خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍ستمبر 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے تقویٰ میں ترقی، ان کی روحانیت میں اضافہ، انہیں اپنے قرب سے نوازنے اور انہیں دعاؤں کی قبولیت کے طریق اور حقیقت بتانے کے لئے ایک تربیتی کورس کے طور پر یہ روزے فرض فرمائے ہیں۔
وہ دعا سب سے اہم ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے اور ان میں سب سے اوّل دعا اس کے دین کے غلبہ کی دعا ہے۔ انسانیت کو خداتعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانے کے لئے دعا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے دنیا کو لانے کی دعا ہے۔ یہ دعائیں ایسی ہیں جو یقینا خداتعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والی دعائیں ہیں۔
آج کل جماعت کو بھی مختلف جگہوں پر جو حالات پیش آرہے ہیں، اس حوالے سے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں
پس اے مسیح محمدی کے غلامو! آپ کے در خت وجود کی سرسبز شاخو! اے وہ لوگو! جن کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے راستے دکھائے ہیں۔ اے وہ لوگو! جو اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں قوم کے ظلم کی وجہ سے مظلومیت کے دن گزار رہے ہو، اور مظلوم کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَیں بہت سنتا ہوں، تمہیں خداتعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اس رمضان کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے اور ان تمام باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں گزار دو۔ یہ رمضان جو خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کا پہلا رمضان ہے، خداتعالیٰ کے حضور اپنے سجدوں اور دعاؤں سے نئے راستے متعین کرنے والا رمضان بنا دو، اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا رمضان بنا دو۔ اپنی آنکھ کے پانی سے وہ طغیانیاں پیدا کر دو جو دشمن کو اپنے تمام حربوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائیں۔ اپنی دعاؤں میں وہ ارتعاش پیدا کرو جو خداتعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی چلی جائے کیونکہ مسیح محمدی کی کامیابی کا راز صرف اور صرف دعاؤں میں ہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 05؍ستمبر 2008ء بمطابق05؍تبوک 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَاِن فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (سورۃ البقرہ :184۔ 187)

جو آیات مَیں نے تلاوت کی ہیں ان کا ترجمہ ہے:
اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند دن ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پرجن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اورجو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایاّم میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والوں کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
آج کل ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے رمضان میں سے گزر رہے ہیں اور یہ مہینہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، روزوں کا مہینہ ہے اور جیسا کہ جو آیات مَیں نے تلاوت کی ہیں ان سے واضح ہے کہ یہ روزے بغیر کسی مقصد کے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے تقویٰ میں ترقی، ان کی روحانیت میں اضافہ، انہیں اپنے قرب سے نوازنے اور انہیں دعاؤں کی قبولیت کے طریق اور حقیقت بتانے کے لئے ایک تربیتی کورس کے طور پر یہ روزے فرض فرمائے ہیں۔
پہلی آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے اس لئے فرض ہیں تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ۔
ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ر وزہ ڈھال ہے۔ (جامع ترمذی۔ باب ما جاء فی فضل الصوم)۔ پس جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے روزے کو اپنی ڈھال بناؤ گے تو خداتعالیٰ خود تمہاری ڈھال بن جائے گا۔ اور نہ صرف بڑے بڑے گناہوں سے بچائے گا بلکہ ہر قسم کے چھوٹے گناہوں سے اور چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے بھی بچائے گا۔ ہر شر سے بھی بچو گے اور نیکیاں کرنے کی توفیق بھی پاؤ گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے آپ کو ان تمام شرائط کا بھی پابند رکھو جو روزے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس کے بارہ میں یہ حکم ہے کہ جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کان، آنکھ، زبان، ہاتھ اور ہر عضو بھی روزہ رکھے۔ یعنی ڈھال فائدہ مند تبھی ہو گی جب اس کا استعمال بھی آتا ہو گا۔ صرف روزہ رکھنا، تقویٰ کے معیار حاصل نہیں کروا دے گا بلکہ اس کے لئے اپنے آپ کی تربیت بھی کرنی ہو گی، اپنے آپ کو ڈھالنا ہو گا، اپنے آپ کو ڈسپلنڈ (Disciplined)کرنا ہو گا، ان شرائط کا پابند کرنا ہو گا جو خداتعالیٰ نے رکھی ہیں۔ جیسا کہ اگلی دو آیات سے بھی ظاہر ہے کہ مریض یا مسافر ہونے کی حالت میں ر وزہ جائز نہیں ہے بلکہ ایسی حالت میں روزہ نہ رکھنے اور دوسرے دنوں میں پورا کرنے کا حکم ہے۔ کیونکہ تقویٰ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے میں ہے نہ کہ فاقہ کرنے میں۔ پھر قرآن کریم کا پڑھنا، اس کے احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور بے شمار احکامات ہیں جو قرآن کریم میں درج ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک اوامرونواہی اور احکام الٰہی کی تفصیل موجود ہے اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں۔ پس تقویٰ کا حصول اس ڈھال کے پیچھے آنا ہے جو روزے کی ڈھال ہے اور جو دراصل خداتعالیٰ کی ڈھال ہے اس لئے خداتعالیٰ نے فرمایا کہ روزے کی جزا مَیں خود ہوں۔ یہ حدیث قدسی ہے یعنی وہ حدیث جو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان فرمائی ہے۔ (جامع ترمذی۔ باب ما جاء فی فضل الصوم)
پس اس ڈھال کا فائدہ تبھی ہو گا جب روزہ میں نفس کا مکمل محاسبہ کرتے ہوئے کانوں کو بھی لغو اور بری باتوں سے انسان محفوظ رکھے۔ ہر ایسی مجلس سے اپنے آپ کو بچائے جہاں دین کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھا ہو رہا ہو، دین کی باتوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ جہاں ایسی مجالس ہوں جن میں دوسروں کی، اپنے بھائیوں کی چغلیاں اور بدخوئیاں ہو رہی ہوں۔ اپنی آنکھ کو ہر ایسی چیز کے دیکھنے سے محفوظ رکھے جس سے خداتعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ مثلاً مَردوں کو غض بصر کا حکم ہے۔ یعنی عورتوں کو نہ دیکھنے کا حکم ہے۔ عورتوں کو مردوں کونہ دیکھنے کا حکم ہے۔ فضول اور لغو فلمیں جو آج کل وقت گزاری کے لئے دیکھی جاتی ہیں ان سے بچنے کا حکم ہے۔ ان دنوں میں یعنی روزے کے دنوں میں رمضان کے مہینے میں یہ عادت پڑے گی تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ زندگی میں بھی روزوں سے فیض پانے والے ان چیزوں سے بھی بچتے رہیں گے۔
پھر زبان کا روزہ ہے۔ زبان کا روزہ یہ ہے کہ زبان سے کسی کو بُرے الفاظ نہ کہو۔ کسی کو دکھ نہ دو۔ تبھی تو دوسری جگہ ایک حدیث میں یہ حکم بھی ہے کہ اگر تمہیں روزے کی حالت میں کوئی برا بھلا کہے یا سخت الفاظ سے مخاطب ہو یا لڑائی کرنے کی کوشش کرے تو اِنِّی صَآئِمٌ کہہ کے چپ ہو جاؤ اور جواب نہ دو۔ (بخاری کتاب الصوم)
یعنی مَیں تو روزہ دار ہوں، تم جو بھی کہو، مَیں تو کیونکہ اس تربیتی کورس میں سے گزر رہا ہوں جہاں ہر عضو کا روزہ ہے اور مَیں تمہیں جواب دے کر اپنا روزہ مکروہ نہیں کرنا چاہتا۔
اسی طرح ہاتھ کا روزہ ہے، کوئی غلط کام ہاتھ سے نہ کرو۔ تقویٰ تو یہ ہے کہ کسی دوسرے کے لئے بھی کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے خداتعالیٰ نے منع فرمایا ہو، یا غلط کام ہو، یا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے غلط کہا ہو۔ اب اگر کوئی سؤر نہ بھی کھاتا ہو لیکن دوسرے کو کھلاتا ہے تو یہ نافرمانی ہے اور غلط کام ہے۔ شراب نہیں بھی پیتا لیکن دوسرے کو پلاتا ہے تو یہ بھی گناہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے تو پلانے والے پر بھی لعنت بھیجی ہے۔ پس روزہ ڈھال اُس وقت بنے گا، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا انسان اس وقت ہو گا، جب ان پابندیوں کو بھی اپنے اوپر لاگو کرے گا جو خداتعالیٰ نے ایک مومن پر روزہ کی حالت میں لگائی ہیں۔ وہ ٹریننگ حاصل کرے گا جس کی وجہ سے ڈھال کا صحیح استعمال آئے گا۔ ورنہ روزہ رکھنا تو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ تو خود کو بھی دھوکہ دینے والی بات ہو گی اور خداتعالیٰ کو بھی۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمام لوازمات کے ساتھ روزہ نہیں رکھا جاتا، تمام اُن پابندیوں کا خیال نہیں رکھا جاتا جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایاہے اور تمام اُن باتوں کو نہیں کیا جاتاجن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے تو تمہارے بھوکا رہنے کی خدا تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری کتاب الصوم)۔ پس ہم نے ان دنوں میں یہ ٹریننگ لینی ہے کہ اپنے آپ کو اُن پابندیوں میں جکڑنا ہے اس لئے تاکہ خداتعالیٰ پھر ہمیں تمام اوامر ونواہی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تاکہ ہمارے ان اعمال سے وہ راضی ہو جن کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے اور وہ ہمیشہ ہماری ڈھال بن کر رہے اور جس طرح دشمن کے ہر حملے سے اپنے خاص بندوں کو محفوظ رکھتا ہے، ہمیں بھی بچائے۔
پس اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ جو رمضان کا مہینہ ہے، جو روزہ رکھنے کے دن ہیں، ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ ان دنوں میں میری خاطر، میری رضا کے حصول کی خاطر، صرف ناجائز چیزوں سے ہی نہیں بچنا بلکہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ کو تو ایک خاص کوشش سے معمولی سے بھی ناجائز کام سے بچا کر رکھنا ہے۔ اس کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک مجاہدہ توکرنا ہی ہے لیکن جائز چیزوں سے بھی بچنا ہے۔ ایک ایسا جہاد کرنا ہے جس سے تمہارے اندر صبر اور برداشت پیدا ہو اور ڈسپلن پید اہو۔ پھر یہ مجاہدہ ایسا ہو گا جو تمہاری روحانی حالتوں کو بہتر کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ کا قرب دلانے کا ذریعہ بنے گا، دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنے گا۔
یہ جو آخری آیت مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے روزوں کے احکامات کے ساتھ ان کے بعد بیان فرمایا ہے بلکہ اس آیت کے بعد بھی روزہ سے متعلقہ احکام ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کے احکامات اور ان کی تفصیلات کے ساتھ اس آخری آیت میں جو میں نے تلاوت کی اِنِّیْ قَرِیْب کا اعلان فرمایا اور یہ اعلان فرمانا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ میری طرف آنے کے لئے جب تم رمضان کے مہینہ سے فیض اٹھانے کی کوشش کرو گے تو سن لو کہ یہ عبادت ایسی ہے جس کی جزا مَیں ہوں، اور جزا دینے کے لئے مَیں تمہارے بالکل قریب آچکا ہوں۔ پس اگر میرے بندے میری اس بات پر عمل کرتے ہوئے جو کہ

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العکبوت:70)

یعنی اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لئے مجاہدہ کرتے ہیں، ہم ضرور ان کو اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نہ صرف آنے کی توفیق بخشتا ہے بلکہ ایسے آنے والے کو پکڑنے کے لئے خود بھی اس کے قریب ہو جاتا ہے جو اس کے راستے میں جہاد کر رہا ہو اور روزہ جس کی جزا خداتعالیٰ خود ہے اس کا مجاہدہ کرنے والے کے بارے میں تو خداتعالیٰ نے اِنِّی قَرِیْب کہہ کر خود ہی قریب ہونے کا اعلان فرما دیا۔
ایک دفعہ ہر بات سے بے پرواہ ایک عورت اِدھر سے اُدھر بھاگتی پھر رہی تھی اور جو بچہ دیکھتی تھی اسے اپنے سینے سے لگا لیتی تھی اور پیار کرکے اس کو دیکھ کر چھوڑ دیتی تھی۔ آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ ؓ اُس عورت کا یہ عمل دیکھ رہے تھے وہ عورت اپنے گمشدہ بچے کی تلاش میں تھی۔ آخر جب اسے بچہ مل گیا تو سینے سے لگا کر وہیں پر بیٹھ گئی اور پیار کرنے لگی اور ایک سکون اس کے چہرے پرتھا۔ آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھ کر اپنے صحابہ سے فرمایا کہ جس طرح یہ عورت بے چینی سے اپنے بچے کی تلاش کر رہی تھی اور تمام قسم کے خطرات سے لاپرواہ ہو کر اس کی تلاش میں تھی کیونکہ وہ جگہ میدان جنگ تھی اور پھر جب بچہ مل گیا تو پر سکون ہو کر اسے لاڈ کرنے لگ گئی اور وہیں بیٹھ گئی، اور خوشی سے بے حال ہوئی جا رہی تھی۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی طرف آنے اور نیکیوں کی راہ اختیار کرنے سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ ماں خوش ہو رہی ہے۔
پس جب ایسا پیا ر کرنے والا ہمارا خدا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اُس کی طرف آنے کے لئے اس کے احکامات پر عمل نہ کریں۔ ایک ماں تو ایک بچے کی چند عارضی ضروریات کا خیال رکھنے والی ہے اور وہ بھی اپنے محدود وسائل کے لحاظ سے۔ ہمارا خدا جو رب العالمین ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے، جو تمام کائنات کا مالک ہے، جو لامحدود خزانوں اور طاقتوں کا مالک ہے، وہ جب اپنے بندے سے خوش ہو کر اُسے اپنے ساتھ چمٹاتا ہے تو پھر وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا یا نہیں کرتا۔
پس یہ روزے اس کا قرب پانے کا ذریعہ ہیں اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ ہیں۔ پس ان دنوں میں ہمارا کام ہے کہ پہلے سے بڑھ کر چلاِّ چلاِّ کر، گِڑ گڑا کر اپنے ربّ کو پکاریں۔ لیکن یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ صرف اپنے ذاتی مفاد اور مقاصد کے لئے بوقت ضرورت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اسے نہیں پکارنابلکہ اپنی پکار میں اس کی رضا کو شامل رکھنا ہے۔ اور اس کی رضا کیا ہے؟ فرماتا ہے

فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ۔

پس چاہئے کہ وہ میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں، اللہ تعالیٰ کی بات پر لبیک کہنا اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اور ایمان لانا، ایمان میں ترقی کرنا ہے۔ مومن کا ہر قدم ترقی کی طرف بڑھنا چاہئے۔
ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہی

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء:137)

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ۔ پس صرف منہ سے ایمان لانا، یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لائے کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارا اللہ اور رسول پرایمان بڑھتا چلا جائے۔ ہر روز ترقی کی طرف قدم اٹھتا چلا جائے۔ اور جب یہ صورت ہو گی تب ہی کامل ایمان کی طرف بڑھنے والا ایک مومن کہلا سکتا ہے اور اس کے لئے مسلسل مجاہدے کی ضرورت ہے اور اسی لئے خداتعالیٰ نے عبادتوں کا بھی حکم دیا ہے تاکہ یہ مجاہدہ جاری رہے اور تقویٰ میں ترقی ہوتی رہے۔ اور ہر سال روزہ بھی، رمضان کا مہینہ بھی اس مجاہدے اور ایمان میں ترقی کی ایک کڑی ہے۔
پس ان دنوں میں ہر مومن کو اس سے بھرپور فیض اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہ ایمان میں ترقی ہے اور ایمان میں ترقی کا معیار دیکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے یہ نشانی بتائی کہ اگر خالص ہو کر میرے حضور آؤ گے، روز ے بھی میری خاطر ہو ں گے، کوئی دنیا کی ملونی اس عبادت میں نہیں ہو گی، خالص میری رضا کا حصول ہوگا تو فرمایا

اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَاِن

مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے اور یہ پکار اسی وقت سنی جائے گی جب ایمان میں ترقی کی طرف کوشش ہو گی۔ ترقی کی طرف قدم بڑھیں گے گویا دعاؤں کی قبولیت اس وقت ہو گی جب ایمان میں ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں گے اور ایمان میں ترقی اس وقت ہو گی جب خالص ہو کر خداتعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور اس کی عبادت کرنے کی کوشش ہو رہی ہو گی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے، پس مَیں بہت ہی قریب ہوں۔ مَیں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔ بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔ پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو، مَیں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔ اگریہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھوکہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دُور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔ وہ شخص تمہاری آواز سن کر تم کو جواب دے گا، مگر جب وہ دُور سے جواب دے گا تو تم بباعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔ پس جوں جوں تمہارے درمیانی پردے اور حجاب اور دُوری دُو ر ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔ جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہوجاتی کہ اس کی کوئی ہستی ہے بھی؟ پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبردست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں۔ یادیدار یاگفتار‘‘۔ یا دیکھ لیں یا بات کر لیں۔ ’’پس آج کل کا گفتار قائمقام ہے دیدار کا۔ ہاں جب تک خدا کے اور اس کے سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔ جب درمیانی پردہ اٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی‘‘۔ (الحکم۔ جلد 8نمبر 39-38 مورخہ17-10 نومبر 1904۔ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام زیر سورۃالبقرۃ آیت 187)
پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ یہ درمیانی پردے اور حجاب ہٹانے کی کوشش کریں۔ اس کے قریب تر آنے کی کوشش کریں۔ یہ نہ ہو کہ رمضان میں تو قریب آنے کی کوشش ہو اور پھر اس کے بعد فاصلے اتنے بڑھ جائیں کہ وہ پردے اور حجاب پھر راستے میں حائل ہو جائیں اور اگلے سال پھر نئے سرے سے مجاہدے کی کوشش ہو۔
پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ پردے اٹھانے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے تاکہ قبولیت دعا کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جائیں اور اس کے لئے وہ دعا سب سے اہم ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے اور ان میں سب سے اوّل دعا اس کے دین کے غلبہ کی دعا ہے۔ انسانیت کو خداتعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانے کے لئے دعا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے دنیا کو لانے کی دعا ہے۔ یہ دعائیں ایسی ہیں جو یقینا خداتعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والی دعائیں ہیں اور جب ایک مومن خداتعالیٰ کے دین کا درد رکھتے ہوئے اس کے لئے دعائیں کر رہا ہو تو خداتعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اپنے بندے کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھتا ہے اور خود پوری فرماتا ہے۔
پس آج کل یہ دعائیں ہر احمدی کو بہت زیادہ کرنی چاہئیں جو اس کے دین کے غلبہ کی دعائیں ہوں، جو جماعت کے ہر فرد کے ایمان پر قائم رہنے کی دعا ہو۔ آج رمضان کا پہلا جمعہ ہے۔ یہ دن بھی بابرکت ہے اور یہ مہینہ بھی بابرکت ہے۔ یعنی قبولیت دعا کے دو موقعے جمع ہو گئے ہیں۔ خداتعالیٰ کو پکارنے کے دو موقعے میسر آگئے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ جمعہ کے دن، جمعہ کے وقت ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جو قبولیت دعا کی گھڑی ہوتی ہے۔ (مسلم کتاب الجمعۃ باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ)
پھر یہ بھی آتا ہے کہ عصر سے مغرب تک ایسا وقت ہوتا ہے، کوئی وقت ایسا آتا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پس آج کے دن اس برکت سے بھی فائدہ اٹھانے کی ہر ایک کو کو شش کرنی چاہئے۔ عصر سے مغرب تک نوافل کا تووقت نہیں ہوتا لیکن ذکر الٰہی ہے، اور دوسری دعائیں ہیں جو انسان کر سکتا ہے۔ مسنون دعائیں ہیں یا اپنی زبان میں دعائیں ہیں، یہ مانگنی چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور ہم قبولیت دعا کے نظارے دیکھ سکیں۔ آج کل جماعت کو بھی مختلف جگہوں پر جو حالات پیش آرہے ہیں، اس حوالے سے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو ہمیں ہر قسم کی مشکلات سے نکالے گا اور خداتعالیٰ کا قرب عطا فرمائے گا اور قبولیت دعا کے نظارے ہم دیکھیں گے۔ انشاء اللہ۔
پس اللہ تعالیٰ کے حضور خاص طور پر اور التزام سے یہ دعا کریں کہ وہ اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان ہماری زندگیوں میں پیدا فرمائے۔ ہم بہت کمزور ہیں، ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔ ہماری غفلتوں کی پردہ پوشی فرمائے۔ ہمیں اپنے قرب کے راستے دکھائے۔ ہمارے لئے اپنی رضا کا حصول ہمارا مقصود بنادے اور یہ مقصد ہم حاصل کرنے والے بھی ہوں۔ ہم بہت کمزور ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدہ

نُصِرْتُ بِالرُّعبْ

کہ رعب سے تیری مدد کی گئی، سے ہم بھی حصہ لینے والے ہوں تاکہ دشمن پر مسیح موعود کے رعب کے نظارے ہم ہروقت دیکھتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آپؑ کی ذات سے ہنسی ٹھٹھا کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔ اور آپؑ کو الہاماً فرمایا کہ

اِنَّا کَفَّیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ

کہ جو لوگ تجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں ہم ان کے لئے کافی ہیں۔ ہم ہمیشہ دیکھتے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے دشمنوں نے جو بھی مذاق اڑانے یا ٹھٹھا کرنے کی کوشش کی تو دشمن کا جو انجام ہوا اس کے نظارے ہم نے دیکھے بھی اور سنے بھی۔ لیکن ہمیں یہ فکر ہونی چاہئے کہ ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے خداتعالیٰ کے وعدے کے پورے ہونے کے دن کہیں آگے نہ چلے جائیں۔ ہماری کمزوریاں دشمن کو استہزاء کا موقع نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ہمیں اپنے جلال اور عظمت کے نظارے دکھائے۔ آنحضرت ﷺ کی عظمت و عزت کو ہم جو مسیحِ محمدی کے غلام ہیں، ہمیں حقیقی غلاموں کا نمونہ بناتے ہوئے ہماری زندگیوں میں دنیا کے ہر شہر اور ہر گلی میں قائم ہوتا ہوا دکھائے۔ ہماری کمزوریاں، ہماری کوتاہیاں، ہماری سستیاں کبھی ہمیں خداتعالیٰ کے فضلوں سے دُور نہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے ہمارے کمزور جسموں کو وہ طاقت عطا فرمائے جس سے ہم اس کے دین کی عظمت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی محبت ہمارے دلوں میں اس طرح قائم فرما دے جس طرح اللہ اور اس کا رسول چاہتے ہیں اور جس کے لئے آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَمَالِیْ وَاَھْلِیْ وَمِنَ الْمَآءالْبَارِدِ۔ (جامع ترمذی کتاب الدعوات)۔

اے اللہ! مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرے اور ایسا عمل جو تیری محبت کے حصول کا ذریعہ بنے۔ اے اللہ !میرے دل میں اپنی محبت پیدا کر دے جو میرے اپنے نفس سے زیادہ ہو، میرے مال سے زیادہ ہو، میرے اہل و عیال سے زیادہ ہو، اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔
پس یہ محبت ہے جو ہمارے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنا دے گی۔ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر عمل کرنے والے ہوں گے۔ اللہ کرے کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات کو خداتعالیٰ کی محبت کی وجہ سے دبانے والے ہوں۔ مال سے محبت ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادتوں اور اس کی محبت سے کبھی غافل نہ کرے۔ بیوی بچوں، عزیز رشتہ داروں کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہمیں کبھی غافل نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ (المنافقون:10)

یعنی تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور آخرین کے زمانے میں یہ زیادہ ہونا تھا۔ پھر دنیا کے لالچ مال کے لالچ کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو جانے تھے۔ پس اس زمانہ میں ان چیزوں سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو سب محبتوں پر غالب کرنا ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کا خاص قرب دلاتی ہے۔
پھر اس دعا میں ٹھنڈے پانی کی مثال دی۔ ایک پیا سا جس کو پانی کی تلاش ہو اور کہیں پانی میسر نہ ہو۔ یہاں تک حالت پہنچ جائے کہ غشی کی کیفیت ہونے لگے۔ اس وقت وہ پانی کے ایک گھونٹ کے لئے بھی اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ لیکن ایک حقیقی مومن کو آنحضرت ﷺ نے یہ دعا سکھائی کہ اُس وقت جو تمہیں پانی کا ایک گھونٹ میسر آجائے، وہ تم جتنی بڑی نعمت سمجھتے ہو۔ جو ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ تمہیں نعمت لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے زیادہ تمہارے دل میں قائم ہونی چاہئے۔ آپؐ خود یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ آپؐ نے یہ دعائیں مانگ کر اپنا اُسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا اور نہ صرف دعائیں کیں بلکہ عمل سے بھی اُسوہ قائم فرمایا۔
پس ان دنوں میں دین کی سر بلندی کے لئے، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے غلبہ کے لئے، آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے خالص ہو کر دعائیں مانگیں اور ساتھ ہی جب ہم اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے دعائیں مانگیں گے تو یہ باتیں ہمیں خداتعالیٰ کے قریب تر لانے والی ہوں گی۔ ہمیں تقویٰ میں بڑھانے والی ہوں گی۔ اگر اس رمضان میں ہم میں سے ہر ایک اس مقصد کو حاصل کر لے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب اور پیار حاصل کر لے۔ تقویٰ میں ترقی کرنے والا بن جائے تو اِنِّیْ قَرِیْبکی آواز سننے والا بھی بن جائے گا اور

اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَاِن

کے نظارے بھی دیکھنے والا بن جائے گا۔ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے

لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْن

یعنی تاکہ وہ ہدایت پا جائیں کہہ کر اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ جب نیک اعمال ہوں گے ایمان میں ترقی ہو گی، دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو گی تو وہ مومن ہدایت یافتہ ہو جائے گا اور ہدایت یافتہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ ایسے خالص مومن کی پکار کا جواب دیتا ہے۔
پس اے مسیح محمدی کے غلامو! آپ کے در خت وجود کی سرسبز شاخو! اے وہ لوگو! جن کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے راستے دکھائے ہیں۔ اے وہ لوگو! جو اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں قوم کے ظلم کی وجہ سے مظلومیت کے دن گزار رہے ہو، اور مظلوم کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَیں بہت سنتا ہوں، تمہیں خداتعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اس رمضان کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے اور ان تمام باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں گزار دو۔ یہ رمضان جو خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کا پہلا رمضان ہے، خداتعالیٰ کے حضور اپنے سجدوں اور دعاؤں سے نئے راستے متعین کرنے والا رمضان بنا دو۔ اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا رمضان بنا دو۔ اپنی آنکھ کے پانی سے وہ طغیانیاں پیدا کر دو جو دشمن کو اپنے تمام حربوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائیں۔ اپنی دعاؤں میں وہ ارتعاش پیدا کرو جو خداتعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی چلی جائے کیونکہ مسیح محمدی کی کامیابی کا راز صرف اور صرف دعاؤں میں ہے۔
خداتعالیٰ جو ان دنوں میں ساتویں آسمان سے نیچے اترا ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی آغوش میں لے لے اور اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے ہم اپنی زندگیوں میں پورے ہوتے ہوئے دیکھ لیں۔ اے اللہ تو ایسا ہی کر۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/aDxbR]

اپنا تبصرہ بھیجیں