خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍دسمبر 2008ء

ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ڈاکٹر یا طبیب کا علاج بھی اس وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ جو شافی ہے اس کی بھی مرضی ہو۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذْھِبِ الْبَاس۔ اِشْفِ وَ اَنْتَ الشَّافِی۔ لَاشِفَاءاِلَّا شِفَاءکَ۔ اِشْفِنِی شِفَاءکَامِلاً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا
کی دعا ہر ایک کو کرنی چاہئے۔
ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اذن ہو گا تو مَیں شفا پاؤں گا۔
ہر احمدی جو معالج ہے سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی عقل اور علم سے مَیں علاج تو کر رہا ہوں لیکن شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اس کا اِذن ہو گا تو میرے علاج میں برکت پڑے گی۔
مَیں احمدی طلباء سے کچھ سالوں سے یہ کہہ رہا ہوں کہ ہر قسم کی ریسرچ کے میدان میں آگے آئیں۔ یہ میدان بڑی تیزی سے ان ملکوں میں خالی ہو رہاہے اور دنیا کو اس کی ضرورت بھی ہے۔
قرآ ن کریم، احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے حوالہ سے علاج اور شفا ؤں کی فلاسفی پر بصیرت افروز نصائح

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 19؍دسمبر 2008ء بمطابق197؍فتح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

دنیا میں ہزاروں کروڑوں انسان ایسے ہیں جوروزانہ مختلف بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہوتے ہیں۔ کسی بڑے ہسپتال میں انسا ن چلاجائے تو لگتاہے کہ دنیا میں سوائے مریضوں کے کوئی ہے ہی نہیں۔ مغربی اورترقیاتی ممالک میں تو علاج کی بہت سہولتیں ہیں جن سے عام آدمی فائدہ اٹھاتاہے لیکن تیسری دنیا کے اور غریب ممالک میں اگر جائزہ لیں تو پتہ چلتاہے کہ لاکھوں مریض ایسے ہیں جواپنی غربت یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج کروا ہی نہیں سکتے۔ اوربیماری کی حالت میں انتہائی بے چارگی میں پڑے ہوتے ہیں۔ بڑی کسمپرسی کی حالت ہوتی ہے۔ پھر ان ملکوں کے ہسپتالوں کی حالت بھی ایسی ہے کہ اگر کوئی ہسپتال میں چلا بھی جائے تو پوری سہولتیں میسر نہیں۔ اگر کچھ سہولتیں ہیں تو ڈاکٹر میسر نہیں ہے اور پھر اس وجہ سے علاج نہیں ہو سکتا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں لاکھوں لوگ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور جیساکہ مَیں نے کہا جس کوعلاج کی سہولتیں مل جاتی ہیں ان کے لئے شفا اور صحت مقدر ہوتی ہے وہ شفایاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اوربہت سی تعداد ایسی بھی ہے جو اپنی اجل مسمّٰی کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور کوئی علاج بھی ان پر کارگر نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے ہیں جو اپنی غلطیوں کی وجہ سے بعض بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بظاہر ان کی عمریں بھی چھوٹی ہوتی ہیں اور صحت بھی صحیح اور ٹھیک نظر آرہی ہوتی ہے لیکن ذرا سی بیماری سے وہ باوجود علاج کے شفا نہیں پاتے یا کوئی ایسی بیماری ان کو لگ جاتی ہے جو ایک دم خطرناک ہو جاتی ہے۔ ہر ممکن طریقہ اپنی زندگی کو بچانے کا کرتے ہیں لیکن ان کی اجل مسمّٰی سے پہلے ہی ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
دنیا میں بے شمار ایسے بھی لوگ ہیں جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ بعض ممالک میں علاج کی سہولتیں نہیں ہیں اور جو علاج کی سہولت نہیں رکھتے یا جس جگہ پہ علاج نہیں ہو سکتا وہاں ان کو سہولت ہی میسر نہیں یا ان کو علاج کروانے کی طاقت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بعض کو بڑی خطرناک بیماریوں سے شفا دے دیتا ہے اور پھر وہ لمبی زندگی گزارتے ہیں یا ایسے بھی ہیں جو ہر قسم کے علاج کے ناکام ہو جانے کے بعد اپنے کسی بزرگ کی دعا سے یا کسی دو سرے کی دعا سے یا صرف اپنی دعا سے صحت یاب ہو جاتے ہیں اور یہ ساری باتیں ایک سعید فطرت انسان کو اس بات پر سوچنے اور توجہ دلانے پر مجبور کرتی ہیں اور ہونی چاہئیں کہ علاج سے بھی بغیر علاج کے بھی شفا پانا، اورعلاج کے باوجود بھی شفا نہ پانا، ان سب عوامل اور ذریعوں کے پیچھے کوئی طاقت بھی کارفرما ہے۔ کوئی ایسی ہستی ہے جو شفا کے عمل کا اصل محرک اور وجہ ہے۔ اور جیساکہ مَیں نے کہا بعض اوقات ہر قسم کے علاج کی ناکامی کے باوجود یاعلاج کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کرنے والوں کی بے چین دعاؤں سے ایک انسان جو بظاہر موت کے منہ میں گیا ہوا لگتاہے واپس آجاتاہے۔ اور یہ اس با ت کا ثبوت ہے کہ شفا کا ذریعہ صرف علاج ہی نہیں ہے بلکہ ’علاج یا نہ علاج ‘دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات شفا دینے والی ہے۔ اور یہی اسلام ہمیں بتاتاہے اور اس پر ایک مومن کو کامل یقین ہونا چاہئے اور ہوتاہے۔ ایک نیک فطرت انسان تو سوچنے کے مراحل پر ہوتاہے لیکن ایک مومن جو ہے وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ حقیقی شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ ہر مریض جو کسی بھی مومن کے سامنے شفا پاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت شافی پر اس کے یقین کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شافی ذات صرف انسان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تمام جاندار چرند، پرند حتی کہ نباتات بھی اس کے نمونے دکھا رہے ہوتے ہیں۔
آج کل تو انسان ریسرچ کرتا ہیض جانوروں پر بھی ریسرچ ہوتی ہے، ان کی صحت کا بھی علاج ہو رہاہوتا ہے۔ پودوں پر بھی ریسرچ ہو رہی ہے ان کا بھی علاج ہو رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو طریقے بتاتا ہے کہ یہ یہ ان چیزوں کے علاج ہیں۔ یہ علاج کرو گے تویہ صحت یاب ہو جائیں گے۔ آج کل کی دنیا میں زراعت ہی لے کولیں بہت سارے پودوں کی بیماریوں کی وجہ پتہ لگتی ہے اور پھر ان کا علاج دریافت ہوتا ہے اور پھر ان علاجوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کی بہتری بھی رکھی ہوتی ہے۔ اسی طرح جانوروں میں، گھریلو اور پالتو جانوروں کے علاوہ جنگلی جانوروں میں بھی یہ ریسرچ ہو رہی ہے۔ لیکن انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جسمانی شفا کے ساتھ ساتھ روحانی شفا کا بھی انتظام کیا ہوا ہے اور روحانیت کی ترقی اور اپنے قریب کرنے اورر وحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کو دنیا میں بھیجتا ہے۔ اگرانسان اپنی عقل کا صحیح استعمال کرے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا چلا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کی روحانی اور جسمانی شفا کے لئے سامان پیدا فرمائے ہیں۔
اس وقت مَیں جسمانی بیماریوں سے متعلق ہی بات کروں گا کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے شفا کا انتظام فرمایا ہوا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا اپنی دوسری مخلوق کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو مقرر کیا ہے کہ ان کے بھی علاج کرواور اس طرح جانوروں کی بیماریوں میں جیسا کہ مَیں نے کہا انسانوں کے ساتھ ساتھ بہت ریسرچ ہوتی ہے۔ انسانوں کی بیماریوں پر جو تحقیق ہے اور ان کے علاج کی جو کوشش ہے اس کی تو حد اور انتہا نہیں ہے۔ بڑے ملکوں میں بعض دفعہ بہت بڑی رقمیں صحت کے اوپر خرچ ہوتی ہیں۔ آج کل جو نئی نئی دوائیوں کی ایجادات ہیں اور مختلف آپریشنوں اور مختلف پروسیجرز (Procedures)کی جو نئی نئی تحقیق ہے، جن کے ذریعہ سے آج کل جو انسان علاج کرواتا ہے صحت یاب ہوتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عقل دی ہے اس کووہ استعمال میں لایا اور یہ علاج پیدا ہوئے۔ آج ترقی یافتہ دنیا میں بیماریوں کے علاج کی شرح بہت بہتر ہو گئی ہے۔ چند دہائیاں پہلے بعض علاج ایسے ہیں جو سوچے بھی نہیں جا سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آج بھی انسان کویہ بتا نے کے لئے کہ شافی تم نہیں بلکہ مَیں ہوں، ایسے کیس جن پر بعض اوقات ڈاکٹروں کو 100فیصد یقین ہوتا ہے کہ بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں شفاء نہیں دیتا۔ پس ایک مومن کی نظر ہمیشہ کی طرح اپنی بیماریوں میں بھی بجائے ڈاکٹروں کے اپنے شافی خدا پر ہونی چاہئے۔
آنحضرت ﷺ نے ایک ایسے ہی بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے کو جو اپنے آپ کو بڑا معالج سمجھتا تھا۔ فرمایا کہ اصل طبیب تو اللہ تعالیٰ ہے۔ ہاں تو ایک ہمدردی کرنے والا شخص ہے۔ اس بیماری کا اصل طبیب وہ ہے جس نے اسے پیدا کیاہے۔ جو بھی چیز پیدا ہوتی ہے اس کی طرف سے ہے یا انسان کی غلطیوں کے جو منطقی نتیجے نکلتے ہیں پھر قانون قدرت کے تحت انسان کو ان کے نتیجے بھگتنے پڑتے ہیں۔
اس زمانہ میں بھی اپنے آقا و مطاع کی حقیقی پیروی کرنے والے اور غلام صادق سے بھی ایک دفعہ اسی طرح کا واقعہ ہوا۔ حضرت مسیح مو عود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس شخص کو جو اپنے آپ کو بڑا ماہر طبیب سمجھتا تھااور جس کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر جو یقین تھا اس کا خانہ خالی لگتا تھا۔ آپؑ نے ایسے علاج کرنے والے کو بڑا ناپسند فرمایا اور اس سے علاج کروانے سے انکار کردیا۔
اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کو دوران سر کا عارضہ تھا۔ ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔ اسے کرایہ بھیج کر کہیں دُ ور سے بلوایا گیا۔ اس نے حضورؑ کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔ یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے علاج میں ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔ یہ کیاخدائی کا دعویٰ کرتا ہے؟ اس کو واپس کرایہ کے روپے اور مزید 25 روپے بھیج دئیے کہ یہ دے کر اس کو رخصت کر دیں۔ چنانچہ اسے واپس بھجوا دیا گیا۔ (اصحاب احمدجلد چہارم صفحہ 145۔ مطبوعہ ربوہ)
تو یہ ہے اللہ والوں کا طر یقہ کہ بیماری کی صورت میں بھی کامل یقین اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے نہ کسی معالج پر، نہ کسی دوائی پر۔ پس اس زمانے میں جب کہ نئی نئی ایجادات ہو گئی ہیں۔ ایسی لائف سپورٹ (Life Support) مشینیں بن گئی ہیں جن سے کافی لمبا عرصہ زندہ رکھا جا سکتا ہے، یا زندگی کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ جراحی کے بھی نئے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی عمریں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ ہمارے لئے آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام صادق اور زمانے کے امام کا یہ ارشاد اور یہ اسوہ ہے۔
آج سے چند سال پہلے جیسا کہ مَیں نے کہا جو بیماری ناقابل علاج سمجھی جاتی تھی آج اس کے علاج کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ اس ترقی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ انسان اب خدا نخواستہ اللہ تعالیٰ کی حکومت میں یا اس کی صفات میں برابری کا حصہ دار بن گیا ہے۔ بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ نئے علاج بھی دریافت کر رہا ہے اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ پھر اپنا فضل کرتے ہوئے انسان کو شفا بھی دے رہا ہے۔ شافی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ انسان تو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک ہمدردی کرنے والا شخص ہے اور ہر ریسرچ کرنے والے کو جو بیماریوں کے علاج کے لئے ریسرچ کرتا ہے اور ہر ڈاکٹر کو اور طبیب کو صرف دوسرے انسان اور اپنے مریض کا ہمدرد بنتے ہوئے انسان کی بہتری کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور یہی ایک مومن کی شان ہے۔ غیر تو اس طرح نہیں سوچتے لیکن ایک احمدی کی سوچ یہی ہونی چاہئے۔
پس ہر احمدی ڈاکٹر اور ریسرچ کرنے والے کو اپنے مریضوں کے لئے اس انسانی ہمدردی کے جذبہ سے کام کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ڈاکٹرز (ربوہ کے ہسپتالوں میں بھی، افریقہ میں بھی) اپنے نسخوں کے اوپر

ھُوَالشَّافِی

لکھتے ہیں۔ اگر ہر ڈاکٹر دنیا میں ہر جگہ اس طرح لکھتا ہو اور ساتھ اس کا ترجمہ بھی لکھ دے تو یہ بھی دوسروں پر ایک نیک اثر ڈالنے والی بات ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو بھی جذب کرنے والی ہو گی اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھا دے گا۔ اکثر پرانے ڈاکٹرز تو مجھے امید ہے کہ یہ کرتے ہوں گے لیکن بہت سے نوجوان ڈاکٹرز شاید اس طرف توجہ نہ دیتے ہوں۔ تو ان کو بھی مَیں اس لحاظ سے توجہ دلا رہا ہوں۔ ہر احمدی جو معالج ہے ہمیشہ سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی عقل اور علم سے مَیں علاج تو کر رہا ہوں لیکن شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اس کا اِذن ہو گا تو میرے علاج میں برکت پڑے گی اور ظاہر ہے جب یہ سوچ ہو گی تو پھر ڈاکٹر کی دعا کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی اور جب دعا کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور اس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں شفاء بھی بڑھے گی تو خداتعالیٰ کی ذات پریقین بھی بڑھے گا اور اس طرح روحانیت میں بھی ترقی ہو گی۔ اسی طرح مریض ہیں، ان کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ فلاں ڈاکٹر میرا علاج کرے گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا یا فلاں ہسپتال سب سے اچھا ہے وہاں جاؤں گا تو ٹھیک ہوں گا۔ ٹھیک ہے سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے لیکن مکمل انحصار ان پر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ شافی خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اذن ہو گا تو مَیں شفا پاؤں گا۔ اس لئے جس ڈاکٹر سے بھی ایک مریض علاج کروا رہا ہے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا رکھ دے اور اسے صحیح راستہ سمجھائے۔ ہر احمدی کویہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا دے تو اس کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے شفا دے۔ اللہ کے فضل سے جس طرح مجھے اپنے یا اپنے عزیزوں کی بیماری پر دعا کے لئے لوگوں کے خطوط آتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمدی کو علاج کے لئے خداتعالیٰ کی ذات پر بڑا یقین ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض دفعہ طبائع میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ فلاں ڈاکٹر کا علاج ہی میری کامیابی ہے اور یہ بات بھی ایک طرح سے مخفی شرک میں شمار ہو جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ جو بہت ماہر طبیب تھے۔ ان کے بہت سارے واقعات ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ مَیں اس ضمن میں بیان کرتا ہوں۔ آپ لکھتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی۔ ان کا ایک لڑکا تھا۔ وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا اور مرگیا۔ اس کے چند روزبعد مَیں گیا۔ میرے ہاتھ سے انہوں نے کسی پیچش کے مریض کو اچھا ہوتے ہوئے دیکھا۔ مجھ سے فرمانے لگیں کہ بھائی اگر تم آجاتے تو میرا لڑکا بچ ہی جاتا۔ مَیں نے ان سے کہا کہ تمہارے ایک لڑکا ہو گا اور میرے سامنے پیچش کے مرض میں مبتلا ہو کر مرے گا۔ چنانچہ وہ حاملہ ہو ئیں اور ایک خوبصورت لڑکا پیدا ہوا۔ پھر جب وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا، ان کو میری بات یادآئی۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اچھا دعا ہی کرو۔ مَیں نے کہا خداتعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں ایک اور لڑکا دے گا لیکن اس کو تو اب جانے ہی دو۔ چنانچہ وہ لڑکا فوت ہو گیا اور اس کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہوا جو زندہ رہا اور اب تک زندہ اور برسرروزگار ہے۔ یہ الٰہی غیرت تھی۔ (مرقاۃ الیقین۔ صفحہ 199)
اسی طرح حضرت میر محمد اسماعیل ؓ صاحب کا واقعہ ہے کہتے ہیں کہ 1907ء میں لاہور میو ہسپتال میں ہاؤس سرجن تھا کہ میری بڑی سالی ہمارے ہاں اپنی بہن سے ملنے آئیں۔ شاید مہینہ بھر یا کم و بیش وہ ہمارے ہاں ٹھہریں۔ وہ نہ صرف میری سالی تھیں بلکہ میری پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ وہ آئی اس طرح تھیں کہ ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی تھی جو کچھ مہینے زندہ رہ کر مر گئی۔ اس کے مرنے کے صدمہ کو بھلانے کے لئے وہ اپنی چھوٹی بہن کے ہاں آئی تھیں۔ یہاں آکر وہ کہتے ہیں کہ اس بات کا بار بار ذکر کیا کرتی تھیں کہ اگر میرے بہنوئی ڈاکٹر صاحب (یعنی ڈاکٹر میراسماعیل صاحب) میرے پاس ہوتے تو میری لڑکی نہ مرتی۔ جب انہوں نے کئی دفعہ اس بات کا ذکر کیا تو مجھے خداتعالیٰ کے متعلق بڑی غیرت آئی۔ مَیں نے کہا کہ اب ان کے ہاں ضرور ایک لڑکا پیدا ہو گا اور وہ میرے زیر علاج رہ کر میرے ہی ہاتھوں مرے گا۔ بات گئی آئی ہو گئی۔ کہتے ہیں پھر اس کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اور وہ چلہ کرکے اپنی بہن کو ملنے کے لئے اس بچے کے ساتھ آئیں اور رستے میں تھرمس میں گرم دودھ ڈالنے کی وجہ سے دودھ پھٹ گیا اور وہ وہی پلاتی رہیں جس کی وجہ سے بیٹے کو سخت تکلیف ہو گئی اور ہر قسم کا علاج کیا۔ اس کا پیٹ خراب ہو گیا۔ خود بھی ڈاکٹر صاحب نے علاج کیا اور دوسروں سے بھی علاج کروایا لیکن کہتے ہیں کہ بچہ اچھا نہ ہوا اور دو ہفتہ بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔ ان کے ہاں نرینہ اولاد کی کمی تھی۔ ماں کو سخت صدمہ تھا۔ تو میر صاحب کہتے ہیں مجھے اس وقت وہ بات یاد آئی جو مَیں نے چھ سال پہلے لاہور میں کہی تھی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا اور وہ میرے ہاتھوں مرے گا۔ تاکہ ان کا شرک ٹوٹے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ (آپ بیتی از حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب صفحہ نمبر 30-29)
تو یہ وہ لوگ تھے جو ہر قسم کے مخفی شرک سے بھی اپنے آپ کو بچاتے تھے اوردوسروں کو بھی خداتعالیٰ کی ذات کی حقیقی پہچان کروا کر شرک سے بچانے والے تھے۔ ان کے دل خدا تعالیٰ کی یاد پر یقین سے بھرے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوت قدسی نے اس کو اور نکھار دیا تھا۔ پس ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ڈاکٹر یا طبیب کا علاج بھی اس وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ جو شافی ہے اس کی بھی مرضی ہو۔
پس اس کی صفت کے واسطے سے مریض کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے دوائی بھی رکھی ہے۔ یہ ریسرچ کرنے والے جو مختلف بیماریوں کی نت نئی دوائیاں نکالتے ہیں تو یہ ان چیزوں سے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ بے شمار جڑی بوٹیاں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔ بعض کیڑے مکوڑے ہیں۔ بعض زہریلے جانور ہیں جن کے زہر میں بھی اللہ تعالیٰ نے شفاء رکھی ہے۔ سانپ کے زہر سے بھی دوائیاں بنتی ہیں۔ وہی زہرجو اگر براہ راست سانپ کے کاٹے سے انسان کے جسم میں جائے تو موت کا سبب بن جاتا ہے لیکن وہی زہر جب دوائی کی صورت میں استعمال ہوتا ہے تو تریاق بن جاتا ہے۔ پس یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے علاج کے لئے دوائیں بھی مہیا فرمائی ہیں اور پھر انسان کو عقل بھی دی کہ ان کا استعمال کس طرح کرنا ہے۔
قرآن کریم نے شفاء کے حوالے سے خاص طورپر شہد کا ذکر کیا ہے اور اسے

شِفَآءلِّلنَّاسِ

کہا گیا ہے یعنی انسانوں کے لئے شفا ہے اور اس بات کو مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلمانوں نے سمجھا ہے اور جتنی ریسرچ شہد پر ہو رہی ہے۔ اور اس کے خواص بیان کئے جاتے ہیں اور مختلف طریقوں سے مختلف کمبینیشنز (Combinations) بنائی جاتی ہیں۔ اس کی مختلف قسمیں ہیں رائل جیلی (Royal Jelly)ہے۔ اس کے بھی خواص ہیں۔ اس پر بیشمار ریسرچ دنیا میں اس پر ہو رہی ہے اور ہوئی بھی ہے اور ہر ایک یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں شفا ہے۔ اورPropolis دوائی بھی اس سے بنی ہے۔ اس سے تو آئنٹمنٹس (Ointments) بن رہی ہیں۔ یعنی ایسے زخم جو بعض دفعہ کسی بھی دوائی سے ٹھیک نہیں ہو رہے تھے شہد کی آٹنٹمنٹ کی دوائی سے ٹھیک ہوتے رہے۔
آج کل شہد کی مکھیوں کے چھتوں پر ایک خاص قسم کے کیڑے کا بھی حملہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے شہد پر ریسرچ کرنے والے بڑے پریشان ہیں یا پالنے والے بھی پریشان ہیں اور یہ دنیا میں بڑے وسیع پیمانے پر ہوا ہے کسی خاص ملک میں نہیں۔ یہ کیڑے کا حملہ ہے جو شہد کی مکھیوں کی موت کا باعث بن جاتا ہے اور شہد کی مکھی کے چھتے میں باوجود بہت ساری حفاظتی روکیں ہوتی ہیں۔ داخل ہونے سے پہلے اینٹی بایوٹک کی قسم کی ایک چیز ان کے سوراخوں میں لگی ہوتی ہے اور جن سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو صاف کر رہی ہوتی ہیں اس کے باوجود ان روکوں سے گزر کر یہ کیڑا حملہ کر رہا ہے اور مکھیوں کی مو ت کا باعث بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا اس کی وجہ سے مکھیاں پالنے والے بھی اور ریسرچ والے بھی بڑے پریشان ہیں۔ اس پر بڑی تحقیق ہو رہی ہے کہ اس کیڑے کو کس طرح ختم کیا جائے اور پھراس بیماری سے کس طرح چھٹکارا پایا جائے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر یہی حال رہا تو چند سالوں میں شہد کی مکھی نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ یا بعض جگہوں پر بالکل ختم ہو جائے گی۔ مَیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے یہ اندازے غلط ہیں کہ مکھی ختم ہو جائے گی یا شہد ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ مثال جو قرآن کریم نے دی ہے یہ مثال ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ ختم نہیں ہو گا۔ جس طرح قرآن کریم نے رہتی دنیا تک رہنا ہے۔ یہ چیزیں بھی ساتھ ساتھ چلیں گی جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ شفاء بھی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت دکھانے کے لئے اور انسان کے بڑھے ہوئے شرک کی وجہ سے سزا کے طور پر اس میں کمی کر دے۔ احمدیوں کو بھی ریسرچ میں آنا چاہئے۔ کیونکہ شہد کی مکھی کا سلسلہ بھی وحی کے سلسلے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا جو وحدانیت اور وحی سے خاص طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اس سوچ کی وجہ سے میں احمدیوں کو کہہ رہا ہوں کہ احمدیوں کو شہد کی مکھی کی ریسرچ میں آکر اس وجہ کو تلاش کرنا چاہئے جس سے باہر کے کیڑے نے آکر شہد کے چھتوں میں یہ فساد پیدا کیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس وقت کوئی احمدی اس فیلڈ میں ہے کہ نہیں اگر کوئی ہے تو مجھے اس بارہ میں بتائیں۔
ضمناً مَیں یہ بھی کہہ دوں کہ مَیں احمدی طلباء سے کچھ سالوں سے یہ کہہ رہا ہوں کہ ہر قسم کی ریسرچ کے میدان میں آگے آئیں۔ یہ میدان بڑی تیزی سے ان ملکوں میں خالی ہو رہاہے اور دنیا کو اس کی ضرورت بھی ہے۔ اس سے ترقی یافتہ ملکوں میں احمدیوں کے پاؤں بھی جمیں گے اور جو دوسرے ملکوں سے آئے ہیں۔ اور جو یہاں کے احمدی ہیں ان کو تو کرنا ہی چاہئے۔ اس ریسرچ کی وجہ سے وہ اپنے ملکوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ تو بہرحال یہ بات ہو رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بیماریوں کے علاج بھی پیدا کئے ہوئے ہیں اور اس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور احادیث میں بھی ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعض احادیث پیش کرتا ہوں جن میں آپؐ نے بعض بیماریوں کے لئے علاج بیان فرمایا ہے۔
حضرت سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ اپنا ہاتھ میری چھاتی پر رکھا یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک مَیں نے دل پر محسوس کی۔ آپ نے فرمایاتمہیں دل کا مرض ہے۔ تم ثقیف قبیلہ کے حریف حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ طبابت کرتا ہے۔ اسے چاہئے کہ سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالے اور پھر ان کی دوائی بنا کر تیرے منہ میں ڈالے۔ تو دل کی بیماری کے لئے عجوہ کھجوروں کی طرف نشاندہی فرمائی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الطب باب فی تمرۃ العجو ۃ۔ حدیث نمبر 3875)
پھر حضرت عباسؓ سے روایت ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تین چیزوں میں شفا ہے۔ شہد کے گھونٹ میں، نشتر سے چیر لگانے میں یعنی جراحی (سرجری جسے کہتے ہیں) اور آگ سے داغنے میں، آگ سے بھی علاج کیا جاتا تھا زخموں کو جلایا جاتا تھا۔ فرمایا کہ مَیں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ (بخاری کتاب الطب۔ باب الشفاء فی ثلاث۔ حدیث نمبر5680)
پھر ایک روایت میں حضرت خالد بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے اور ہمارے ساتھ غالب بن ابجر تھا وہ راستے میں بیمار ہو گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو بیمار ہی تھا۔ ابن ابی عتیق ان کی عیادت کے لئے آئے تو انہوں نے ہم سے کہا کہ تم سیاہ دانے کو استعمال کرو۔ اس میں سے پانچ یا سات دانے لے کر پیس لو۔ پھر اسے تیل کے ساتھ ملا کر قطروں کی صورت میں اس کی ناک میں ڈالو۔ اس طرف سے بھی اور دوسری طرف سے بھی، دونوں طرف سے۔ کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بے شک یہ سیاہ دانہ ہر بیماری سے شفاء کا ذریعہ ہے سوائے سَام کے۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا سام کیا ہے آپ نے فرمایا موت۔ (یہ سیاہ دانہ کلونجی ہے)۔ (بخاری کتاب الطب باب الحبۃ السوداء۔ حدیث نمبر 5687)
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت سعید بن زید کہتے ہیں کہ مَیں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کھمبی مَنّ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا کا باعث ہے۔ (کھمبی جو مشروم ہوتی ہے)۔ (بخاری کتاب الطب باب المن شفاء للعین۔ حدیث نمبر 5708)
اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخار جہنم کا شعلہ ہے پس تم اسے پانی سے بجھاؤ۔ (بخاری کتاب الطب باب الحمی من فیح جہنم۔ حدیث نمبر 5723)
ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بڑا شدید بخار تھا تو یہ صحابی پوچھنے گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ کے اوپر پانی کا مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی آپ کے جسم پر گر رہا تھا۔ تو یہ علاج آنحضرت ﷺ خود بھی کیا کرتے تھے۔
پھرحضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو چاہئے کہ اسے پوری طرح غوطے دے، اس میں ڈبو دے، پھر اس کو پھینک دے کیونکہ اس کے پروں میں سے ایک میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہے۔ (بخاری کتاب الطب۔ باب اذا وقع الذباب فی الاناء۔ حدیث نمبر 5782)
آنحضرت ﷺ نے چودہ سو سال پہلے یہ مکھی کے بارہ میں یہ جو ہمیں بتایا ہے۔ آج کے سائنس دان بھی اس پر ریسرچ کر رہے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اس میں ایسی چیز ہے جو بیکٹیریا کو ختم کرتی ہے۔ ایک ریسرچ کرنے والے نے لکھا ہے کہ مکھی کوEthenol میں ڈبو کر اس کو بعض قسم کے بیکٹیریا بشمول ہسپتال کے پیتھوجن (Pathogen) پر استعمال کیا گیا تو اس میں اینٹی بایوٹک عمل ظاہرہوا اور جتنے بیکٹیریا تھے وہ مر گئے۔
ایک اور ریسرچ ٹوکیو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے کی ہے۔ کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہسپتالوں میں مکھیاں اینٹی بایوٹک کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ مکھیوں میں ایسی چیز بھی نکلی ہے جو قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔ رزسٹنس(Resistance) پیدا کرتی ہے۔ یا امیون سسٹم(Immune System) کو ڈویلپ کرتی ہے۔ مکھیوں کی ریسرچ کی طرف سائنسدانوں کا خیال اس لئے بھی گیا کہ مکھیاں گندی جگہوں پر بیٹھتی ہیں۔ بہت ساری بیماریوں کو لئے پھرتی ہیں۔ کالرا (Cholara)وغیرہ کے جراثیم بھی اس میں ہوتے ہیں لیکن یہ خود کسی بیماری سے متاثر نہیں ہوتیں۔ اس بات کی وجہ سے ان کو اس پہ ریسرچ کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ اور تب انہوں نے دیکھا کہ اس میں اینٹی بیکٹیرئیل (Ani Bicterial)قسم کی کچھ چیزیں پائی جاتی ہیں۔ یہ بھی انہوں نے دیکھا کہ جب مکھی کسی سیال (Liquid) چیز پانی یا دودھ وغیرہ میں گرتی ہے تو اس کو بیماری کے بعض جراثیم سے خراب کر دیتی ہے۔ اس کے پروں پر جو جراثیم لگے ہوتے ہیں فوری طورپر وہاں ان کا اثر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس مکھی کو ڈبو دیا جائے تو اس میں سے ایسے انزائمز نکلتے ہیں جو ارد گرد کے بیکٹیریا کو فوراً مار دیتے ہیں۔ تو اسلام کے شافی خدا کی یہ عجیب حیرت انگیز شان ہے جس نے اپنے نبی ﷺ کو آج سے 14سو سال پہلے علاج کے یہ طریقے سکھا دئیے جن پر آج دنیا ریسرچ کر رہی ہے۔ لیکن ان سب علاجوں کی نشاندہی کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو خاص طور پر یہی بتایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دعا علاج ہے، صدقہ علاج ہے، علاج کے ساتھ صدقہ اور دعا کرو۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ تم اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ساتھ کرو اور اپنے اموال کو زکوٰۃ کے ذریعہ محفوظ کرو کیونکہ یہ تم سے مشکلات اور امراض کو دور کرتی ہے۔ (کنزالعمال جلد 5الکتاب الثالث من حرف الطاء۔ کتاب الطب والرقی الفصل الاول۔ حدیث نمبر 28179)
پھر ایک حدیث میں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ نبی کریم ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے پناہ مانگتے اور اپنے داہنے ہاتھ کو چھو تے اور فرماتے، اے اللہ! لوگوں کے ربّ، بیماری کو دور کر دے، تو اسے شفا عطا کر اور تو ہی شافی ہے۔ تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفا عطا کر جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔

اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذْھِبِ الْبَاس۔ اِشْفِ وَ اَنْتَ الشَّافِی۔ لَاشِفَاءاِلَّا شِفَاءکَ۔ اِشْفِنِی شِفَاءکَامِلاً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔

پس یہ اصل ہے جس پر ایک مومن کو کامل ایمان ہونا چاہئے کہ علاج بھی بے شک خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے ہیں اور اس کے بتائے ہو ئے طریق پر ہی ہوتے ہیں۔ لیکن انحصار صرف اور صرف خداتعالیٰ کی ذات پر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو شفا دینے والی ہے۔ جب سب علاج بے کار ہو جاتے ہیں تو دعا سے اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے۔ اس کے بارہ میں بھی ہمیں آنحضرت ﷺ کی زندگی میں واقعات ملتے ہیں۔ آپؐ کے صحابہ ؓ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ملتے ہیں۔ آپؑ کے صحابہ ؓ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک ہم شفا پانے اور احیاء موتیٰ کے نشان دیکھتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بیٹے کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ دیوانہ ہے اور ہمارے کھانے کے اوقات میں اس کی دیوانگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو خاص طور پر کوئی دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے کھانے کو برباد کر دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کی چھاتی پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا کی۔ اس بچے نے قے کر دی اور اس کے منہ سے کوئی سیاہ رنگ کی چھوٹی سی چیز نکلی اور اس نے چلنا شروع کر دیا۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ (مسند احمد بن حنبل۔ مسند عبداللہ بن عباس۔ جلد اول صفحہ 634۔ ایڈیشن1998ء۔ حدیث نمبر 2133)
پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت سلمیؓ کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا۔ مَیں نے پوچھااے ابومسلم یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم آیا تھا۔ لوگوں نے بیان کیا کہ حضرت سلمیٰ کو زخم آیا ہے۔ مَیں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ تو آپ نے اس زخم پہ تین بار پھونک ماری تو اس کے بعد مجھے آج تک کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ (بخاری کتاب المغازی۔ با ب غزوۃ ذا ت قرد۔ حدیث نمبر 4206)
اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں اس طرح کے نشان ملتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک موقع پر خود فرماتے ہیں کہ سردار نواب محمد علی خان صاحب مالیرکوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خان ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہ دیتی تھی۔ گویا کہ وہ مردہ کے حکم میں تھا۔ اس وقت مَیں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔ تب مَیں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ یا الٰہی ! مَیں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں، اس کے جواب میں خداتعالیٰ نے فرمایا۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہُ اِلَّا بِاِذْنِہٖ (البقرۃ:255)

یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔ تب میں خاموش ہو گیا۔ بعد اس کے بغیر توقف کے الہام ہوا

اِنَّکَ اَنْتَ الْمَجَاز

یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تب مَیں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خداتعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن میں آیا، تندرست ہو گیا اور زندہ موجودہے۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن۔ جلد 22۔ صفحہ230-229)
حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ 1904ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب بہت بیمار ہو گئے تھے اور اس بیماری کی حالت میں ایک وقت تنگی اور تکلیف کا ان پر ایسا آیا کہ ان کی بیوی مرحومہ نے سمجھا کہ ان کا آخر ی وقت ہے۔ وہ روتی چیختی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچیں۔ حضورؑ نے تھوڑی سی مشک دی کہ انہیں کھلاؤ اورمَیں دعا کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اسی وقت وضو کرکے نماز میں کھڑے ہو گئے صبح کا وقت تھا۔ حضرت مفتی صاحب کومُشک کھلائی گئی اور ان کی حالت اچھی ہونے لگی۔ تھوڑی دیر میں طبیعت سنبھل گئی۔ (سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ۔ جلد پنجم صفحہ510)
منشی ظفر احمد صاحب کہتے ہیں کہ ایک د فعہ مولوی محمداحسن صاحب امروہی ایک رشتہ دار کو امروھہ سے قادیان لائے وہ شخص فربہ اندام موٹا تھا۔ 60-50سال کی عمر کا ہو گا اور کانوں سے اس قدر بہرہ تھا کہ سننے کے لئے ایک ربڑ کی نلکی کانوں میں لگایا کرتا تھا اور زور سے بولتے تو قدرے سنتا تھا۔ حضرت صاحب ایک دن تقریر فرما رہے تھے اور وہ بھی بیٹھا تھا۔ اس نے عرض کی کہ حضور مجھے بالکل سنائی نہیں دیتا۔ میرے لئے دعا فرمائیں کہ مجھے آپ کی تقریر سنائی دینے لگے۔ آپ نے دوران تقریر میں اس کی طرف روئے مبارک کرکے فرمایا کہ خدا قادر ہے۔ اسی وقت اس کی سماعت کھل گئی، سننے لگا اور کہنے لگا۔ حضور آپ کی ساری تقریر مجھے سنائی دیتی ہے اور نلکی بھی اس نے ہٹا دی۔ (اصحاب احمد۔ جلد چہارم۔ صفحہ 179)
میاں نذیر حسین صاحب ابن حضرت حکیم مرہم عیسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت میاں چراغ دین کے ہاں پہلا بچہ یعنی ہمارے والد صاحب حکیم مرہم عیسیٰ صاحب پیداہوئے تو آپ پانچ سال کی عمر تک نہ چلنا سیکھے اور نہ بولنا۔ اس پر ایک روز جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ ہمارے دادا محترم نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ حضورؑ میرا صرف ایک ہی لڑکا ہے اور وہ بھی گونگا اور لُنجا ہے۔ حضور دعا فرمائیں کہ تندرست ہو جائے۔ حضو ر نے فرمایا میاں صاحب اس بچے کو لے آئیں۔ چنانچہ حضور نے محترم حکیم صاحب کو اپنی گود میں لے کر ایک لمبی دعا کی اور فرمایا کہ خداتعالیٰ چاہے گا تو یہ بچہ درست ہو جائے گا۔ چنانچہ حضور جب دوبارہ تشریف لائے تو حضرت میاں چراغ دین صاحب سے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرما لی ہے۔ آپ کا یہ بچہ بڑا بولنے والا اور چلنے والا ہو گا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت حکیم صاحب کو 90-80 سال کی عمر میں اس قدر اونچی اور مسلسل بولتے دیکھا کہ ہم حیران رہ جاتے تھے۔ (تاریخ احمدیت لاہور۔ صفحہ 167)
حضرت شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ مَیں قادیان آیا تو حضرت صاحب گول کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ مجھے شدید کھانسی تھی اور کسی طرح ہٹتی نہیں تھی۔ کئی علاج کر چکا تھا جیسا کہ حضور کی عادت تھی۔ فرمایا میاں زین العابدین کیسے آئے؟ عرض کیا کہ حضور کھانسی ہے اور اس قدر شدید ہے کہ پتہ نہیں تھا کہ دوسرا سانس آئے گا یا نہیں۔ فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ کتنے عرصے کی ہے۔ عرض کیا کہ چھ ماہ کی۔ فرمایا کہ اب تک اطلاع کیوں نہ دی۔ اب تو بیماری پرانی ہو چکی ہے۔ پھر فرمایا اچھا امیرانہ علاج کروانا ہے یا غریبانہ؟ تو عرض کیا جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ فرمایاکہ زمیندار بالعموم غریب ہی ہوتے ہیں۔ اچھا علاج کے لئے آپ کتنے پیسے لائے ہیں۔ عرض کیا پانچ روپے۔ فرمایا لاؤ۔ مَیں نے دے دئیے۔ فرمایا جاؤ اب آپ کو آئندہ کبھی کھانسی نہیں ہو گی۔ مَیں نے عرض کیا جیسا کہ میری عادت تھی کہ بڑی بے تکلفی سے سب کچھ کہہ دیتا تھا۔ حضور جانتے تھے کہ زمیندار سادہ طبیعت ہوتے ہیں۔ اس لئے حضور برا نہیں مناتے تھے کہ کیا حضور کے پاس کوئی جادو ہے کہ حضور کا صرف زبان سے کہہ دینا بیماری دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا مَیں جو کہتا ہوں بیماری نہیں ہو گی۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے بھائی حافظ حامد علی صاحب آگئے حضور نے فرمایا حامد علی! ہم نے آپ کے بھائی سے پانچ روپے لئے ہیں اور ان کو کہہ دیا کہ آپ کو اب کھانسی نہیں ہو گی۔ مگر گاؤں کے لوگوں کو تسلی نہیں ہوتی جب تک ان کو دوا نہ دی جائے ان کو بازار سے ملٹھی دھیلے کی، اور بادام دھیلے کے، الائچی دھیلے کی اور منقّہ دھیلے کالا کر دیں۔ تو جب وہ لے آئے (کیونکہ دھیلے کی بھی کافی چیزیں مل جاتی تھیں) تو حضرت صاحب نے خود گولیاں بنا دیں اور فرمایا میاں زین العابدین آپ کی کھانسی بھی دور ہو جائے گی اور پانچ روپے میں موٹے تازے بھی ہو جاؤ گے۔ کھانسی تو آپ کی دور ہو گئی۔ اب یہ پانچ روپے لے لو اور اس کا گھی استعمال کرو موٹے بھی ہو جاؤ گے۔ کہتے ہیں میں نے بڑا اصرار کیا کہ حضور یہ رکھ لیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا نہیں۔ آپ کو کوئی فیس کی ضرورت تو نہیں تھی۔ یہ تو ایک شفقت کا پیار کا اظہار تھا مریدوں سے۔ (اصحاب احمد۔ جلد 13صفحہ97-96۔ مطبوعہ ربوہ)
پس اصل چیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ شافی خدا ہے۔ علاج بھی اس وقت فائدہ دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ دوا تو اندازہ ہے اور وہ اللہ کے اذن سے ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب اپنے ربّ کی خصوصیات بیان کیں۔ اس کے فضل اور اس کی قدرت کا ذکر کیا تو فرمایا

وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْن

کہ جب مَیں بیمار ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے۔
یہاں آپ نے’’مَیں بیمار ہوتا ہوں ‘‘ کہہ کروہی بات بیان کی ہے کہ بعض دفعہ انسان اپنی غلطیوں کی وجہ سے پکڑا جاتاہے اور پھر ان غلطیوں کی وجہ سے بعض بیماریاں اس کو آجاتی ہیں کیونکہ قانون قدرت چلتا ہے۔ تو فرمایا کہ جب مَیں بیمار ہوتاہوں تو اللہ تعالیٰ شفا دیتاہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہی فضل فرمائے تو پھر انسان شفا پاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو جتنے مرضی انسان علاج کر لے انسان نہیں بچتا۔ پس حضرت ابراہیمؑ نے یہ فرمایا۔ کہ مَیں اپنی غلطیوں کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں اور میرا خدا اپنے فضل سے مجھے شفاء دے دیتا ہے اور یہ سب دوائیاں جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں جو ہمیں میسر ہیں اور پھر ان کے استعمال سے شفا بھی اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتا ہے۔
پس ان سب علاجوں کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے سے حاصل ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سن کر اپنے شافی ہونے کی صفت کو بھی حرکت میں لاتا ہے اور مزید شفا پاتا ہے اور بعض دفعہ صرف دعا ہی کام کرجاتی ہے جیسا کہ میں نے بعض واقعات سنائے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا ادراک حاصل کرنا یہی اصل میں مومن کی شان ہے۔
اللہ کرے کہ ہم سب یہ حاصل کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے ہمارے سب مریضوں کو شفا عطا فرمائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں