خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 12؍جنوری 2007ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
وقف جدید کے نئے مالی سال کا اعلان
وقف جدید کی مبارک تحریک کا تاریخی پس منظر اور اس کی ضرورت و اہمیت او ربڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر بڑھ چڑھ کر مالی قربانیاں پیش کرنے کی نہایت اہم تاکیدی نصائح۔
گزشتہ سال وقف جدید میں مالی قربانی کے لحاظ سے پاکستان اوّل،امریکہ دوم اور برطانیہ تیسرے نمبر پر رہا۔
پاکستان میں قربانیوں کے معیار بہت بڑھ گئے ہیں۔ غریبوں کا جذبہ ٔ قربانی جیت گیا ہے۔
مجموعی طورپر اللہ کے فضل سے جماعت نے 22لاکھ 25ہزار پاؤنڈزکی قربانی پیش کی ہے۔
مختلف ممالک اور جماعتوں کا وقف جدید میں مالی قربانی اور شمولیت کا جائزہ اور قربانیوں میں آگے بڑھنے کی تاکید۔
باہر کی دنیا بھی اپنے بچوں کے سپرد وقف جدید کی تحریک کرے اور اس کی ان کو عادت ڈالے۔
برلن میں مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ایمان افروز تذکرہ۔
اس مسجد کا نا م مسجد خدیجہ رکھا گیاہے۔ پس جہاں یہ مسجد احمدی عورت کو قربانی کے اعلیٰ معیار کی طر ف توجہ دلانے والی بنی رہے وہاں دنیا سے بے رغبتی اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف بھی ہراحمدی کو توجہ دلانے والی بنی رہے
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 12؍جنوری 2007ء(12؍ صلح 1386ہجری شمسی )بمقا م مسجد بیت الفتوح،لندن۔ برطانیہ

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِسِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْن- (البقرہ:275)

آج مَیں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کروں گا۔ عموماً جنوری کے پہلے ہفتہ میں ، پہلے جمعہ میں اس کا اعلان ہوتا ہے، یا بعض دفعہ دسمبر کے آخر میں بھی ہوتا رہا۔ سفر پر ہونے کی وجہ سے مَیں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ واپس جا کر انشاء اللہ اعلان ہو گا۔اللہ تعالیٰ آج توفیق دے رہا ہے۔
وقف جدید کی تحریک بھی جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جاری کردہ تحریک ہے جس کو 1957ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جاری فرمایا تھا اور صرف پاکستان کے احمدیوں کے لئے یہ تحریک تھی۔ پاکستان سے باہر کے احمدیوں میں سے اگر کوئی اپنی مرضی سے اس میں حصہ لینا چاہتا تھا تو لے لیتا تھا۔ خاص طور پر اس بارے میں تحریک نہیں کی جاتی تھی کہ وقف جدید کا چندہ دیا جائے۔ اُس وقت جب یہ جاری کی گئی تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظر میں پاکستان کی جماعتوں کے لئے دو خاص مقاصد تھے۔ آپ ؓ نے جب یہ وقف جدید کی انجمن بنائی تو اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو ممبر مقرر فرمایا، اور آپ کو جوہدایات دیں وہ خاص طور دو باتوں پر زور دینے کے لئے تھیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کی دیہاتی جماعتوں کی تربیت کی طرف توجہ دی جائے جس میں کافی کمزوری ہے اور دوسرے ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا کام۔ خاص طور پر سندھ کے علاقہ میں بہت بڑی تعداد ہندوؤں کی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کو بڑی فکر تھی کہ دیہاتی جماعتوں میں تربیت کی بہت کمی ہے۔ خاص طور پر بچوں میں اور اکثریت جماعت کے افراد کی دیہاتوں میں رہنے والی ہے اور اگر ان کی تربیت میں کمی ہو گی تو پھر آئندہ بہت ساری خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مجھے وقف جدید کا ممبر مقرر فرمایا اور فرمایا کہ سارا جائزہ لو کہ تربیت کی کیا کیا صورتحال ہے۔ تو کہتے ہیں کہ جب مَیں نے جائزہ لیا تو تربیت اور دینی معلومات کے بارے میں انتہائی بھیانک صورت حال سامنے آئی کہ بچوں کو سادہ نماز بھی نہیں آتی تھی اور تلفّظ کی غلطیاں اتنی تھیں کہ کلمہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے تھے، حالانکہ کلمہ بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مسلمان مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔ بہرحال اُس وقت پاکستان میں ان معلمین کے ذریعہ جن کو معمولی ابتدائی ٹریننگ دے کر میدان عمل میں بھیج دیا جاتا تھا وقف جدید نے ان دو اہم کاموں کو سرانجام دینے کا بیڑا اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت اور قربانی کے جذبے سے اس کام کو سرانجام دیا۔
سندھ میں ہندوؤں کے علاقے میں تبلیغ کا کام ہوا۔ یہ بھی بہت مشکل کام تھا۔ یہ ہندو جو تھروں میں وہاں کے رہنے والے تھے۔ وہاں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کے لئے سندھ کے آباد علاقہ میں آیا کرتے تھے تو یہاں آکر مسلمان زمینداروں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے بھی گھبراتے تھے۔ غربت بھی ان کی عروج پر تھی۔بڑی بڑی زمینیں تھیں ، پانی نہیں تھا اس لئے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ آمد نہیں تھی اور اسی غربت کی وجہ سے مسلمان زمیندار جن کے پاس یہ کام کرتے تھے انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان سے بیگار بھی لیتے تھے۔ یا اتنی معمولی رقم دیتے تھے کہ وہ بیگار کے برابر ہی تھی۔ اسی طرح عیسائی مشنوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو ان کی غربت کا فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے بھی اِن کو امداد دینی شروع کی اور اس کے ساتھ تبلیغ کرکے، لالچ دے کر عیسائیت کی طرف ان ہندوؤں کو مائل کرنا شروع کیا تو یہ ایک بہت بڑا کام تھا جو اس زمانے میں وقف جدید نے کیا اور اب تک کر رہی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور بڑے سالوں کی کوششوں کے بعد اس علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہونا شروع ہوا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جو اُس وقت وقف جدید کے ناظم ارشاد تھے بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں کامیابیاں ہونی شروع ہوئیں تو مولویوں نے ہندوؤں کے پاس جا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم یہ کیا غضب کر رہے ہو، احمدی ہونے سے تو بہتر ہے ہندو ہی رہو۔ ایک خدا کا نام پکارنے سے تو بہتر ہے کہ مشرک ہی رہو۔ یہ مسلمانوں کا حال ہے۔ تو بہرحال ان سب مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مد د فرمائی اور بڑا فضل فرمایا، تھر کے علاقے مِٹھّی اور نگر پارکر وغیرہ میں ، آگے بھی جماعتیں قائم ہونا شروع ہوئیں ، ماشاء اللہ اخلاص میں بھی بڑھیں ، ان میں سے واقف زندگی بھی بنے او ر اپنے لوگوں میں تبلیغ کرکے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو متعارف کروایا، اس کا پیغام پہنچاتے رہے۔ جب ربوہ میں جلسے ہوتے تھے تو جلسے پر یہ لوگ ربوہ آیا کرتے تھے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ انتہائی مخلص اور بڑے اخلاص و وفا میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے۔ اب تو ماشاء اللہ ان لوگوں کی اگلی نسلیں بھی احمدیت کی گود میں پلی بڑھی ہیں اور اخلاص میں بڑھی ہوئی ہیں ، بڑی مخلص ہیں۔ شروع زمانے میں وسائل کی کمی کی وجہ سے وقف جدید کے معلمین جنہوں نے میدان عمل میں کام کیا وہ بڑی تکلیف میں وقت گزارا کرتے تھے۔ ان علاقوں میں طبی امداد کی، میڈیکل ایڈ (Medical Aid)کی سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ اس لئے اپنے لئے بھی اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کے لئے بھی کچھ دوائیاں ، ایلو پیتھی اور ہومیو پیتھی وغیرہ ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں موبائل ڈسپنسری ہے، دیہاتوں میں جاتی ہے، میڈیکل کیمپ بھی لگتے ہیں۔ باقاعدہ کوالیفائڈ (Qualified)ڈاکٹر وہاں جاتے ہیں۔ اسی طرح جماعت نے مِٹھّی میں ایک بہت بڑا ہسپتال بنایا ہے۔ اس میں آنکھوں کا ایک وِنگ (Wing) بھی ہے۔ تو وقف جدید کی تحریک میں پاکستان کے احمدیوں نے اپنی تربیت اور تبلیغ کے لئے اُس زمانے میں بڑھ چڑ ھ کر قربانیاں پیش کیں اور اللہ کے فضل سے اب تک کر رہے ہیں اور کام میں بھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے اور کام بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح جماعت پر فضل فرما رہا ہے یہ تو بڑھتا ہی رہنا ہے۔
یہاں ایک بات جومَیں اس خطبہ کے ذریعہ سے سندھ کے علاقے کے احمدی زمینداروں کو کہنا چاہتا ہوں اور اسی بات پہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے بھی توجہ دلائی تھی کہ یہ جو ہندو اس علاقے میں رہنے والے ہیں یا ان میں سے جو مسلمان ہو چکے ہیں ، بڑے غریب لوگ ہیں۔ وہ اس غربت کی وجہ سے سندھ کے آباد علاقے میں جہاں پانی کی سہولت ہے مزدوری کی غرض سے آتے ہیں اور بڑی محنت سے مزدوری کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ یہ جو احمدی زمیندار ہیں یہ حسن سلوک کیا کریں۔ یہ پیار ہی ہے جو ان لوگوں کو مزید قریب لائے گا اور اللہ تعالیٰ وہاں کے احمدیوں کی قربانیوں کو انشاء اللہ، پھل عطا فرمائے گا۔ اس لئے اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ بہرحال یہ مختصر پس منظر،یہ حالات مَیں نے اس لئے بتائے ہیں تاکہ نئی نسل کے لوگوں کو اور نئے آنے والوں کو بھی اس تحریک کا مختصر تعارف ہو جائے کیونکہ اب تو وقف جدید کی یہ تحریک تمام دنیا میں جاری ہے، لوگ اس کے چندے کی ادائیگی کرتے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کا سوال ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستانی احمدیوں نے اپنے اخراجات تو آپ سنبھالے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن 1985ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے وقف جدید کی تحریک کو، یعنی مالی قربانی کی تحریک کو ساری دنیا پہ پھیلا دیا، تاکہ دنیا میں جو احمدی آباد ہیں ، خاص طور پر یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ، ان کے چندوں سے ہندوستان میں بھی وقف جدید کے نظام کو فعال کیا جائے اور وہاں زیادہ سے زیادہ تربیت و تبلیغ کا کام کیا جائے۔ اور جس علاقے میں خلافت ثانیہ کے دور میں کسی زمانے میں شُدھی کی تحریک چلی تھی اور جس کے توڑ کے لئے جماعت نے اس وقت بڑے عظیم کام کئے تھے، بڑی قربانیاں دی تھیں ، اس علاقے میں رہ کر تبلیغ کی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے 1985ء میں فرمایا تھا کہ اس علاقے میں دوبارہ تشویشناک صورتحال ہے اس لئے ہندوستان کی جماعتوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور وسیع منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اور اخراجات کے لئے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ باہر سے رقم آجائے گی۔ اس لئے پھرجیسا کہ مَیں نے کہا باہر کی جماعتوں میں بھی وقف جدید کی یہ تحریک جاری کی گئی تاکہ باہر کی جماعتیں بھی اس نیک کام میں ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے باہر کی جماعتیں اس تحریک میں بھی مالی قربانی کے لئے لبیک کہنے والی بنیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال وقف جدید میں بھی باقی چندوں کی طرح اضافہ ہو رہا ہے۔ جوں جوں اللہ تعالیٰ کام میں وسعت دے رہا ہے، جتنا جتنا کام پھیل رہا ہے، اخراجات بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ وسائل بھی مہیا فرما رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جماعت کے بڑی تیزی سے ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں اور اس لحاظ سے ضروریات بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرما رہا ہے۔ ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ لیکن ہمیں اس طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی ان مالی قربانیوں میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت پر بھی انفرادی طور پر بہت فضل ہو رہے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ کی طرح اپنی قربانیوں کی طرف بھی خاص توجہ رکھیں تاکہ جو کمزور جماعتیں ہیں ہم ان کی مدد کر سکیں۔ ہندوستان کی نئی جماعتیں بھی ہیں اور افریقہ کی جماعتیں بھی ہیں جو بہت معمولی مالی وسعت رکھتی ہیں۔ گو کہ قربانی کی کوشش کرتی ہیں لیکن جتنی بھی ان کی وسعت ہے اس کے لحاظ سے، اپنے حالات کے لحاظ سے۔تو ان کی مدد کرنے کے لئے، تربیت و تبلیغ کے لئے، ان کی قربانیوں میں جو کمی رہ گئی ہے، اس کو پورا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اس لئے بیرونی جماعتیں یا ان مغربی ملکوں کی جماعتیں جن کی کرنسی مضبوط ہے، انہیں خدمت دین اور دین کی مدد کے جذبے کے تحت ہمیشہ قدم آگے بڑھاتے چلے جانا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کرنے والوں کو اپنے فضلوں کو حاصل کرنے والا بتایا ہے۔ جو آیت مَیں نے تلاوت کی اس میں بھی یہی فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا جو اجرہے وہ میرے پاس ہے اور جس کو مَیں نے اجر دینا ہے اس کو اس بات کا خوف بھی نہیں ہونا چاہئے کہ چندے دے کر ہمارا کیا بنے گا، ہماری اَور مالی ضروریات ہیں۔ یہ خیال بھی تمہیں کبھی نہیں آنا چاہئے کہ مالی قربانیوں سے تمہارے مالوں میں کچھ کمی ہوگی۔
ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں ان لوگوں کو جو میری خاطر قربانیاں دیتے ہیں ، سات سو گنا تک بڑھا کر بلکہ اس سے بھی زیادہ اجر دیتا ہوں۔ پس کسی غم اور کسی خوف کا تو سوال ہی نہیں ہے، ہمیشہ ہر احمدی کو مالی قربانیوں میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے محبت اور رسول سے محبت کا تقاضا ہے کہ قربانی میں ہمارے قدم ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں۔اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ہم شامل ہوئے ہیں تو اس محبت اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ اصلاح اور تربیت کے لئے جب مالی قربانی کی ضرورت پڑے تو ہر احمدی ہمیشہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے قربانی میں آگے سے آگے بڑھتا رہے۔
اسی طرح جو مختلف ملکوں کے نومبائعین ہیں انہیں بھی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہماری ضرورتیں باہر کی جماعتیں پوری کریں گی۔ ہر جماعت نے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے تاکہ تربیت و تبلیغ کے دوسرے منصوبوں پہ توجہ دی جائے۔ جماعت کی ترقی کے دوسرے منصوبوں پر توجہ دی جائے جن کے لئے بہت سے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج کل کے اس ترقی یافتہ دور میں جب ایک طرف ایجادات کی ترقی ہے تو ساتھ ہی اخلاقی گراوٹ کی بھی انتہا ہو چکی ہے۔ اپنی نسلوں کو اس سے بچانے اور دنیا کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے فنڈزکی ضرورت ہوتی ہے، رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔
جس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس وقت محسوس کیا تھا کہ تربیت کی بہت ضرورت ہے، آج کل بھی کافی تعداد کے لئے اور جو نومبائعین آرہے ہیں ان کے لئے جس وسیع پیمانے پر ہمیں منصوبہ بندی کرنی چاہئے وہ ہم نہیں کر سکتے۔ اس میں بہت سی وجوہات ہیں اور ایک بڑی وجہ مالی وسائل کی کمی بھی ہے۔ گو کہ ہم جتنا کا م پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کام پورا کرتا ہے۔ لیکن جب وہاں تک پہنچتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ اس سے زیادہ بھی کر سکتے تھے۔ اگر ہر جگہ معلم بٹھائیں اور بہت سارے افریقین ممالک ہیں ، ہندوستان کی بعض جماعتیں ہیں ، جہاں بجلی کا انتظام نہیں ہے وہاں بجلی کا انتظام کرکے ایم ٹی اے مہیا کریں جو ایک تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اسی طرح کی اور منصوبہ بندی کریں تو اس کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے۔
جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوشش کرتی ہے کہ کم از کم وسائل کو زیر استعمال لا کر زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔ یہ معاشیات کا سادہ اصول ہے۔ اور دوسری دنیا میں تو پتہ نہیں اس پر عمل ہو رہا ہے کہ نہیں لیکن جماعت اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور کرنی چاہئے۔ جو بھی جماعتی عہدیدار منصوبہ بندی کرنے والے یا کام کرنے والے یا رقم خرچ کرنے والے مقرر کئے گئے ہوں ان کو ہمیشہ اس کے مطابق سوچنا چاہئے اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ بعض دفعہ بے احتیاطیاں بھی ہو جاتی ہیں اس لئے جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جو ذمہ دار افراد ہیں وہ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا کریں کہ جماعت کا ایک ایک پیسہ بامقصد خرچ ہونا چاہئے۔ جماعت میں اکثریت ان غریب لوگوں کی ہے جو بڑی قربانی کرتے ہوئے چندے دیتے ہیں اس لئے ہر سطح پر نظام جماعت کو اخراجات کے بارے میں احتیاط کرنی چاہئے کہ ہر پیسہ جو خرچ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ ہو اوراللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی پر خرچ ہو۔ جب تک ہم اس روح کے ساتھ اپنے اخراجات کرتے رہیں گے، ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ بے انتہا برکت ڈالتا رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابھی تک جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے کہ جہاں کسی کام پر دوسروں کا ایک ہزار خرچ ہو رہا ہو وہاں جماعت کوایک سو خرچ کرکے وہ مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں۔ توجب تک اس طرح جماعت احتیاط کے ساتھ خرچ کرتی رہے گی،برکت بھی پڑتی رہے گی۔ جہاں قربانیاں کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی قربانیاں تمام قسم کی بدظنیوں سے بالا ہو کر پیش کریں گے اور جماعت کے افراد اسی سوچ کے ساتھ کرتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ خرچ کرنے والے احتیاط سے خرچ کرنے والے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔
بعض لوگ ایسے بھی ہیں ، چند ایک ہی ہیں ، جو مالی لحاظ سے بہت وسعت رکھتے ہیں لیکن چندے اس معیار کے نہیں دیتے اور یہ باتیں کرتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ جماعت کے پاس تو بہت پیسہ ہے اس لئے جماعت کو چندوں کی ضرورت نہیں ہے، جو ہم دے رہے ہیں ٹھیک ہے۔ جماعت کے پاس بہت پیسہ ہے یا نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے پیسے میں جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے کہ برکت بہت زیادہ ہے۔ اس لئے معترضین اور مخالفین کو بھی یہ بہت نظر آتا ہے۔ معترضین تو شاید اپنی بچت کے لئے کرتے ہیں اور مخالفین کو اللہ تعالیٰ ویسے ہی کئی گنا کرکے دکھا رہا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔ برکت ڈالتا ہے اور بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔ مَیں نے یہاں بعض اپنوں کاذکر کیا تھا جو کہتے ہیں کہ پیسہ بہت ہے اس لئے یہ بھی ہونا چاہئے اور یہ بھی ہونا چاہئے اور خود ان کے چندوں کے معیار اتنے نہیں ہوتے۔عموماً جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی منصوبہ بندی سے خرچ کرتی ہے۔ اس لئے ایسی باتیں کرنے والے بے فکر رہیں اور چندہ نہ دینے کے بہانے تلاش کرنے کی بجائے اپنے فرائض پورے کریں۔ چندوں کی تحریک تو ہمیشہ جماعت میں ہوگی،ہوئی اور ہوتی رہے گی کہ ایمان میں مضبوطی کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہمیں بتایا ہے۔ دنیا کی تمام منصوبہ بندیوں میں مال کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا بہت زیادہ دخل ہے اور یہ منصوبہ بندی جس میں مال دین کی مضبوطی کے لئے خرچ ہو رہا ہو اور جس کے خرچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دے رہا ہو کہ تمہارے خوف بھی دور ہوں گے اور تمہارے غم بھی دور ہوں گے اور اجر بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اتنا اجر ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں تو اس سے زیادہ مال کا اور کیا بہتر استعمال ہو سکتا ہے۔ ہر دینے والا جب اس نیت سے دیتا ہے کہ مَیں دین کی خاطر دے رہا ہوں تو اس نے اپنا ثواب لے لیا۔ کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے،اول تو صحیح طریقے سے خرچ ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں تھوڑی بہت کمزوری ہے بھی تو چندہ دینے والے کو بہرحال ثواب مل گیا۔ اس لئے ہمیشہ ہر وہ احمدی جس کے دل میں کبھی انقباض پیدا ہو وہ اپنے اس انقباض کو دور کرے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس لگا کر وصول کرتی ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادے پر چھوڑتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بندے کی مرضی پر چھوڑ کر پھر اس کا اجر بھی بے حساب دیتا ہے۔ پابند نہیں کر رہا کہ اتنا ضرور دینا ہے۔ چھوڑ بھی بندے کی مرضی پر رہا ہے، ساتھ فرما رہا ہے جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر بھی دوں گا۔ صرف یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک ہونی چاہئے۔اس سے زیادہ سستا اور عمدہ سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کی جماعتوں کو بھی مَیں کہنا چاہتاہوں کہ آپ کو رقمیں تو مہیا ہو جاتی ہیں جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا تربیتی اور تبلیغی پروگراموں میں گنجائش موجود ہے اس لئے جتنا وہاں کام ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہو رہا۔ اس لئے اس طرف پھر ایک نئے ولولے اور جوش کے ساتھ توجہ دیں۔ گزشتہ سال جب قادیان گئے تو توجہ دلانے پر بہتری کی طرف ہل جل تو پیدا ہوئی ہے۔ مالی قربانی کے جو انہوں نے اعداد و شمار بھجوائے ہیں ان سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تربیت کی طرف توجہ ہے اور اسی وجہ سے پھر مالی قربانی کی طرف بھی لوگوں کی توجہ ہوئی ہے۔ وقف جدید میں مالی قربانی کرنے والوں کی تعداد میں اس سال انہوں نے 4 ہزار کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ بات شاید پہلی دفعہ ہے کہ جو بجٹ انہوں نے بنایا تھا اور پچھلے سال سے بڑھ کر بنایا تھا اس بجٹ سے انہوں نے نومبائعین کے علاقے میں دو لاکھ 30ہزار زائد وصولی بھی کر لی ہے اور فی کس ادائیگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چاہے معمولی اضافہ ہے لیکن ان کے لحاظ سے یہ معمولی اضافہ بھی بہت ہے۔ گو پانچ ساڑھے پانچ روپے کے قریب اضافہ ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ چندہ دینے والوں کی اکثریت نومبائعین یا چند سال پہلے کے بیعت کنندگان کی ہے۔ پس اس طرف مزید توجہ کریں۔
ہندوستان کی جماعتیں ابھی تک اپنے اخراجات کا یعنی وقف جدید پر ہونے والے اخراجات کاتقریباً تین فیصد اپنے وسائل سے پورا کر رہی ہیں۔ یہ مختصر کوائف جو مَیں نے دئیے ہیں یہ ہندوستان کی جماعتوں کو توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔ اس طرح جو بیعتوں کی تعداد ہے اس حساب سے بھی شمولیت میں بہت گنجائش ہے۔ اگلے سال ہندوستان کو بھی اپنے لئے کم از کم شامل ہونے والوں کا 5لاکھ کا ٹارگٹ رکھنا چاہئے۔ مجھے امید ہے انشاء اللہ دعاؤں اور توجہ سے اس کام میں پڑیں گے تو کوئی مشکل نظر نہیں آئے گی۔
جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1985ء میں یہ تحریک تمام دنیا کے لئے کر دی تھی اور مقصد ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کرنا تھا۔ اعداد و شمار سے آپ دیکھ چکے ہیں کہ ہندوستان اپنے وسائل سے فی الحال تین فیصد اخراجات پورے کر رہا ہے اور 97فیصد اخراجات باہر کی دنیا پورے کرتی ہے اور اس میں یورپ اور امریکہ کے بڑے ممالک ہیں۔ اس سال یورپ اور امریکہ کے ممالک کی وقف جدید میں کل وصولی بمشکل ہندوستان کے خرچ پورے کر رہی ہے۔ اور افریقہ کی جماعتوں کے بہت سارے اخراجات دوسری مدات سے پورے کئے جاتے ہیں۔ تو ان ممالک کو جو مغرب کے ممالک ہیں بھارت اور افریقہ کے وقف جدید کے اخراجات پورے کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ اس سوچ کے ساتھ قربانی ہونی چاہئے۔ یہاں گنجائش موجود ہے یہ مَیں نے جائزہ لیا ہے۔ مَیں ایک دفعہ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ عموماً یہاں دوسرے اخراجات اور منصوبوں کا عذر کیا جاتا ہے کہ وہاں زیادہ خرچ ہو گیا،اَور منصوبے شروع ہو گئے اس لئے اس میں اتنی کمی رہ گئی۔
تو یہ جو منصوبے ہیں یا دوسرے اخراجات ہیں ، یہ پاکستان میں بھی ہیں لیکن وہاں قربانی کے معیار بڑھ رہے ہیں۔ جیسے سپرنگ کو جتنا زیادہ دباؤ اتنا زیادہ وہ اچھل کر باہر آتا ہے اور جو چیز اس پر پڑے اس کو اچھال کر پھینکتا ہے۔ تواحمدیوں کے حالات جتنے بھی وہاں خراب ہوتے ہیں اتنا زیادہ اچھل کر ان کی قربانیوں کے معیار بڑھ رہے ہیں اور باہر آرہے ہیں۔ اور دوسری دنیا میں بھی جہاں جہاں بھی کوئی سختی جماعت پہ آئی وہاں قربانیوں کے معیار بڑھے ہیں۔ تو مغربی دنیا اس انتظار میں نہ رہیں کہ ضرور حالات خراب ہوں تو ہم نے قربانیاں بڑھانی ہیں بلکہ اپنے ان بھائیوں کے لئے قربانیوں کی طرف مزید توجہ دیں۔
ہاں تو مَیں مغربی ممالک کی گنجائش کی بات کر رہا تھا۔تو سب سے پہلے مَیں کینیڈا کو لیتا ہوں۔ یہاں بھی اکثریت پاکستانی احمدیوں کی ہے اور شاید 25-20ہزار سے زیادہ تعداد ہے۔ ان پاکستانی احمدیوں کو جو وہاں رہتے ہیں میں کہتا ہوں کہ آپ پر ہندوستان کا بہت حق ہے۔ اکثر کی جڑیں وہیں سے شروع ہوتی ہیں۔ کینیڈا میں وقف جدید میں شامل افراد کی تعداد صرف 12,862ہے اور فی کس 40کینیڈین ڈالرز ہے جبکہ تعداد اور قربانی کی استعداد دونوں میں یہاں پہ گنجائش موجود ہے تو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔
پھر جرمنی ہے، جس کی فی کس قربانی 15یورو ہے۔ شاملین ماشاء اللہ اچھی تعداد میں ہیں ،22ہزار 500کچھ۔ بہرحال جرمنی میں بھی اکثریت پاکستانی ہے۔ 15یورو میرے لحاظ سے کم ہے۔ اس طرف ان کو توجہ کرنی چاہئے۔
امریکہ ہے،ان کی ادائیگی ماشاء اللہ اچھی ہے 137ڈالرز فی کس۔ لیکن وقف جدید میں چند ہ دینے کی تعداد میں جو لوگ شامل ہیں ان میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔
اور ابUK والے نہ سمجھیں کہ ان کو بھول گیا ہوں ، پیش کر دیتا ہوں۔ تحریک جدید کے جو بعض اعداد و شمارمَیں نے پیش کئے تھے اس کے بعد کچھ ہل جل ہوئی تھی بعض جماعتوں میں بھی اور مرکزی طور پر بھی۔ تو یہاں بھی وقف جدید کا چندہ فی کس 34پاؤنڈ ہے۔ اگر اس طرح لیں تو مہینے کا تقریباً پونے تین پاؤنڈز۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ جو باہر جاتے ہیں تو ایک وقت میں اس سے زیادہ کے چپس وغیرہ اور دوسری چیزیں اپنے بچوں کو کھلا دیتے ہیں۔ اس میں شمولیت کی بھی کافی گنجائش ہے۔ 12024کی تعداد میں شمولیت۔ اس سے اَورزیادہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔مَیں نے جو ریجنز کا جائزہ لیا ہے اس میں سکاٹ لینڈ ریجن کی شمولیت ماشاء اللہ سب سے اچھی ہے تقریباً 81فیصد۔ اور اس کے بعد ساؤتھ ویسٹ ریجن ہے جس میں کارنوال وغیرہ شامل ہیں اس کی 80فیصد شمولیت ہے۔ نارتھ ایسٹ ریجن کی 78سے اوپر ہے۔ لیکن یہاں نارتھ ایسٹ میں باقی تو ٹھیک ہے سکنتھروپ والے اکثر ڈاکٹر ہیں ان کی شمولیت بہت کم ہے۔ اور سب سے کم ساؤتھ ریجن میں 54فیصد شمولیت ہے۔ تو شمولیت کے لحاظ سے کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد وقف جدید میں شامل ہو اور اس میں بچوں کو شامل کریں۔ آگے کوائف مَیں دوبارہ بتاؤں گا بلکہ یہاں مَیں بتا ہی دیتا ہوں اس سے متعلقہ ہی ہیں۔
تحریک جدید میں مَیں نے بریڈ فورڈ کو توجہ دلائی ان کے بڑے خط آئے تھے کہ ہم وقف جدید میں اس دفعہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ تو ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی شمولیت میں بھی لندن مسجد کا جو علاقہ ہے وہ فی کس ادائیگی کے لحاظ سے نمبر ایک پر ہی ہے۔ 62پاؤنڈز سے اوپر تقریباً 63پاؤنڈز فی کس ہے۔ اور بریڈفورڈ جنہوں نے بہت دعوے کئے تھے وہ 38پاؤنڈز پرہیں۔ اسی طرح برمنگھم بہت ہی نیچے ہے وہاں اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہیں ، بہت بڑھ سکتے ہیں ، مانچسٹر میں بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جماعت جو اپنے لحاظ سے اچھی قربانی کرنے والی ہے وہ ووسٹر پارک ہے۔
تو یہ اور ہندوستان کے کوائف مَیں نے اس لئے بتائے ہیں کہ آپ لوگوں کو ضرورت کا بھی اندازہ ہو جائے اور اپنی قربانی کا بھی۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنا بوجھ نہ ڈالو جو برداشت نہ ہو سکے اور عفو پر عمل کرو یعنی اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھو۔ان کو پورا کرو۔لیکن ضروریات کی بھی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے اس کے بھی معیار ہونے چاہئیں۔ ورنہ اس زمانے میں جتنا دنیاوی چیزوں کی خواہش کرتے جائیں گے، خواہشیں بڑھتی جائیں گی اور قسم قسم کی جوچیزیں بازار میں دیکھتے ہیں وہ آپ کی خواہشات کو مزید بھڑکاتی ہیں تو اس لحاظ سے بھی دیکھنا چاہئے کہ عفو کی تعریف کیا ہے۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالت کی بہتری کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔ تو اپنے بچوں میں بھی اس قربانی کی عادت ڈالیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو ان کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں ان میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اوّل نمبر پر ہو۔ اس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور جوعفو کے معیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔ جو لوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو ان کو اس میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔ عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں ، ان مغربی ممالک میں مَیں نے اندازہ لگایا ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ بازار سے کھانا برگر وغیرہ جو ہیں اور بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور جو مزے کے لئے کھائے جاتے ہیں ، ضرورت نہیں ہے۔ اگر مہینے میں صرف دو دفعہ یہ بچا کر وقف جدید کے بچوں کے چندے میں دیں تو اسی سے وصولی میں 25سے 30فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
تو وقف جدید کو جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے پاکستان میں بچوں کے سپرد کیا تھا۔ مَیں بھی شاید پہلے کہہ چکا ہوں ،نہیں تو اب یہ اعلان کرتا ہوں کہ باہر کی دنیا بھی اپنے بچوں کے سپرد وقف جدید کی تحریک کرے اور اس کی ان کو عادت ڈالے تو بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ بہت بڑے خرچ پورے کر لے گی اور یہ کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ جب آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں سے بچت کرنے کی ان کو عادت ڈالیں گے اسی طرح بڑے بھی کریں اور اگر یہ ہو جائے تو ہندوستان کے اخراجات اور کچھ حد تک افریقہ کے اخراجات بھی پورے کئے جا سکتے ہیں۔
بہرحال اس مختصر تاریخ وقف جدید اور کوائف کے بعد مَیں مجموعی کوائف بھی بتا دیتا ہوں جس میں ملکوں کی پوزیشن ہو گی اور پاکستان کے شہروں کی پوزیشن بھی۔
مجموعی طور پر اللہ کے فضل سے جماعت نے 22لاکھ25ہزار پونڈز کی قربانی پیش کی ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 83ہزار پاؤنڈز زیادہ رہی ہے۔ اور اس میں گو کہ مقامی ملکوں کے مطابق قربانیوں کے معیار بڑھے ہیں لیکن پاؤنڈز کے مقابلے میں امریکہ اور پاکستان میں بھی کرنسی کا ریٹ بہت کم ہو گیا ہے۔ یعنی ان کی کرنسیوں کے معیار کم ہو گئے ہیں۔
دنیا بھر کی جماعتوں میں ریٹ (Rate)گرنے کے باوجود پاکستان نمبر ایک پہ ہے۔ امریکہ پہلے نمبر ایک پہ ہوتا تھا۔ ان کو شاید یہ احسا س ہو کہ ہماری کرنسی شاید گری ہے اس لئے ہم دوسرے نمبر پر چلے گئے لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا پاکستان میں قربانیوں کے معیار بہت بڑھ گئے ہیں۔ غریبوں کا جذبہ قربانی جیت گیا ہے۔ پس پاکستان کے احمدیوں سے مَیں یہ کہتا ہوں کہ اس جذبے کو جو آپ میں پیدا ہو گیا ہے کبھی مرنے نہ دیں اور ہر مخالفت کی آندھی اس جذبے کو مزید ابھارنے والی ہو تاکہ آپ کی قربانیوں کے معیار بڑھتے چلے جائیں۔
تو مجموعی پوزیشن کے لحاظ سے پاکستان نمبر ایک پہ، امریکہ نمبر دو پہ، برطانیہ نمبر تین پہ، یہ انہوں نے Maintain رکھا ہوا ہے۔ جرمنی نمبر چار پہ، کینیڈا پانچ، ہندوستان چھ، انڈونیشیا سات، بلجیم آٹھ، آسٹریلیا نو اور دسویں نمبر پر سوئٹزر لینڈہے۔ لیکن فرانس بھی تقریباً ان کے قریب ہی ہے، معمولی فرق ہے۔ یورپین ممالک میں فرانس میں دعوت الی اللہ کاکام بہت اچھا ہو رہا ہے اور انہوں نے دُور کے فرنچ جزائر میں جا کر وہاں بھی تبلیغ کی ہے اور اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ فرانس کو چاہئے کہ تبلیغ کے ساتھ ساتھ اپنے نومبائعین کو چندوں میں بھی شامل کریں اور ان کو مالی قربانی کی بھی عادت ڈالیں۔بلجیم کی بھی چندوں کی طرف توجہ ہو رہی ہے۔
وقف جدید میں شامل ہونے والے افراد چار لاکھ 92ہزار سے اوپر ہیں۔ اور اس سال 26ہزار 700کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں بہت گنجائش ہے۔ اگر جماعتیں کوشش کریں توبہت اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں کیونکہ اطفال اور بالغان کے دو مقابلے ہوتے ہیں پہلے بڑوں کا ہے۔ لاہور کی جماعت اوّل ہے، کراچی دوم ہے اور ربوہ سوئم ہے۔ اس کے بعد اضلاع میں راولپنڈی اوّل ہے۔ پھر سیالکوٹ، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، میرپور خاص، سرگودھا، گجرات اور بہاولنگر۔ اور دفتر اطفال میں اوّل لاہور ہے دوم کراچی، سوئم ربوہ کی پوزیشن ہے۔ اور اضلاع میں اسلام آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، شیخوپورہ، فیصل آباد، میرپور خاص، سرگودھا، گجرات اور بہاولنگر۔ تقریباً وہی پوزیشن ہے۔
اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کو جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر اپنی ضرورتوں کو قربان کیا اور مالی قربانی کی بہترین جزا دے اور ان کے اموال ونفوس میں برکت دے۔
دینی ضرورتوں میں تو وسعت پیدا ہوتی رہے گی اوراللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ یہ ضرورتیں پوری کر تا رہے گالیکن ہر احمدی ہمیشہ یاد رکھے کہ وہ اللہ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے اس کی خاطر مالی قربانیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہے۔ جماعت میں مختلف منصوبے ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔یہ نہیں کہ ایک طرف قربانی دی تو دوسری طرف قربانی کے لئے تھک کر بیٹھ گئے۔ہمیشہ یاد رکھیں جہاں بیٹھے وہاں پھر کمزوریوں پہ کمزوریاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کبھی اس سوچ کو ذہن میں نہ آنے دیں کہ فلاں جگہ قربانی کر دی تو کافی ہے۔ا گلے جہان میں کام آنے والا بہترین مال وہ ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا گیاہو۔ آج کل جماعتوں میں ، دنیا میں ہر جگہ مسجدوں کی تعمیر کی طرف بہت توجہ ہو رہی ہے۔ کسی چندے یا کسی تحریک میں ایک طرف توجہ ہوجائے تو اس توجہ کو مساجد کی تعمیر میں روک نہیں بننا چاہئے بلکہ اس طرف توجہ قائم رہنی چاہئے۔ برطانیہ میں بھی اس طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔ ہر سال پانچ مساجد بنانے کا انگلستان کی جماعتوں نے وعدہ کیا ہے۔ بریڈفورڈ میں تعمیر ہو رہی ہے۔ دو اور جگہ بھی کارروائی ہورہی ہے انشا ء اللہ شروع ہو جائے گی۔تو یہ کام ساتھ ساتھ جاری رہنے چاہئیں۔ کیونکہ مسجد ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کا بھی اور تبلیغ کا بھی۔
لجنہ کی ایک میٹنگ میں بڑے زوردار طریقے سے عورتوں نے درخواست کی کہ ہمیں فلاں فلاں جگہ بچوں کی تربیت میں دِقّت پیدا ہو رہی ہے (یہیں UKکی شوریٰ تھی یا کو ئی اور میٹنگ تھی ) تو ہمیں مساجد بناکے دی جائیں ، بہت ضروری ہیں۔ تو ان کو مَیں نے یہی جواب دیا تھا کہ مساجد ضروری ہیں اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن یہ بنانی آپ نے خود ہیں، کسی نے باہر سے آکے بنا کے نہیں دینی۔
پھر جب نیشنل شوریٰ ہوئی ہے تو اس وقت جب مَیں نے توجہ دلائی تو جماعت نے اللہ کے فضل سے جیسا کہ مَیں نے بتایا ہر سال پانچ مساجد بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق بھی عطا فرمائے کہ مکمل کر سکیں۔
گزشتہ دنوں میں جب مَیں جرمنی گیا تھا، وہاں بھی زیادہ مقصد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد کی تعمیر کے لئے، سنگ بنیاد یا افتتاح کے لئے جانا تھا۔ تین کا افتتاح بھی ہوا،سنگ بنیاد بھی رکھاگیا۔ ایک مسجد جرمنی ہالینڈ کے بارڈر پر ہے واپس آتے ہوئے اس کا افتتاح ہوا۔ وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی لیکن ان کی خواہش تھی کہ اس میں نماز پڑھ لی جائے اسی کو ہم افتتاح سمجھیں گے،اس کی تھوڑی سی فننشنگ رہتی ہے تو وہ انشاء اللہ تعالیٰ جلدی کرلیں گے۔
وہاں ایک بہت بڑی مسجد مجلس انصاراللہ جرمنی نے بنائی ہے۔ اس میں تقریباً سات آٹھ سو نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں اور مسجد کے طور پر جرمنی میں یہ سب سے بڑی مسجد ہے جو خاص اس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے۔ ہال وغیرہ نہیں بلکہ زمین پہ خاص طور پر مسجد کے مقصد کے لئے جومسجد کھڑی کی گئی ہے، وہ ابھی تک جرمنی میں یہی بڑی مسجد ہے۔ اس کے ساتھ گیسٹ ہاؤس بھی ہے، مشنری ہاؤس بھی ہے، دفتر وغیرہ بھی ہیں۔
پھر جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ سب سے بڑا بریک تھرو (Break Through) یا بڑی کامیابی جو ہے وہ مسجد برلن کا سنگ بنیاد تھا۔ وہاں مخالفت زوروں پر ہے۔ ابھی بھی مخالفین یہی کہتے ہیں کہ ہم اس مسجد کو بننے نہیں دیں گے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ گو کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی کوئی بات نہیں ہو گی کیونکہ قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہرطرح سے مدد فرماتا ہے اور یہ نظارے ہم دیکھتے رہے۔ پہلے امیر صاحب کا خیال تھا کہ ایک مہینہ پہلے جلدی آجاؤں تاکہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے۔ لیکن جب دسمبر میں مَیں نے جانے کا فیصلہ کیا تواس وقت تک ان کو مسجد کی تحریری اجازت نہیں ملی تھی۔تحریری اجازت بھی میرے جانے کے بعد انہیں ملی ہے تو اس کے بعد کوئی قانونی روک نہیں تھی۔اس کے بغیر اگر ہم جاتے تو کئی قباحتیں پیدا ہو سکتی تھیں اور بنیاد رکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔
پھر وہاں کے میئر اور MP آئے اور انہوں نے بھی جماعت کی تعلیم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہمارے لوگوں کی ساری فکریں دور ہو جائیں گی۔ جس دن افتتاح تھا جب ہم وہاں گئے ہیں تو چالیس پچاس کے قریب مخالفین تھے جو نعرے لگا رہے تھے۔لیکن جرمنی میں ایک دوسرا گروپ بھی ہمیں نظرآیا۔ جب ہم گئے ہیں انہوں نے بھی بینر اٹھایا ہوا تھا اور وہ جماعت احمدیہ کے حق میں تھا کہ یہاں جماعت ضرور مسجد بنائے اور اس میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔ جماعت نے ان کو نہیں کہا تھا اور نہ وہ جانتے تھے۔ خود ہی کھڑے ہو گئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے توڑ کے لئے خود ہی وہاں انتظام فرما دیا۔ پھریہ جو ان کا چھوٹا سا جلوس تھااس پر بھی تین چار شہریوں نے ان کے بینر چھیننے کی کوشش کی کہ یہ کیوں کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ مخالفین کو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کے اپنے لوگ ہی ان کو روکنے والے تھے۔
جو مخالفین تھے (لوگ اتنے زیادہ تو تھے نہیں ) انہوں نے ایک ٹیپ ریکارڈ ر میں ایک آواز ریکارڈ کی ہوئی تھی۔ کسی ٹنل میں سے کوئی جلوس گزرا اس کی بڑی گونج تھی لگتا یہ تھا کہ بہت بڑا جلوس ہے اور آوازیں نکال رہا ہے۔ لیکن لگتا ہے ان کو بھی مُلّاؤں کی ٹریننگ تھی کہ ٹیپ ریکارڈر استعمال کرو۔ جو وہاں MP آئے ہوئے تھے انہوں نے بڑی حیرت سے اس بات کا اظہارکیا کہ مَیں تو ایک عرصے سے جماعت کو جانتا ہوں میرے خیال میں بھی نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ کی مسجد کی مخالفت ہورہی ہوگی۔ یہ تو بڑی امن پسند اور پیار کرنے والی جماعت اور پیار پھیلانے والی جماعت ہے۔ اخباروں اور ٹی وی نے بھی بڑی اچھی کوریج دی۔
جیسا کہ مَیں پہلے بھی جرمنی کے خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برلن میں مسجد کی تعمیر کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا اور آپؓ کی بڑی شدید خواہش تھی۔ اور اس وقت ایک ایکڑ رقبہ کا قریباًسودا بھی ہو گیا تھا بلکہ میرا خیال ہے لیا بھی گیا تھا اور آج کل کے حالات میں اتنا بڑا رقبہ ملنا ممکن نہیں ،کافی مشکل ہے کیونکہ زمینیں کافی مہنگی ہیں۔ جرمنی میں عموماً جو پلاٹ مساجد کے لئے خریدے جا رہے ہیں وہ بڑے چھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ یہاں تقریباً ایک ایکڑ سے زائد کا رقبہ برلن کی مسجد کے لئے مل گیا ہے اور اللہ میاں نے بڑی سستی قیمت پر دلا دیا۔ جبکہ باقی مساجد جووہاں بن رہی ہیں اس سے چوتھے پانچویں حصے میں بن رہی ہیں۔
پہلے مَیں یہ بتا دوں کہ حضرت مصلح موعود ؓ کا جو اس وقت کا منصوبہ تھا وہ نقشہ دیکھ کے آدمی حیران ہوتا تھا۔ 600نمازیوں کے لئے ہال کی گنجائش تھی، مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، پھر اس میں 13کمرے تھے جو سٹوڈنٹس کے لئے، طلباء کے لئے رکھے گئے تھے، اب جو مسجد بن رہی ہے اس کے نقشے میں بھی تقریباً 500نمازیوں کے لئے گنجائش ہو گی اسی طرح باقی چیزیں ہیں۔ اور اگر فوری نہیں تو بعد میں کبھی جب بھی سہولت ہو، انشاء اللہ تعالیٰ اس کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ 1923ء میں جب تحریک ہوئی تھی تو لجنہ اماء اللہ نے تعمیر کے لئے رقم جمع کی تھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ کیونکہ یورپ میں عورتوں کے بارے میں یہ خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔ جب یورپ کو یہ معلوم ہو گا کہ اس وقت اس شہر میں جو دین کا مرکز بن رہا ہے اس میں مسلمان عورتوں نے جرمنی کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کروائی ہے تو کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے۔ تو جرمنی کی لجنہ کو جب یہ علم ہوا کہ پہلی کوشش مسجد کی تعمیرکی تھی اور عورتوں کی قربانیوں سے بننی تھی تو لجنہ جرمنی نے کہا کہ ہم اس مسجد کا خرچ برداشت کریں گی جو تقریباً ڈیڑھ ملین سے 2ملین یورو کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزاء دے اور ان کے مال و نفوس میں برکت ڈالے اور جلد سے جلد اپنا یہ وعدہ پورا کر سکیں تاکہ اپنا وعدہ پورا کرکے دوسرے منصوبوں اور قربانی کے لئے تیار ہو جائیں۔
اس مسجد کا نام خدیجہ مسجد رکھا گیا ہے۔ پس لجنہ ہمیشہ یاد رکھے کہ یہ مبارک نام اس پاک خاتون کا ہے جو سب سے پہلے آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں اور آپؐ پر اپنا سارا مال قربان کر دیا۔ پس جہاں یہ مسجد احمدی عورت کو قربانی کے اعلیٰ معیار کی طرف توجہ دلانے والی بنی رہے وہاں دنیا سے بے رغبتی اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف بھی ہر احمدی کو توجہ دلانے والی بنی رہے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی تقویٰ پر چلتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والی بنی رہیں ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو ہمیشہ آگے سے آگے بڑھانے والی ہوں۔ مشرقی جرمنی میں یہ جوبرلن میں مسجد بن رہی ہے، یہ ایک مسجد ہی نہیں بلکہ آئندہ نسلیں اور مساجد تعمیر کرنے والی بھی ہوں اور کرتی چلی جائیں اور ان کو آباد کرنے والی بھی ہوں اور خدائے واحد کے نام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے والی ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقصد کو پورا کرنے والی ہوں اور اس میں مدد گار بنیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن جلد دکھلائے جب ہم دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرکے خدائے واحد کے حضور جھکتا ہوا دیکھیں۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1AOIx]

اپنا تبصرہ بھیجیں