان فرمائی ہے کہ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ (الفاتحہ:4-2)

جس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ جلّشانہٗ تمام عالموں کا ربّ ہے یعنی علّت العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے۔ ‘‘تمام اسباب کا پیدا کرنے والا۔ اس کی پہلے پیدا کرنے کی جو وجہ ہے، اس کی ربوبیت ہے جو ہر ایک چیز پر حاوی ہے۔ ’’دوسری یہ کہ وہ رحمن بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے۔ اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور اُن کے مقاصد کو کمال تک پہنچاتا ہے۔ اور

مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن

یہی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اُس کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔ چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزا دیوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسر کرے۔ یہ تمام امور اللہ جلّشانہٗ کے اس نظام کو دیکھ کر صاف ثابت ہوتے ہیں پھر تیسری نشانی جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی

تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ

یعنی کامل کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جس پھل کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ صرف وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ وہ پھل ہمیشہ اور ہر وقت میں دیتی رہے۔ اور پھل سے مراد اللہ جلّشانہٗ نے اپنا لقا معہ اس کے تمام لوازم کے جو برکات سماوی اور مکالمات الٰہیہ اور ہر ایک قسم کی قبولیتیں او رخوارق ہیں رکھی ہیں ‘‘۔ یعنی کہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی جو باتیں ہے، پھل سے وہ مراد ہیں۔ یعنی قبولیت دعا جو ہے یعنی جو برکتیں اللہ تعالیٰ آسمان سے اتارتا ہے ان نیک لوگوں سے باتیں کرتا ہے یہ ساری چیزیں جو ہیں رکھی ہیں۔ ’’جیسا کہ خود فرماتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَااللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا۔ تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔ نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ۔ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ۔ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ (حٰٓم سجدہ:31 تا 33)۔

وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل اُن پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا اُن پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ حُزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دئیے گئے تھے۔ یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہو گئی۔ کس طرح شروع ہو گئی۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ…الخ

اس طرح کہ ہم تمہارے متولی اور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے۔ یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔ مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو

آیتتُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ

میں فرمایا گیا تھا۔ اور آیت

فَرْعُھَا فِی السَّمَآء

کے متعلق ایک بات ذکرکر نے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیونکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قدر تعلیمیں آئیں درحقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختص الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت اُن میں نہیں پائی جاتی تھی‘‘۔ بعض قوموں کے لئے تھیں یا بعض زمانوں کے لئے تعلیمیں تھیں اورہر ایک کے لئے اُن میں فائدہ نہیں تھا۔ ’’لیکن قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کیلئے آیا ہے۔ مثلاً نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی تعلیم میں بڑا زور سزا دہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے۔ اور حضرت مسیحؑ کی تعلیم میں بڑا زور عفو اوردر گزر پر پایا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں۔ نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقع پر نرمی اوردرشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے

وَجَزَآؤُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ:41)

یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے۔ لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد۔ یعنی عفو اپنے محل پر ہو، نہ غیر محل پر۔ پس اجر اُس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔ ‘‘ عفو سے فساد کامطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر ایک عادی چور ہے اس کو عفو کرتے ہوئے چھوڑ دیں گے تو وہ پھر دوبارہ چوری کرے گا کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے گا۔ اس سے مزید گناہ پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لئے وہ عفو فساد میں آتا ہے۔
فرمایا کہ:’’اب دیکھئے اس سے بہتر اور کون سی تعلیم ہو گی کہ عفو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔ اور پھر فرمایا

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَاء ذِی الْقُرْبٰی (النحل:91)

یعنی اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو۔ اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو۔ اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو‘‘پیار سے پیش آؤ ’’کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربیٰ ہیں۔ اب سوچنا چاہئے کہ مراتب تین ہی ہیں۔ اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔ پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے۔ اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے۔ یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے‘‘۔
(جنگ مقدس پرچہ 25؍مئی1893ء روحانی خزائن جلد6صفحہ127-123 مطبوعہ لندن)
آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔ وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے۔ پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔ یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا۔ اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اَور مرحلہ جو باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام اس تک پہنچنے کیلئے پاک معرفت کے دروازے کھول دئیے‘‘۔ طبعی حالتوں سے اخلاقی حالتوں تک پہنچایا اورجب اخلاق فاضلہ تک پہنچ گئے تو پھر روحانی مقام عطا فرمایا۔ بلند کرنے کیلئے طریقے سکھلائے۔
فرماتے ہیں :’’معرفت کے دروازے کھول دئیے اورنہ صرف کھول دئیے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا۔ پس اس طرح پر تینوں قسم کی تعلیم جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائی۔ پس چونکہ وہ تمام تعلیموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طو رپر جامع ہے اس لئے یہ دعویٰ اس نے کیا کہ میں نے دائرہ دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدہ:4)

یعنی آج مَیں نے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اورمَیں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا۔ یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا، نہ او رطریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا۔ یہ وہ نقطہ ہے جس پر تمام کمالات ختم ہوتے ہیں ‘‘۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد 10صفحہ368-367۔ مطبوعہ لندن)
اور یہ وہ خوبصورت تعلیم ہے جو ہمیں قرآن کریم نے دی ہے۔ پس یہ خوبصورت تعلیم جوہے اس عظیم نبیؐ پر اتری اور اس نے ہم تک یہ پہنچائی۔ جس کانہ سابقہ شریعت کوئی مقابلہ کر سکتی ہیں نہ آئندہ کوئی کتاب بن سکتی ہے، نہ آسکتی ہے، نہ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تعلیم کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/DKvbl]

اپنا تبصرہ بھیجیں