خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍جولائی 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
مہمان نوازی ایک ایسا وصف اور خُلق ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور انبیاء کا اور ان کے ماننے والوں کا بھی یہ خاصہ ہے۔ مہمان نوازی آپس میں محبت اور پیار بڑھانے کا بھی ایک ذریعہ ہے اور غیر کو بھی متأثر کرکے قریب لاتی ہے جس سے تبلیغ کے مزید راستے کھلتے ہیں۔
جماعت کے جلسے اور ان کے لنگر کے جاری نظام سے غیر بھی متأثر ہوتے ہیں۔
مسیح محمدی کی خلافت کے 100سال پورے ہونے پر کارکنان پہلے سے بڑھ کر خدمت کرنے کا اپنے اندر ایک جوش اور عزم پیدا کریں او ر وہ نمونے دکھائیں جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے مہمانوں کے لئے دکھاتے تھے۔
(آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مہمان نوازی کے پاک نمونوں کا دلکش تذکرہ اور اس حوالہ سے احباب جماعت کو نصائح)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 18؍جولائی 2008ء بمطابق18؍وفا 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جلسہ سے ایک ہفتہ پہلے کا خطبہ عموماً مَیں میزبانوں کو جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کے بارے میں توجہ دلانے کے لئے دیتا ہوں۔ یہ میزبانی جماعتی نظام کے تحت بھی ہو رہی ہوتی ہے اور ذاتی طور پر بھی احمدی اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی کر رہے ہوتے ہیں۔
مہمان نوازی ایک ایسا وصف اور خُلق ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور انبیاء کا اور ان کے ماننے والوں کا بھی یہ خاصہ ہے۔ مہمان نوازی آپس میں محبت اور پیار بڑھانے کا بھی ایک ذریعہ ہے اور غیر کو بھی متأثر کرکے قریب لاتی ہے جس سے تبلیغ کے مزید راستے کھلتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی سنت میں بھی ہمیں اکرامِ ضیف کے نظارے نظر آتے ہیں اور آپ ؓ کے غلام صادق کی زندگی میں بھی ہمیں اس طرف ایک خاص توجہ نظر آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا بھی تھا کہ لوگ کثرت سے آئیں گے اور ظاہر ہے جب ایک اجنبی جگہ پر لوگ آئیں تو مہمان ہونے کی حالت میں آتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی الہام ہوا کہ

وَلَاتُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاس

اور جو لوگ تیرے پاس آئیں گے، تجھے چاہئے کہ ان سے بدخلقی نہ کرے اور ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو یہ مہمان نوازی کرنی تھی کہ انبیاء کا یہ خاصّہ ہوتا ہے لیکن اس میں اصل میں ہمارے لئے نصیحت ہے کہ مسیح موعودؑ کے لنگر تو پھیلنے ہیں۔ اس لئے وہ مرکز جہاں پر خلیفۂ وقت ہو خاص طور پر اور اس کے علاوہ بھی جہاں مسیح موعودؑ کے نام پر لوگ جمع ہوں گے وہاں یہ مہمان نوازی کرنی پڑے گی۔ وہاں اس اعلیٰ خُلق کو جو مہمان نوازی کاہے اس کام پر معمور لوگ کبھی پس پشت نہ ڈالیں۔ یہ پیشگوئی جماعت کی بہت زیادہ تعداد میں بڑھنے کے بارے میں بھی ہے اور نہ صرف تعداد کے بڑھنے کے بارے میں بلکہ جماعت کے افراد کے اخلاص و وفا میں بڑھنے کے بارے میں بھی ہے کہ مخلصین کا مرکز میں تانتابندھا رہے گا۔ آنے والے لوگ آتے رہیں گے اور پھر صرف ماننے والوں کی تعداد ہی نہیں بلکہ حق کے متلاشی لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد آتی رہے گی اور ان کی مہمان نوازی بھی رہے گی۔ اس لئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے لنگر خانہ بھی شروع فرمایا تھا اور یہ بھی اہم کاموں میں سے آپ نے ایک اہم کام قرار دیا تھا۔
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لنگر دنیا کے کونے کونے میں چل رہے ہیں اور جماعتی مراکز کی طرف جہاں جہاں بھی جماعت کے مرکز ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام سننے کے لئے آنے والوں کی توجہ پیدا ہو رہی ہے اور پھر جب جلسہ سالانہ ہوتا ہے تو اس کا ایک اور ہی قسم کا نظارہ ہمیں نظر آتا ہے۔ پس یہ مہمان نوازی ایک ایسا کام ہمارے سپرد ہو چکا ہے جس کا کرنا ہر احمدی کے لئے عام طور پر اور خلیفۂ وقت اور انتظامیہ کے لئے خاص طور پر فرض ہو چکا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہمارے لئے وارننگ بھی ہے کہ اگر تم نے اعلیٰ اخلاق نہ دکھائے تو اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے محروم رہنے والے بھی بن سکتے ہو اور یہ خلق اگر اپنے اندر قائم کر لوگے تو یہ خلق قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے والے بن جاؤ گے۔
پس وہ تمام کارکنان والنٹیئرز اور انتظامیہ کے لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور انہیں یہ موقع مل رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی عمر کے مرد، خواتین بھی، نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اور بچے بھی جلسہ کے دنوں میں ایک خاص جوش سے اپنے نام مہمانوں کی خدمت اور جلسہ سالانہ کی متفرق ڈیوٹیوں کے لئے پیش کرتے ہیں۔
اور جیسا کہ مَیں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ اب ہر ملک میں جلسے ہوتے ہیں، کئی جلسوں میں مَیں بھی شامل ہوتا ہوں تو ہر قوم کے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیوٹیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور خوشی سے پیش کرتے ہیں۔ افریقہ کی بھی مثالیں مَیں دے چکا ہوں کہ کس طرح خوش دلی سے وہ ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔ پھر امریکہ، کینیڈا میں جلسے ہوئے اور کہیں بھی جب مَیں گیا ہوں، جہاں بھی جلسے ہوتے ہیں، وہاں بھی ہر طبقے کے لوگ اور ہر عمر کے لوگ مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور بڑی خوشی سے ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں۔
لیکن UK کے جلسہ کی ایک اہمیت بن چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں انتظامات کی وسعت، جو خلافت کی موجودگی کی وجہ سے ہے، باقی دنیا کی نسبت زیادہ ہے اور لوگوں کی نظر بھی اس جلسے پر زیادہ ہوتی ہے۔ اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی اور اس لحاظ سے جو ڈیوٹیاں دینے والے ہیں، بعض قسم کی ڈیوٹیاں بھی ان کے لئے بڑی حساس ہیں اور ظاہر ہے جب یہ جلسہ جیسا کہ مَیں پہلے کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، غیر شعوری طورپر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے تو میری فکر بھی اس جلسے پر زیادہ ہوتی ہے، لوگوں کی توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں، ان لوگوں کی جو خاص طور پر باہر سے آتے ہیں، جو دوسرے ملکوں سے مہمان بن کے آرہے ہوتے ہیں۔ ضمنا ً یہاں یہ بھی بتا دوں کہ اس وقت خلافت کا مرکز یہاں ہونے کی وجہ سے لندن کے خدام اور بعض دوسرے کام کرنے والے جو حفاظت کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں یامستقل لنگر میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں یا دوسرے فنکشنز میں اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، فنکشنز بڑی تعداد میں ہو رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے افراد جماعت کی نسبت یہاں کے لوگ زیادہ اور مستقل کام کرنے والے ہیں اور گزشتہ 24سال سے نہایت احسن رنگ میں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ربوہ اور قادیان میں تو اس کام کے لئے مستقل عملہ ہے لیکن یہاں لنگر کا بھی بہت سا حصہ اور مسجد فضل کی جو متفرق ڈیوٹیاں ہیں یہ والنٹیئرز انصار اور خدام اللہ تعالیٰ کے فضل سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی اس خدمت کی بہترین جزا دے۔ اس ملک میں اور پھر اس مہنگے شہر میں رہتے ہوئے اپنے وقت اور مال کی قربانی کر رہے ہوتے ہیں تو یقینایہ سب کارکنان کا جماعت اور خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق ہے جس کی وجہ سے وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ان کو یہ توفیق دیتا چلاجائے۔
جماعت کے جلسے اور ان کے لنگر کے جاری نظام سے غیر بھی بہت متاثر ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی جو لوگ قادیان آئے تھے، بعض غیر از جماعت اس لنگر کے نظام کو اور مہمان نوازی کو دیکھ کر اور خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مہمان نوازی کو دیکھ کر بڑے متأثر ہوتے تھے۔ آج کل بھی جلسوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جاری کردہ لنگر لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
اس دفعہ جب مَیں افریقہ کے دورے پر گیا ہوں تو بعض ممالک میں جہاں جلسے ہوئے خلافت جوبلی کے حوالے سے لوگوں کی آمد بھی زیادہ تھی تو اتنے مہمانوں کو کھانا ملتے دیکھ کر کئی غیر جو وہاں آئے ہوئے تھے وہ اس بات سے بہت متأثر تھے اور ان کا حیرت کا اظہار تھا۔ اور بعض نے تو اسی بات کو خدائی جماعت ہونے کی دلیل سمجھ لیا کہ اس طرح کی مہمان نوازی تو ہم نے کہیں نہیں دیکھی۔ تو یہ سب اصل میں آنحضرت ﷺ کے غلام ِصادق کی تربیت کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر چلاتے ہوئے یہ راستے دکھائے۔
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ آپؐ کی مہمان نوازی اور سخاوت تھی جس نے کئی کافروں کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی۔ پس مہمان نوازی ایک ایسا خلق ہے جو دین اور دنیا دونوں طرح سے دوسروں کو قریب لانے کا باعث بنتا ہے اور اس زمانہ میں کیونکہ دین کی تجدید کے لئے اور بندے کو اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے والا بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے، اعلیٰ اخلاق قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت
مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے اور آپؑ سے یہ بھی وعدہ فرمایا کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ یعنی یہ سب کام جو مسیح محمدی کے سپرد ہوئے بظاہر آپعلیہ السلام اور آپؑ کے بعد نظام خلافت کے ذریعہ پورے ہو رہے ہوں گے۔ لیکن دلوں کو پھیر نے کی طاقت سوائے خداتعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے۔ اس لئے حقیقت میں یہ کام خداتعالیٰ خود کرتا ہے، کرتا رہا ہے اور کر رہاہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اس زبردست مدد کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے فرمایا جب اس طرح ہو گا، دلوں کو پھیرے گا تو لوگ آئیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا کہ یَأتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْق کہ یعنی لوگ دور دراز جگہوں سے تیرے پاس آئیں گے۔ پس جب اللہ تعالیٰ دین قبول کرنے والوں کو، دین سیکھنے والوں کو اور دین کی تحقیق کرنے والوں کو بھیجے گا تو فرمایا پھر گھبرانا نہیں بلکہ اعلیٰ خلق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑنا تو یہ اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آنے والے مہمانوں کی تھی اور آپؑ کے لئے آنے والے مہمانوں کی ہے۔ جلسوں کا انعقاد بھی آپعلیہ السلام نے اس لئے فرمایا تھا کہ دین اور روحانیت میں ترقی ہو اور اس کے لئے لوگ جمع ہوں۔
پس یہ مہمان جو جلسے کے لئے آتے ہیں اور آرہے ہیں ان کی ہر رنگ میں خدمت کرنا، ہر کارکن کا جس نے اپنے آپ کو اس مقصد کے لئے پیش کیا ہے اور جس کی ڈیوٹی مختلف شعبہ جات میں لگائی گئی ہے اس کا فرض ہے کہ پوری توجہ سے ڈیوٹی دے۔ یہ مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے آرہے ہیں اور جیسا کہ مَیں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو دیکھ کر نہ گھبرانا اور نہ ہی بدخلقی دکھانی ہے۔
آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ہمیں مہمان نوازی کے عجیب نمونے نظر آتے ہیں۔ اب دیکھیں کیسے کیسے عظیم نمونے ہیں کہ مہمان بستر گندا کر گیا ہے تو خود اپنے ہاتھ سے آنحضرت ﷺ اس کو دھو رہے ہیں۔ نجاشی کے بھیجے ہوئے وفد کی خود اپنے ہاتھ سے خدمت کر رہے ہیں۔ صحابہ آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہمیں کام کرنے دیں اور موقع دیں، آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ جواب میں فرماتے ہیں، ان لوگوں نے مسلمانوں کی جو عزت اور خدمت کی ہے اب میرا فرض بنتا ہے کہ مَیں اپنے ہاتھ سے ان کی خدمت کروں۔ پھر مہمان آتا ہے، ایک بکری کا دودھ پیتا ہے، اَور مانگتا ہے، آپؐ پیش فرماتے چلے جاتے ہیں حتّٰی کی سات بکریوں کا دودھ پی جاتا ہے لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ کیا کر رہے ہو، تمہارا پیٹ ہے یا کیا چیز ہے؟ دیتے چلے جاتے ہیں۔
صحابہ ؓ کی اس طرح تربیت فرمائی کہ گھر والے مہمان کی خاطربچوں کو بھوکا سلا دیتے ہیں کہ کھانا کم ہے اور خود بھی اندھیرا کرکے صرف ظاہراً منہ سے ایسی آوازیں نکالتے ہیں جیسے کھانا کھا رہے ہیں تاکہ مہمان محسوس کرے کہ یہ میرے ساتھ شامل ہیں۔ اور یہ مہمان نوازی پھر خدا کوبھی اس قدر پسند آتی ہے کہ عرش پر خدا بھی اس کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کو آپ کے ایسے قربانی کرنے والے خدام کے اس عمل کی خوش ہو کر پھر خبر بھی دیتا ہے۔
پھر صحابہ ؓ کی مہمان نوازی کے وہ نمونے بھی ہیں جو ایک دو روز کی مہمان نوازی نہیں بلکہ مہاجرین جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو انصار نے ان مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں اپنے آدھے مال کا بھی حصّہ دار بنا دیا جن کو خداتعالیٰ نے تحسین کی نظر سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ

یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ (الحشر:10)

کہ خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ دوسروں کی خاطر قربانی اس لئے نہیں تھی کہ خودبڑے کشائش میں تھے، اچھے حالات تھے اس لئے مال دے دیا بلکہ خود تنگی میں رہتے ہوئے قربانی کے جذبے سے وہ یہ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

رُحَمَآءبَیْنَھُمْ

کا نظارہ ہروقت ہمیں ان میں نظر آتا ہے۔ اپنے بھائیوں کی خدمت پر وہ خوش ہوتے تھے۔
پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جلسے پرآنے والے مہمان بھی یہاں UK میں تو خاص طور پر خلافت سے محبت اور دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اس لئے ان کی خدمت ہمارا فرض ہے۔ ہر ایک سے نرمی اور پیار سے پیش آنا ہم پر فرض ہے۔ بعض لوگ پہلی دفعہ پاکستان سے یا افریقہ کے ممالک سے آرہے ہیں، پھر مختلف قوموں کے لوگ بھی آرہے ہیں، ان سب سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ امیر ہو، غریب ہو ہرایک کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا مہمان سمجھ کر خدمت کرنی ہے۔ اس سال خلافت کے سوسا ل پورا ہونے پرمہمانوں کی آمد بھی زیادہ متوقع ہے۔ اسی لئے انتظامیہ پہلے سے بڑھ کر کچھ انتظامات بہتر کر رہی ہے۔ کارکنان کو بھی پہلے سے بڑھ کر اُن انتظامات کو کامیاب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انتظامات چاہے جتنے مرضی ہوں اگر کارکن صحیح طور پر کام نہیں کر رہے تو سب انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جس خوشی اور جذبے کے ساتھ مہمان آرہے ہیں اسی طرح کارکنان اور کارکنات کو ان مہمانوں کو خوش آمدید بھی کرنا چاہئے اور ان کی خدمت پر ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ پس مسیح محمدی کی خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر کارکنان بھی پہلے سے بڑھ کر خدمت کرنے کا اپنے اندر ایک جوش اور عزم پیدا کریں اور وہ نمونے دکھائیں جو حضرت
مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے مہمانوں کے لئے دکھاتے تھے۔ آپؑ اس زمانہ میں جواسوہ ہمارے سامنے قائم کر گئے۔ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کے بڑے حسین اوراق ہیں اور اسی حوالے سے آج مَیں اس سیرت کے پہلو کے چند واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
مہمانوں کی خاطر تواضع کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نصیحت فرمائی کہ’’لنگر خانہ کے مہتمم کو تاکید کر دی جاوے کہ وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مدنظر رکھے۔ مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے، ممکن ہے کہ اُسے خیال نہ رہتا ہو، اس لئے کوئی دوسرا شخص یا د دلا دیا کرے’‘۔
اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی وسیع نظام ہے، کارکنان ہیں مستقل بھی اور عارضی بھی، تو اس لحاظ سے تو کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ پھر فرمایا کہ’’کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے واقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہرایک ضرورت کو مدنظررکھیں۔ بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھاجاوے۔ مَیں تو اکثر بیمار رہتا ہوں (یہ آخری عمر کی آپ کی ہدایت تھی) اس لئے معذور ہوں۔ مگرجن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔ کیونکہ لوگ صدہا اور ہزار ہا کوس کا سفر طے کرکے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں پھر اگر ان کو یہاں تکلیف ہوتو ممکن ہے کہ رنج پہنچے اور رنج پہنچنے سے اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح سے ابتلا کا موجب ہوتا ہے اور پھر گناہ میزبان کے ذمہ ہوتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 170جدید ایڈیشن)
پس جیسا کہ مَیں نے کہا تھا۔ اس دفعہ بھی لوگ مختلف قومیتوں کے یہاں آرہے ہیں اور زیادہ تعداد میں آرہے ہیں اور کئی ہیں جو پہلی دفعہ آرہے ہیں۔ پھربعض مہمان ہیں ان کی بھی افریقہ اور دوسرے ملکوں سے بڑی تعداد آرہی ہے جو احمدی نہیں ہیں، ان سب کی مہمان نوازی اور ان کے جذبات کاخیال رکھنا ہر کارکن کا فرض ہے۔ اللہ کے فضل سے ہمیشہ غیر یہاں کے انتظام سے متأثر ہوتا ہے جب بھی یہاں گزشتہ سالوں میں انتظام ہوتے ہیں۔ جو بھی غیر آتے ہمیشہ متأثرہو کرگئے۔ اس دفعہ زیادہ فکر اس لئے ہے کہ تعداد بھی زیادہ ہو گی اور یہی خیال ہے، لیکن اس تعداد کی وجہ سے کسی قسم کے انتظام میں فرق نہیں پڑنا چاہئے۔
پھر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں مہمانوں کا انتظام اور مہمان نوازی کا ذکر ہوا توآپ نے فرمایا کہ’’میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتاہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔ مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے‘‘۔ شیشے کی طرح نازک ہوتا ہے’’اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے پیشتر مَیں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ مَیں خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔ مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پرہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی۔ اس لئے بمجبُوری علیحدگی ہوئی۔ ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔ بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہو سکتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 292۔ جدیدایڈیشن)
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے گو کہ انتظام ہر قوم کے لئے تو نہیں، مختلف دو تین طرز کا کھا نا پکتا ہے لیکن جو کھلانے والے ہیں، جو مہمان نوازی کرنے والے ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ مزاج کے مطابق ان کو کھانا مہیا کر دیا کریں۔
حضرت مولوی حسن علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں (یہ ان کا اپنی بیعت سے پہلے کا واقعہ ہے وہ 1887 ء میں پہلی دفعہ قادیان گئے تھے) لکھتے ہیں کہ’’مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔ ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں ‘‘۔
کہتے ہیں کہ’’مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی، امرتسر میں تو مجھے پان ملا لیکن بٹالے میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا۔ ناچار الائچی وغیرہ کھا کر صبر کیا۔ میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بُری عادت کا تذکرہ کر دیا۔ جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی کو روانہ کیا، دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔ سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ مرتبہ یعقوب علی عرفانیؓ۔ جلد اول۔ صفحہ 136-135)
امرتسر وہاں سے 16میل تھا وہاں سے حضرت مسیح موعودؑ نے ان کے لئے پان منگوایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو کہا بھی تھا کہ دوبارہ آئیں۔ چنانچہ نیک فطرت، سعید فطرت تھے، 1894ء میں پھر دوبارہ قادیان جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کر لی کیونکہ پہلی دفعہ جب گئے ہیں، تو اس وقت تو ابھی آپؑ نے بیعت نہیں لی تھی۔
ایک روایت حضرت مرزا بشیر احمدؓ صاحب نے لکھی ہے، مولوی عبداللہ سنوری ؓ صاحب کے حوالے سے، کہ’’حضرت مسیح موعودؑ بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرہ میں جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے)لیٹے ہوئے تھے اورمَیں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمپت یا شاید مَلَاوامل نے دستک دی، مَیں اٹھ کر کھڑکی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا : آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 160۔ مؤلفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ)
یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عاجزی کی بھی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ مہمان کے احترام کی بھی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن آقا نے اپنے غلام کی جو عزت افزائی کی ہے اور صرف اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کا فرمان اور اسوہ کی پیروی کرنی ہے تو یہ ایک سچا عاشق ہی کر سکتا ہے۔ اور یہی سچے عاشق آپؑ اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے آج الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نعوذ باللہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے بالا سمجھتے ہیں۔
ایک مرتبہ بیگووال ریاست کپور تھلہ کا ایک ساہو کار اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اطلاع ہوئی۔ آپؑ نے فوراً اس کے لئے نہایت اعلیٰ پیمانہ پر قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ ان کی بیماری کے متعلق دریافت کرتے رہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص طور پر تاکید فرمائی۔ اسی سلسلہ میں آپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ بیگوال جانا پڑا تھا اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں اس کے بعد بھی اگر وہاں سے کوئی آجاتا تو آپ ان کے ساتھ خصوصاً بہت محبت کا برتاؤ فرماتے تھے۔
یہاں پھر ہمیں اس اسوہ پر عمل ہوتا نظر آتا ہے جو آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہے کہ نجاشی کا جو وفد آیا تھا تو آپ نے اس کی خدمت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ نیک سلوک کیا تھا۔
حضرت میر حامد علی شاہ صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ اپنی ذات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ’’ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے (یہ لمبا واقعہ ہے) کہ اس عاجز نے حضور مرحوم و مغفور کی خدمت میں قادیان میں کچھ عرصہ قیام کے بعد رخصت حاصل کرنے کے واسطے عرض کیا۔ حضور اندر تشریف رکھتے تھے چونکہ آپ کی رأفت اوررحمت بے پایاں نے خادموں کو اندر بھجوانے کا موقع دے رکھا تھا اس واسطے اس عاجز نے اجازت طلبی کے واسطے پیغام بھجوایا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ وہ ٹھہریں ہم ابھی باہر آتے ہیں۔ یہ سن کر مَیں بیرونی میدان میں گول کمرے کے ساتھ کی مشرقی گلی کے سامنے کھڑا ہو گیا اور باقی احباب بھی یہ سن کر کہ حضورؑ باہر تشریف لاتے ہیں پروانوں کی طرح اِدھر اُدھر سے شمع انوارا الٰہی پر جمع ہونے کے لئے آگئے۔ یہاں تک کہ حضرت سیدنا و مولانا نورالدین صاحب بھی تشریف لے آئے اور احباب کی جماعت اکٹھی ہوئی۔ ہم سب کچھ دیر انتظار میں خَم برسر راہ رہے کہ حضورؑ اندر سے برآمد ہوئے۔ خلاف معمول کیا دیکھتا ہوں کہ حضورؑ کے ہاتھوں میں دودھ کا بھرا ہوا لوٹا ہے اور گلاس شاید حضرت میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اور مصری رومال میں ہے۔ (یعنی حضرت مرزابشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ آپؑ کے ساتھ تھے۔ چھوٹے بچے تھے۔ ’’اور مصری رومال میں ہے‘‘ (چینی رومال میں تھی)۔ ’’حضورؑ گول کمرے کی مشرقی گلی سے برآمد ہوتے ہی فرماتے ہیں کہ شاہ صاحب کہاں ہیں۔ مَیں سامنے حاضر تھا فی الفور آگے بڑھا اور عرض کیا حضور حاضر ہوں۔ حضور کھڑے ہو گئے اور مجھ کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ مَیں اسی وقت زمین پر بیٹھ گیا‘‘۔ اب یہ بھی بتایا کہ کھانے یا پینے کے وقت بیٹھ کر پینا چاہئے۔ یا آرام سے کھانا چاہئے۔ ’’پھر حضورؑ نے گلاس میں دودھ ڈالا اور مصری ملائی گئی۔ مجھے اس وقت یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت محمودنے میرے ہاتھ میں گلاس دودھ بھرا دیا یاخود حضورعلیہ السلام نے‘‘۔
شیخ یعقوب علی عرفانی بھی وہاں موجود تھے جو لکھنے والے ہیں وہ یہ لکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اب تک اس مؤثر نظارے کو دیکھتی ہیں گویا وہ بڑا گلاس حضرت کے ہاتھ سے میر صاحب کو دیا جا رہا ہے۔ جو مجھے بھی یہ نظارہ یاد ہے۔
بہرحال یہ کہتے ہیں ’’مگر یہ ضرور تھا کہ حضرت محمود اس کرم فرمائی میں شریک تھے اور حضورؑ چینی گھولتے تھے گلاس میں دودھ ڈالتے تھے، اچھی طرح ہلاتے تھے پھر مجھے پینے کے لئے دیتے تھے۔ بعض دوستوں نے یہ کام خود کرنا چاہا تو حضورؑ نے فرمایا نہیں نہیں کوئی حرج نہیں، مَیں خود کروں گا۔ جب شاہ صاحب نے گلاس پی لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دوسرا گلاس بھر کے دیا۔ کہتے ہیں مَیں نے وہ بھی پی لیا۔ گلاس بڑا تھا میرا پیٹ بھر گیا۔ پھر اسی طرح تیسرا گلاس بھرا گیا مَیں نے بڑا شرمگیں ہو کر عرض کیا کہ حضور اب تو پیٹ بھر گیا ہے، فرمایا کہ ایک اور پی لو۔ مَیں نے وہ تیسرا گلاس بھی پی لیا۔ پھر حضورؑ نے اپنی جیب سے کچھ بسکٹ نکالے اور فرمایا کہ جیب میں ڈال لو اور راستے میں اگر بھوک لگی تو یہ کھانا۔ مَیں نے وہ جیب میں ڈال لئے اور خیر وہ دودھ جوباقی تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اندر بھجوا دیا۔ تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا چلو آؤ آپ کو چھوڑ آئیں۔ کہتے ہیں مَیں نے عرض کیا کہ حضور اب میں سوار ہو جاتا ہوں، ٹا نگے پہ سوار ہونا تھا چلا جاؤں گا۔ حضورتکلیف نہ فرمائیں۔ لیکن حضرت صاحب نے فرمایا ساتھ چلیں گے اور مجھے ساتھ لے کر روانہ ہو پڑے اور پھر ایک مجمع بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ساتھ تھا۔ راستے میں دین کی اور بعض علمی باتیں کرتے رہے۔ تو کافی دور تک نکل گئے، تو کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریب آکر کان میں کہا کہ آگے ہو کر حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو اور اجازت لے لو۔ اگر تم نے اجازت نہ لی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو اسی طرح تمہارے ساتھ چلتے چلے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں اس پر مَیں نے آگے بڑھ کر اجازت لی تو بڑے لطف سے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا ہمارے سامنے سوار ہو جاؤتو اس پر مَیں یکّہ پر بیٹھ گیا اور حضور واپس روانہ ہوئے۔ (ماخوذ ازسیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام۔ از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ۔ صفحہ136تا 139)
پھر منشی عبدالحق صاحب کے ساتھ سیر پر تھے واپس لوٹتے ہوئے فرمایا کہ’’آپ مہمان ہیں، آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو، مجھے بے تکلف کہیں کیونکہ مَیں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو کیا ضرورت ہے۔ آجکل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیا کریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام۔ از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ۔ صفحہ142)
مفتی صادق صاحبؓ لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ مَیں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔ غالباً 1897ء یا 1898ء کا واقعہ ہو گا۔ مجھے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مسجد مبارک میں بٹھایا جو کہ اس وقت چھوٹی سی جگہ تھی۔ فرمایا کہ آپ بیٹھیں مَیں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ اندرتشریف لے گئے۔ میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے۔ مگر چند منٹ کے بعد جب کھڑکی کھلی تو مَیں کیا دیکھتا ہوں اپنے ہاتھ سے سینی اٹھائے ہوئے ایک ٹرے میں کھانا رکھے ہوئے لائے ہیں۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے مَیں پانی لاتا ہوں۔ بے اختیاررقّت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتداء پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں کس قدر خدمت کرنی چاہئے۔ (ماخوذ از ذکر حبیب۔ صفحہ327۔ مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ)
حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی جمع تھے جن کے پاس کوئی گرم کپڑے وغیرہ نہیں تھے۔ بستر لحاف کپڑے وغیرہ نہیں تھے۔ ایک شخص نبی بخش نمبردار ساکن بٹالہ نے اندر سے لحاف اور بچھونے وغیرہ منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔ کہتے ہیں عشاء کے بعد حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دئیے بیٹھے ہوئے تھے اور ایک بیٹا ان کا جو غالباً حضرت خلیفۂ ثانی تھے، پاس لیٹے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا چوغہ ان کے اوپر تھا۔ تو پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا لحاف، بچھونا، بستر بھی طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا ہے۔ تو مَیں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بھی بہت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے، رات گزر جائے گی۔ نیچے آکر مَیں نے نبی بخش نمبردار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف اور بچھونا بھی لے آئے ہو۔ وہ شرمند ہوا اور کہنے لگا کہ جس کودے چکا ہوں اب اس سے کس طرح لوں۔ کہتے ہیں پھر مَیں مفتی فضل الرحمن یا کسی اورسے ٹھیک طرح یاد نہیں، بستر اور لحاف لے کر آیا۔ تو آپؑ نے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی اور مہمان کو دے دو، مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آتی اور میرے اصرار پر بھی آپؑ نے نہیں لیا اور فرمایا کسی اور مہمان کو دے دو۔ (اصحاب احمد۔ جلد 4صفحہ 180)
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ؓ لکھتے ہیں غالباً پہلی مرتبہ 1893ء کے مارچ کے مہینے کے اواخر میں قادیان آیا۔ رمضان کا آغاز تھا اور لوگ اس وقت اٹھ رہے تھے، مہمان خانے کی کائنات صرف دو کوٹھڑیاں اور ایک دالان تھا۔ یعنی کل لنگر خانہ اور دارالضیافت کوٹھڑیاں تھیں اور اس کا ایک صحن تھا جو مطبّ والا ہے۔ اس جگہ جہاں مطبّ تھا باقی موجودہ مہمان خانہ تک پلیٹ فارم تھا۔ حضرت حافظ حامد علی مرحوم کو خبر ہوئی کہ کوئی مہمان آیا ہے اس وقت مہمان خانے کے مہتمم کہو یا داروغہ یا انچارج جو بھی مہمانوں کے تھے سب کچھ وہی تھے اور وہ مجھے جاننے والے تھے جب وہ آکرملے تو محبت اور پیار سے انہوں نے مصافحہ اور معانقہ کیا اور حیرت سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے آگئے، ۔ صبح کے تین بجے سحری کے وقت پہنچے تھے تو مَیں نے جب واقعات بیان کئے تو بیچارے بہت حیران ہوئے۔ کچھ سبزی وغیرہ ان کے حوالے کی، جو یہ ساتھ لے کر آئے تھے۔ تازہ سبزی تھی وہ لے کر اندر چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اطلاع کی۔ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ تین بجے کے قریب قریب وقت تھا۔ حضرت صاحبؑ نے مجھے گول کمرے میں بلایا اور وہاں پہنچنے تک پر تکلف کھانا بھی موجود تھا۔ میں اس ساعت کو اپنی عمر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایسا وقت تھا کبھی بھول نہیں سکتا۔ کس محبت و شفقت سے بار بار فرماتے تھے کہ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ میں عرض کرتا نہیں، حضور تکلیف تو کوئی نہیں ہوئی، معلوم بھی نہیں ہوا۔ مگر آپ بار بار فرماتے ہیں، راستہ بھول جانے کی پریشانی بہت ہوتی ہے۔ آتے ہوئے راستہ بھول گئے تھے پیدل آرہے تھے اور اس لئے دیر سے پہنچے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا راستہ بھول جانے کی بڑی پریشانی ہوتی ہے اور کھانا کھانے کے لئے تاکید فرمانے لگے۔ کہتے ہیں مجھے آپ کے سامنے کھانا کھانے سے شرم آتی تھی۔ مَیں ذرا ہچکچا رہا تھا آپ نے خود اپنے دست مبارک سے کھانا آگے کرکے فرمایا کہ کھاؤ، بھوک لگی ہو گی اور سفر میں تھکان بھی ہو جاتی ہے تو آخر مَیں نے کھانا شروع کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤ، شرم نہ کرو۔ سفر کرکے آئے ہو، حضرت حامد علی صاحب بھی پاس بیٹھے تھے اور آپؑ بھی تشریف فرما تھے۔ مَیں نے عرض کیا حضور آپ آرام فرمائیں مَیں اب کھانا کھا لوں گا۔ حضرت اقدسؑ نے محسوس کیا کہ آپ کی موجودگی میں تکلف نہ کروں۔ فرمایا اچھا حامد علی تم اچھی طرح سے کھلاؤ اور یہاں ان کے لئے بسترا بچھا دو تاکہ یہ آرام کر لیں اور اچھی طرح سے سو جائیں۔ آپ تشریف لے گئے مگرتھوڑی دیر بعد ایک بسترا لئے ہوئے پھر تشریف لے آئے۔ میری حالت اس وقت عجیب تھی ایک طرف تو میں آپ کے اس سلوک سے نادم ہو رہا تھا کہ ایک واجب الاحترام ہستی اپنے ادنیٰ غلام کے لئے کس مدارات میں مصروف ہے۔ مَیں نے عذر کیا کہ حضور نے کیوں تکلیف فرمائی ہے۔ فرمایا نہیں نہیں تکلیف کس بات کی آپ کو آج بہت تکلیف ہوئی ہے اچھی طرح سے آرام کرو۔ غرض آپ خود بستر رکھ کر تشریف لے گئے اور حامد علی صاحب میرے پاس بیٹھے رہے اور محبت سے مجھے کھانا کھلایا اور پھر حضرت حافظ حامد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ لیٹ جائیں مَیں آپ کی ٹانگیں دبا دوں۔ تو مَیں نے بڑے شرمندہ ہو کر کہا نہیں مَیں نے نہیں دبوانی۔ تو اس پر حضرت حافظ حامد علی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ ذرا دبا دینا تھکے ہوں گے۔ ان کی یہ باتیں سنتے ہی کہتے ہیں میری آنکھوں سے بے اختیارآنسو نکل گئے کہ اللہ اللہ کس شفقت اور محبت کے جذبات اس دل میں ہیں، اپنے خادموں کے لئے وہ کس درد کا احساس رکھتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما ہوئے تو پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ نیند اچھی طرح آگئی تھی؟ اب تھکان تو نہیں ؟ غرض اس طرح پر اظہار شفقت فرمایا۔ اور کہتے ہیں آپ کی شفقت اور محبت یہی چیز تھی جو مجھے ملازمت چھڑوا کر قادیان لے آئی۔ (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ۔ جلداوّل صفحہ146تا 149)
میاں رحمت اللہ باغانوالہ کا واقعہ ہے یہ میاں رحمت اللہ صاحب با غانوالہ سیکرٹری انجمن احمدیہ بنگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص خادموں میں سے ہیں، اور بنگہ کی جماعت میں بعدمیں خداتعالیٰ نے بڑی برکت اور ترقی بخشی۔ 1905ء میں جبکہ حضرت اقدس باغ میں تشریف فرما تھے، میاں رحمت اللہ قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ مہمان خانے میں حسب معمول ٹھہرے ہوئے تھے۔ میاں نجم الدین مرحوم لنگر خانے کے داروغہ مہتمم تھے، ان کی طبیعت کسی قدر اکّھڑ سی واقعہ ہوئی تھی۔ اگرچہ اخلاص میں وہ کسی سے کم نہ تھے اور سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کے آرام کا اپنی طاقت اور سمجھ کے موافق بہت خیال رکھتے تھے اورمجتہدانہ طبیعت پائی تھی۔ میاں رحمت اللہ صاحب نے کچھ تکلف سے کام لیا روٹی کچی ملی اور وہ بیمار ہو گئے۔ مجھ کو خبر ہوئی اور مَیں نے ان سے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ روٹی کچی تھی اور تندور کی روٹی عام طور پر کھانے کی عادت نہیں ہے۔ مجھے ان کی تکلیف کا احساس ہوا۔ میری طبیعت بے دھڑک سی واقعہ ہوئی ہے۔ مَیں سیدھا حضرت صاحب کے پاس گیا اطلاع ہونے پر آپ فوراً تشریف لے آئے اور باغ کی اس روش پر جو مکان کے سامنے ہے ٹہلنے لگے اور دریافت فرمایا میاں یعقوب علی کیا بات ہے۔ مَیں نے واقعہ عرض کرکے کہا کہ حضور یا تو مہمانوں کو سب لوگوں پر تقسیم کر دیا کرو اور یا پھر انتظام ہو کہ تکلیف نہ ہو۔ مَیں آج سمجھتا ہوں اور اس احساس سے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے کہ مَیں نے خداتعالیٰ کے مامور اور مرسل کے حضور اس رنگ میں کیوں عرض کی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال آتا ہے کہ مَیں نے کیا بیوقوفی کی۔ مگر بہرحال کہتے ہیں اس رحمت کے پیکر نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی کہ میں نے کس رنگ میں بات کی ہے۔ فرمایا کہ آپ نے بہت ہی اچھا کیا کہ مجھ کو خبر دی۔ مَیں ابھی گھر سے چپاتیاں پکوانے کا حکم کر دوں گا۔ تندور کی روٹی اگر کھانے کی عادت نہیں نرم پھلکے پکوانے کا انتظام کر دوں گا۔ میاں نجم الدین کو بھی تاکید کرتا ہوں اسے بلا کر میرے پاس لاؤ۔ یہ بہت اچھی بات ہے اگر کسی مہمان کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے بتاؤ۔ لنگرخانے والے نہیں بتاتے اور ان کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا اور یہ بھی فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کہاں ہیں وہ زیادہ بیمار تو نہیں ہو گئے اگر وہ آسکتے ہوں تو ان کو بھی یہاں لے آؤ۔ مَیں نے واپس آکر میاں رحمت اللہ صاحب سے ذکر کیا وہ بیچارے بہت پریشان ہوئے کہ آپ نے کیوں حضرت صاحبؑ کو تکلیف دی۔ میری طبیعت اب اچھی ہے۔ خیرمَیں ان کو حضرت صاحب کے پا س لے گیا اور میاں نجم الدین صاحب کی بھی حاضری ہو گئی جو انچارج لنگر خانہ تھے۔ حضرت صاحب نے میاں رحمت اللہ صاحب سے بہت عذر کیا، بڑی معذرت کی کہ بڑی غلطی ہو گئی ہے، آپ کو تو تکلف نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مَیں باغ میں تھا ورنہ تکلیف نہ ہوتی اب انشاء اللہ انتظام ہو گیا ہے۔ جس قدر حضرت صاحب عذر اور دلجوئی کریں میں اور میاں رحمت اللہ اندر ہی اندر نادم ہوں اور پھر جتنے دن وہ رہے حضرت صاحب نے روزانہ مجھ سے دریافت فرمایاکہ تکلیف تو نہیں ؟ اور میاں نجم الدین کو بھی بڑی نصیحت کی کہ مہمانوں کا خیال رکھا کرو۔ (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جلد اول صفحہ 149تا151)
حضرت مفتی صادق صاحبؓ لکھتے ہیں حضرت صاحب مہمانوں کی خاطر داری کا بہت اہتمام رکھا کرتے تھے۔ جب تک تھوڑے مہمان ہوتے تھے آپ خود ان کے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام کیا کرتے تھے۔ جب مہمان زیادہ ہونے لگے تو خدام حافظ حامد علی صاحب اور میاں نجم الدین وغیرہ کو تاکید فرماتے رہتے تھے کہ دیکھو مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ ان کی تکلیف ان کی تمام ضروریات خورونوش اور رہائش کا خیال رکھا کرو۔ بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔ اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔ تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ ان سب کی خوب خدمت کرو۔ اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دیا کرو۔ (ذکر حبیب۔ از حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ صفحہ 195)
ایک غیر ازجماعت کے تاثرات بھی سن لیں جو 1905ء میں قادیان تشریف لائے تھے۔ اپنے قادیان سے جانے کے بعد امرتسر کے اخبار’’وکیل‘‘ میں اپنے سفر کی داستان انہوں نے بیان کی۔ اس کا کچھ حصہ ہے۔ لکھتے ہیں کہ مَیں نے اور کیا دیکھا۔ قادیان دیکھا، مرزا صاحب سے ملاقات کی مہمان رہا۔ مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہئے، میرے منہ میں سے حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے (گرمی کی وجہ سے) اورمَیں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔ مرزا صاحب نے جبکہ دفعتاً جب گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔ آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ جو خود ان کی ہی ملکیت ہے میں قیام پذیر ہیں۔ بزرگان ملت بھی و ہیں ہیں۔ قادیان کی آبادی تقریباً 3ہزار آدمیوں کی ہے مگررونق اور چہل پہل بہت ہے۔ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اوربلند عمارت ساری بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔ راستے کچے اور ناہموار ہیں، بالخصوص وہ سڑک جو بٹالے سے قادیان تک آئی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوقیت لے گئی ہے۔ آتے ہوئے یکّہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کی رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی۔ آتے ہوئے ٹانگے پہ آئے تھے اور جاتے ہوئے رتھ پہ گئے۔ بہرحال پھر لکھتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتا۔ اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔ (سیرت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام۔ مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ۔ جلد اول صفحہ 145-144)
یہ چند واقعات مَیں نے پیش کئے ہیں کہ آج اس حوالے سے جہاں مہمان نوازی کے لئے ایک جوش سے کارکن تیار ہوں وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کا یہ پہلو بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو بلکہ اکثریت تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کے پہلوؤں کو جانتی نہیں ہے کیونکہ ہر زبان میں سیرت موجود بھی نہیں ہے، ان کے علم میں بھی نہیں ہے۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ بعض لوگوں کے اپنے مہمان آتے ہوں گے۔ بعض قریبی عزیز ہوتے ہیں، ان کی مہمان نوازی تو انسان خوش ہو کے کر لیتا ہے بعض دُورکے عزیز یا کسی تعارف سے واقف ہوتے ہیں جوذاتی طورپر آکے مہمان ٹھہر جاتے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی بھی کریں۔ اسی طرح جماعتی نظام کے تحت کارکنان خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھیں۔ کھانا، رہائش اور صفائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے جوکارکنان ہیں ان کو براہ راست اور زیادہ مہمانوں سے واسطہ پڑے گا۔
اس دفعہ ٹرانسپورٹ کے انتظامات میں بھی کچھ تبدیلی ہے اور کچھ نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ اس لئے ٹرانسپورٹ کے کارکنان کو بھی بڑے احسن رنگ میں اپنے فرائض سرانجام دینے ہوں گے۔ گو ٹرین اور بسیں چلائی جا رہی ہیں لیکن بسوں پر جو جماعتی انتظام ہے اس کے مطابق بسیں خاص جگہوں سے چل رہی ہیں۔ اس میں خاص طور پر یورپ کے باہر سے آنے والے جومہمان ہیں ان کو وقت پر جلسہ گاہ میں پہنچانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن دوسرے مہمانوں سے بھی سختی سے بات نہیں کرنی ان کو بھی آرام سے سمجھائیں کیونکہ یورپ سے آنے والے اور یہاں UK مقامی کے پاس کاریں بھی ہیں اور ٹرین کے ذریعے سے وہ خرچ کرکے بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن غریب ممالک سے آئے ہوئے جو لوگ ہیں ان کو بسوں کے ذریعہ سے پہنچانا ہو گا۔ اس لئے اس واسطے جو کارکنان ہیں وہ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں۔ مہمانوں سے جو یہاں کے ہیں ان کو بھی مَیں کہتا ہوں وہ بھی خیال رکھیں۔ باہر سے آنے والوں کو بہرحال ترجیح دیں۔ اور موسم کا بھی کیونکہ پیشگوئیاں تو ایسی ہیں کہ کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ یہ بھی ٹھیک رکھے اور ہر لحاظ سے ہمارا موسم موافق ہو لیکن اگر کسی بھی وجہ سے کوئی مشکل پیدا ہو تو کارکنان کوہمیشہ حوصلے میں رہنا چاہئے اور خوش دلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ گزشتہ سال بھی ماشاء اللہ کیا تھا۔ اس سال بھی اس روایت کو قائم رکھیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر قائم کریں۔ اصل میں تو خدمت کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھیں کہ خدمت ہم نے قربانی کرکے کرنی ہے۔ آسانی سے خدمت نہیں کی جاتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی تو خاص طور پر اس طرح خدمت کرنی ہے جو اس کا حق ادا ہو کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہیں اور جلسہ پر آنے والے مہمان ہیں۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کرنے والے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ سب کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی احسن رنگ میں توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wS5wW]

اپنا تبصرہ بھیجیں