خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 29؍اپریل 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہر احمدی کا فرض بنتاہے کہ وہ نیکیوں میں ترقی کے لئے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے۔
اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے دین کی اشاعت کے لئے حسب توفیق کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔
دلائل کے ساتھ اسلام کی خوبیاں بتانا اور اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے۔ اور ہر احمدی کا یہ فرض بنتاہے کہ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائے۔
(مکرم مولانا محمد احمد صاحب جلیل (مرحوم) اور مکرم صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب (مرحوم) کا ذکرخیر)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 29؍اپریل 2005ء (29؍شہادت 1384ہجری شمسی)بمقام نیروبی،کینیا (مشرقی افریقہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَاتِ۔ اَیْنَمَا تَکُوْنُوْا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْء قَدِیْرٌ۔ (سورۃ البقرہ آیت نمبر149:)

کل کی تقریر میں مَیں نے آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ انبیاء کے آنے کا جو مقصد ہوتا ہے اور جس مقصد کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ یہ ہے کہ خدا سے ملانا اور گناہ سے بچنے کے طریقے سکھانا اور نیکیوں کی طرف لے جانے والے راستے بتانا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ مقصد ہم بڑی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ جب آپ نیکیوں پر قائم ہونے کی کوشش شروع کرتے ہیں اور کچھ نیکیاں بجا لانا شروع کرتے ہیں تو یہ ایک قدم ہے یا چند قدم ہیں جو ہم نے اس راستے میں اٹھائے ہیں۔ یہ وہ انتہا نہیں ہے جس پر ایک احمدی مسلمان کو پہنچنا چاہئے۔اور انتہا ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ ہر منزل پر اگلی منزل کا پتہ ملتا ہے جس کے لئے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ ’گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں ‘۔ دین میں اور روحانیت میں کوئی خود بخود اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کے راستے تلاش نہیں کر سکتا۔ جب تک خداتعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی چنیدہ بندہ وہ راستے نہ دکھائے۔ اور اس زمانے میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا وہ چنیدہ بندہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ معیار صرف کچھ عبادت کرکے حاصل نہیں ہو جاتے اور نہ ہی نیکیوں کی انتہا کچھ نیکیاں حاصل کرنے سے ہو جاتی ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور مسلسل سفر ہے جس پر چلتے ہوئے جب مومن اپنے خیال میں منزل کے قریب پہنچتا ہے تو اسے اور منزلیں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔
پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ نیکیوں کی منزلیں تلاش کرے۔ ا ن میں عبادتیں بھی ہیں، نیک کام بھی ہیں، جن پر احمدی ہر وقت چلتا رہے اور نیکی کی منزلیں تلاش کرے۔ اعلیٰ اخلاق ہیں جن میں ہر احمدی کو ترقی کرنی چاہئے۔ لوگو ں کے حقوق ادا کرنے میں ایک فکر کے ساتھ کوشش کرنی چاہئے۔ غرض کہ ایک احمدی مسلمان کے سامنے ایک وسیع میدان ہے جس میں ہر وقت ایک لگن کے ساتھ اور ایک توجہ کے ساتھ کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔ کسی ایک کام کو پکڑ کر خیال کرنا کہ ہم نے معیار حاصل کر لئے بالکل غلط ہے۔ بلکہ اُن تمام نیکیوں میں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے ترقی حاصل کرو گے تو صحیح مومن کہلا سکو گے۔ اور اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔
یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک مطمح نظر ہوتا ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔ یقینا اللہ ہر چیزپر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ توواضح ہو گیا کہ تمہاری زندگی کا مقصد اور مطمح نظر جس کو سامنے رکھ کر ایک انسان اپنے راستوں کا تعین کرتا ہے،وہ یہ ہونا چاہئے کہ تم نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے۔ اور جب ہر مومن، ہر احمدی ایک لگن کے ساتھ، ایک تڑپ کے ساتھ اس دوڑ میں شامل ہو گا کہ اس نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے تو تصور کریں کہ ایسی صورت میں کس قدر حسین معاشرہ قائم ہو گا۔ جہاں عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہو رہے ہوں گے اور دوسری نیکیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہوں گے۔کچھ تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اس رنگ میں رنگین ہو رہے ہوں گے کہ ہم نے بھی وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو دوسرے حاصل کر رہے ہیں۔ ان کو بھی یہ فکرہو گی کہ ہم نے بھی خداتعالیٰ کا قرب پانے کے وہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں جو ہمارے بھائی حاصل کر رہے ہیں۔ دوسروں کی عبادتوں اور نیکیوں کو دیکھ کر حسد کے جذبے پیدا نہیں ہوں گے بلکہ ان پر رشک آئے گا اور پھر خود بھی ان نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش ہو گی۔ صحابہ کرام اس طرف بہت توجہ دیا کرتے تھے اور بڑی فکر کے ساتھ توجہ دیا کرتے تھے۔
چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ صحابہ اکٹھے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دولتمند لوگ اپنی دولت کی وجہ سے سارا ثواب لے جاتے ہیں یا ان سے زیادہ ثواب لے جاتے ہیں۔ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں۔ وہ بھی روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں۔ وہ بھی دوسری عبادتیں کرتے ہیں جس طرح ہم عبادتیں کرتے ہیں۔ لیکن ایک زائد بات اُن میں ہے جو ہم نہیں کر سکتے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو امیر ہیں ، ان ساری نیکیوں کے ساتھ ساتھ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی غربت کی وجہ سے باوجود خواہش ہونے کے اس میدان میں ان سے پیچھے ہیں۔ ہمیں بھی کوئی راستہ بتائیں کہ ہم اس نیکی میں ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیااللہ تعالیٰ نے تمہیں مال نہیں دیا جو تم بطور صدقہ خرچ کرو؟ آپ ؐ نے یہ سوال کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، اور الحمدللہ کہنا صدقہ ہے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے۔
ایک روایت میں ہے، آپؐ نے فرمایا کہ تم لوگ ہر نماز کے بعد 33دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ پڑھا کرو، 33دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ پڑھا کرو، اور 34دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر پڑھا کرو۔ یہ تمہیں ان امیروں کے برابر لے آئے گا جو صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو صحابہ نے یہ عمل شروع کر دیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعدجو امیر صحابہ تھے انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ نماز کے بعد بیٹھ کر وظیفہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان صحابہ میں بھی نیکی میں آگے بڑھنے کی ایک لگن تھی۔ دنیا دار امیر کی طرح تو نہیں تھے جو اپنی دولت کی وجہ سے اندھے ہو جاتے ہیں کہ نہ ہی خداتعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ بلکہ دنیا دار امیر لوگ تو نیکیوں میں بڑھنے کی بجائے برائیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال اُن امیرصحابہ کو بھی ان غرباء کو دیکھ کر یہ تجسس پیدا ہوا کہ یہ کیا ذکر الٰہی کرتے ہیں۔ آخر اُن کو پتہ چل گیا کہ یہ نماز کے بعد اس طرح ذکر الٰہی کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن امیر صحابہ نے بھی ذکر الٰہی شروع کر دیا۔ کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جونیکیوں میں بڑھنے کے مفہوم کو سمجھتے تھے۔ اس پر یہ غریب صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اُن امیر صحابہ کو بھی پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے بھی ہماری طرح ذکر الٰہی اور وظیفہ شروع کر دیا ہے۔ یہ لوگ پھر ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب مَیں کیا کر سکتا ہوں۔ جس کو خداتعالیٰ اپنے فضل سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی توفیق دے رہا ہے اسے مَیں کس طرح روک سکتا ہوں۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ۔ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ)
تو دیکھیں یہ صحابہؓ کے ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے نمونے تھے۔ اور یہ نمونے ہمارے سامنے صرف اس لئے نہیں بتائے جاتے کہ ہم سنیں اور ان سے محظوظ ہوں۔ بلکہ اس لئے ہیں کہ ہم اُن پر عمل کرنے والے بنیں۔ صحابہ کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کا اس قدر شوق تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بار بار بڑے تجسّس سے اس بارے میں سوال کیا کرتے تھے۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے، حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات پوچھی ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے۔ توُ اللہ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ، باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر زادراہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔
پھر آپؐ نے یہ فرمایا کہ اب مَیں بھلائی اور نیکیوں کے دروازوں سے متعلق تجھے نہ بتاؤں ؟ سنو! روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔ صدقہ گناہوں کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔

تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدۃ:17)

پھرآپ نے فرمایا کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں ؟ مَیں نے عرض کی: جی ہاں
یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا کہ دین کی جڑ اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
پھر آپؐ نے فرمایا کیا مَیں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں ؟ مَیں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔ آپؐ نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اِسے روک کر رکھو۔ مَیں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس کا بھی ہم سے مؤاخذہ ہو گا؟ آپؐ نے فرمایا تیری ماں تجھ کو گم کرے (یہ عربی کا محاورہ ہے افسوس کے اظہارکے لئے بولا جاتا ہے) فرمایا کہ لوگ اپنی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے بُرے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔(سنن الترمذی۔ابواب الایمان۔باب ما جاء فی حرمۃ الصلاۃ)
تو دیکھیں کتنی فکر ہے کہ ہلکا سا بھی کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس سے دوزخ کی ہوا بھی لگے۔ بلکہ ایسے کام سرزد ہوں، ایسی نیکیاں سرزد ہوں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں۔ یہ صحابہ کا رویہ ہوتا تھا۔ لیکن دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب کہ یہ ہے تو مشکل کام لیکن اگر تم اس بات پر قائم ہو جاؤ کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فضل بھی فرماتا ہے اور انسان کی جنت میں جانے کی خواہش بھی پوری ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے بعض عمل کرنے ہوں گے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ایسی عبادت کرو جو اس کا حق ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ نمازوں کے اوقات میں جیسا کہ خداتعالیٰ کا حکم ہے، پوری توجہ نمازوں کی طرف رکھو۔ تمہارے کام یا تمہارے دوسرے عذر تمہیں نمازیں پڑھنے سے نہ روکیں۔ کام کی خاطر نماز کو نہ چھوڑو بلکہ نماز کی خاطر کام چھوڑو۔ ورنہ یہ بھی ایک قسم کا مخفی شرک ہے۔ کیونکہ اگر کام کی خاطر نماز چھوڑو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے نزدیک دنیاوی کام تمہارے خدا کی عبادت کرنے سے زیادہ اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے کام کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس زمانے میں جو دنیا داری بہت ہے۔ تو دیکھیں یہ شرک خاص طور پر بہت پھیل گیا ہے۔ دنیاوی کاموں اور دھندوں میں انسان اس قدر ڈوب گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نمازوں کی حیثیت ایک ثانوی حیثیت ہو گئی ہے اور اس زمانے میں جو نمازوں کو خاص توجہ اور شوق سے ادا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق یقینا اس کا قرب پانے والا ہو گا۔
پس ہر احمدی کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اگر اُس نے خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اور اُس کی جنت حاصل کرنی ہے تو اُسے اپنی نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرنی ہو گی۔ بلکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی کے دروازوں میں داخل ہونے کے لئے مزید ترقی کرنی ہے تو رات کو تہجد کے لئے اٹھنا بھی ضروری ہے جس سے نیکیوں کی طرف اور قدم بڑھیں گے، عبادت کے مزید ذوق پیدا ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مزید کوشش ہو گی۔ اور اس طرح ہمارے اندر ایک روحانی تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ جو روحانی ترقی کی مزید منزلیں طے کروائے گی اور ہر دن اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف ہمارا قدم ایک نئے انداز میں اٹھے گا۔
پس ہر احمدی اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرے۔ اور پھر ایک مومن کیونکہ صرف اپنا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اپنے بیوی بچوں اور اس کے زیر اثر جو ماحول ہے اس کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس لئے ان عبادتوں کے معیار حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے شرک سے پاک معاشرہ قائم کرنے کے لئے، اپنے بیوی بچوں کی بھی نگرانی کرنی ہو گی کہ وہ بھی عبادتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ نہیں۔ اور جب آپ اپنے پاک نمونے قائم کریں گے تو یقینا آپ کی نسلیں بھی ان پاک نمونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو آپ پر برستا دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا عابد بننے کی کوشش کریں گی۔ اور یوں وہ بھی عبادتوں میں ترقی کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گی۔ اور نمازوں کے اعلیٰ معیا ر قائم کرنے کے ساتھ وہ دوسری قربانیوں اور عبادتوں میں ترقی کرنے کی طرف بھی توجہ دیں گی۔ اور یوں جماعت کے اندر نیکیوں کو قائم کرنے اور نہ صرف قائم کرنے بلکہ ترقی کرنے اور مسلسل جاری رکھنے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلائی اور نیکی کے دروازے جو جنت کی طرف لے جاتے ہیں ان میں سے ایک دروازہ صدقہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ہے جو گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اس طرح ٹھنڈا کرتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ تو جب انسان گناہ کا احساس کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے، آئندہ سے توبہ کرتے ہوئے اس کے آگے جھکے اور وہ یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ اس گناہ سے بچے گا اور ساتھ خداتعالیٰ کی راہ میں بھی کچھ دے تو اس کا یہ احساسِ فکر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے والا ہو گا۔ او ر اس سے نہ صرف گناہ سے بچے گا بلکہ نیکی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔ اور پھر نہ صرف نیکی کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی بلکہ اس میں ترقی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔
ایک غریب آدمی کو خیال آ سکتا ہے کہ ہم کس طرح صدقہ کریں۔ ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے دین کی اشاعت کے لئے حسب توفیق کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ کیونکہ اس رزق میں سے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اپنی جان پر قربانی کرکے اس کی راہ میں کچھ خرچ کریں گے تو اس سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے مزید راستے کھلیں گے۔
دوسرے، ایسے لوگوں کو جن کی توفیق تھوڑی ہے یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے کہ مَیں پہلے حدیث بتا آیا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح و تحمید اور ذکر الٰہی کوبھی صدقہ قرار دیا ہے۔ یہ بھی ایک مال ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہئے۔ جب احمدی اس نظر سے بھی ذکر الٰہی کر رہے ہوں گے کہ ایک تو یہ کہ ہم اللہ کے حضور یہ دعائیں نذر کرتے ہیں اور اللہ سے امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری توفیقوں کو بڑھائے گا تاکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے بنیں تو اس نیکی میں بڑھنے کی خواہش کی اللہ بہت قدر کرتا ہے او رپھر ایسے ذریعوں سے نوازتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اسلام کی چوٹی جہاد ہے۔ اب اس زمانے میں تلواروں اور بندوقوں کا جہاد تو ختم ہو گیا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح کی آمد کے ساتھ ہی تلوار کا جہاد ختم ہونا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وجہ سے فرمایا ہے کہ میرے آنے کے بعد اب تلوار کا جہاد نہ صرف بند ہو گیا ہے بلکہ حرام ہو گیاہے۔ اس کے بعد کیا یہ سمجھا جائے کہ اسلام کی اس چوٹی تک پہنچنے کے راستے ختم ہو گئے؟۔ نہیں، بلکہ تلوار کا جہاد تو جہاد کی ایک قسم ہے جس کی اُس وقت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔ بلکہ اُس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت اور تبلیغ کو ہی جہاد اکبر قرار دیا تھا۔ بلکہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآنی دلائل سے دشمن کا منہ بند کرنے اور پیغام پہنچانے کو جہاد قرار دیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے

وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا (الفرقان:53)

یعنی اس قرآن کے دلائل کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔
پس دلائل کے ساتھ اسلام کی خوبیاں بتانا اور اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے۔ اور ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائے۔ یقینا اس کی وجہ سے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔ لیکن یہ قربانیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی چوٹی جہاد کو قرار دیا ہے۔ اور اس نیکی میں ہر احمدی کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے عملوں کو بھی درست کریں کہ اسے دیکھ کر لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور پھر تبلیغ کے میدان میں کود جائیں۔ آپ کی وطن سے محبت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان لوگوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں بتائیں، اس کی خوبیاں بتائیں۔ آئندہ انسانیت کی بقا بھی اسی میں ہے کہ دنیا ایک خدا کو مانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ پس اس چوٹی کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرے۔ورنہ ہمارا یہ دعویٰ غلط ہو گا کہ ہم ہر میدان میں نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں اور یہ ہمارا مطمح نظر ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حسین معاشرے کے قیام کے لئے ایک بڑی اہم بات ہمیں یہ بتائی ہے جس پر عمل کرکے ہم جنت کے وارث ہو سکتے ہیں اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی، اور وہ ہے زبان پر قابو۔ اگر ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے لئے نیک خیالات رکھتا ہو،کبھی اس کے متعلق غلط بات کہنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے۔ ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات ہوں۔ بعض دفعہ ایک شخص دوسرے کو ایسی بات کہہ جاتا ہے جو نامناسب ہوتی ہے، دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی ہوتی ہے،جس کو یہ بات کہی جائے وہ اگر وقتی طور پر خاموش بھی رہے لیکن دل میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دل میں رنجش کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جو آہستہ آہستہ فساد کا باعث بنتی ہے۔ اور جہاں یہ باتیں معاشرے میں تلخیوں کا باعث بنتی ہیں وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تلخ اور کڑوی باتیں کرنے والوں کو انذار کیا ہے کہ وہ لوگ پھر جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ تو دیکھیں کہ کہاں تو مومنوں کا یہ مطمح نظر کہ انہوں نے نیکیوں میں آگے بڑھنا ہے۔ اور نہ صرف خود نیکیوں میں ترقی کرنی ہے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلانی ہے، ان کو بھی نیکیوں میں اپنے ساتھ ملانا ہے۔ اور کہاں یہ عمل کہ دوسرے کے جذبات کا خیال بھی نہ رکھنا توایسے لوگوں کو تو کبھی نہیں کہا جا سکتاکہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کا مطمح نظرنیکیوں میں آگے بڑھنا ہے۔
پس ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ وہ نیکیوں میں ترقی کے لئے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے۔ جماعت کی خاطر قربانی کے معیار بلند کرے۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو ہر شخص تک پہنچا کر تبلیغ کا حق ادا کرے اور اس کے ساتھ ساتھ مخلوق کے حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ہر ایسی چیزجو معاشرے میں امن پھیلانے کا باعث بنتی ہے، نیکی ہے۔ اور ہمیں یہ حکم ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھنے کو اپنا مقصد قرار دیں۔ ظاہر ہے جب ہم یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ہم نے نیکیاں کرنی ہیں اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے تو پھر برائی کے خیال بھی ہمارے دل میں کبھی نہیں آ سکتے۔ کبھی یہ خیال بھی ہمارے دل میں نہیں آئے گا کہ ہم نے دل لگا کر محنت نہیں کرنی،اپنے کام کا پورا حق ادا نہیں کرنا۔ کبھی یہ خیال دل میں نہیں آئے گا کہ ہم نے کسی کا حق مارنا ہے۔ کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم نے کسی بھی قسم کی اخلاقی برائی کرنی ہے۔ کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم نے جھوٹ بولنا ہے یا کوئی غلط بات کرکے فائدہ اٹھانا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑا جھوٹ بولنا گناہ ہے لیکن چھوٹی موٹی غلط بات بیان کرنا جائز ہے۔ یہ سب نفس کے دھوکے ہیں۔ ہر احمدی کو اس سے بچنا چاہئے۔ اور صر ف بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ یہ ارادہ کر لیں کہ ہم نے سوائے نیکیوں کے کچھ اور کرناہی نہیں اور جب یہ نیکیاں کر رہے ہوں گے تو پھر اس میں بڑھنے اور ترقی کرنے کی دوڑیں بھی لگیں گی ورنہ وہ مقصد حاصل کرنے والے نہیں ہوں گے جس کی خاطر آپ نے احمدیت قبول کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ :
’’اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں۔

ظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ، مُقْتَصِدٌ،سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ۔ ظَالِمٌ لِنَفْسِہ

تو وہ ہوتے ہیں جو نفس امّارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں۔ اور ابتدائی درجہ پر ہوتے ہیں۔ جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔
مُقْتَصِدٌ وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رَو کہتے ہیں۔ ایک درجہ تک وہ نفس امّارہ سے نجات پا جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ اُن پر ہوتاہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں، پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔
مگر سَابِقٌ بِالْخَیْرَات وہ ہوتے ہیں کہ اُن سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات طبعی طور پر اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ اُن سے افعالِ حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے۔ گویا ان کے نفس امّارہ پر بالکل موت آ جاتی ہے اور وہ مطمئنہ حالات میں ہوتے ہیں۔ ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔ اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کونیکی ہی سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں کہ

حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْن‘‘۔

(الحکم جلد9 نمبر 39مورخہ 10؍ نومبر1905ء صفحہ6-5)
اللہ کرے ہم اس کے مطابق نیکیاں کرنے والے ہوں اور نیکیوں میں بڑھنے والے ہوں اور ہر احمدی ایک دوسرے سے نیکیوں میں بڑھنے والا ہو تاکہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو خداتعالیٰ ہمیں یہ نہ کہے کہ جب تمہیں نیکیوں کے کرنے بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا حکم تھا تو پھر کیوں تم نے ان پر عمل نہیں کیا۔اللہ ہم پر رحم فرمائے اور اپنے حکموں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اپنی بات ختم کرنے سے پہلے مَیں پھر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ان دو دنوں میں آپ نے جو بھی نیکی کی باتیں سیکھی ہیں انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں میں جا کر یہ نیکی کی باتیں بھول نہ جائیں بلکہ اپنے بیوی بچوں میں بھی ان کو قائم کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان تمام دعاؤں کا وارث بنائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ پر آنے والوں کے لئے کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آپ کی ہر فکر، رنج اور غم کو دور فرمائے اور اس ملک کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھولے۔ اور آپ سب کے دلوں میں جماعت اور خلافت سے وفا اور محبت کو بڑھاتا رہے۔ آمین۔
آخر پر خطبہ ثانیہ سے پہلے مَیں دو وفات شدگان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو ہیں مولانا محمد احمد صاحب جلیل۔ یہ سلسلہ کے ایک پرانے خادم تھے۔ انہوں نے جماعت کے شعبوں میں مختلف جگہوں پر کام کیا ہے اور جامعہ احمدیہ ربوہ میں بھی پڑھایا ہے۔ ان کے بہت سارے شاگرد ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدمات دینیہ بجا لا رہے ہیں۔ یہ بڑا لمبا عرصہ مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ بھی رہے ہیں۔ اور بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج آدمی تھے۔ اور بڑے عاجز انسان تھے۔ نیکیوں میں بڑھنے والے اور بڑی بزرگ طبیعت کے مالک تھے، نیک طبیعت کے مالک تھے۔ ایک لمبا عرصہ بیمار رہ کر ان کی دو تین دن پہلے وفات ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔
دوسر ے میرے بڑے بھائی مکرم مرزا ادریس احمد صاحب کی دو دن پہلے وفات ہوئی ہے۔ پھیپھڑوں میں کینسر کی وجہ سے کچھ عرصہ سے بیمار تھے۔ آپریشن ہوا تھا جس کے بعد طبیعت بگڑتی گئی۔ چند ماہ پہلے سے، جب سے بیماری کا پتہ لگا، بڑی بہادری سے بیماری کا مقابلہ کیا بلکہ دوسرے عزیزوں کو بھی تسلّی دلایا کرتے تھے۔ بے نفس اور بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ یہ بھی دعا کریں کہ ہر دو وفات یافتگان جوہیں ان کی نسلوں میں بھی خلافت اور جماعت سے وفا و محبت ہمیشہ قائم رہے۔ ابھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد ان کی نمازجنازہ غائب بھی میں پڑھاؤں گا۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان جلسوں کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ دوران سال جو دوست وفات پائیں ان کی مغفرت کے لئے بھی دعا کی جائے۔ تو اس ملک کینیا میں بھی جو احمدی بزرگ جنہوں نے وفات پائی ہے ان کی مغفرت کے لئے دعا بھی اس جنازہ میں ساتھ شامل کرلیں۔
امیرصاحب نے حاضر ی کی یہ رپورٹ دی ہے کہ ان کا پہلے جو جلسہ ہوا تھا اس میں پندرہ سو حاضری تھی۔ اب اللہ کے فضل سے اس وقت سات ہزار دو سو حاضری ہے۔ اور بہت سارے لوگ غربت کی وجہ سے بہت سارے علاقوں سے آئے بھی نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ میں ان علاقوں میں جا بھی رہا ہوں، دورہ کروں گا۔ بہرحال حاضری اس سے بہت بڑھ سکتی تھی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/zGW9t]

اپنا تبصرہ بھیجیں