خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 15؍اپریل 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
مریضوں کی عیادت کرنا بھی خداتعالیٰ کے قرب کو پانے کا ایک ذریعہ ہے
لجنہ اماء اللہ، خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ کے شعبہ خدمت خلق کومریضوں کی عیادت کے پروگرام بنانے کی نصیحت
(مریضوں کی عیادت کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اسوہ اور تیمارداری کے اسلامی آداب کا احادیث نبویہ کے حوالہ سے تذکرہ)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 15؍ اپریل 2005ء (15؍شہادت 1384ہجری شمسی)بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن،لندن۔

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
لَقَدْ جَآء کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیِْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءوْفٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ التوبہ آیت نمبر128)

یقینا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو اور وہ تم پر بھلائی چاہتے ہوئے حریص رہتا ہے، مومنوں کے لئے بے حد مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاں غیروں اور اپنوں کی روحانی اصلاح کے لئے اور ان کا خداتعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے بے چین رہتے تھے وہاں مخلوق کی تکلیف کی وجہ سے اس سے ہمدردی کا بھی بے پناہ جذبہ تھا جو آپؐ کے دل میں بھرا ہوا تھا۔ دوسرے کی تکلیف کا احساس آپؐ کو اپنی تکلیف سے زیادہ تھا بلکہ اپنی تکلیف کا احساس تو تھا ہی نہیں۔ ہر وقت اس فکر میں ہوتے تھے کہ کہاں مجھے موقع ملے اور مَیں اللہ کی مخلوق سے ہمدردی کروں، اس کے کام آؤں، ان کے لئے دعائیں کروں، ان کی تکلیفوں کو دور کروں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ یہ رسول تمہاری بھلائی کا حریص رہتا ہے۔ یہ حریص کوئی محدود معنی والا لفظ نہیں ہے جیسے ہم کہہ دیں کہ لالچ میں رہتا ہے۔ گو یہ لالچ میں رہنا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ دنیا لالچ کرتی ہے تو اپنے لئے کرتی ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچ جائے، ہماری تکلیفیں دور ہو جائیں لیکن ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ لالچ کر رہے ہیں تو دوسروں کے لئے کہ ان کو فائدہ ہو، ان کی تکلیفیں دو ر ہوں۔ بہرحال اس لفظ کے اور بھی بڑے وسیع معنی ہیں۔ یعنی بڑی شدت سے یہ خواہش کرنا کہ کسی بھی طرح دوسرے کو فائدہ پہنچا سکوں اور اس میں ذاتی دلچسپی لینا اور پھر اس معاملے میں نہایت احتیاط سے دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس کے لئے درد اور ہمدردی رکھنا، اس کے لئے خود تکلیف برداشت کرنا۔تو یہ رویہّ ہوتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر۔ او رپھر اس تکلیف کو دور کرنے کے لئے آپؐ تمام ذرائع اور وسائل استعمال کرتے تھے۔ اور ان تکلیفوں کو دور کرنے اور دوسروں کوآرام پہنچانے کے لئے آپؐ کے دل میں بے انتہا مہربانی کے جذبات ہوتے تھے اور اس سے آپ کبھی نہیں تھکتے تھے۔ اور دوسروں کے لئے ہمدردی اور رحم کے جذبات کا آپؐ کا ایک ایسا وصف تھا کہ اس وصف کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ بے حد مہربان ہونے اور بار بار رحم کرنے کی خدائی صفت کا انسانوں میں کامل اور اعلیٰ نمونہ صرف اور صرف آپؐ کی ذات میں تھا جس کی اللہ تعالیٰ بھی گواہی دے رہا ہے۔
اس بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’جذب اور عقد ہمت ایک انسان کو اُس وقت دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تکلیفوں کو محسوس کرنے کی طاقت اور تکلیف دور کرنے کا احساس اس وقت دیا جاتا ہے ’’جبکہ وہ خداتعالیٰ کی چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور ظلّ اللہ بنتا ہے۔ پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کُل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ ؐ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خداتعالیٰ فرماتا ہے

عَزِیْزٌ عَلَیِْہِ مَاعَنِتُّمْ

یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا، وہ اس پر سخت گراں ہے‘‘، بہت تکلیف دِہ ہے۔’’ اور اُسے ہر وقت اِس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں ‘‘۔ (الحکم جلد 6نمبر 26صفحہ6مورخہ 24؍ جولائی 1902 ئ)
پس اس سے دوسروں کے لئے آپؐ کے جذبات کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کی مزید وضا حت ہو گئی۔
انسان کو آنے والی مختلف قسم کی تکلیفیں ہیں، پریشانیاں ہیں، ان میں سے ایک تکلیف، جس کا کم و بیش ہر ایک کو سامنا ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ہر ایک کو کسی نہ کسی صورت میں یہ تکلیف پہنچتی ہے، وہ جسمانی عوارض یا بیماری ہے۔ تو آج مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے اِس پہلو کو لوں گا کہ آپؐ مریضوں کی عیادت، تیمارداری اور دعاؤں کی طرف کس طرح توجہ فرمایا کرتے تھے۔
آپؐ کے اُسوہ سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنی تکلیف کے لئے وہ جذبات نہیں ہوتے تھے جو دوسرے کی تکلیف کے لئے ہوتے تھے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اس درد سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ جس کی مثال ملنی بھی مشکل ہے۔ چند مثالیں اس کی پیش کرتا ہوں، چند واقعات کہ کس طرح آپؐ مریضوں کے لئے دعا کیا کرتے تھے، کس طرح جا کے ان کو پوچھا کرتے تھے، کیا آپؐ کا طریق ہوتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ایک صحابیؓ کی یہ گواہی میں بتا دوں۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو امامہؓ کی یہ گواہی ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سے بہترین عیادت کرنے والے تھے۔ (سنن نسائی کتاب الجنائز باب عدد التکبیر علی الجنازۃ)
پس اس سے ظاہر ہے کہ آپؐ اپنوں سے بھی بڑھ کر ہمدردی کے ساتھ مریض کی عیادت کیا کرتے تھے۔ چھوٹی موٹی تکلیفیں تو انسان کو لگی رہتی ہیں۔ اُس میں بھی آپؐ پوچھا کرتے تھے جب کسی سے رابطہ ہوتا لیکن اگر دو تین دن سے زیادہ کوئی بیمار ہوتا اور آپ ؐ کے علم میں یہ بات آتی تو آپؐ فوراً اس کی عیادت کے لئے جاتے اور اس کے لئے دعا کرتے۔
چنانچہ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے تین دن سے زائد بیمار رہنے کی صورت میں اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ۔کتاب الجنائز باب ما جاء فی عیادۃ المریض)
جیسا کہ پہلی روایت میں آتا ہے کہ آپؐ سے بڑھ کر کوئی عیادت کرنے والا نہیں تھا۔ جب آپؐ اتنے پیار اور محبت سے مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے ہوں گے تو مریض کی آدھی بیماری تو اس وقت خود ہی دور ہو جاتی ہو گی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کو توجہ سے دیکھ لے، اس کی بات غور سے سن لے تو اس مریض کی آدھی بیماری دور ہو جاتی ہے۔ اور وہی ڈاکٹر ان کو پسند آتے ہیں جو اس طرح ان کو توجہ سے دیکھ بھی رہے ہوں اور ان کی باتیں بھی سن رہے ہوں۔ تو جو سب طبیبوں سے بڑھ کر اور سب ڈاکٹروں سے بڑھ کر طبیب ہے اس کے آنے سے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مریض بہتری محسوس نہ کر رہا ہو۔ جو انتہائی توجہ سے مریض کی بات کو بھی سنتا تھا اس کے لئے دعا بھی کرتا تھا۔ مریض کے علاج میں برکت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اِذن نہ ہو تو دوائی میں شفا نہیں ہوتی۔ دوائی میں شفا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہے۔ تو آپؐ کا یہ طریق تھا کہ جب بھی مریض کے پاس جاتے توا س کے لئے سب سے پہلے دعا کرتے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی بیوی کی عیادت کے لئے آتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے

اَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ۔لَاشِفَاء اِلَّا شِفَاء کَ شِفَآء لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔

کہ اے میرے اللہ !جو لوگوں کا رب ہے اس بیماری کو دور کر دے۔اور توُ شفا دے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی اور شفا نہیں۔توُ اسے ایسی شفا دے جو بیماری کا کچھ بھی اثر نہ چھوڑے۔(مسلم کتاب السلام۔باب استحباب رقیۃالمریض)۔ اور یہ صرف اپنے گھروالوں کے لئے خاص نہیں تھا بلکہ دوسرے مریضوں کے ساتھ بھی آپ کا یہی سلوک تھا۔ جب بھی مریض کی عیادت کے لئے جاتے تو ان کے لئے ضرور دعا کرتے۔
چنانچہ اپنے صحابہؓ سے شفقت اور ان کی بیماری میں ان کے لئے دعا کرنے کے بارے میں روایت میں آتا ہے، حضرت عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے ابّانے بیان کیاکہ مَیں مکّہ میں شدیدبیمار ہو گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور میں نے عرض کی یا رسول اللہ! میں مال چھوڑ کر جا رہا ہوں مگر میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ تو اس پہ انہوں نے پوچھا کہ اس کے لئے کتنی جائیدادچھوڑ دوں۔ خیر یہ جائیداد کی باتیں ہوتی رہیں۔ آنحضورؐ نے فرمایا کتنی چھوڑنی ہے۔ یہاں اس وقت کیونکہ بیماری کے حصے سے تعلق ہے اتنا حصہ مَیں بتا دیتا ہوں۔ تو کہتے ہیں کہ پھر یہ باتیں کرنے کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی پہ رکھا۔پھر میرے چہرے اور پیٹ پر اپنا دست مبارک پھیرتے ہوئے یہ دعا کی

اَللّٰھُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَاَ تِمَّ لَہٗ ھِجْرَتَہٗ

کہ اے اللہ سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورا فرما۔حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ اب بھی جب میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کرتا ہوں۔ (الادب المفرد للبخاری باب العیادۃ جوف اللیل)
پھر ابن مُنکَدِر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دفعہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بیہوش پایا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر اپنے وضو کا بقیہ پانی میرے اوپر انڈیل دیا تو اس سے مجھے افاقہ ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس پایا۔(الادب المفرد للبخاری باب عیادۃ المغمی علیہ)۔ تو تیز بخار کو توڑنے کے لئے پانی سے علاج کیا جاتا ہے اب بھی پانی کی پٹی کی جاتی ہے۔ لیکن یہ پانی جو تھا یہ تو دعاؤں سے بھرا ہوا تھا اور وضو بھی شاید آپؐ نے اس لئے فرمایا تھا کہ اس وقت آپؐ ان کے لئے خاص دعا کرنا چاہتے ہوں گے۔
پھر عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک انصاری آیا تو حضور نے اس سے پوچھا کہ میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ بہتر ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا اس کی عیادت کے لئے تم میں سے کون کون چلے گا۔ چنانچہ حضورؐ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم تیرہ کے قریب افراد حضورؐ کے ساتھ چل پڑے اور حضرت سعد بن عبادہ کی خیریت معلوم کی۔ (صحیح مسلم کتاب الجنائز باب عیادۃ المرضیٰ)۔تو ایک تو اپنے ساتھیوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آپؐ ساتھ لے گئے کہ مریض کی عیادت کرنی چاہئے، اس کی بیمار پرسی کرنی چاہئے۔ اور پھر جو آپؐ کا دعا کا عمومی طریق تھا اس لئے بھی کہ لوگ میرے ساتھ ہوں گے تو ہم دعا کریں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس دعا میں شامل ہو جائیں گے۔
بیماری میں انسان کے جذبات بہت حسّاس ہوتے ہیں۔ جو وطن سے دور ہوں انہیں اس حالت میں وطن بھی بہت یاد آتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ ایک دفعہ بیمار ہوئے تو ان کے جذبات کی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی جس کی تفصیل کے بارے میں اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکرؓ اور بلالؓ کو بخار ہو گیا۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مَیں ان کی عیادت کے لئے گئی تو مَیں نے حضرت ابو بکرؓ کو مخاطب کرکے کہا: ابّا! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! تمہار اکیا حال ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓ کو بخار ہوتا تھا تو آپؓ یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ؎

کُلُّ امْرِیٍٔ مُصَبَّحٌ فِیْ اَھْلِہٖ
وَالْمَوْتُ اَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ

کہ ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے حالانکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا بخار جب ٹوٹتا تھا وہ اپنی چادر اٹھا کر مکّہ کو یاد کرکے جو شعر پڑھتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہائے مجھ پر وہ دن بھی آئے گا جب میں رات ایسی وادی میں گزار وں گا جب میرے ارد گرد اذخر گھاس اور جلیل اُگی ہوگی۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مَیں نے حضرت ابو بکر اور بلال رضی اللہ عنھما کا یہ حال دیکھا تو مَیں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے آگاہ کیا۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ اے اللہ! ہمیں مدینہ،مکّہ سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی آب و ہوا درست فرما دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اورمُدّ میں برکت دے دے (یعنی جو پیمانے تھے) اور اس کی بیماری کو جُحْفَہ کے علاقے میں منتقل فرما دے، دور کر دے۔(الادب المفرد للبخاری باب ما یقول للمریض)۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف بیماری سے شفا کی دعا کی بلکہ وطن سے دُوری کی وجہ سے جو ان میں بے چینی تھی اس کو دور کرنے کے لئے مدینہ سے محبت پیدا کرنے کی بھی دعا کی۔
پھر دعاؤں کے سلسلے میں ہی اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تھا تو اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مُعوّذات یعنی

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس

پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو مَیں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر یہ سورتیں پڑھ کر دم کرتی اور آپؐ ہی کے ہاتھ آپؐ کے بدن پر پھیردیتی تھی کیونکہ آپؐ کے ہاتھ میرے ہاتھوں سے زیادہ برکت والے تھے۔(مسلم۔کتاب الطب۔ باب رقیۃ المریض بالمعوّذات والنفث) یہ سبق جو آپؐ نے سکھائے تھے اس کو صحابہؓ بھی استعمال کیا کرتے تھے۔
پھر ایک روایت ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی اس کے بخار کی حالت میں عیادت کی اور اسے مخاطب کرکے فرمایا: مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخار میری آگ ہے میں اسے اپنے گناہ گار بندے پر اس لئے مسلط کرتا ہوں تاکہ جہنم کی آگ میں سے اس کا جو حصہ ہے وہ اسے اسی دنیا میں مل جائے۔(ترمذی کتاب الطب)۔ تو اس طرح سے آپؐ نے اسے تسلّی بھی دی اور صبر کی تلقین بھی فرمائی۔ تو بیمار کو اس کے مناسب حال اور اس کے ایمان کی حالت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف تسلی کے الفاظ بھی فرمایا کرتے تھے۔
پھر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے۔(ابوداؤد کتاب الجنائز باب العیادۃ من الرمد)
اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ غزوہ خندق میں جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو کسی دشمن نے بازو پر نیزہ مارا جس سے آپ کی رگ کٹ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خیمہ مسجدنبوی میں ہی لگوا دیا تاکہ قریب سے ان کی تیماری داری کر سکیں۔(ابوداؤد کتاب الجنائز باب فی العیادۃ مرارًا)۔ تو یہ زخم علاج کے باوجود جب ٹھیک نہیں ہو رہا تھا تو آپؐ نے اس محبت کی وجہ سے جو آپؐ کو صحابہ سے تھی یہی مناسب سمجھا کہ اپنے قریب رکھوں تاکہ علاج کی بھی نگرانی ہوتی رہے اور مجھے تسلّی بھی رہے اور خود حضرت سعد کی تیمارداری بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کر سکیں۔ اور یہ بھی روایت میں ہے کہ آپؐ نے ان کے لئے ایسا بھی انتظام فرما دیا تھا کہ باقاعدہ ایک نرس کا انتظام کر دیا تھا جو ان کا علاج کرے، باقاعدہ پٹی کرے، دیکھ بھال کرے۔ اور مسجد نبوی میں ایسے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں جنگ کے بعد مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے انتظام ہوتا تھا اور وہیں ان کی باقاعدہ نرسنگ وغیرہ بھی ہوا کرتی تھی۔
پھر حضرت اُمّ علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مَیں بیمار تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے میرے ہاں تشریف لائے اور میری تسلّی کے لئے فرمایا کہ ام علاء !بیماری کا ایک پہلو خوش کن بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مرض کی وجہ سے ایک مسلمان کی خطائیں اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔ (ابوداؤد کتاب الجنائز باب عیادۃ النساء)
دیکھیں کس طرح سے مریضوں کو تسلی دیتے رہتے تھے۔ اس بات کو آپؐ اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ بیماری کی وجہ سے بیماری کو کو سنے دئیے جائیں،بیماری کو برا بھلاکہا جائے کہ یہ کیا کمبخت بیماری آ گئی ہے،جس طرح بعضوں کو عادت ہوتی ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُمّ سائب کے پاس گئے تو ان کو تکلیف میں دیکھا۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ اُمّ سائب نے جواب دیا کہ بخار ہو گیاہے، خدا اسے غارت کرے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو،بخار کو گالیاں نہ دو کیونکہ یہ مومن کی خطائیں ویسے ہی دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی سونے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔(الأدب المفرد للبخاری باب عیادۃ المرضیٰ)
اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا ضرور کرنی چاہئے اور آپؐ خود بھی مریضوں کے لئے کیا کرتے تھے لیکن اس طرح کوسنے نہیں دینے چاہئیں۔دعا اور صدقہ و خیرات سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنی چاہئے۔ اور بیماری پر جو صبر کی تلقین تھی وہ صرف دوسروں کے لئے نہیں تھی بلکہ اگر خود بھی کبھی بیمار ہوتے تھے یا تکلیف میں ہوتے تھے تو سب سے بڑھ کر صبر دکھانے والے تھے۔
آپؐ کی بیماری کے واقعہ کا ذکر ایک روایت میں یوں آتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا اور وہ چادر لے کر لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپؐ کی چادر کے اوپر ہاتھ رکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بخار کی حرارت چادر کے اوپر سے محسوس کی۔ کافی تیز بخار تھا۔ تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو کتنا سخت بخار ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پر اسی طرح شدید آزمائشیں آتی ہیں اور اجر بھی ہم کو بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے۔ تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کن لوگوں کو سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کو۔ پھر ان کے بعد صلحاء کو اور صالح لوگوں میں سے کسی کو غربت سے آزمایا جاتا ہے اور غربت کے باعث کبھی تو اس کے پاس پہننے کو صرف جبّہ ہی ہوتا ہے جس سے وہ لباس کا بھی اور جبہ کا بھی کام لیتا ہے۔ اور کبھی اسے جوؤں سے آزمایا جاتا ہے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اسے قتل ہی کر دیتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی کسی چیز کو پانے سے خوش ہوتا ہے۔(الأدب المفرد للبخاری باب ھل یکون قول المریض انی وجع شکایتہ)
تو یہ ہے آپؐ کا اسوہ کہ بیماری پر صبر اور اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا۔ انبیاء تو پاک ہوتے ہیں اور آپؐ تو سب سے بڑھ کر پاک تھے۔آپ ؐ نے تو فرمایا کہ میرا تو شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ تو انبیاء کو جوبیماری ہو، بخار ہو وہ گناہوں سے پاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ صبر و رضا کا ایک نمونہ دکھانے کے لئے ہوتی ہے تاکہ ماننے والوں کو بھی پتہ لگے کہ یہ صرف نصیحتیں کرنے والے نہیں بلکہ خود بھی ان پر عمل کرنے والے اور اسی صبر و رضا کے پیکر ہیں۔
تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے آپؐ کے صحابہؓ بھی بیماریوں میں دعاؤں پر زور دیا کرتے تھے اور یہی طریق آگے پھیلاتے تھے۔
عبدالعزیز روایت کرتے ہیں کہ مَیں اور ثابت، انس بن مالک رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا اے ابو حمزہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اس پر انسؓ نے کہا کیا میں آپ پر وہ دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر حضرت انسؓ نے ان الفاظ میں دم کیا۔’’اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَأْسِ۔اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ۔ لَاشَافِیَ اِلَّا اَنْتَ۔ شِفَآء لَا یُغَادِرُ سَقَمًا‘‘ (بخاری کتاب الطب باب رقیۃ النبی ﷺ)کہ اے اللہ! جولوگوں کا رب ہے،تکلیف کو دور کرنے والا ہے۔ شفا عطا کر دے کیونکہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔ اس کو ایسی شفا عطا کر کہ بیماری کا کچھ بھی اثر باقی نہ رہے۔
تو مریض کو خود بھی اپنی بیماری کے لئے دعا کرنی چاہئے بجائے اس کے کہ اپنی بیماری کو کوسنے دے۔ اور دوسرے بھی جو عیادت کے لئے جائیں ان کو اس کے لئے دعا کرنی چاہئے اور اسی طرح دعا کے ساتھ صدقات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بڑی توجہ دلائی ہے۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے مریضوں کا علاج صدقات کے ساتھ کرو یہ تم سے بیماریوں اور آنے والے ابتلاؤں کو دور رکھتا ہے۔(کنزالعمال کتاب الطب حدیث نمبر28182) تو ایک تو بیماری کی صورت میں صدقات کا حکم ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا علاج ہے۔ پھر بیماریوں اور بلاؤں سے بچنے کے لئے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ صدقات دیتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ اگر چھوٹے موٹے ابتلاء آتے بھی ہیں تو ان دعاؤں اور صدقات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر آپؐ مریضوں کی عیادت کے وقت اس کی خواہش کے مطابق خوراک کے انتظام کی بھی کوشش فرمایا کرتے تھے۔ مریض کے بارے میں کوئی پہلو ایسا نہیں جس کو آپؐ نے چھوڑا ہو۔
اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی اور اس سے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز کی خواہش ہے۔ اس نے عرض کی کہ میں گندم کے آٹے کی روٹی کھانا چاہتا ہوں۔ (اس وقت یہ ایسی خوراک تھی جو ہر ایک کو میسر نہیں ہوتی تھی)۔ اس کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گندم کے آٹے کی روٹی ہو تو وہ اپنے اس بھائی کو لا کر دے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے کھلائے۔ (سنن ابن ماجہ۔کتاب الجنائز باب ما جاء فی عیادۃ المریض)
پھر اسی طرح کی ایک اور روایت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا تمہارا کوئی چیز کھانے کو دل کرتا ہے؟ پھر خود ہی فرمایا کیا تم دودھ شکر میں گوندھے ہوئے گندم کے آٹے کی روٹی کھانا پسند کرتے ہو؟ (میٹھی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے) تو اس مریض نے کہا کہ ہاں ! چنانچہ انہوں نے اس مریض کی مطلوبہ روٹی مہیا کرنے کا ارشاد فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء فی عیادۃ المریض)
بعض ڈاکٹر مریضوں کو بعض چیزیں کھانے سے منع کرتے ہیں۔ لیکن آپؐ مریض کی خواہش پوری کرنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ مریض کی خوراک تو ویسے بھی بیماری میں بہت مختصر سی ہو جاتی ہے، تھوڑی سی رہ جاتی ہے۔ ایک مریض کتناکھا سکتا ہے جس سے نقصان ہو۔ تو جب ڈاکٹر پابندیاں لگاتے ہیں تو اس کو مزید کمزور کر دیتے ہیں۔ لیکن اب ڈاکٹرز بھی اس طرف آ رہے ہیں بلکہ اب تو اکثر یہ کہتے ہیں کہ خورا ک کھانے کی جو مریض کی خواہش ہو تو وہ اس کو دے دینا چاہئے، کھانا چاہئے۔ لیکن ہمارے ہاں جو حکیم ہیں وہ اس بارے میں بڑے پکّے ہیں اور ان کی کوئی بھی دوائی کھائیں تو ایک فہرست مہیا کر دیں گے کہ یہ یہ چیزیں نہیں کھانی۔ وہ چیز نہ کھا کر اتنی احتیاطیں کرکے تو ویسے بھی یا تو مریض نہیں رہے گا یا مرض نہیں رہے گا۔
پھر مریضوں کو بھی شفا پانے کے لئے دعاؤں کے سلیقے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے۔ چنانچہ حضرت انس؄ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت فرمائی جوبیماری کے باعث کمزور ہوتے ہوئے چوزے کی طرح ہو گیا تھا۔ بہت مختصر سا ہو گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کرکے فرمایا۔ کیا تم کوئی خاص دعاکرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہاں۔ پھر اس نے بتایا کہ میں یہ دعاکرتا ہوں کہ اے اللہ ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا ہے وہ مجھے اس دنیا میں دے دے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سُبْحَانَ اللّٰہ۔ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ اَللّٰھُمَّ اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار کہ اے اللہ تو ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ تو راوی کہتے ہیں کہ جب اس مریض نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔(مسلم کتاب الذکر والدعاء باب کراھیۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا)تو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دونوں جہان کی بھلائیاں مانگنی چاہئیں۔
جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ جہاں جسمانی بیماری کو دیکھ کر آپؐ بے چین ہو جاتے تھے، تسلی دیتے تھے، دعا کرتے تھے وہاں روحانی مریضوں کے لئے بھی بے چینی ہوتی تھی۔ اور جن سے کوئی تعلق ہوتا تھا ان کے لئے تو خاص طور پر آپؐ کے بڑے درد بھرے جذبات ہوا کرتے تھے۔ کوشش ہوتی تھی کہ وہ بھی کسی طرح پاک دل ہو جائیں اور جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو اس کی رحمت کی نظر اُن پر پڑے۔
ایک حدیث میں ایک واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا وہ بیمار ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ اس کے سرہانے بیٹھ کر حال احوال پوچھا اور اسلام قبول کرنے کی بھی تحریک فرمائی۔ لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو پاس ہی بیٹھا تھا۔ اس کے باپ نے کہا ابو القاسم کی بات مان لو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ لقب تھا) تو چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔حضورؐ خوش خوش وہاں سے یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ سب تعریفیں اس جل ّشانہٗ کے لئے ہیں جس نے اس نوجوان کو دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ (بخاری کتاب الجنائز باب ذا أسلم الصبی فمات ھل یصلّی علیہ)حضرت عبداللہ بن عباس ر ضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ مریض کے پاس عیادت کرنے کے سلسلے میں شوروغل نہ کرو اور نہ مریض کے پاس زیادہ بیٹھو کیونکہ مریض کے پاس کم بیٹھنا سنت ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح)
تو مریض کے کمرے میں شور شرابہ کرنا، بڑی دیر تک جمگھٹا لگا کر بیٹھ رہنا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف تھا۔ مریض کی عیادت کرنے کے بعد واپس آ جانا چاہئے۔ اور گھرکے جو افراد تیمار داری کر رہے ہیں انہیں کو وہاں رہنا چاہئے۔ یا اگر ہسپتال میں ہیں تو ہسپتال کے انتظام کے تحت۔ بعض دفعہ عزیز رشتہ دار ہسپتالوں میں بھی اتنا رش کر دیتے ہیں کہ ساتھ کے دوسرے مریض بھی ان کے بچوں اور ان کے اپنے شور سے ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایسی صورت میں بعض دفعہ ہسپتا ل کی انتظامیہ کو سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ رَش کرنے کی عموماً عادت ہے۔ بعض اوقات مریض کے پاس زیادہ رش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی سانسوں کی وجہ سے، مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، فضا بھی اتنی صاف نہیں رہتی جس سے مریض کی تکلیف بڑھنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھیں ہمارے سامنے پہلے ہی یہ اسوہ رکھ دیا کہ مریض کی عیادت کرو،اس کو تسلی دو، اس کے لئے دعا کرو اور واپس آ جاؤ۔ وہاں بیٹھ کے مجلسیں نہ جماؤ۔ اسی طرح ان کے علاوہ مریض کے گھر والوں کو بھی جو تیمار داری کر رہے ہیں زیادہ رش نہیں کرنا چاہئے۔
پھر اپنی امت کو بھی آپؐ نے اس خُلق کو اپنانے اور مریضوں کی عیادت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم! مَیں بیمار ہوا تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ اس پر وہ جواب دے گا تو ربّ العالمین ہے تو کیسے بیمار ہو سکتا ہے اور مَیں تیری عیادت کس طرح کرتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے اور تو اس کی عیادت کے لئے نہیں گیا تھا۔ کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اور اس کی عیادت میری عیادت ہوتی۔(مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل عیادۃ المریض)
پس مریضوں کی عیادت کرنا بھی خداتعالیٰ کے قرب کو پانے کا ہی ایک ذریعہ ہے۔ ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ خاص طو رپر جو ذیلی تنظیمیں ہیں ان کو میں ہمیشہ کہتا ہوں۔ خدمت خلق کے جو اُن کے شعبے ہیں لجنہ کے، خدام کے، انصار کے ایسے پروگرام بنایا کریں کہ مریضوں کی عیادت کیا کریں، ہسپتالوں میں جایا کریں۔ اپنوں اور غیروں کی سب کی عیادت کرنی چاہئے اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ بھی ایک سنت کے مطابق ہے۔ اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کے ذریعے ہم اختیار کریں۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ عیادت کس طرح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیادت کا ایک عمدہ طریق یہ ہے کہ آدمی مریض کے پاس جائے،اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھے کہ اس کی طبیعت کیسی ہے۔ اور آپس میں ملنے ملانے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرو تو اس طرح ایک اپنائیت اور محبت کا احساس اور بڑھے گا۔(ترمذی أبواب الأدب باب ما جاء فی المصافحۃ ومشکوٰۃ باب المصافحۃ والمعانقۃ)
پھر ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؐ نے صحابہؓ کو حکم دیا تھا کہ بیماروں کی عیادت کیا کرو۔ پس ہم سب کو اس حکم کی بھی تعمیل کرنی چاہئے۔
پھر آپؐ نے فرمایا جب کسی مریض کی عیادت کو جاؤ یا کسی کے جنازے میں شرکت کرو تو زبان سے خیر کے کلمات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری باتوں پر آمین کہہ رہے ہوتے ہیں۔ (صحیح مسلم)۔تو وہاں بھی اچھی باتیں کرو۔ دعائیں کرواپنے لئے بھی، مریض کے لئے بھی۔
پھر عیادت کی ترغیب دلاتے ہوئے آپؐ نے فرمایا جس کی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی بھائی سے ملنے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی یہ صدا لگاتا ہے کہ تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو، جنت میں تیرا ٹھکانا ہو۔(ترمذی باب ما جاء فی زیارۃ الأخوان۔سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز باب فی ثواب من عاد مریضًا) اصل میں تو یہ ایک انسان کا دوسر ے انسان کے لئے ہمدردی اور نیک جذبات کے اظہار کا اعلان ہے۔ پس ان جذبات کو پھیلانے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔ تبھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا،اس کی جنتوں کو حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مریضوں کی عیادت فرماتے تو بعض اوقات بعض نسخے بھی تجویز فرمایا کرتے تھے۔ ان کا روایات میں ذکر ملتا ہے۔ چند ایک کا میں ذکر کرتا ہوں یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ آپ ؐ کو مریضوں کی کتنی فکر رہا کرتی تھی۔ ان کے علاج معالجے، خوراک وغیرہ کا بھی خیال رکھتے تھے اور بعض بیماریوں کا علاج بھی فرمایا کرتے تھے۔
اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس سیاہ دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض سے نجات دینے کے لئے شفا رکھ دی گئی ہے سوائے موت کے۔ (بخاری کتاب الطب باب الجنۃ السوائ)۔ تو آپ ؐ بعض لوگوں کو بعض بیماریوں کے لئے نسخے تجویز بھی فرمایا کرتے تھے کہ یہ کھاؤ۔ سنا ہے یہ دردوں کے لئے بڑی اچھی چیز ہے۔ اَور بیماریوں کے لئے بھی ہو گی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
پھر ایک دفعہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اس کو شہد پلاؤ۔ وہ شخص دوبارہ حاضر ہوا، تکلیف دور نہ ہوئی تھی۔ فرمایا اور شہد پلاؤ۔ تکلیف نہیں دور ہوئی۔ پھر وہ تیسری دفعہ آیا تو آپؐ نے کہا اسے اور شہد پلاؤ۔ لیکن ہر دفعہ وہ یہی شکایت لے کر آتا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا :صَدَقَ اللّٰہُ وَکَذَبَ بَطْنُ اَخِیْکَ کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا لیکن تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا ہے۔ اسے شہد ہی پلاؤ۔(بخاری کتاب الطب۔ باب الدواء بالعسل وقول اللہ تعالیٰ فیہ شفاء للناس)۔ پتہ نہیں کس صورت میں اس کو پلا رہے تھے بہرحال شہد پلاتے رہے اور آخر میں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تندرست ہو گیا۔۔ شہد بھی مختلف قسم کے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لئے بعض مختلف قسم کے شہد ہوتے ہیں۔
پھر ایک نسخہ کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انجیر کھایا کرو۔ پھلوں میں سے بڑا اچھا پھل ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ جنت سے ایک پھل نازل ہوا ہے تو مَیں یہ کہوں گا کہ انجیر جنت سے آنے والا ایسا پھل ہے جس میں گٹھلی نہیں ہے۔ پس اس کو کھاؤ کیونکہ یہ بواسیر کے مرض کو دور کرتا ہے اور نَقرس (Gout) کے مرض میں بھی نفع بخشتا ہے۔ (کنزالعمال۔کتاب الطب)۔جن کو گاؤٹ کے مرض کی تکلیف ہوتی ہے اس کے لئے بھی اچھا ہے۔
پھر ایک نسخے کا ذکر ہے کشمش کے بارے میں آتا ہے کہ اس کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ یہ کڑواہٹ کو دور کرتا ہے، بلغم کو دور کرتا ہے،اعصاب کو مضبوط کرتا ہے، لاغر پن کو دور کرتا ہے، اخلاق کو عمدہ کرتا ہے۔دل کو فرحت بخشتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے۔(کنزالعمال کتاب الطب)
اس بارے میں بھی بڑے لوگوں نے تجربہ کیا ہے۔ بعضوں نے عرق گلاب میں ڈبو کر کشمش کھائی ہے اور جن کے دل کی نالیاں بند تھیں اور ڈاکٹر بائی پاس آپریشن تجویز کر رہے تھے وہ اللہ کے فضل سے کھل گئیں۔ اس تجربے کو کئی لوگوں نے مجھے بتایا ہے۔
پھر زیتون کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی مالش کیا کرو کیونکہ اس میں جذام سمیت ستّر امراض کے لئے شفا ہے۔ کھایا بھی کرو۔(کنزالعمال کتاب الطب)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ مریض کو اور غمزدہ افراد کو شہد اور آٹے سے تیار کردہ پتلی کھیر کھلانے کا آپؓ کہا کرتی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مریض کے دل کو فرحت بخشتی ہے اور اس کا کچھ غم دور کر دیتی ہے۔(بخاری کتاب الطب۔ باب التلبینۃ للمریض)
پھر کھجور کے بارے میں فرمایا کہ یہ بھی کھانی چاہئے۔ قولنج کو دور کرتا ہے۔ غرض بے انتہا نسخے ہیں۔
ایک اور مَیں یہاں بھی بیان کر دیتا ہوں۔ فرمایا کہ گائے کا دودھ پینا چاہئے کیونکہ یہ دوا ہے اور اس کی چربی اور مکھن میں شفا ہے اور تمہیں اس کا گوشت کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ اس کے گوشت میں ایک قسم کی بیماری ہے۔ (کنزالعمال کتاب الطب)
تو یہ بات اب ثابت شدہ ہے کہ گائے کا گوشت زیادہ کھانے والوں میں بعض قسم کی بیماریاں آ جاتی ہیں۔ مثلاً جن مریضوں کو یورک ایسڈ ہو،گاؤٹ کی تکلیف ہو ان کو ڈاکٹر منع کرتے ہیں کہ گائے کا گوشت نہ کھائیں۔ پھر بعض اَور بیماریاں ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے، کسی خاص مریض کو کسی خاص بیماری کی وجہ سے نصیحت فرمائی ہو، شاید وہاں گائے کے گوشت کا زیادہ استعمال ہوتا ہو۔ پھر بلڈ پریشر کے مریضوں کو بھی اور دل کے مریضوں کو بھی ڈاکٹر گائے کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔ تو دیکھیں آج سے چودہ سو سال پہلے آپ نے یہ ساری باتیں بتا دیں جو آج کل کی ریسرچ میں پتہ لگ رہی ہیں۔ (جہاں تک چربی کا سوال ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ اس میں کیا اس کی خصوصیات ہیں۔ کوئی نیو ٹریشنسٹ(Nutritionist) ہی بتا سکتے ہیں۔اگر کسی کو پتہ ہو کہ گائے کی چربی کا کیا فائدہ ہوتا ہے اور کہاں کی خاص چربی ہے جس سے جسم کو فائدہ ہوتاہے۔ اگر کوئی ایسے ماہر ہوں جن کے علم میں ہو تو مجھے بھی بتائیں۔ اور اگر علم میں نہیں ہے تو اس کا علم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ آپؐ نے فرمایا ہے اور ایک گائیڈ لائن دی ہے۔) تو جیسا کہ مَیں نے کہا بے انتہا نسخے ہیں جو آپؐ علاج کے وقت تجویز فرمایا کرتے تھے۔ اب تو ان کو بیان کرنے کا وقت بھی نہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے تھا کہ مخلوق سے آپؐ کو بے انتہا محبت، پیار اور ہمدردی تھی۔ آپؐ کا دل اس ہمدردی سے بھراہوا تھا۔جس کی وجہ سے آپؐ ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کس طرح مَیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچاؤں۔
اللہ تعالیٰ کے ہزاروں ہزار درود سلام ہوں اس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس اسوہ پر چلنے کی اور ان نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے ہم بھی اس کی مخلوق کی خدمت کی توفیق پا سکیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/cef4A]

اپنا تبصرہ بھیجیں