خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍اکتوبر 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں، خاص طورپر انبیاء کے لئے گواہ بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اپنے بندوں پر لگائے گئے ہر مخالف کے الزامات اور جھوٹ کو ردّ کرتے ہوئے گواہ بن کر کھڑا ہو جاتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے معجزانہ حفاظت اور نگرانی کے نظارے دکھائے۔
(اللہ تعالیٰ کی صفت مُہَیْمِن کے تعلق میں معجزانہ حفاظت کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ)
احباب جماعت اپنی دعاؤں میں
رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی
کی دعا کو بھی ضرور شامل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر شر سے ہر ایک کو بچائے اور جماعت کی حفاظت فرمائے۔
(ایک خواب کے حوالہ سے احباب کو خاص دعا کی تحریک)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 03؍اکتوبر 2008ء بمطابق03؍اخاء 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

چند خطبات پہلے مَیں نے اللہ تعالیٰ کی صفت

مُہَیْمِنْ

بیان کی تھی اور اس کی کچھ وضاحت بیان کی تھی اس کے معنی بھی بتائے تھے جو مختلف لغات میں درج ہیں۔ عموماً اس کے معنی پناہ دینے کے لئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہر چیز کی آخری پناہ گاہ ہے جہاں سے تحفظ ملتا ہے اور اپنے سے خالص ہو کر چمٹے رہنے والے کے لئے وہ عجیب عجیب نشان دکھاتا ہے۔
اس کے معنی گواہ کے بھی کئے جاتے ہیں۔ خداتعالیٰ جب اپنے بندوں، خاص طور پر انبیاء کے لئے گواہ بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اپنے بندوں پر لگائے گئے ہر مخالف کے الزامات اور جھوٹ کو ردّ کرتے ہوئے گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
اس کے معنی مخلوق کے معاملات پر نگران اور محافظ کے بھی ہیں۔ اس کے معنی خوف سے امن دینے والے کے بھی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ اپنی صفت اپنے خاص بندوں کے لئے ظاہر کرتا ہے تو اس حفاظت اور نگرانی کے خارق عادت نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے والے بھی یہ لوگ ہوتے ہیں ان پر اس کا اظہار بھی ہو رہا ہوتا ہے اور اس سے فیض اٹھانے والے بھی سب سے پہلے انبیاء ہوتے ہیں جن کے لئے خداتعالیٰ کی ہر صفت غیر معمولی طورپر حرکت میں آتے ہوئے ان کی سچائی ثابت کرتی ہے تاکہ دنیا کو پتہ لگ سکے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر اس نبی کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ان صفات کا اظہار اس کو ماننے والوں سے بھی ہوتا ہے۔
اس وقت مَیں اس حوالہ سے جو صفت

مُہَیْمِنْ

کے وسیع معنوں میں پوشیدہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے چند واقعات پیش کروں گا اور اس کے ساتھ ہی بعض بزرگوں کے بھی واقعات ہیں۔ جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے معجزانہ حفاظت اور نگرانی کے نظارے دکھائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو کچھ پایا وہ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ سے پایا اور آپؑ پر اللہ تعالیٰ کا احسان اس لئے تھا تاکہ آنحضرتﷺ اور اسلام کی سچائی ظاہر ہو۔ اس مضمون کے حوالے سے بھی جو میں بیان کر رہا ہوں آنحضرت ﷺ کے بارہ میں آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:’’یاد رہے کہ پانچ موقعے آنحضرت ﷺ کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے، جن میں جان کا بچانا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔ اگر آنجناب درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھا لی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔ دوسرا موقع وہ تھا کہ جب کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت ﷺ مع حضرت ابو بکر ؓ کے چھپے ہوئے تھے۔ تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپؐ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں، مگر کوئی کارگر نہ ہوئی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔ چوتھا وہ موقعہ تھا جبکہ ایک یہودیہؐ نے آنجناب کو گوشت میں ز ہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔ (5) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جب کہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت ﷺ کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اورگرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے‘‘۔ تو آپؑ فرماتے ہیں کہ’’پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور اُن تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپؐ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا‘‘۔ (چشمہ ٔ معرفت۔ روحانی خزائن جلد 23 حاشیہ صفحہ 264-263)
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرے میں پڑ گئی تھی۔ (1) اوّل وہ موقع جبکہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا۔ (2) دوسرے وہ موقع جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا۔ (3) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا۔ (4) وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا۔ (5) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا مَیں قاتل قرار دیا جاؤں مگر وہ تمام مقدمات میں نامراد رہے‘‘۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن جلد 23حاشیہ صفحہ 263)
ساروں کی تفصیل بیان کرنا تو ممکن نہیں، ڈاکٹر مارٹن کلارک کا جو مقدمہ تھا ایک ایسا جھوٹا مقدمہ تھا جس میں ایک لڑکے سے جس کا نہ کوئی دین تھا نہ ایمان تھا اور مہا کا جھوٹا نکما جوان تھا یہ بیان دلوایا گیا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے یہ کہا ہے کہ جا کر ڈاکٹر مارٹن کلارک کو قتل کر دو اور یہ لڑکا اپنے مذہب بدلتا رہتا تھا۔ قادیان بھی آیا تھا کہ میری بیعت لے لیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قبول نہیں کی تھی، پتہ لگ گیا تھا کہ یہ کیسا ہے۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک ایک مشنری ڈاکٹر تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخالفین میں سے تھے، کیونکہ عیسائیت کی غلط تعلیم کے خلاف آپؑ ہر وقت آواز اٹھاتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بطور نبی صحیح مقام آپؑ بتایا کرتے تھے۔ تو بہرحال مختصر یہ کہ اس مقدمہ میں تمام مخالفین کی طرف سے مخالفت اور مکر کی انتہا کی گئی۔ یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی اس وقت عیسائیوں کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو پہلے سے خبر دے دی تھی کہ اس کے فضل سے آپؑ محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ ڈگلس صاحب جو مجسٹریٹ تھے انہوں نے تمام حقائق جاننے کے بعد آپؑ کو باعزت بری کیا۔ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنوں کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور حفاظت فرماتا ہے اس کی روداد ڈگلس صاحب کی زبان سے ہی سن لیں۔
راجہ غلام حیدر صاحب جو احمدی نہیں تھے، وہاں عدالت میں کام کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ فیصلے سے پہلے جج صاحب نے سفر کرنا تھا وہ بڑی پریشانی سے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے۔ تو مَیں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے پریشان کیوں ہیں اتنے؟ کہنے لگے کچھ نہ پوچھو۔ آخر زور دینے پر بتایا کہ جب سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ اٹھا کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گناہگار نہیں، ان کا کوئی قصور نہیں۔ غرض جج نے اس کے بعد پھر طریق تحقیق بدلا ملزم کو بجائے ان لوگوں کے پاس رکھنے کے پولیس کے حوالے کیا تو حق ظاہر ہوگیا۔ اسی طرح باقی مقدمات جو دشمن نے اپنے زعم میں آپ کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے کئے تھے خود اُن میں ناکام و نامراد رہا اور اللہ تعالیٰ جس طرح آپؑ کو پہلے بریت کی خبر دیتا رہا تھا ہر جگہ سے سرخرو فرمایا۔
مارٹن کلارک والے مقدمہ کے بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جب پادری مارٹن کلارک نے مقدمہ کیا تو مَیں نے گھبرا کر دعا کی، رات کو رؤیا میں دیکھا کہ مَیں سکول سے آرہا ہوں اور اس گلی میں جو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکانات کے نیچے ہے (قادیان کا ذکر ہے) اپنے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہوں وہاں مجھے بہت سی باوردی پولیس دکھائی دیتی ہے۔ پہلے تو ان میں سے کسی نے مجھے اندر داخل ہونے سے روکا، (یہ خواب کا ذکر چل رہا ہے) مگر پھر کسی نے کہا کہ یہ گھر کا ہی آدمی ہے اسے اندر جانے دینا چاہئے۔ جب ڈیوڑھی میں داخل ہو کر اندر جانے لگا (یعنی باہر کا جو دروازہ تھا اس سے داخل ہو کر اندر جانے لگا) تو وہاں ایک تَہ خانہ ہوا کرتا تھا جو ہمارے دادا صاحب مرحوم نے بنایا تھا۔ ڈیوڑھی کے ساتھ سیڑھیاں تھیں جو اس تَہ خانے میں اترتی تھیں بعد میں یہاں صرف ایندھن (یعنی لکڑی وغیرہ جلانے کے لئے رکھی جاتی تھی) اور پیپے پڑے رہتے تھے۔ جب مَیں گھر میں داخل ہونے لگا تو مَیں نے دیکھا کہ پولیس والوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور آپؑ کے آگے بھی اور پیچھے بھی اوپلوں کا انبار لگا ہوا ہے، (جوجلانے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے) صرف آپؑ کی گردن مجھے نظر آرہی ہے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ سپاہی ان اُپلوں پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مَیں نے انہیں آگ لگاتے ہوئے دیکھا تو مَیں نے آگے بڑھ کر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ اتنے میں دو چار سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ کسی نے کمر سے اور کسی نے قمیص سے اور مَیں سخت گھبرایا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ اُپلوں کو آگ لگا دیں۔ اسی دوران میں اچانک میری نظر اوپر اٹھی اور مَیں نے دیکھا کہ دروازے کے اوپر نہایت موٹے اور خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ’’جو خدا کے پیارے بندے ہوتے ہیں ان کو کون جلا سکتا ہے‘‘۔ تو(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ) اگلے جہان میں ہی نہیں یہاں بھی مومنوں کے لئے سلامتی ہوتی ہے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ایسے بیسیوں واقعات دیکھے کہ آپؑ کے پاس گونہ تلوار تھی نہ کوئی اور سامان حفاظت مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے سامان کر دئیے۔ (سیر روحانی (3)۔ انوارالعلوم جلد 16۔ صفحہ383مطبوعہ ربوہ)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں اپنے صداقت کے نشانات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’(25) پچیسواں نشان کرم دین جہلمی کے اس مقدمہ فوجداری کی نسبت پیشگوئی ہے جو اس نے جہلم میں مجھ پر دائر کیا تھا۔ جس پیشگوئی کے یہ الفاظ خداتعالیٰ کی طرف سے تھے

رَبِّ کُلُّ شَیْء خَادِمُکَ۔ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔

اور دوسرے الہامات بھی تھے جن میں بریت کا وعدہ تھا۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے اس مقدمہ سے مجھ کو بری کر دیا‘‘۔ (حقیقۃالوحی۔ روحانی خزائن جلد 22صفحہ224مطبوعہ لندن)
اس بارے میں مَیں ایک دعا کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں، چند دن پہلے مَیں نے خواب میں دیکھا کہ دشمن کا کوئی منصوبہ ہے، تو مَیں اس کو حملے سے پہلے ہی بھانپ لیتا ہوں اور اس وقت مَیں یہ دعا پڑھ رہا ہوں کہ

رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی

اور پڑھتے پڑھتے مجھے خیال آتا ہے کہ اپنے سے زیادہ مجھے جماعت کے لئے دعا پڑھنی چاہئے تو اس میں جماعت کو بھی شامل کروں۔ تو اس حوالے سے مَیں آپ کو بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ احباب جماعت بھی اپنی دعاؤں میں اس دعا کو بھی ضرور شامل کریں، اللہ تعالیٰ ہر شر سے ہر ایک کو بچائے اور جماعت کی حفاظت فرمائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آپ کو تسلّی دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی اور الہامات اور رؤیا بھی دکھائے اور بتائے جن کا مختلف جگہوں پر ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو فرمایا کہ مَیں ہر میدان میں تیرے ساتھ ہوں گا اور ہر ایک مقابلے میں روح القدس سے مَیں تیری مدد کروں گا۔
پھر ایک الہام ہے

اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءاللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ

کہ خبردار ر ہو کہ بہ تحقیق (یقینا) جو لوگ مقربان الٰہی ہوتے ہیں ان پر نہ کچھ خوف ہے اورنہ کچھ غم کرتے ہیں۔ (تذکرہ طبع چہارم۔ صفحہ 75)
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ تجھ سے ہر ایک مقابلہ کرنے والا مغلوب ہو گا۔ (تحفہ ٔ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد17۔ صفحہ181)
پھر آپ ایک جگہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا پیارا مجھ سے بہت قریب ہے۔ وہ قریب تو ہے مگر مخالفوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔ اللہ تیری حفاظت کرے گا اور تیری نگہبانی کرے گا۔ مَیں تیری حفاظت کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت تیری محافظ ہے۔ (تذکرہ صفحہ308-307۔ ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)
ایک اور الہام ہے، عربی کی لمبی عبارت ہے (پہلا الہام بھی عربی کی عبارت ہے) ترجمہ اس کا پڑھ دیتا ہوں کہ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ تا خدا کے نور کو بجھادیں۔ کہہ خدا اس نور کا آپ حافظ ہے۔ عنایت الٰہیہ تیری نگہبان ہے۔ ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی محافظ ہیں۔ خدا خیرالحافظین ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے اور تجھ کو اَور اَور چیزوں سے ڈرائیں گے۔ یہی پیشوایان کفر ہیں۔ مت خوف کر تجھی کو غلبہ ہے۔ یعنی حجت اور برہان اور قبولیت اور برکت کے رو سے تُو ہی غالب ہے۔ خدا کئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا یعنی مناظرات و مجادلات بحث میں تجھ کو غلبہ رہے گا۔ دوسری پھر فرمایا میرا دن حق اور باطل میں فرق بیّن کرے گا۔ خدا لکھ چکا ہے کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔ یہ خدا کے کام ہیں، دین کی سچائی کے لئے حجت ہیں۔ مَیں اپنی طرف سے تجھے مدد دوں گا۔ مَیں خود تیرا غم دُور کروں گا اور تیرا خدا قادر ہے۔ (یہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں جو الہاماً آپ کو بتائے گئے)۔ (تذکرہ۔ صفحہ 84۔ ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)
پھر نبوت کے بعد کے واقعات ہیں لیکن پہلے بھی کس طرح آپؑ کے خوف کی حالت کو اللہ تعالیٰ امن میں بدلتا رہا۔ آپ کا مشہور واقعہ ہے، آپؑ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کی و فات کا جب وقت قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی وفات سے مجھے ان الفاظ میں عزا پرسی کے ساتھ خاص خبر دی

وَالسَّمَآء وَالطَّارِق

یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آئے گا اور چونکہ ان کی زندگی سے بہت سے وجوہ معاش ہمارے وابستہ تھے، اس لئے بشریت کے تقاضہ سے یہ خیال دل میں گزرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہو گی۔ کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جو ان کی زندگی سے وابستہ تھی۔ اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا

اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدُہٗ

یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔ تب وہ خیال یوں اڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اڑ جاتی ہے اور اسی دن غروب آفتاب کے بعد میرے والد صاحب فوت ہو گئے۔ جیسا کہ الہام نے ظاہر کیا تھا۔ اور جو الہام

اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہ

ہوا تھا۔ وہ بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنایا گیا جن میں سے لالہ شرمپت مذکوراور لالہ ملاوا مل مذکور، کھتریان ساکنان قادیان ہیں اور جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد وہ عبارت الہام ایک نگین پر کھدوائی گئی اور اتفاقاً اسی ملاوامل کو جو کسی کام کے لئے امرتسر جاتا تھا وہ عبارت دی گئی۔ (وہ جو انگوٹھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے، اس پہ کھدوائی اور بعد میں وہ بھی اب تک چل رہی ہے، خلافت کے حصّہ میں آئی) کہ تا وہ نگین کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آئے۔ چنانچہ وہ حکیم محمد شریف مرحوم امرتسری کی معرفت بنا کرلے آیا جو اب تک میرے پاس موجود ہے۔ جو اس جگہ لگائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ۔

اب ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی میں ایک تو یہی امر ہے کہ جو پورا ہوا یعنی یہ کہ الہام کے ایماء کے موافق میرے والد صاحب کی وفات قبل از غروب آفتاب ہوئی۔ باوجود اس کے کہ وہ بیماری سے صحت پا چکے تھے اور قوی تھے اس کی عبارت میں کچھ آثار موت ظاہر نہ تھے اور کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک برس تک بھی فوت ہو جائیں گے۔ لیکن مطابق منشاء الہام سورج کے ڈوبنے کے بعد انہوں نے انتقال فرمایا۔ (صحت تو ایسی اچھی تھی کہ سال تک بھی کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ فوت ہوں گے۔ لیکن سورج ڈوبنے کے وقت تک فوت ہو گئے) اور پھر دوسرا لہام یہ پورا ہوا کہ والد مرحوم و مغفور کی وفات سے مجھے کچھ دنیوی صدمہ نہیں پہنچا جس کا اندیشہ تھا۔ بلکہ خدائے قدیر نے مجھے اپنے سایۂ عاطفت کے نیچے ایسا لے لیا کہ ایک دنیا کو حیران کیا اور اس قدر میری خبر گیری کی اور اس قدر وہ میرا متولّی اور متکفل ہوگیا کہ باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم کے انتقال کو 24برس آج کی تاریخ تک جو 20؍ اگست 1899ء اور ربیع الثانی 1317ھ ہے گزر گئے ہر ایک تکلیف اور حاجت سے مجھے محفوظ رکھا اور یہ ظاہر ہے کہ مَیں اپنے والد کے زمانے میں گمنام تھا۔ خدا نے ان کی وفات کے بعد لاکھوں انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور مَیں والد صاحب کے زمانے میں اپنے اقتدار اور اختیار سے کوئی مالی قدرت نہیں رکھتا تھا اور خداتعالیٰ نے ان کے انتقال کے بعد اس سلسلے کی تائید کے لئے اس قدر میری مدد کی اور کر رہا ہے کہ جماعت کے درویشوں اور غریبوں اور مہمانوں اور حق کے طالبوں کی خوراک کے لئے جو ہر ایک طرف سے صدہا بندگان خدا آرہے ہیں اور نیز تالیف کے کام کے لئے ہزار ہا روپیہ بہم پہنچایا اور ہمیشہ پہنچاتا ہے۔ اس بات کے گواہ اس گاؤں کے تمام مسلمان اور ہندو ہیں جو دو ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 199-198)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعات بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ بچپن سے ہی حفاظت فرماتا تھا۔ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تیرنا اور سواری (تو) خوب جانتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بچپن میں تیرتے ہوئے مَیں ڈوبنے بھی لگا تھا تو ایک بڈھے شخص نے مجھے نکالا تھا اور اس شخص کو نہ مَیں نے وہاں اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ اس کے بعد کبھی دیکھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کے لئے ایک فرشتہ کی صورت میں اس شخص کو بھیجا تھا۔ نیز فرماتے تھے کہ مَیں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا اس نے شوخی کی اور بے قابو ہو گیا۔ تیز گھوڑا تھا میں نے بہت روکنا چاہا مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا، نہ رکا۔ چنانچہ وہ اپنے پورے زور سے ایک درخت یا ایک دیوار کی طرف بھاگا اور پھر اس زور کے ساتھ اس سے ٹکرایا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔ مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ حضرت میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سرکش اور شریر گھوڑے پر ہرگز نہیں چڑھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا تو ان سے خاص سلوک تھا، بچایا۔ اس کے بعد سے نصیحت کیا کرتے تھے اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اُس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا مگر مَیں ایک طرف گر کر بچ گیا اور وہ مر گیا۔ (ماخود از سیرت المہدی۔ حصہ اول از حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓ۔ روایت نمبر 183۔ صفحہ 198)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ابھی ایک کیس میں ایک ہندوستانی عیسائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ جب مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ کے سامنے اس نے بیان دیتے ہوئے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریریں سن سن کر میرے دل میں احمدیوں کے متعلق یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ ہر مذہب کے دشمن ہیں۔ عیسائیت کے وہ دشمن ہیں، ہندو مذہب کے وہ دشمن ہیں، سکھوں کے وہ دشمن ہیں، مسلمانوں کے وہ دشمن ہیں اورمَیں نے نیت کر لی کہ جماعت احمدیہ کے امام کوقتل کر دوں گا۔ میں اس غرض کے لئے قادیان گیا تو مجھے معلوم ہواکہ وہ پھیرو چیچی گئے ہوئے ہیں۔ پھیروچیچی قادیان کے ساتھ ایک گاؤں تھا، بلکہ اب بھی ہے۔ وہ بھی ساری احمدیوں کی آبادی تھی چنانچہ مَیں وہاں چلا گیا۔ پستول مَیں نے فلاں جگہ سے لے لیا تھااور ارادہ تھا کہ وہاں پہنچ کر ان پر حملہ کردوں گا۔ چنانچہ پھیرو چیچی پہنچ کر مَیں ان سے ملنے کے لئے گیا تو میری نظر ایک شخص پر پڑ گئی جو ان کے ساتھ تھا اور وہ بندوق صاف کر رہا تھا۔ حضرت خلیفہ ثانی ؓ فرماتے ہیں کہ یحییٰ خان صاحب مرحوم تھے جو میرے ساتھ تھے اوربندوق صاف کر رہے تھے۔ (اب مجرم کہتا ہے) اور مَیں نے سمجھا کہ اس وقت حملہ کرنا ٹھیک نہیں کسی اور وقت حملہ کروں گا۔ پھر مَیں دوسری جگہ چلا گیا اور وہاں سے خیال آیا کہ گھر ہو آؤں۔ جب گھر پہنچا تو بیوی کے متعلق بعض باتیں سن کر برداشت نہ کر سکا اورپستول سے ہلاک کر دیا۔ (مجرم کہہ رہا ہے) یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا ورنہ میرا ارادہ تو کسی اور کو قتل کر نے کا تھا۔
اب(حضرت خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ) دیکھو کس طرح ایک شخص کوایک ایک قدم پر خداتعالیٰ روکتا اور اس کی تدبیروں کو ناکام بناتا رہا۔ پہلے تو وہ قادیان آتا ہے، مگر مَیں قادیان میں نہیں بلکہ پھیروچیچی ہوں۔ وہ پھر پھیروچیچی پہنچتا ہے تو وہاں بھی مَیں اسے نہیں ملتا اور اگر ملتا ہوں تو ایسی حالت میں کہ میرے ساتھ ایک اور شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں اتفاقاً بندوق ہے اور اس کے دل میں خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ اس وقت حملہ کرنا درست نہیں۔ پھر وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور اِدھر اُدھر پھرکر گھر پہنچتا ہے اور بیوی کو مار کر پھانسی پر لٹک جاتا ہے۔ (تواس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے)۔ (سیر روحانی (3)۔ انوارالعلوم جلد 16صفحہ384۔ مطبوعہ ربوہ)
ہمارے شروع کے مبلغین میں سے حضرت مولانا شیخ عبدالواحد صاحب کابھی ایک واقعہ ہے، ۔ جو فجی میں مبلغ تھے۔ 1968ء میں ان کا فجی کے شہر ’با‘ (Ba) میں احمدیہ مشن کھولنے کاارادہ ہوا اور مکان خرید لیا گیا۔ وہاں کہتے ہیں کہ ہماری سخت مخالفت شروع ہو گئی اور انہوں نے بڑا زور لگایا کہ احمدیت کی تبلیغ یا اسلام کی تبلیغ کا یہ مشن یہاں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ابو بکرنامی ایک شخص تھا جو ان کا سرغنہ تھا۔ تو اس نے بھی شہر میں اعلان کیا کہ اگر احمدیوں نے یہاں مشن خریدا تو جلاد یں گے۔ کہتے ہیں ہم نے سارے حفاظتی انتظامات کئے۔ پولیس سٹیشن اس جگہ کے ساتھ تھا جہاں ہم نے آخر گھر خرید لیا۔ پولیس کو بھی انتظامات کے لئے کہہ دیا۔ اس نے کہا ہم حفاظت کا انتظام کریں گے لیکن پھر بھی کہتے ہیں کسی نے مشن کے ایک حصے میں رات کو تیل ڈال کر آگ لگا دی اور باوجود ان کے سارے اقدامات کے آگ لگانے والا فوراً بھاگ گیا۔ اس کو پتہ تھا کہ اب یہ آگ بجھ نہیں سکتی لیکن وہ آگ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی نقصان کے بجھا دی اور جب یہ لوگ واپس آئے اور دیکھا، یا جب ان کو پتہ لگا تو چند ایک لکڑی کے پھٹے جلے ہوئے تھے جن کی مرمت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا۔ اس وقت کہتے ہیں کہ ہمارے ایک مبلغ مولانا نورالحق صاحب انورنے اس جلے ہوئے کمرے میں جس کا ہلکا سا حصہ جلاتھا بڑے دکھ بھرے انداز میں آہ بھر کر کہا تھا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کی اشاعت کے اس مرکز کو جلانے کی کوشش کی ہے خدا اس کے اپنے گھر کو آگ لگا کر راکھ کردے۔ چنانچہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مخالفین کا جو سرغنہ تھا ابوبکر کو یا اس کے گھر کو آگ لگ گئی اور باوجود بجھانے کی کوشش کے وہ نہیں بجھی اور سارا گھر اور جو اس کی رہائش تھی سب خاک ہوگیا۔ (ماخوذ۔ روح پرور یادیں۔ از مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب۔ صفحہ 95-94)
تو یہ نشانات ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو اُن کی خاطر دکھاتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صفت مُہَیْمِنکے تحت خوف سے امن دیتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں کے معاملات پر نگران اور محافظ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو اس کی طرف آئے وہ اسے پناہ دیتا ہے۔ پس ہمیں ہر وقت اس کی پناہ تلاش کرنی چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’اس امر کے دلائل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ انسان اپنی مختصر زندگی میں بلاؤں سے محفوظ رہنے کا کس قدر محتاج ہے۔ (انفرادی طور پر بھی بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعائیں کرنی چاہئیں)۔ فرماتے ہیں کہ ‘’اور چاہتا ہے کہ ان بلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہے جو شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں اور یہ ساری باتیں سچی توبہ سے حاصل ہوتی ہیں ‘‘۔ (جو سچی توبہ کرتا ہے، جو کامل ایمان رکھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پھر ان باتوں سے محفوظ رکھتا ہے)۔ فرماتے ہیں کہ’’پس توبہ کے فوائد میں سے ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حافظ اور نگران ہو جاتا ہے اور ساری بلاؤں کو خدا دور کر دیتا ہے اور ان منصوبوں سے جو دشمن اس کے لئے تیار کرتے ہیں ان سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کا یہ فضل اور برکت کسی سے خاص نہیں بلکہ جس قدر بندے ہیں خداتعالیٰ کے ہی ہیں۔ اس لئے ہر ایک شخص جو اس کی طرف آتا ہے اور اس کے احکام اور اوامر کی پیروی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ہو گا جیسے پہلا شخص جو توبہ کر چکا۔ وہ ہر ایک سچے توبہ کرنے والے کو بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے‘‘۔
پس یہ توبہ اور ایمان میں بڑھنا اور ایمان میں کامل ہونے سے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے سے ہر شخص یہ نظارے دیکھ سکتا ہے جو سچے نبی کی پیروی کرنے والا، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اصل کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنی خاص حفاظت میں رکھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1Kgfq]

اپنا تبصرہ بھیجیں