خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ 2؍اپریل2004ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی عبادت کرنے والا ہو
انشاءاللہ کوئی بچہ مالی کمزوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان پر ظلم ہے۔
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
2؍اپریل2004ء بمقام بوبوجلاسو، بورکینافاسو (مغربی افریقہ )

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ:۲۲)

اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی عبادت کرنے والا ہو۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اس بارے میں حکم فرمایا ہے۔ یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! اپنے پیدا کرنے والے رب کی عبادت کرو۔ یہی خدا ہے جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو تم سے پہلے تھے ان کو بھی پیدا کیا اور تمہیں بھی یہی حکم ہے اور تمہارے سے پہلے لوگوں کو بھی یہی حکم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں- اور ایک خدا کی عبادت کرکے ہی تقویٰ پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں قائم رہ سکتی ہے۔
لیکن پہلوں نے اس حکم کو بھلا دیا وہ ایک خدا کی بجائے کئی خداؤں کی عبادت کرنے لگ گئے۔ کسی نے تین خداؤں کی عبادت کرنی شروع کر دی، کسی نے بتوں کی پوجا کرنی شروع کر دی،کسی نے دنیاوی جاہ و حشمت کو اپنا خدا بنا لیا۔ اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کا خوف، اس کی خشیت ان کے دلوں میں قائم نہ رہی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! سن لو کہ اگر تقویٰ اختیار کرنا ہے تو تقویٰ اس کا نام ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔ اور عبادت کے صحیح طریقے تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی خوبصورت شریعت کی پیروی سے ہی حاصل ہوں گے۔ لیکن یاد رکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ ایک زمانے کے بعد مسلمان بھی اس کو سمجھنے میں غلطی کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکیں گے۔ بعض ایسی حرکتیں کرنی لگ جائیں گے جن سے اظہار ہو کہ وہ عبادالرحمن نہیں رہے۔ تب مسیح موعود اور مہدی معہود کا ظہور ہو گا اور وہ بتائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی صحیح صورت کیا ہے، تشریح کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریق کیاہیں-
الحمدللہ کہ آپ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہوں نے ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی مسیح موعود اور مہدی موعود کی آواز کو سنا اور اس کو مانا۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ پس اس فضل کے شکرانے کے طور پر ہم پر مزید فرض عائد ہو جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف اور توجہ دیں- لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عبادت کے طریق کیا ہیں- کیا صرف منہ سے نماز کے الفاظ دہرا لینا اور ظاہری رکوع و سجود کرلینا کافی ہے؟ کیا یہی باتیں یعنی ظاہری حرکات ہمیں اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندوں میں شمارکرنے کے لئے کافی ہوں گی؟ یاد رکھیں کہ عبادت کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے عبادت کے طریق سمجھیں- کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ فہم اور علم عطا فرمایا ہے جس کو آپؑ نے ہم تک پہنچایا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے ( یعنی بنیادی مقصد یہی عبادت ہے)۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا

مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ (الذّاریٰت :۵۷)

یعنی عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت کجی کو دور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ (یعنی دل کی سختی اور کجی کو دور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے)۔ عرب کہتے ہیں کہ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ جیسے سرمہ کو باریک کرکے آنکھ میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں- اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر پتھر ناہمواری نہ رہے اور ایسا صاف ہو گویا روح ہی روح ہو، اس کا نام عبادت ہے۔ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے۔ اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں-پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری کے کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۴۳۔جدید ایڈیشن)
تو یہ معیار ہیں ہماری عبادت کے جو حضرت مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃوالسلام ہم سے توقع رکھتے ہیں- کہ ہمارے دل صاف ہو کر اس طرح خداتعالیٰ کے آگے جھکیں،اس طرح اس کی عبادت بجا لائیں کہ ان میں خدا نظر آنے لگے۔ یعنی ہماری کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو خدا کے حکم کے خلاف ہو بلکہ ہماری سوچیں بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنے والی ہوں- جب ہماری یہ کیفیت ہو جائے گی تو تب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے کہلا سکتے ہیں- ورنہ تو دنیا کی ملونیاں اور اس کے گند ہمارے دلوں میں ہیں-
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں : پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خداتعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو، میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے۔ اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ:’’ میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو یا بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں- اسلام تو انسان کو چست اور ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔ اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جدوجہد سے کرو، حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تردّد نہ کرے تو اس کا مواخذہ ہو گا۔ پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کاروبار جو تم کرتے ہو دیکھ لو کہ خداتعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ اور اس کے ارادے سے باہر نکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدم نہ کرو‘‘۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۱۸۔ جدید ایڈیشن)
تو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ عبادت کرنے سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ دنیا کو چھوڑ دے اور اپنے معاشرے اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لے۔ فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محنت سے اپنے دنیاوی کام بھی کرنا تم پہ فرض ہے۔ لیکن یہ کام تمہیں عبادت سے روکنے والے نہ ہوں- اگر تم کاروباری آدمی ہو تو محنت سے کاروبار کرو۔ اگر تم زمیندار ہو تو اپنی زمین پر دوسروں سے زیادہ محنت کرو۔ اگر تم کہیں ملازم ہو تو محنت سے کام کرو اور دنیا کو یہ پتہ چلے کہ احمدی کی شان ہے کہ وہ اپنے دنیاوی کام بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتا ہے۔ اور وہ اپنی عبادات بھی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بجا لاتا ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعو علیہ السلام نے ہمیں عبادت کے طریق کس طرح سکھائے ہیں- ایک حدیث کی وضاحت میں آپ فرماتے ہیں کہ صلوۃ ہی دعا ہے اور نماز ہی عبادت کا مغز ہے۔
اور نماز کے بارے میں جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے کہ باجماعت ادا کرنی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

وَاَنْ اَقِیْمُوْاالصَّلٰوۃَ وَاتَّقُوْہُ۔وَھُوَالَّذِیٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (انعام ۷۳)

اور یہ کہہ دے کہ نماز قائم کرو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو وہی ہے جس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔ تو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نماز قائم کرو۔ اور نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی کرو۔ پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں اور پانچ وقت نماز کے لئے مسجدوں میں آئیں- اور نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی مساجد میں نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں- اور ہماری مساجد اتنی زیادہ نمازیوں سے بھرنی شروع ہو جائیں کہ چھوٹی پڑ جائیں- خدا کرے کہ ہم اس کے عابد بندے بن سکیں- اور خداتعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرنے والے ہوں-
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’ خداتعالیٰ کی یہ عادت ہرگز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلت کی موت دیوے۔ جو اس کی طرف آتا ہے ہرگز ضائع نہیں ہوتا۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامراد رہا۔ خداتعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے، جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اور ہر ایک مشکل سے خود بخود اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے۔

وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبْ ( الطلاق :۳۔۴)

اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں- خداتعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتاہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (الزلزال:۸)

ہمارے ملک ہندوستان میں جو اولیاء گزرے ہیں جن کی عزت کی جاتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ خداتعالیٰ سے ان کا سچا تعلق تھا۔ اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوں میں ہل چلاتے، معمولی کام کرتے، مگر خداتعالیٰ سے سچے تعلق کی وجہ سے لوگ ان کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں- (البدر جلد ۲ نمبر ۱۴۔۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۷)
پھر جیسا کہ میں نے کہا صرف خود ہی نیک اور عبادت گزار نہیں بننا بلکہ اپنی اولادوں میں بھی یہ نیکی پیدا کرنی ہے۔ صحیح عبادت کرنے والا وہی ہے جو اپنی اولاد میں بھی یہی نیکی قائم رکھتا ہے۔ ایک روایت ہے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، یا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں- تیسرے نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔( صحیح مسلم عن ابی ہریرہ)۔ پس نیک لڑکا جو دعائیں کرنے والا ہو گا، وہ بھی اس کے لئے ایک طرح کا صدقہ جاریہ ہی ہے۔ ہر احمدی کو اپنی اولاد کی تربیت کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔
پھر ایک روایت ہے حضرت ایوبؓ اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلیٰ تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔ (ترمذی ابواب البر والصلۃ باب فی ادب الولد)
پھر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا اس کے لئے صدقہ دینے سے زیادہ بہتر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاکیزہ خوراک وہ ہے جو تم خود کما کر کھاؤ اور تمہاری اولاد بھی تمہاری عمدہ کمائی میں شامل ہے۔ (ترمذی ابواب الاحکام باب ان الولدیاخذ ما مال ولدہ)
اولاد کی عمدہ کمائی سے مراد یہ ہے کہ ایسے رنگ میں تربیت کرو کہ وہ نیک ہوں عبادت گزار ہوں- جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا کہ وہ تمہارے لئے دعائیں کرنے والے ہوں- تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ ان کی تعلیم کا خیال رکھا جائے۔بچوں کی تعلیم کا خیال رکھنا بھی تمہارے فرائض میں داخل ہے۔ اگر کوئی بچہ مالی حالت کی کمزوری کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر رہا تو جماعت کو بتائیں- مجھے بتائیں انشاء اللہ کوئی بچہ مالی کمزوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ لیکن بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان پر ظلم ہے۔
پھر ایک اور بات ہے جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں اس علاقے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیہ ریڈیو قائم ہے جو تقریباً 14-13 گھنٹے روزانہ چلتا ہے۔ اور اب انشاء اللہ اجازت ملنے پر 17گھنٹے تک بھی اس کی نشریات ہو جائیں گی۔ تو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تعلیم تو اس ذریعہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ رہی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ہی ہر احمدی کا عمل بھی ایسا ہو جائے کہ ہر ایک کو نظر آنے لگے کہ یہ صرف خوبصورت تعلیم ہی ہمیں نہیں دیتے بلکہ ان کے عمل بھی ایسے ہیں- ان کے مردوں میں بھی اور ان کی عورتوں میں بھی اور ان کے بچوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے لوگ موجود ہیں- اگر آپ کے عمل اس طرح ہوئے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی دعوت الی اللہ کئی گنا بڑھ جائے گی۔ لوگ آپ کا نمونہ دیکھ کر آپ کی طرف آئیں گے۔ کیونکہ حقیقی اسلام ان کو آپ میں ہی نظر آئے گا۔ اپنے عملی نمونے کے ساتھ ان لوگوں کے لئے دعائیں بھی بہت کریں- آپ نے ایک چیز کو بہترین سمجھ کر اپنے لئے قبول کیا ہے۔ تو آنحضرتﷺ کے حکم کے مطابق جو چیز تم اپنے لئے بہترین سمجھتے ہو اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو۔ تو جب احمدیت کو آپ نے بہترین سمجھتے ہوئے قبول کیا ہے تو لوگوں تک اس پیغام کو پہنچانا بھی آپ کا فرض بنتا ہے۔ اس لئے دعوت الی اللہ کے ساتھ ساتھ اپنے ہم قوموں کے لئے اور ساری دنیا کے بھٹکے ہوؤں کے لئے دعائیں بھی بہت کریں- مجھے بتایا گیاہے کہ یہاں اس علاقے میں یا اس شہر میں کافی بڑی تعداد اور اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ جو ہمارے پیارے آقا حضر ت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور یہاں کے لوگوں میں شرافت بھی ہے اور اس کا پتہ اس طرح چلتا ہے کہ بہت بڑی اکثریت ہمارا ریڈیو سنتی ہے اور پسند کرتی ہے۔ اس لئے ان کے لئے بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھا راستہ دکھائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
بہت سے لوگ دوسری جگہوں سے بھی یہاں آئے ہوئے ہیں- اللہ تعالیٰ خیریت سے انہیں اپنی حفاظت میں لے کے جائے۔ اور اپنے گھروں میں جا کر وہ دعوت الی اللہ کرنے والے بھی بنیں اور اپنا نیک نمونہ دکھانے والے بھی بنیں- اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/bxCz2]

اپنا تبصرہ بھیجیں