خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم فروری 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ایک انسان کی زندگی کا اصل مقصود نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ اور احکامات کی حکمتیں نہیں ہیں بلکہ اصل مقصود تزکیہ نفس ہے اور ہونا چاہئے۔
ایک عظیم رسول کی بعثت کے لئے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت کے اعلان کے الفاظ میں فرق کی حکمت کا پُرمعارف بیان۔
ہم احمدی کہلانے والوں کی اب دوہری ذمہ واری ہے کہ ایک تو اپنے پاک ہونے اور اس کتاب پر عمل کرنے کی طرف مستقل توجہ دیں۔ دوسرے اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچانے کے لئے ایک خاص جوش دکھائیں تاکہ کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہم تک تو یہ پیغام نہیں پہنچا۔ کیونکہ آج سوائے احمدی کے کوئی نہیں جس کے سپرد امت مسلمہ کے سنبھالنے کا کام کیا گیا ہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ یکم فروری 2008ء بمطابق یکم تبلیغ 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عََلَیْْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (البقرۃ:130)
کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًامِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ((البقرۃ:152)

یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں پہلی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے جس کا مضمون گزشتہ چند خطبوں سے چل رہا ہے اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ ہم نے تم میں وہ رسول بھیج دیا جو اس دعا کی قبولیت کا نشان ہے کہ وہ رسول حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے مبعو ث ہوا جس نے دنیا میں ایک عظیم انقلاب پیدا کرنا تھا اور کیا۔ اس دعا میں مانگی گئی چاروں باتوں کا میں گزشتہ خطبوں میں کچھ حد تک بیان کر چکا ہوں۔ یہ مضمون شروع کرتے وقت میں نے چند جمعے پہلے یہ دونوں آیات پڑھی تھیں اور مختصراً ذکر کیا تھا کہ اس دعا کے مانگنے کے الفاظ میں اور خداتعالیٰ کے قبولیت کے اعلان کے الفاظ میں ترتیب کا کچھ فرق ہے۔ اس میں ایک حکمت ہے اور حکیم خدا کا کوئی کام بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا، یونہی نہیں کہ الفاظ آگے پیچھے ہو گئے اور بلاوجہ ہو گئے۔ ان الفاظ کا یعنی اس عظیم رسول کی ان چار خصوصیات کا جو اس اعلیٰ معیار کی تھیں کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اور جوصرف اور صرف آنحضرت ﷺ کی ذات کا ہی خاصہ تھیں۔ (جیسا کہ میں نے اس مضمون کی ابتدا میں کہا تھا کہ اس فرق کو بھی میں بعد میں کچھ بیان کروں گا کہ کیوں یہ فرق ہے؟ تو اس وقت میں وہی کچھ بیان کرنے لگا ہوں۔ )
قرآن کریم میں دو اور جگہ (دوسری جگہ پر) بھی یہ بیان ہوا ہے، ایک سورۃ آل عمران میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ (سورۃ ال عمران آیت نمبر165)

یعنی اللہ نے مومنوں پر احسان کیا جب اس نے ان کے اندر انہیں میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔ وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتاہے۔ اور انہیں پاک کرتا ہے۔ اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
دوسری جگہ سورۃ جمعہ میں ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (الجمعۃ:3)

وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔ تو یہ دونوں جگہ بلکہ تینوں جگہ جیسا کہ میں نے کہا جہاں قبولیت کا اعلان ہورہا ہے ترتیب ان آیات میں ایک طرح ہے اور دعا کی ترتیب سے فرق ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں تزکیہ کو آخر میں رکھا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ دعا قبول ہو گئی اوروہ رسول جس کے لئے ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی تھی یہ یہ کام کرتا ہے تو اس میں تزکیہ کو آیات کی تلاوت کے بعد رکھا ہے۔ اس فرق پر چند مفسرین نے روشنی ڈالی ہے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔
جیسا کہ میں نے کہا جو مفسرین پہلے گزرے ہیں، انہوں نے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی۔ مثلاً علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ تزکیہ کو تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کے درمیان اس لئے رکھا ہے تا کہ بتایا جائے کہ ان چاروں امور کو ایک بات نہ سمجھ لیا جائے بلکہ چار الگ الگ امور ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ بڑی نعمت ہے۔ دوسری بات کہتے ہیں کہ تلاوتِ آیات کو پہلے اس لئے رکھا گیاہے کہ تزکیہ کے لئے پہلے مخاطبین کو تیار کرنا ضروری تھا۔ اس کے بعد تزکیہ کو رکھا کیونکہ یہ پہلی صفت ہے جسے مومنوں کو سب سے پہلے اپنانا چاہئے کیونکہ اچھی صفات کو اپنانے سے پہلے بری عادات کو چھوڑنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد تعلیم کو رکھا گیا کیونکہ ایمان کے بعدہی تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم سورۃ بقرہ کی آیت میں تعلیم کو تزکیہ سے پہلے شاید اس لئے رکھا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ خوبیوں کو اپنا نا زیادہ اہم ہے۔ تو اس طرح دو ایک اور مفسرین نے بھی اس ترتیب کے جو الفاظ ہیں ان پر مختصر بحث کی ہے۔ اس لئے اس فرق کو واضح کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیادہ وسیع تفسیر کی ہے۔ اس سے میں نے استفادہ کیا ہے جو بیان کروں گا۔
دعائے ابراہیمی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ نبی مبعوث ہونے کے بعد اپنے پر نازل ہونے والی وحی پیش کرتا ہے پھر اپنی تائید میں ہونے والے نشانات اور معجزات کو پیش کرتا ہے۔ پھر جس جس طرح احکامات نازل ہوتے جاتے ہیں وہ احکامات کی حکمتیں بیان کرتا ہے او ر آخرکار اس وحی کو سننے، ان معجزات کو دیکھنے جو نبی نے دکھائے ہوتے ہیں اور ان احکامات کو سمجھنے کے بعد پھر جو جماعت تیار ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے تقدُّس عطا فرماتا ہے۔ یہ پاک لوگوں کی جماعت ہے جو پھر اس پیغام کو آگے پہنچاتی ہے اور غلبہ حاصل کرتی ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں تزکیہ کو سب سے آخر میں رکھنے کییہ وجہ ہے۔ یہ ایک ظاہری تقسیم ہے۔ اس میں کمزور ایمان والوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے جو ترتیب بیان فرمائی ہے اس میں ایمان میں ترقی اور روحانیت کو پہلے رکھا ہے اور علوم ظاہری والی باتیں بعد میں لی ہیں۔ پس ایمان میں ترقی اور روحانیت میں ترقی اور معرفت کے پیدا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وحی پر ایمان ہو۔ جب یہ ایمان بالغیب ہو گا تو پھر ایسی نظر بھی عطا ہو گی جو ان نشانات اور معجزات کو دیکھنے والی ہو گی۔ اور جب یہ نشانات اور معجزات نظر آئیں گے اور تزکیہ نفس میں ترقی ہو گی تو پھر اس ترقی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے کی کوشش ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے سے ایمان میں پھر مزید ترقی پیدا ہو گی۔ تمام نفسانی کدورتیں صاف ہو جائیں گی۔ تمام آلائشوں سے دل پاک ہو جائے گا۔ پس کتاب اور حکمت پر تزکیہ کے تقدُّم کی یہ وجہ ہے، کیونکہ کتاب پڑھنا، اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، اس میں سے حکمتیں تلاش کرنا یہ ظاہری علم کی چیزیں ہیں اور یہ باتیں یعنی کتاب اور حکمت کو آخر پر رکھ کر یہ اشارہ فرمایا کہ ایک انسان کی زندگی کا اصل مقصود نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ اور احکامات کی حکمتیں نہیں ہیں بلکہ اصل مقصود تزکیہ نفس ہے اور ہونا چاہئے۔ اگر ظاہری نمازیں کوئی لمبی لمبی پڑھتا ہے اور نفس کی اصلاح نہیں۔ یا اگر زکوٰۃ دیتا ہے اور ناجائز کمائی کر رہا ہے۔ یا اگر حج کیا ہے اور دل میں یہ ہے کہ دوسروں کو پتہ لگے کہ میں حاجی ہوں یا اس لئے کہ کاروبار زیادہ چمکے۔ کئی کاروباری لوگ اس لئے بھی حج پر جاتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے بیان کیا ہوا ہے کہ جب میں حج پر گیا تو ایک لڑکا میرے ساتھ حج کر رہا تھا۔ نہ نمازیں تھیں اور نہ دعائیں پڑھ رہا تھا بلکہ کوئی گانے گنگنا رہا تھا تو میں نے پوچھا تم اس لئے حج پر آئے ہو؟اس نے کہا بات یہ ہے کہ ہماری دکان ہے اور وہی کاروبار مقابلے پر ایک اور آدمی بھی کررہا ہے اور وہ حج کرکے آیا ہے جس کی وجہ سے اس کاکاروبار زیادہ چمکا ہے تو میرے باپ نے کہا ہے کہ تم بھی جا کر حج کر آؤ۔ مجھے تو پتہ نہیں حج کیا ہوتا ہے اس لئے میں آیا ہوں کہ ہمارا کاروبار چمکے۔ تو یہ حال ہوتا ہے حاجیوں کا۔ اگر اس طرح کے حج ہیں تو پھر اس کتاب کی تعلیم پر عمل بے فائدہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک حاجی کا قصہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے کسی نیک شخص کی دعوت کی۔ وہ امیر آدمی تھا جو حج کرکے آیا تھا۔ جب وہ بزرگ دعوت پہ آیا تو اس کے سامنے اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ فلاں چیز فلاں طشتری میں رکھ کے لاؤ جو میں پہلے حج پہ لے کے آیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا کہ فلاں چیزفلاں طشتری میں لاؤ جو میں دوسرے حج پہ لے کے آیا تھا۔ پھر کہنے لگا کہ فلاں چیز فلاں طشتری میں لاؤ جو میں تیسرے حج پہ لے کے آیا تھا۔ تو اصل مقصد اس کا یہ بتانا تھا کہ میں نے حج کئے ہیں۔ اس نیک بزرگ مہمان نے کہا۔ تیری حالت بڑی قابل رحم ہے۔ تو نے تو اس اظہار سے اپنے تینوں حج ضائع کر دئیے۔
پس یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ کتاب کی کسی بھی تعلیم پر آپ جو بھی عمل کرتے ہیں اس پر عمل کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔ اس لئے تزکیہ مقدم رکھا گیا ہے اور اس عظیم رسول کے صحبت یافتوں نے اپنے دلوں کا تزکیہ کیا۔ تعلیم تو ساتھ ساتھ اترتی رہی۔ تقویٰ کے معیار بھی بڑھتے رہے۔ لیکن دلوں میں پاکیزگی پہلے پیدا ہو گئی تھی۔ آہستہ آہستہ ترقی تو ہوتی رہی لیکن دل صاف ہو گئے تھے۔ پہلے دن سے ہی ان صحابہ کا تزکیہ ہو گیا تھا۔ اس تزکیہ کی ہی وجہ تھی کہ حکم آتے ہی شراب کے مٹکے توڑے گئے تھے۔ کسی نے دلیل نہیں مانگی۔ حکم پہ عمل کیا۔ تو اصل چیز دلوں کی پاکیزگی ہے جو اس عظیم رسول نے کی۔ آنحضرت ﷺ کی ذات، آپؐ کا ہر عمل، آپ کا اٹھنا بیٹھنا بصیرت رکھنے والوں کے لئے ایک نشان تھا۔
چنانچہ آپؐ کے قریبیوں میں جیسے حضرت خدیجہ ؓ ہیں، حضرت ابو بکرؓ ہیں، حضرت علی ؓ ہیں۔ انہوں نے وحی کے اترنے کے ساتھ ہی آپؐ کو قبول کر لیا تھا اور علم و معرفت میں پھر بڑھتے چلے گئے۔ انہوں نے تفصیلی تعلیم اور حکمتوں کی تلاش نہیں کی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ جب واپس آئے توکسی نے کہا تیرے دوست نے یہ یہ دعویٰ کیاہے۔ وہ سیدھے آنحضرت ﷺ کے پاس گئے۔ ان سے پوچھا کہ آپؐ نے یہ دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی تفصیل بتانے کی کوشش کی کہ یہ تعلیم اتری ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی کہ مجھے تعلیم، حکمت اور دلیل نہیں چاہئے۔ میں تو آپؐ کو بچپن سے جانتا ہوں۔ ایسا زکی انسان کوئی غلط بات نہیں کر سکتا۔ پس یہ جو آیات ہیں اس مزکّی کے ہر ہر لفظ میں ان کی پاک باتوں میں نظر آئیں جنہوں نے ان کو قبول کیا۔ لیکن کور باطن جو تھے وہ واضح آیات اور کتاب کی پاک کرنے والی پُر حکمت تعلیم کو دیکھ کر بھی اس فیض سے محروم رہے۔
پھر تزکیہ کے بعد تعلیم کتاب کو حکمت پر مقدم کیا گیا ہے یعنی کتاب حکمت سے پہلے رکھی گئی ہے کیونکہ اعلیٰ ایمان والا شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کے محبوب کا کیا حکم ہے۔ وہ دلیلوں کی تلاش میں نہیں رہتا۔ بلکہ سَمِعْنَاوَاَطَعْنَا کہتا ہے کہ ہم نے حکم سن لیا ہے اور ہم اس کے دل سے فرمانبردار ہو چکے ہیں۔ ہمارے پچھلے تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ہر حکم پر عمل کرنے سے ہمارے دلوں کا تزکیہ ہوا ہے۔ اس لئے یقینا اے نبی ﷺ !تیرے پر خداتعالیٰ کی طرف سے اترے ہوئے اس حکم میں بھی کوئی حکمت ہو گی۔ چاہے ہمیں اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے۔ ہمارا اصل مقصود تو محبوب حقیقی کی رضا حاصل کرنا ہے جو اس پیارے نبی کے ساتھ جُڑ کر اس کے کہے ہوئے لفظ لفظ پر عمل کرنے سے ملتی ہے۔ پس حکمتیں تو اس حکم کی جو بھی آئے بعد میں سمجھ آتی رہیں گی لیکن اپنے محبوب کی اطاعت ہم ابھی فوری کرتے ہیں۔ یہ فلسفیوں اور کمزور ایمان والوں کا کام ہے کہ حکمتوں کے سراغ لگاتے پھریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دین العجائز اختیار کرنے کی اسی لئے تلقین فرمائی ہے۔ لیکن جہاں تکبر اور فلسفہ میں انسان پڑے گا تو تزکیہ نہیں ہو سکتا اور جب آدمی میں تکبرآ جائے تو پھر ایمان میں ترقی تو کیا قبول کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔ پس حکمت کا علم ہونا ایک کامل مومن کے لئے، ایمان لانے کے لئے ضروری نہیں ہے اور جس کا ایمان صرف دلائل کی حد تک ہو اس کو حکمت کی بھی ضرورت ہے اور یہ کمزوریٔ ایمان ہونے کی نشانی ہے۔ پس نبی کا تزکیہ کرنا، اس کا حکم دینا اور اس حکم کو ماننا اور نبی کی باتیں سن کر اپنے دلوں کو پاک کرنے کی کوشش، یہ کامل الایمان لوگوں کا شیوہ ہے۔ اور ناقص ایمان حکمت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لئے ہر قسم کی طبائع کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس عظیم رسول پر وہ تعلیم اتاری جس میں ہر حکم کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے۔ پس یہ خاصہ ہے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کا جو ہر قسم کی طبائع اور مزاج کے لوگوں کے لئے مکمل تعلیم ہے۔ کسی کے لئے کوئی فرار کی جگہ نہیں۔ اورجیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دین العجائز کو ہی کامل ایمان والوں کا خاصہ فرماتے تھے۔ ہمیں حکمتوں کی بجائے پہلے ایمان میں مضبوطی کی کوشش کرنی چاہئے پھر حکمتیں بھی سمجھ آجاتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔
‘’خداتعالیٰ کا کلام ہمیں یہی سکھلاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ تب نجات پاؤ گے۔ یہ ہمیں ہدایت نہیں دیتا کہ تم ان عقائد پر جو نبی علیہ السلام نے پیش کئے، دلائل فلسفیہ اور براہین یقینیہ کا مطالبہ کرو اور جب تک علوم ہندسہ اور حساب کی طرح وہ صداقتیں کھل نہ جائیں ‘‘ یعنی ایک اور ایک دو کی طرح ہر چیز ثابت نہ ہو جائے ’’تب تک ان کو مت مانو۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کی باتوں کو علوم حسیّہ کے ساتھ وزن کرکے ہی ماننا ہے تو وہ نبی کی متابعت نہیں ہے۔ بلکہ ہر یک صداقت جب کامل طورپر کھل جائے خود واجب التسلیم ٹھہرتی ہے۔ خواہ اس کو ایک نبی بیان کرے خواہ غیر نبی‘‘۔ یعنی اگر ظاہری باتوں پر جاکر لینا ہے تو جب سچائی کھل گئی پھرکوئی بھی بات کرے تو لوگ اس کومان ہی لیتے ہیں۔ وہ ایمان بالغیب نہیں ہوتا۔ غیر نبی بھی کوئی ایسی بات کرے تو وہ بھی لوگ مانتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ:۔ ’’بلکہ اگر ایک فاسق بھی بیان کرے تب بھی ماننا ہی پڑتا ہے۔ جس خبر کو نبی کے اعتبار پر اور اس کی صداقت کو مسلّم رکھ کر ہم قبول کریں گے وہ چیز ضرور ایسی ہونی چاہئے کہ گوعندالعقل صدق کا بہت زیادہ احتمال رکھتی ہو مگر کذب کی طرف بھی کسی قدر نادانوں کا وہم جا سکتا ہو‘‘۔ یعنی اگر عقلی طور پر دیکھیں تو سچائی اس میں نظر آتی ہو، آسکتی ہو، مگر اس میں ایسے لوگ ہیں جو پوری طرح سوچتے نہیں اور اس کو جھوٹ کی طرف بھی لے جا سکتے ہوں۔ ایسی بات ہو جو بالکل واضح نہ ہو۔
فرمایا:’’تاہم صدق کی شق کو اختیار کرکے اور نبی کو صادق قرار دے کر اپنی نیک ظنی اور اپنی فراست دقیقہ اور اپنے ادب اور اپنے ایمان کا اجر پالیویں۔ یہی لب لباب قرآن کریم کی تعلیم کا ہے جو ہم نے بیان کر دیا ہے۔ لیکن حکماء اور فلاسفر اس پہلو پر چلے ہی نہیں اور وہ ہمیشہ ایمان سے لاپروا رہے اور ایسے علوم کو ڈھونڈتے رہے جس کا فی الفور قطعی اور یقینی ہونا ان پر کھل جائے۔ مگر یاد رہے کہ خداتعالیٰ نے ایمان بالغیب کا حکم فرما کر مومنوں کو یقینی معرفت سے محروم رکھنا نہیں چاہا بلکہ یقینی معرفت کے حاصل کرنے کے لئے ایمان ایک زینہ ہے جس زینہ پر چڑھنے کے بغیر سچی معرفت کو طلب کرنا ایک سخت غلطی ہے لیکن اس زینہ پر چڑھنے والے معارف صافیہ اور مشاہدات شافیہ کا ضرور چہرہ دیکھ لیتے ہیں ‘‘۔ ان کو صاف کھلے معارف بھی نظر آجاتے ہیں جن پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو بڑے تسلی دینے والے مشاہدات بھی نظر آتے ہیں۔ ’’جب ایک ایماندار بحیثیت ایک صادق مومن کے احکام اور اخبار الٰہی کو محض اس جہت سے قبول کرلیتا ہے کہ وہ اخبار اور احکام ایک مخبر صادق کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائے ہیں تو عرفان کا انعام پانے کے لئے مستحق ٹھہر جاتا ہے‘‘۔ یعنی ایک سچا مومن، اللہ تعالیٰ جواحکامات دیتا ہے یا ان کو نبی کی طرف سے جو احکامات ملتے ہیں یا جو اللہ تعالیٰ ان کو خبریں دیتاہے، ان کوصرف اس لئے قبول کرتا ہے کہ یہ ایک سچے خبر دینے والے نے خداتعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر خبریں دی ہیں۔ تو پھر اس کو اس کاعرفان بھی حاصل ہوتا ہے۔
فرمایا کہ:۔ ’’اسی لئے خداتعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے یہی قانون ٹھہرا رکھا ہے کہ پہلے وہ امور غیبیہ پر ایمان لا کر فرمانبرداروں میں داخل ہوں اور پھر عرفان کا مرتبہ عطا کرکے سب عقد ے ان کے کھولے جائیں ‘‘۔ تو پہلے فرمانبرداری ضروری ہے۔

سَمِعْنَاوَاَطَعْنَا

کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد پھر اس کو عرفان بھی حاصل ہو جائے گا، اس کی حکمتیں بھی معلوم ہو جائیں گی۔ ’’لیکن افسوس کہ جلد باز انسان اِن راہوں کو اختیار نہیں کرتا۔ خداتعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص ایمانی طور پر نبی کریم ﷺ کی دعوت کو مان لیوے تو وہ اگر مجاہدات کے ذریعہ سے ان کی حقیقت دریافت کرنا چاہے وہ اس پر بذریعہ کشف اور الہام کے کھولے جائیں گے‘‘۔ پہلے ایمان لانا ضروری ہے۔ پھر مجاہدات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اطلاع دے گا ’’اور اس کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا‘‘۔
(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد نمبر 5صفحہ 251تا 253حاشیہ۔ مطبوعہ لندن)
پس یہ ہے وہ طریق جو ایمان میں کامل بننے والوں کے لئے ضروری ہے۔
پھر ان دوآیات میں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی قبولیت دعا کے اعلان کے الفاظ میں ایک اور فرق بھی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کے آخر میں عرض کی

اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم

اور اللہ تعالیٰ جب جواب دیتا ہے تو فرماتا ہے

وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن۔

اس فرق کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے عزیز و حکیم صفات کے واسطے سے دعا کی کہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں وہ اپنی سوچ کے مطابق مانگ رہا ہوں لیکن جس زمانے میں یہ نبی مبعوث ہونا ہے اور پھر تاقیامت جس کی آیات اور تعلیم نے تزکیہ بھی کرنا ہے اور حکمت بھی سکھانی ہے اس زمانے کی ضرورتوں کو تُو بہتر جانتا ہے اس لئے اُس وقت اے اللہ تُو اپنی صفت عزیز اور حکیم کے ساتھ اس زمانے کی ضروریات کو اس نبی کے ذریعہ پورا فرمانا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرماکر اس آیت میں کہ رسول یہ یہ کام کرتا ہے آخر پر فرمایا

وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن

یعنی یہ رسول تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔ پس اس عظیم نبی پر وہ آیات اور کتاب اتری جن میں ایسی تعلیم بھی ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔ اس نبی کی تعلیم میں ایسی باتیں بھی ہیں جودوسری پرانی تعلیمات سے زائد ہیں۔ بعض ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کا زمانے کے ساتھ ساتھ انسان کو ادراک ہوتا ہے، پتہ لگتا ہے، ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض باتوں کا میں گزشتہ خطبوں میں ذکر کر چکا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں محکمات اور متشابہات کا ذکرکیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے

ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰ یٰاتٌ مُحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتَابِ وَاُخَرُ مُتَشَابِھَاتٌ (آل عمران:8)

یعنی وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس کی بعض آیتیں تو مُحْکَم آیتیں ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اورہیں جو مُتَشَابِہ ہیں۔ پس مُحْکَم آیات دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ وہ باتیں بھی میں نے اتاری ہیں جنہیں تم پہلے نہ جانتے تھے اور وہ باتیں بھی ہیں جو پہلی شریعتوں میں آبھی چکی ہیں۔ بعض ایسی ہیں جو واضح ہیں، بعض ایسی ہیں جن پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مُحْکَم کے معانی لغتوں میں یہ لکھے ہیں کہ جو کسی بھی قسم کی تبدیلی یا تحریف سے محفوظ کر دی گئی ہو۔ یہ مُحْکَم ہے۔ دوسری جس میں کسی بھی قسم کے ابہام کا شائبہ نہ ہو۔ تیسری بات جو معنوی لحاظ سے اور اپنی شوکت کے لحاظ سے فیصلہ کن ہو تو یہ مُحْکَمٰت ہیں۔ اور مُتَشَابِہ وہ چیزکہلاتی ہیں جس کے مختلف معانی کئے جا سکیں۔ یا جس کا کچھ حصہ دوسری ویسی اسی طرح کی چیزوں سے مشابہ ہو۔ اب جو تزکیہ سے عاری ہیں وہ اس تعلیم کے حقیقی پیغام کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ پھر اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جس کے حقیقی معانی مُحْکَم احکامات کے خلاف نہ ہوں۔ مُتَشَابِہ کے یہ معنی بھی ہیں کہ بعض دفعہ بعض ظاہری الفاظ شبہ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس کے جو حقیقی معانی ہیں وہ مُحْکَم احکامات جو قرآن کریم کی جڑ ہیں ان کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ان کے خلاف جاتے ہیں تو پھر اس کی وجہ تلاش کرنی ہو گی۔ اس لئے ان متشابہات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کی جائے جو محکم احکامات سے تطابق رکھتے ہیں۔ مُتَشَابِہ کا بھی یہی مطلب ہے کہ بغیر حقیقی غور و فکر کے صحیح طریق سے سمجھ نہیں آسکتے اس کے لئے پھر دلوں کو پاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔ پس وہ عزیز خدا جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے ایسے تزکیہ شدوں کے دلوں کے دروازے کھولتا اور انہیں حکمت کے موتی اکٹھے کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ تو یہ عظیم رسول جو قیامت تک کے زمانے کے لئے مبعوث ہوا اس کی تعلیم کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے جیسا کہ میں پہلے ایک خطبہ میں یہاں بیان کر چکا ہوں۔ اس تعلیم کو بدلنے کی کوشش کی گئی لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس مزکّیٔ اعظم کی اتباع میں ہر صدی میں مجدد آتے رہے اور ان آیات و تعلیم کے ذریعہ سے تزکیہ کا کام کرتے رہے۔ علماء اور فقہا پیدا ہوتے رہے جو احکامات کی وضاحت کرتے رہے اور حکمت سکھاتے رہے۔ آجکل کے نام نہاد علماء کی طرح نہیں جو بے تکی باتیں کرتے ہیں۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ فیصل آباد میں، یہ 1974ء کی بات ہے، ایک مسجد سے مولوی صاحب سورۃ اخلاص پڑھ کے خطبہ دے رہے تھے،

قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ

کے بعد انہوں نے اس کی تشریح یہ کی تھی کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی جھوٹے ہیں، (یا اس نے مرزائی کہا تھا)۔ اگر کوئی ثابت ہوتا ہے تو یہ نتیجہ تو نکلتا ہے کہ خدا کا بیٹا بنانے والے غلط اور جھوٹے ہیں یا یہ نتیجہ تو نکالا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ جو قبروں کو پوجنے والے ہیں اور غلط قسم کی پیر پرستی میں مبتلا ہیں، یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن ہم تو اس مزکّی کے عاشق صادق کو ماننے والے ہیں جو توحید کا پھیلانے والا تھا۔ اور جس کے ماننے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ پیغام دیا تھا کہ

خُذُواالتَّوْحِیْدَ اَلتَّوْحِیْدَ یَا اَبْنَآءالْفَارِس

کہ توحید کو پکڑو، توحید کو پکڑو، اے فارس کے بیٹو۔ پس اگر جھوٹے ہیں تو یہ لوگ ہیں، ہم نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم کی حفاظت کے یہ سامان پیدا فرمائے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اسمزکّیسے کئے گئے وعدے کے مطابق مسیح موعود اور مہدی موعود کو بھیجا جو خاتم الخلفاء کہلائے۔ قرآن کریم میں اس کا یوں ذ کر آتا ہے۔ سورۃ جمعہ کی آیات ہیں،

ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْا ُ مِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ وَّآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (الجمعۃ:3-4)

کہ وہی ہے جس نے اُمِّی لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔ اور انہیں میں سے دوسروں کی طرف بھی اسے مبعوث کیا ہے جو ابھی ان سے ملے نہیں۔ وہ کامل غلبے والا اور صاحب حکمت ہے۔
ان آیات میں سے جو پہلی آیت ہے اس میں اُمِّی لوگوں میں سے عظیم رسول کے مبعوث ہونے کی خبر ہے۔ یہاں پھر جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کے اعلان کا اعادہ کیا گیا ہے اور واضح اعلان آخر میں ہے کہ اس سے پہلے وہ لوگ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ یہ کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہونے کے الفاظ اس حوالے سے سورۃ آل عمران کی آیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔ سورۃ آل عمران میں ان خصوصیات کا ذکر کرنے سے پہلے یعنی جو نبی نے آکر چار باتوں پر عمل کرنا تھا یا کروانا تھا، یہ ذکر ہے کہ

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْن

یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان کیا ہے جو ان میں ایک رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پس اس زمانے میں جب بحرو بر میں فساد برپا تھا اللہ تعالیٰ کاان لوگوں پر ایک احسان ہوا کہ ان میں ایک رسول مبعوث فرمایا جس نے انہیں آیات سنائیں، پاک کیا، تعلیم کتاب اور حکمت دی۔ اور انہیں عربوں نے جو جاہل کہلاتے تھے ایک انقلاب برپا کر دیا۔
سور ۃ جمعہ میں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس خدا نے ان اَن پڑھ لوگوں پر احسان کرتے ہوئے رسول بھیجا کہ انہیں پاک کرنے اور اللہ کا قرب دلانے کا باعث بنا، کیا اس عظیم رسول کا زمانہ ختم ہو گیا ہے کہ پھر ایک ہزار سال سے وہی اندھیرا زمانہ چلتا چلا جائے۔ کیا وہ زمانہ چند سو سالوں کے بعد دوبارہ لوٹ کر آگیا؟ سوائے چند ایک چھوٹے چھوٹے گروہوں کے جن کے دائرے محدود ہیں اس ایک ہزار سال میں جو پچھلا اندھیرا دور گزرا ہے کہیں روشنی نظر نہیں آتی رہی۔ تو اللہ تعالیٰ جو احسان کرنے والا ہے اس نے ان لوگوں پر تو احسان کر دیاجو مشرکین تھے اور جو امت میں سے تھے، جو دعائیں مانگ رہے تھے کہ امت میں کوئی اصلاح کرنے والا آئے، ان پر اللہ تعالیٰ نے احسان نہیں کیا۔ تو یہ تو کوئی عظمت نہ ہوئی۔ یہ تو قیامت تک کے لئے تعلیم قائم رکھنے کا وعدہ پورا کرنا نہ ہوا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جس کی ہر چیز جو بھی زمین و آسمان میں ہے تسبیح کرتی ہے اور اس کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔ وہ عزیز ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔ تو کیا عزیز خدا اور حکیم خدا سے یہ توقع کرتے ہو کہ وہ اب دنیا کو بھٹکنے دے گا؟ کیا یہ حکمت ہے کہ اس تعلیم کو سنبھالا نہ جائے جو دنیا کی نجات کے لئے آخری تعلیم ہے ؟خداتعالیٰ کے بارے میں یہ سوچ تو بڑی محدود سوچ ہے اور بدظنی ہے۔
پس اے وہ لوگو! جو اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہو! اس عظیم رسول کی طرف منسوب کرتے ہوجس کی تعلیم تاقیامت دلوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس تعلیم کی روشنی دکھانے کے لئے محدود پیمانے پر نہیں جیسا کہ سابقہ صدیوں میں آتے رہے بلکہ وسیع پیمانے پر پاک کرنے کے لئے اور کمزور دلوں اور دنیاداروں اور فلسفیوں میں بھی پاکیزگی اور حکمت کے بیج ڈالنے کے لئے آخرین میں پھر یہ نبی مبعوث ہو گا۔ جو اپنے اس جسم کے ساتھ نہیں بلکہ بروزی رنگ میں مبعوث ہو گا اور یہ اس خدا کا فیصلہ ہے جو عزیز اورحکیم ہے۔ اور اس خدا کی طاقتوں کو محدود نہ سمجھو۔ اس کے فیصلوں کو بغیر حکمت کے نہ سمجھو۔ پس جس طرح اس عظیم نبی نے ایک پاک جماعت کا قیام کیا تھا اور بگڑے ہوؤں کو خدا سے ملایا تھا اس نبی کا غلام بھی اس بگڑے زمانے میں خدا سے ملانے کا کام کرے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ وہ ہوگا کون جو آخرین میں مبعو ث ہوگا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی ؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو ان کی نسل میں سے ایک شخص اسے زمین پر واپس لے آئے گا۔
آنحضرت ﷺ کی ایک اور حدیث ہے کہ وہ زمانہ آئے گا کہ قرآن کے الفاظ کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہے گا اور اسلام کے نام کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ پس ہر غور کرنے والا ذہن اور ہر دیکھنے والی آنکھ یہ دیکھتی ہے اور اظہار کرتی ہے کہ آجکل یہی حالات ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس عظیم رسول کو بھیج کر جو دین قائم کیا اور جس نے تاقیامت رہنا ہے اس کے اس شان و شوکت سے قائم رہنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔
پس ہم احمدی کہلانے والوں کی اب دوہری ذمہ واری ہے کہ ایک تو اپنے پاک ہونے اور اس کتاب پر عمل کرنے کی طرف مستقل توجہ دیں۔ دوسرے اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچانے کے لئے ایک خاص جوش دکھائیں تاکہ کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہم تک تو یہ پیغام نہیں پہنچا۔ کیونکہ آج سوائے احمدی کے کوئی نہیں جس کے سپرد امت مسلمہ کے سنبھالنے کا کام کیا گیا ہے۔ بڑے بڑے اسلام کے نام نہاد چیمپٔن تو نظر آئیں گے اور بزعم خویش اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنے والے بھی ہوں گے۔ ہر گروہ اور ہر فرقہ اصلاح کا دعوٰی کررہا ہے لیکن ایمان سے عاری ہیں اس لئے ہر طرف یہی شور ہے کہ مسلمانوں کو سنبھالو۔ اور اس گروہ بندی اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے انکار کی وجہ سے یہ علیحدہ علیحدہ گروہ بنے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے انکار کی وجہ سے دلوں کی پاکیزگی ختم ہو رہی ہے۔ تعلیم و حکمت سے عاری ہو رہے ہیں اور دشمن کے پنجے میں جکڑے چلے جا رہے ہیں۔ کبھی کبھی یہ آواز اٹھتی ہے کہ خلافت ہونی چاہئے لیکن یہ سب جس وجہ سے ہو رہاہے وہ نہیں سوچتے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔ ’’اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خدا وہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانیہ علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے تھے تب ایسے وقت میں خداتعالیٰ نے اپنا رسول اُمِّی بھیجا اور اس رسول نے ان کے نفسوں کو پاک کیا۔ اور علم الکتاب اور حکمت سے ان کو مملوکیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقین کا مل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نورسے ان کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اَور ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہو گا۔ وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ ؓ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ ؓ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ ؓ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گااور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ

لَوْکَانَ الْاِیْمَان مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارس

یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اٹھ گیا ہو گا۔ تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہو گا۔ اس زمانے میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ صلیبی حملہ جس کے توڑنے کے لئے مسیح موعود کو آنا چاہئے وہ حملہ ایمان پر ہی ہے اور یہ تمام آثار صلیبی حملہ کے زمانہ کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ اور لکھا ہے کہ اس حملے کا لوگوں کے ایمان پر بہت برا اثر ہو گا۔ وہی حملہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجّالی حملہ کہتے ہیں۔ آثار میں ہے کہ اس دجّال کے حملہ کے وقت بہت سے نادان خدائے لاشریک کو چھوڑ دیں گے اور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید ایمان ہو گا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث

لَوْکَانَ الْاِیْمَان

سے جو شخص فارسی الاصل کی نسبت ہے یہ بات ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے گا…‘‘۔
پھر آپ فرماتے ہیں :’’…سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔ اس زمانے میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔ وہ خداتعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیساکہ صحابہ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کیا۔ بہتیرے ان میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خداتعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہاہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو

اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ

کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خداتعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پوراہوتا‘‘۔
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ 304۔ 307مطبوعہ لندن)
پس یہ جو انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لے کر آئے اس کو جاری رکھنا جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے۔ نہیں تو ہم بھی اسی طرح گناہگار ٹھہریں گے جس طرح پہلے ایمان کو ضائع کرنے والے ٹھہرے تھے۔ لوگ تو انشاء اللہ پیدا ہوتے رہیں گے جو اس پیغام، کتاب اور تعلیم کو اپنے پر لاگو بھی کریں گے لیکن ہم میں سے ہر فرد کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ کبھی اس تعلیم سے روگردانی کرنے والے نہ ہوں اور کبھی اپنے دلوں کی پاکیزگی کو ختم کرنے والے نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے دوبارہ کھل کر اسلام پر حملے کئے جا رہے ہیں، آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ قرآن کریم پر، اس کی تعلیم پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے۔ وجہ کیا ہے؟ کیوں بدنام کیا جائے؟ اس لئے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو زمانے کی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھ کر لوگوں کا رخ اسلام کی طرف ہو رہا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض جگہ بعض مسلمانوں کے عمل دیکھ کر لوگوں میں نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں لیکن یہ جو اسلام مخالف مہم شروع ہوئی ہے یا کوششیں ہو رہی ہیں، یہ کوششیں مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کو اسلام کی تعلیم دیکھنے اور سمجھنے کی طرف بھی مائل کر رہی ہیں، اس تعلیم کو جو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اتاری ہے۔ یہ تعلیم حقیقت پسندانہ اور فطرت کے مطابق ہے۔ ایسے لوگوں نے جو مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں جو خالی الذہن ہوتے ہیں، انہوں نے قرآن کریم کو پڑھ کر اس پر غور بھی کیا ہے۔ گو کہ صرف ترجمہ سے اس کی گہرائی کا علم نہیں ہوتا۔ ان پیغاموں کا پتہ نہیں چلتا جو قرآن کریم میں ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کی کوشش ہوتی ہے۔ بعض جو سعید فطرت ہیں ان کو سمجھ بھی آجاتی ہے۔
گزشتہ دنوں اخبار میں ایک کالم تھا یہاں کی ایک خاتون ہیں رڈلی۔ اگر کوئی نام میں غلطی ہو توکیونکہ یہ اردو میں چھپا ہواتھا اس لئے غلطی کا امکان ہے۔ بہرحال وہ خاتون پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور اسی پیشے کی وجہ سے وہ افغانستان گئیں۔ وہاں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بہرحال برقعہ پہن کر بھیس بدل کر وہاں گئیں۔ کچھ عرصہ کام کیا، پکڑی گئیں، آخر اس وعدے پر رہا ہوئیں کہ قرآن کریم پڑھیں گی۔ یہاں واپس آگئیں، بھول گئیں لیکن پھر جو اسلام کے خلاف یہاں مہم شروع ہوئی، اس نے ان کو یاد کرایا کہ میں نے طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ قرآن کریم پڑھوں گی۔ خیر اس خاتون نے قرآن کریم خریدا اور اس کو پڑھا اور اسے اس بات سے سخت دھچکا لگا کہ عورتوں سے سلوک کے بارے میں قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس میں، اور جو طالبان یا وہ لوگ جو اپنے آپ کو بہت اسلام پسند ظاہر کرتے ہیں ان کا عورتوں کے بارے میں جو سلوک ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔ بہرحال قرآن کریم کو پڑ ھ کر، اس تعلیم کو پڑھ کر یہ مسلمان ہو گئیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے جب ان کو بڑا اچھا لا گیاتو ایک مسلمان ملک شاید قطر کے ایک میڈیا کے مالک نے ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ یہ یورپ کی پلی بڑھی تھیں، دنیاوی تعلیم بھی تھی تو انہوں نے جرنلزم میں، اپنی صحافت کے پیشے میں وہاں یہ پالیسی رکھی کہ حق کو حق کہنا ہے اور سچائی کو ظاہر کرنا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا بھی ہو تو اس کے خلاف حق بولنے سے نہیں رکنا۔ اس بات سے مالکان اور ان کے درمیان اختلاف ہو گیا اور ان کو فارغ کیا گیا۔ لیکن انہوں نے وہیں ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا اور اپنے حق کے لئے لڑیں کہ عورت کے یہ یہ حقوق ہیں اور انصاف کا یہ یہ تقاضا ہے۔ آخروہ مقدمہ جیت گئیں۔ پھر ایک اور جگہ ملازم ہوئیں۔ وہاں سے بھی اسی بات پر نکالا گیا۔ وہاں بھی کیس لڑا۔ مقدمہ جیت گئیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان عورت کے جو حقوق ہیں اور ایک مسلمان کے جو حقوق ہیں، مسلمان حکومت کو اس کو ادا کرنا چاہئے۔ بہرحال یہ کیس وہ جیتتی رہیں اور اس بات پر ان کا ایمان جو بھی تھا، مزید مضبوط ہوتا رہا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھ کر اس خاتون کا قرآن کریم پر ایمان بڑھا، باوجود اس کے کہ جو بہت سارے تجربات ان کے سامنے آئے وہ اس کے بالکل خلاف تھے۔ لیکن انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو برا نہیں کہا۔ ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا جو اس تعلیم کے خلاف جا رہے تھے۔ اس طرح کی مثالیں جب اسلام مخالف طبقے کے سامنے آتی ہیں تو ان کو فکر ہوتی ہے۔ اپنے مذہب سے انہیں لگاؤ ہو یا نہ ہو لیکن اسلام سے دشمنی انہیں ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انبیاء کی جماعتوں سے اسی طرح ہوتا ہے اور اسلام کیونکہ عالمی مذہب ہے اس لئے سب سے بڑ ھ کر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
مکہ میں جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ چند لوگ تھے تو کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پھر جب قرآن کریم کی تعلیم نے ان میں سے سعید روحوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو پھر انہیں فکر پڑنی شروع ہوئی، پھر مخالفت شروع ہوئی۔ وہی عمر ؓ جو آنحضرت ﷺ کے قتل کے درپہ تھے وہی عمرؓ قرآن کریم کی ایک آیت سن کر ہی اس قدر گھائل ہوئے کہ اپنا سر آنحضرت ﷺ کے پاؤں میں رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ مقام عطا فرمایا کہ خلفاء راشدین میں سے دوسرے خلیفہ ہوئے۔ پس یہ چیزیں دیکھ کر کفار کی مخالفت بجا تھی۔ ان کو بھی نظر آرہا تھا کہ یہ تھوڑے عرصہ میں ہمارے شہر پر قابض ہو جائیں گے۔ مکہ کی وجہ سے ان کی جو انفرادیت تھی وہ ختم ہو جائے گی۔ یہ تو ہماری نسلوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیں گے۔ پھراسلام کا پیغام مزید پھیلا۔ اس خوف کی وجہ سے مخالفت بھی شروع ہوئی۔ ہجرت کرنی پڑی۔ اسلام کا پیغام مزید دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔ آنحضرت ﷺ مدینہ گئے وہاں پیغام پھیلا تو یہودیوں نے اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا کہ ہماری تو نسلیں بھی اب ان کی لپیٹ میں آتی چلی جائیں گی۔ پھر مزید وسعت ہوئی تو قیصر وکسریٰ کی حکومتیں بھی پریشان ہونے لگیں۔ وہ بھی سب اسلام کے خلاف صف آراء ہو گئیں۔ اور آج تمام دنیا کے مذاہب کے سرکردہ اس خوف سے کہ کہیں اسلام غلبہ حاصل نہ کر لے اسلام کے خلاف ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کہ خود ان کے اندر رہنے والے اپنے شریف الطبع لوگوں نے ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف آوازیں اٹھانی شروع کر دی ہیں۔
ہم یورپ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو یورپ میں بسنے والے ہر شخص کی آواز سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ صورتحال نہیں ہے۔ ہر یور پین اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ردعمل بہت سخت ہوتا ہے۔ ا ن میں بھی ایسی تعداد ہے اور خاصی تعداد ہے جو ایسی حرکتوں کو پسند نہیں کرتی۔ مثلاً گزشتہ دنوں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے گئے تھے اس کے خلاف ڈنمارک میں ہی وہاں کے مقامی غیر مسلموں نے آواز اٹھائی کہ یہ سب غیر اخلاقی اور انتہائی گری ہوئی حرکتیں ہیں جو کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اسی سوال کو اٹھایا جو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب قاتل پکڑے گئے تو پھر کارٹونوں کی اشاعت کا کیا مطلب تھا؟ اور پھر یہ کہ بغیر مقدمہ چلائے دو کو ملک بدر کرنے، ملک سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ایک کو بری کر دیا۔ یہ کون سا انصاف ہے؟اس کا مطلب ہے کہ اندر کوئی بات تھی ہی نہیں۔
بہرحال ان میں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں مثلاً ٹی وی چینلز نے ہمارے مشنریز کے انٹرویو ز لئے اور اس پہ اپنا اظہار بھی کیا۔ مثلاً ایک ڈینش خاتون جوٹی وی کے انٹرویو کے وقت مشن ہاؤس میں موجود تھیں، انہوں نے ٹی وی جرنلسٹ کے سامنے کھل کر کارٹونوں کی اشاعت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے پہلے وہ بیرون ملک وزٹ کے دوران بڑے فخر اور خوشی سے بتایا کرتی تھیں کہ وہ ڈینش ہیں مگر اب وہ اپنے آپ کو ڈینش بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گی۔ میں نے یہ رپورٹ وہاں سے منگوائی تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے نتیجے میں بالعموم ڈینش عوام میں ایک مثبت سوچ بیدار ہو رہی ہے اور اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ کارٹونوں کی اشاعت محض پر وووکیشن (Provocation) ہے۔
اخبارات اور انٹرنیٹ میں اگر چہ مثبت اور منفی ملے جلے جذبات کا اظہار ہے تاہم انٹرنیٹ پر ایک مشہور گروپ ہے جس کا نام فیس بک (Face Book)ہے۔ انہوں نے Sorry Muhammadکے نام سے آنحضرت ﷺ سے معذرت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد شامل ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد ہے جنہوں نے اپنی معذرت کا اظہار کیا ہے۔ گو اس کے مقابلے پہ دوسرے گروپ بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک صاحب نے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ڈنمارک کہاں ہے ؟ ایک طرف تو ہم عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی مد د کے نام پر فوج بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔
پھر ایک نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہMoral اچھی بات ہے لیکن ڈبلMoral یقینا اور بھی اچھا ہونا چاہئے۔ پھر لکھتے ہیں کہ: میں ان دنوں اپنے ڈینش ہونے پر شرمندہ ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اکثریت جو اس گروپ میں ہے وہ میری طرح جذبات رکھتے ہیں۔
پھر ایک نے لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ ڈینش جرنلسٹ آزادی رائے کے صحیح مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سے کاغذ، قلم اور دوات کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایک نے لکھا کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ آزادی اظہار کا غلط استعمال ہے۔
سب سے زیادہ شائع ہونے والے ایک اخبار ایویسن ڈی کے(Avisen D K) نے اپنی اشاعت 25فروری میں ایک صاحب کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ مجھے محمدؐ کے کارٹون کے مسئلہ پر اظہار کی اجازت دیجئے۔ میرے خیال میں یہ ایک وحشیانہ اور خبیثانہ حرکت ہے کہ اپنے کسی ہمسائے کے کارٹون بنا کر اپنے گھر کے سامنے لٹکائے جائیں جہاں وہ اسے دیکھ بھی سکتا ہو اور پھر منافقانہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا جائے کہ میں اپنے ہمسائے سے اچھا ہوں کیونکہ میں اس سے اپنے ہمسایہ کے طور پر محبت کرتا ہوں۔
پھر ایک تبصرہ ہے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ دینے کی بات ہمیشہ بری ہے۔ اگر اسلام کے بارے میں کوئی تنقیدی بات کی جائے تو یہ تو بجا ہے مگر اس طرح خاکوں کی اشاعت تو محض کسی کو دکھ دینا ہے۔
پھرKristelig Dagblad ایک مذہبی اخبار میں ایک ڈینش کا تبصرہ شائع ہوا ہے کہ آزادی ضمیر کو خطرہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ پریس ‘ منسٹرز اور سیاستدانوں کی طرف سے ہے کیونکہ وہ اس کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں کو آزادی رائے کا حق دینے کو تیار نہیں۔
پھر ایک صاحب جو عیسائی کمیونٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر ہیں، انہوں نے بائبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کارٹون کی اشاعت عیسائیت کی تعلیم کے بھی سراسر منافی ہے۔ نیز لکھا کہ: ایسی حرکات کو محض حماقت کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ ڈینش محاور ہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کوئی عہدہ دیتا ہے تو اس کو عقل بھی دیتا ہے۔ یہ لکھنے کے بعد کہتے ہیں : اس قسم کی حرکات کو دیکھ کر اہل حل و عقد میں عقل کی کمی نظر آتی ہے۔
اس طرح کے بے شمار تبصرے ہیں جو انہوں نے کئے۔ یہ جو اسلام کے خلاف مہم ہے اس میں جیسا کہ ان تراشوں سے پتہ چلتا ہے بہت سے شرفاء شامل نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی مہم ہے اس میں صرف ایک آدھ کارٹونسٹ یا چند ممبر پارلیمنٹ یا سیاسی لیڈر بننے کا شوق رکھنے والوں کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش ہے اور اس کے پیچھے بڑی طاقتیں ہیں جو اسلام کی تعلیم سے خوفزدہ ہیں۔ جو اپنے عوام کو یہ سمجھنے ہی نہیں دینا چاہتیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ جو مذہب کے نام پر اصل میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتی ہیں۔ جو اسلام سے پندرہ سوسال پرانی دشمنی کا اظہار بڑے منصوبے سے کر رہی ہیں۔ جو عاجز بندے کو خدا کے مقابلے پر کھڑا کر کے شرک کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ اور اسی وجہ سے پھر دباؤ ڈالا گیا۔ ہمارا جو عربی چینل بند کیا گیا تھا، اس کے پیچھے عیسائیوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا جنہوں نے بڑی حکومتوں کے ذریعہ سے دباؤ ڈلوایا تھا۔ تو ایسے جو لوگ ہیں وہ بھلا اسلام کی شرک سے پاک تعلیم اور عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم کو کس طرح پنپنے دے سکتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ چاہے وہ مذہب کی آڑ میں کریں یا سیاست کی آڑ میں کریں، آجکل دنیا کا اِلٰٰہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کا معبود بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ د نیا کا مالک بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کا رب بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پس یہ بڑے دماغ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جنہیں خطرہ ہے کہ اسلام اگر پھیل گیا تو دوسرے مذاہب کی حیثیت معمولی رہ جائے گی۔ لیکن یہ ان کی سوچیں ہیں، جو چاہیں کر لیں۔ اسلام کا مقدر تو اب پھیلنا ہے اور انشاء اللہ اس نے پھیلنا ہے لیکن نہ کسی قسم کی دہشت گردی سے، نہ کسی قسم کی عسکریت سے بلکہ مسیح و مہدی کے ذریعہ سے، اس پیغام کے ذریعہ سے جو قرآن کریم میں پیار و محبت پھیلانے کیلئے دیا گیا ہے اور دین فطرت کے اظہار کے ذریعہ سے۔ پس چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ یہ اخبار جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا ان کے ممبر پارلیمنٹ جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا حکومتیں جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا دوسرے مذاہب کے جو رہنما ہیں وہ بھی جتنی چاہے کوششیں کر لیں، اللہ تعالیٰ نے جو مقدرکر دیا ہے وہ اب رک نہیں سکتا۔
گزشتہ دنوں ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ جو اپنی پارٹی بنا رہے ہیں، ان کو ان کی پارٹی سے صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ ان میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شدت پسندی تھی۔ اور اسلام کے خلاف یہ بڑے گرمجوش ہیں۔ انہوں نے پھر ایک بیان دیا جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں تھا۔ بڑا توہین آمیز بیان تھا۔ دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم کے بارے میں نہایت نامناسب اور توہین آمیز بیان دیا۔ اور یہ اسلام دشمنی میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ جو ڈنمارک کے کارٹون چھپے ان کو اپنی ویب سائٹ پر لگایا اور پھر اس کی بڑی تعریف کی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹے گا۔ قرآن کریم کے بارے میں جو بیان ہے اس میں لکھتے ہیں کہ (رپورٹ جو منگوائی تھی یہ اس کا ترجمہ ہے) قرآن مجید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لئے اس پر پابندی لگانی چاہئے اور نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے۔ اس وقت یہ شخص قرآن کے خلاف فلم بھی بنا رہا ہے۔ پہلے ان کا ریلیز کرنے کا ارادہ تھا فی الحال نہیں کر سکے۔ بہت ساری مسلمان تنظیمیں حکومت کو لکھ بھی رہی ہیں اورجماعت بھی لکھ رہی ہے۔ فلم کا نام انہوں نے ’’فتنہ‘‘ رکھا ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ تم اس میں دکھاؤ گے کیا ؟ تو کہتے ہیں کہ قرآن کا یہ حکم دکھاؤں گا کہ جب کافروں سے میدان جنگ میں ملو تو گردنیں کاٹو۔ اب جو حملہ آور ہو گا تو بہرحال دفاع کے لئے جنگ تو ہو گی۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دکھاؤں گا کہ عراق اور افغانستان میں اغوا کے بعد سر قلم کئے جاتے ہیں۔ بہرحال اس کے پیچھے بھی ایک بہت بڑا ہاتھ لگتا ہے۔ یہ ایک بڑی تنظیم کی سازش ہے لیکن وہاں بھی ردعمل ہو رہا ہے اور حکومت نے تمام مسلمانوں کے اماموں کے ساتھ، میئرزکے ذریعہ سے میٹنگیں بھی کی ہیں۔ جماعت نے بھی خط لکھے تھے اورملکہ کویہاں سے خط لکھا تھا، کابینہ کے ممبران کو بھی خط لکھے تھے اور بڑا واضح طور پر لکھا تھا کہ جو ایسی منفی اور بے بنیاد حرکتیں ہیں اس سے ہمارا پر امن معاشرہ متاثر ہو گا۔ نیز خطوں کے ساتھ میرا پیس کانفرنس (Peace Conference) کا ایک ایڈریس بھی دیا ہے۔ بہرحال ممبر پارلیمنٹ اور کافی لوگوں نے اس پہ مثبت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ سپیکر نے لکھا ہے کہ میں نے آپ کا خط تمام ممبران پارلیمنٹ کو تقسیم کروا دیا ہے اور ملکہ نے بھی اپنے کرسمس کے پیغام میں اس بات کا اظہار کیا کہ معاشرے میں بدامنی پھیلانے والے منفی بیانات سے جن سے کسی کی دلآزاری ہو، پرہیز کرنا چاہئے۔ اور اس نے یہ وزیر اعظم کو بھی پیغام بھجوایا۔ ولڈرز (Wilders) جس نے یہ مہم شروع کی تھی، اس نے یہ ملکہ کے خلاف بھی اب پارلیمنٹ میں بھیجا ہے کہ ملکہ نے میری طرف اشارہ کیا ہے اور ملکہ کا حکومت میں دخل بند ہونا چاہئے۔
بہرحال یہ ان کی کوششیں ہیں اللہ تعالیٰ انہی میں سے لوگ بھی پیدا کر رہا ہے جو رد بھی کرتے ہیں۔ بعض نیک فطرت ہیں بلکہ بہت ساری تعداد ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ نیک فطرتوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے اور یہ باز آجائیں ورنہ خدا کی تقدیر جب چاہتی ہے تو پھر اپنا کام کرتی ہے اور پھر کسی کو چھوڑتی نہیں۔
قرآن کریم پر حملہ کرتے ہوئے ایک کینیڈین عیسائی مشنری ڈان رچررڈسن (Don Richardson)نے ایک کتاب تین چارسال پہلے لکھی ہے جس کا نام ہے دی سیکرٹس آف قرآن (The Secrets of the Quran)۔ یہ بھی دل کے کینوں اور بغضوں سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات کا ترجمہ لکھ کر پھر تبصرہ کیا ہے اور ہوشیاری یہ کی ہے کہ چند ایک آیات لے کرہر جگہ مختلف جوسات آٹھ ترجمے اس کو انگلش میں ملے وہ بیان کئے ہیں۔ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا جو ترجمہ قرآن ہے اس کا بھی کچھ حصہ لیا گیا ہے اور چوہدری صاحب کے ترجمہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بائبل کے کرداروں کو عربی کی بجائے انگلش طرز پر بیان کیا گیاہے۔ لیکن حیرت ہے کہ طالوت کو بائبل کے لفظ کی بجائے عربی طرز پر لکھا ہے۔ یعنی طالوت کو طالوت ہی لکھا ہے اورنتیجہ اس کے بعد یہ نکالتا ہے کہ یہ اس لئے کیا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی غلطیوں کو غیر عرب لوگوں سے چھپایا جائے۔ یہ تو ہمارے ترجمے کا طریق ہے۔ اگر یہ اتنا ہی ایماندار ہے تو جو Five Volume Commentary ہے اس میں Foot Notes دئیے گئے ہیں اس کو بھی دیکھتا۔ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا ترجمہ تو میں نہیں دیکھ سکا لیکن جو کمنٹری ہے اس میں سورۃ البقرہ میں جہاں یہ آیت، حضرت داؤدؑکے ضمن میں آتی ہے، وہاں نیچے Foot Notes میں بائبل کے جو الفاظ ہیں وہ بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ کتاب پوری نہیں تھی کسی نے نوٹس بھیجے تھے اس لئے پورا تبصرہ تو نہیں ہو سکتا۔ بہرحال وہ کتاب میں نے منگوائی ہے۔ لیکن بظاہر اس سے جو بھی میں نے چند ایک صفحے دیکھے ہیں یا کچھ کچھ اس میں پیرے دیکھے ہیں، اسلام کے خلاف کینہ اور بغض صاف جھلکتا ہے۔ پھر ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ بہت سے آزاد خیال امریکن سمجھتے ہیں کہ 1.3بلین(Billion) مسلمان جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں تو یقینا اس میں پیغام صحیح اور سچا ہو گا۔ تبھی تو ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ ان امریکنوں کی بھول ہے اسلام میں کوئی سچائی نہیں، قرآن میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ پھرصدر بش کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے آگے لکھتا ہے کہ صدر بش اچھے آدمی ہیں لیکن بہت سے مغربی لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میں بالکل لا علم ہیں کیونکہ 9/11کے بعد انہوں نے کھلے عام دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو کرو سیڈ (Crusade)کا نام دے دیا تھا۔ مذہبی جنگ کا نام دے دیا تھا۔ یہ ان کی سادگی ہے اور ان کے کسی مشیر نے ان کو مشورہ بھی نہیں دیا۔ خلاصہ آگے اس کا یہ بنتا ہے کہ بے شک یہCrusade ہی سمجھتے لیکن کھلے عام نہ کہتے۔ کیونکہ اس سے پھر عیسائیت کا اس سے برا اثر پڑتا ہے۔
تو یہاں تک ان لوگوں کا اسلام کے خلاف اور قرآن کے خلاف بغض اور کینہ بھرا ہوا ہے لیکن ان سب اسلام دشمنوں اور قرآن کے مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وہ تعلیم ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔ یہ الٰہی تقدیر ہے اور اس کو ان کے دجل یا طاقت یا روپیہ یا پیسہ روک نہیں سکتے۔
لیکن افسوس ہوتا ہے بعض مسلمان حکومتوں پر بھی جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اپنے مقصد کو بھولی ہوئی ہیں، اپنی ظاہری شان وشوکت کی وجہ سے انجانے میں یا جان بوجھ کر اسلام کو کمزور کر رہی ہیں۔ صرف اس لئے کہ اپنی ظاہری شان وشوکت قائم رہے۔
ایک امریکن نے ایک کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اسلامی ملکوں کے جو بعض سربراہ ہیں ان کا بھی ہاتھ ہے تاکہ جو دولت ہے وہ مغرب کے ہاتھ میں آجائے اور اس میں سے اسلامی حکومتیں اپنا حصہ لیتی رہیں۔ یعنی وہ افراد حصہ لیتے رہیں۔ عوام کو تو پتہ ہی نہیں۔ ایسے لوگ جن کے دل کینوں سے پُر ہیں جو قرآن اس لئے کھولتے اور دیکھتے ہیں کہ اس میں اعتراض تلاش کئے جائیں۔ جن کے دل پتھروں کی طرح سخت ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ان کو یہ تعلیم جو قرآن کی تعلیم ہے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ جن کے دل خود کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوں، گند میں رہنے کے عادی ہوں اور اس گند میں رہنے پر پھر اصرار بھی ہو، وہ بھلا اس پاک چشمے سے کس طرح فیض پا سکتے ہیں۔ قرآن کریم میں تو خد اتعالیٰ فرماتا ہے۔

اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ۔ لَایَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ(سورۃ الواقعہ: 78-80)

کہ یقینا یہ ایک عزت والا قرآن ہے۔ ایک چھپی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔ ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَلَااُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ۔ (الواقعہ:76)

پس میں ستاروں کے جھرمٹ کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ اس آیت کو بھی شامل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان آیات کی وضاحت فرمائی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ:
‘’میں مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھاتا ہوں ‘‘ یعنی ستاروں کے جھرمٹ کی قسم کھاتا ہوں ’’اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو۔ اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں۔ بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں ’‘۔ ہر ایک انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہیں۔ ’’اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں ‘‘۔ اگر اس کا علم ہے، اس کی گہرائی ہے تواس کو وہی لوگ معلوم کر سکتے ہیں جن کے دل پاک ہیں۔ ’’(اس جگہ اللہ جلشانہ نے مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگروہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علو شان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غباردور ہو جاوے وہ ان کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جلشانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ‘‘ یعنی بہت اعلیٰ قسم کے جو گہرے نکات ہیں ان ’’کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خد اتعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہو گاکیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہے‘‘۔ گہرائی بھی ہے اور عام فہم بھی ہے جس کو اگر سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے۔ ’’اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگروہ عام فہم نہ ہوتی تو کار خانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا‘‘۔ اگر یہ ہوتا کہ قرآن کریم کی تعلیم عام فہم نہیں ہے، ہر ایک کو سمجھ نہیں آسکتی گو اس کے بہت گہرے مطالب بھی ہیں لیکن اس کے ظاہری مطلب اس کی تعلیم میں ایسی چیزیں ہیں جو عام فہم ہیں، سمجھ آجاتی ہے۔ اگر اس میں یہ نہ ہوتا تو فرمایا کہ’’کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا‘‘۔ پھر تبلیغ کس طرح ہوتی؟ لوگوں کو سمجھاتے کس طرح؟ ہر ایک تو قرآن کریم کے علم کے اتنے گہرے معارف نہیں رکھتا۔ تو یہ ہر آدمی کو سمجھ بھی آتی ہے ’’مگر حقایقِ معارف چونکہ مدارِ ایمان نہیں صرف زیادتِ عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کوچہ میں راہ دیا’‘۔ جو خاص خاص باتیں ہیں، جومعرفت کی بہت گہری باتیں ہیں ان پرصرف مدار ایمان نہیں ہے۔ یا یہ کہ صرف ان کی وجہ سے ایمان مضبوط نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف قرآن کریم کی تعلیم کا جو عرفان ہے اس میں زیادت کا موجب ہے۔ اس لئے صرف خواص کو اس کوچہ میں راہ دیا۔ صرف خاص خاص لوگوں کو اس کی باتیں سمجھائی گئی ہیں ’’کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔ )‘‘(کرامات الصادقین۔ روحانی خزائن جلد7 صفحہ52-53)
فرماتے ہیں :
’’دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے۔ چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے۔ ان کی تحصیل کیلئے تقویٰ وطہارت کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے

لَایَمَسُّہٗٓ اِلَّاالْمُطَہَّرُوْن َ(سورۃ الواقعہ: 80)۔

پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔ ‘‘
(البدر جلد3نمبر2مورخہ8 جنوری 1904ء صفحہ3)
پہلی بات توایمان کی ہے۔ ایمان کی باتیں تو ثابت ہو جاتی ہیں۔ پھر اگر مزید معرفت حاصل کرنی ہے تو تقویٰ میں ترقی کرنی ہو گی۔ جوں جوں تقویٰ میں ترقی کرتا جائے گا مزید پاک ہو تا چلا جائے گا۔ قرآن کریم کا عرفان حاصل ہوتا چلا جائے گا۔ پس قرآن کریم ان لوگوں کو جو دور کھڑے اس تعلیم کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے بغضوں اور کینوں کی وجہ سے قریب آنا بھی نہیں چاہتے۔ بلکہ دوسروں کو ورغلانے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ شیطان کا کردار جو اس نے کہاتھا کہ میں ہر راہ سے آؤں گا، ان لوگوں نے تووہ اختیار کیا ہوا ہے۔
پس قرآن کو سمجھنے کے لئے پہلے پاک دل ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اس پاکی میں پھر انسان آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اگر پاک دل ہوں گے تو پھر کچھ سمجھ آئے گی۔ پھر مزید عرفان حاصل کرنے کے لئے مزید تقویٰ میں ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ تو ایک انسان کا قرآن کریم سمجھنے کے لئے یہ معیار ہے۔ اب دیکھیں وہ خاتون بھی تھیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئیں۔ پتہ نہیں اس نے ترجمہ کس کا پڑھا تھا۔ کس حد تک وہ صحیح تھا لیکن بہرحال اس کے دل پر اثر ہوا۔ پس قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا اور اس میں چھپے ہوئے موتیوں کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ قریب آکر دیکھنا بھی ضروری ہے لیکن اگر ان پادری صاحب کی طرح صرف اعتراض کے رنگ میں دیکھے گا تو پھر اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ و ہ اس جاہل کی طرح ہے جو ستاروں کو دور سے دیکھ کر انہیں چھوٹا سا چمکتا ہوا نقطہ سمجھتا ہے۔ ایسے بے عقل لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسے حاسدوں، بغضوں اور کینوں سے بھرے ہوؤں اور ظالموں کو سوائے گھاٹے کے کسی چیز میں نہیں بڑھاتی۔ اس میں اگر شفاہے تو مومنین کے لئے ہے۔ اگر اس میں کوئی تعلیم ہے اور سبق ہے تو مومنین کے لئے ہے۔ اگر ان سے کوئی فیض پاتا ہے تو پاک دل مومن فیض پاتا ہے یا وہ فیض پانے کی کوشش کرتا ہے جو خالی الذہن ہو کر پھر اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر اس سے کوئی اپنی روحانی میل دور کرتا ہے تو پاک دل مومن کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءوَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُالظّٰلِمِیْنَ اِلَّاخَسَارًا (بنی اسرائیل:83)

اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔ پس یہ باتیں یعنی اسلام کی مخالف باتیں، جب ہم مخالفین اسلام اورمخالفین قرآن کے منہ سے سنتے ہیں تو یہ ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ خد اتعالیٰ نے تو قرآن کریم میں پہلے ہی درج فرما دیا ہے۔ اگر پہلے انبیاء کے ذکر میں بعض باتیں بیان کی ہیں تو اس لئے کہ یہ ان انسانوں کی فطرت ہے جوشیطانوں کے چیلے ہیں وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی فطرت ہے جو شیطان کے چیلے بنتے ہوئے قرآن میں نقص نکالتے ہیں۔ اگر کفار کے ذکر میں بیان ہے تو یہ پیشگوئی ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی مخالفت میں اتنے اندھے ہو جائیں گے کہ بظاہر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے اور ترقی یافتہ ملکوں کا شہری کہلانے کے اور مذہبی راہنما کہلانے کے باوجود، امن کے علمبردار کہلانے کے باوجود ایسی حرکتیں ضرور کریں گے جن سے یہ ظاہر ہو جائے کہ ان کی ظاہری حالتیں محض دھوکہ ہیں۔ یہ لوگ تو خود ایسے بیمار ہیں جن کی بیماریاں بڑھتی ہیں۔ یہ لوگ تو ایسے ہیں جو کبھی محسن انسانیتؐ کی لائی ہوئی تعلیم سے فیضیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُواالْقُرْآنَ عِضِیْنَ۔ فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ (الحجر:91 -94)

کہ اس عذاب سے جیسا ہم نے باہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔

کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ۔

جیسا ہم نے باہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔ جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کا مجموعہ قرار دیا۔

فَوَرَبِّک لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْن۔

پس تیرے رب کی قسم ہم یقینا ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔

عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔

اس کے متعلق جووہ کیا کرتے تھے۔ پس یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے صرف ان مکہ والوں کے لئے نہیں تھا جو آنحضرت ﷺ کو تنگ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ یہ نبی ﷺ تمام زمانوں کے لئے ہے۔
پس آپؐ کو تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔ کیا آج آنحضرت ﷺ کی زندگی پراستہزاء کرنے والے یا قرآن کریم کی تعلیم کو نعوذباللہ جھوٹا کہنے والے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں گے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی غیرت رکھتے ہوئے ہمیشہ کیا ہے اور کرتا ہے؟ آج بھی دشمنوں کے اس گروہ نے آنحضرت ﷺ کی ذات پر حملے کرنے کے لئے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔ ا ن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے تاکہ مختلف صورتوں میں آپ ﷺ کو اور قرآن کریم کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے۔ کتابوں کے ذریعہ، اخباروں کے ذریعے، ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ، اور اب جیسا کہ میں نے بتایا فلم کے ذریعہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے۔ تو انہوں نے آج یہ کام تقسیم کئے ہوئے ہیں۔
یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی تعلیم جھوٹی ہے۔ کینیڈین پادری جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کی کوشش اپنی کتاب میں یہی تھی اور یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ان حرکتوں کی وجہ سے تم چھوڑے جاؤ گے۔ اس کے لئے تمہیں جوابدہ ہونا ہو گا۔ سزا کے لئے تیار ہونا ہو گا اگر اپنے رویے نہ بدلے۔ اور یہ سزا اللہ تعالیٰ کس طرح دے گا ؟وہ مالک ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ لیکن یہ اصولی بات ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ اپنی شریعت کے لئے غیرت رکھتا ہے اور غیرت دکھاتا ہے۔ پس ان کے جو یہ عمل ہیں بغیر سزا کے چھوڑے نہیں جائیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا تو کوئی جھوٹا خدا ان کو نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لوگوں کو نصیحت کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ یہ قرآن آخری شرعی کتاب ہے اور یہ رسول ﷺ آخری شرعی نبی ہیں اور تمام سابقہ انبیاء کی تعلیم کے اہم حصے اس قرآن میں سمو دئیے گئے ہیں۔ بلکہ بہت سی ایسی باتیں بھی اس میں شامل کر دی گئی ہیں جن کا پہلی کتابوں میں ذکر تک نہیں تھا۔ پس پھر بھی تم لوگوں کو یہ عقل نہیں آتی کہ اس پر غور کرو۔ اپنے دلوں کو پاک کرو، سوچو، دیکھو کہ اس کے گہرے مضامین کیا ہیں ؟ بجائے یہ کہنے کے کہ 1.3بلین مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ قرآن کریم کی تعلیم حقیقی اور سچی ہے۔ سوچنا چاہئے۔ سوچو اور غور کرو کہ یہ ایک واحد کتاب ہے جو اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ یہ محفوظ رہے گی۔
گزشتہ دنوں ایک خبریہ بھی آئی تھی کہ اب بعض جگہ لوگوں نے ایک نئی طرز پہ تحقیق شروع کی ہے۔ یہ لوگ ثابت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ قرآن کریم بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں ہے۔ تو جتنی چاہے یہ کوششیں کرلیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کو کبھی جھوٹا نہیں کر سکتے۔ اس لئے غلط راستوں پر چلنے کی بجائے اس نصیحت کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِفَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (القمر:18)

اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟اس آیت کا سورۃ القمر میں ذکر ہے اور چار دفعہ ذکر آیا ہے اور ہر دفعہ کے ذکر کے بعد کسی قوم کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔ پہلی مثال عاد کی دی گئی۔ دوسری مثال ثمود کی دی گئی۔ پھر لوط کی قوم کی دی گئی۔ پھر فرعون کی دی گئی۔ ان سب نے انبیاء کاانکار کیا، انہیں جھٹلایا۔ آخر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ پس اللہ کے رحم کی جو نظر ہے اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ حد سے نہ بڑھیں۔ استہزاء میں بڑھنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔ پس ہم ان لوگوں سے ہمدردی کے جذبات کے تحت کہتے ہیں کہ خدا کا خوف کریں۔
قرآن کی تعلیم تو تمام قسم کی تعلیموں اور ضابطۂ حیات کا مجموعہ ہے۔ روحانیت کے اعلیٰ معیاروں کی یہ تعلیم دیتی ہے۔ اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کی تعلیم دیتی ہے۔ ہر معمولی عقل رکھنے والے اور اعلیٰ فہم و ادراک رکھنے والے کے لئے اس میں بیان ہے۔ پس اس میں ایک یہ بھی بات ہے کہ اگر تمہیں سمجھ نہیں آتی تو اعتراض کرنے کی بجائے اپنی عقلوں پر روؤ، نہ کہ قرآن پر اعتراض کرو۔ قرآن کی تعلیم تو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا ضروری ہے اور ایک مزکی کی ضرورت ہے۔ آج جماعت احمدیہ ہے جو اس کا فہم و ادراک اس مُزکّی سے حاصل کر کے آگے پہنچاتی ہے۔ آؤ اس سے یہ فہم وادراک حاصل کر و۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور اس انجام سے محفوظ رکھے جس کی خدا تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔
آجکل بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ا مت مسلمہ کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اگر یہ اپنی رنجشیں چھوڑ کر ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ایک ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کے اشارے کو سمجھیں تو بہت سارے شر سے محفوظ رہیں گے۔ یہی چیز ہے جو ان حملہ آوروں کے حملوں سے ان کو محفوظ رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔
ایک افسوسناک خبر کا بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں مکرم بشارت احمد صاحب مغل جو کراچی کے رہنے والے تھے ان کو 24فروری کو کچھ افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا۔

اِنَّالِلِّٰہِ وَ ِانَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

پچاس سال ان کی عمر تھی۔ صبح چھ بجے یہ نماز فجر کے لئے جا رہے تھے مسجد نہیں پہنچے توتھوڑی دیر کے بعد ان کے بیٹے نے آکر بتایا کہ میرے والد کو کسی نے گولی مار دی ہے۔ وہاں جو سڑک کی صفائی کرنے والے تھے اس نے بتایا کہ موٹر سائیکل پہ کچھ لوگ آئے تھے اور فائر کر کے، ان کو مار کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوڑ گئے۔ چار پانچ گولیاں ان کو لگیں۔ ا یک گولی گردن کے آر پار گزر گئی، دوسری چھاتی میں دل کے پاس لگی۔ ہسپتال لے جایا گیا لیکن بہرحال جانبر نہیں ہو سکے۔ مرحوم نے 1988ء میں اپنے خاندان، اپنی فیملی (بیوی بچوں) سمیت بیعت کی تھی۔ وہیں کراچی میں کام کیا کرتے تھے۔ بڑے نڈر اور دلیر آدمی تھے۔ لوگوں کی ہر وقت بڑی مدد کرتے تھے۔ نمازوں کے بڑے پابند تھے۔ نمازوں پر لوگوں کو لے کر جایا کرتے تھے۔ نماز کے لئے، صبح فجر کی نماز پر خاص طور پر جاتے وقت ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے۔ انہوں نے بڑی محنت سے وہاں منظور کالونی میں ایک خوبصورت مسجد بھی بنوائی ہے۔ ویسے یہ رہنے والے لاٹھیانوالہ فیصل آباد کے تھے۔ لیکن آجکل کراچی میں آباد تھے۔ موصی تھے۔ جنازہ ربوہ میں ہوا ہے۔ وہیں تدفین ہوئی ہے۔ ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں او رپانچ بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے اور ان کے بیوی بچوں کو صبر کی توفیق دے اوران کے نیک نمونے قائم رکھنے کی توفیق دے۔ دشمنوں کو اپنی پکڑ میں لے۔
آج کل دنیا کے بعض ممالک میں مسلمانوں کی طرف سے بھی اور غیر مسلموں کی طرف سے بھی احمدیوں کو براہ راست یا بالواسطہ تنگ کرنے کی لگتا ہے کہ ایک مہم شروع ہے-

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/yma09]

اپنا تبصرہ بھیجیں