خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 5؍ اگست 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہم اسلام کے سفیرہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم کے سفیر ہیں جوآنحضرت ﷺپر نازل ہوئی اور اس تعلیم کے سفیر ہیں جو محبتیں بکھیرنے والی ہے نہ کہ نفرت پھیلانے والی۔
اس دفعہ جلسہ پر اللہ کے جو بہت سارے فضل ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جماعت کے وسیع پیمانے پر تعارف کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود بخود پیدا فرمائے۔
یورپ،امریکہ اور آسٹریلیا کے ٹی وی اور اخبارات میں جماعت کاعمدہ رنگ میں تذکرہ۔
(جلسہ سالانہ برطانیہ کے نہایت کامیاب و بابرکت انعقاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے کی تلقین)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 5؍ اگست 2005ء (5؍ ظہور 1384ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن۔ برطانیہ

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ۔ وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی۔ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (الزمر:8)

اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اگر تم انکار کرو تو یقینا اللہ تم سے مستغنی ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ پھر تم سب کو اپنے ربّ کی طرف لوٹنا ہے۔ پس وہ تمہیں ان اعمال سے باخبر کرے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ سینوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور محض اور محض اس کے فضل کی وجہ سے گزشتہ دنوں اتوار کو UK کا جلسہ سالانہ خیریت سے ختم ہوا۔ اور باوجود اس کے کہ نئی جگہ تھی،کھلا میدان تھا،کوئی سہولت میسر نہ تھی، کیونکہ اسلام آباد میں جب جلسہ ہوا کرتا تھاتو کچھ نہ کچھ شیڈ (Shed) اور عمارتیں موجود ہیں اورکچھ حد تک ضروریات پور ا کرنے کے لئے وہاں ان عمارتوں اور شیڈوں کو استعمال کیا جاتاتھا لیکن اس نئی جگہ پر جہا ں جلسہ کیا گیا تمام انتظامات عارضی تھے۔کھانا پکانے کا انتظام اسلام آباد میں تھا۔ کھلانے کا انتظام نئی جگہ پرتھااور دس بارہ میل کا فاصلہ تھا۔ کھانا لے کر جانا، پھر چھوٹی سڑکیں ، ٹریفک کی زیادتی، وقت لگتا تھا۔ پھر بعض نئے کام بھی کرنے پڑے۔ اکثر کارکنان اس لحاظ سے ناتجربہ کار تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کی د عاؤں کو سنا اورسب کی پردہ پوشی فرمائی اور یہ جلسہ سالانہ اپنی تمام برکات بکھیرتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس پرہم خداتعالیٰ کا جتنا بھی شکرادا کریں کم ہے۔ اور یہ شکر ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اورجب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے تو یہ ایک مومن کو مزید شکر میں بڑھاتی ہے اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کی راہوں کے مزید دروازے کھلتے ہیں۔
غرض کہ یہ مضمون ایساہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ دنیا کی ظاہری چیزوں کے ساتھ اس کی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کومحدود کیا ہی نہیں جاسکتا۔اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ شکرکی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کے دروازے مزید کھلتے چلے جاتے ہیں۔پس انسان کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس کا شکرگزار بندہ بنتاچلا جائے کیونکہ یہ انسان ہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔ خداتعالیٰ کو توانسان کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس آیت میں بھی جو مَیں نے تلاوت کی ہے یہی مضمون بیان فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اللہ تو غنی ہے، بندے کو اس کی ضرورت ہے اور اس ذات کے بغیر بندے کا گزارہ ہوہی نہیں سکتا، کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو توبندے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو ربّ العالمین ہے۔ وہ توسب جہان کا ربّ ہے،سب کا پالنے والاہے۔ پس اگر محتاج ہے توبندہ خدا کا محتاج ہے۔خدا تعالیٰ بندوں کی تعریفوں کا محتاج ہے نہ بندوں کے شکرگزار ہونے کا محتاج۔ ہاں وہ اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے،بہتری کے لئے، یہ چاہتاہے کہ وہ ناشکری کرنے والے اورکفر کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس کے شکرگزار ہوں۔ اور فرمایاکہ یہ شکرگزاری کے جذبات اور عمل تمہیں خداتعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں گے۔ اورپھر اسی قرب کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کے وارث بنوگے۔ اس مضمون کواللہ تعالیٰ نے یوں بھی بیان فرمایاہے کہ

لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (ابراہیم:8)

یعنی اگر تم شکرادا کرو گے تو مَیں تمہیں ضرور بڑھاؤں گا۔ یقینا تم میری رضا کو اس شکرکی وجہ سے مزید حاصل کرنے والے ہوگے۔اس لئے ہمیشہ شکرگزار بندے بنو۔ یہ نہ سمجھو کہ بڑوں کے اعمال کی وجہ سے،بزرگوں کے اعمال کی وجہ سے،ان کی نیکیوں کی وجہ سے،ان کی شکرگزاری کے جذبات کی وجہ سے جو جماعت پرفضلوں کی بارشیں ہوتی رہیں وہ اسی طرح جاری رہیں گی۔تمہارے بزرگوں نے شکرکر لیا،تمہیں شکرگزاری کی ضرورت نہیں۔نہیں،بلکہ فرمایا کہ تم میری رضا تب حاصل کرسکوگے جبکہ خود شکرگزار بندے بنوگے اور شکرگزاری کرتے ہوئے، میرے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے رہوگے۔ اور یہی شکرگزاری کے جذبات ہیں جو تمہیں اس دنیا میں بھی اور اگلے جہا ن میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنائیں گے۔ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔ تمہارا شکرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا خداتعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرے گا بشرطیکہ یہ نیک نیتی سے ہو۔ اللہ کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے حال کوجانتاہے۔ہماری کنہ تک سے واقف ہے۔وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتاہے۔ اللہ کرے کہ یہ شکرگزاری کے جذبات اور پاک دل ہوکراس کے آگے شکرکرتے ہوئے جھکنے کے عمل ہر احمدی سے ظاہر ہو رہے ہوں اورہراحمدی میں نظر آ رہے ہوں اور ہمیشہ نظر آتے رہیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔ ہمارا تو جوکچھ ہے خداتعالیٰ کی ذات ہے اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔ اس بات کواحمدی خوب سمجھتے ہیں اور اسی لئے ہمارے سب کام دعا سے شروع ہوتے ہیں اور پھراللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے۔ جلسے کے بعد مختلف ملکوں کے احمدیوں نے جلسہ کی کامیابی کی فیکسز بھیجیں۔خطوط لکھے اور ہر ایک خط میں اور فیکس میں بلا استثناء یہ بات مشترک تھی کہ اس جلسہ کے کاموں اور پروگراموں میں گزشتہ سال کی نسبت بہتری نظر آتی تھی۔ اس طرح یہاں جلسہ پر جو لوگ شامل ہوئے ان میں سے اکثریت کا یہی اظہار تھا،یہی تاثرات تھے کہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب اوربرکتوں کوسمیٹنے والا تھا اورشامل ہونے والوں کوبرکتیں دینے والا تھا۔ اس کامیابی میں انسانی کوششوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتاہے۔بلکہ یہ کہناچاہئے کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتاہے۔ وہی کاموں میں برکت ڈالتاہے اوران میں بہتری نظر آتی ہے ورنہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ کام بڑا اچھا کردیا۔ حالانکہ اتنااچھا نہیں ہواہوتا۔اور بعض دفعہ یہ خیال آتاہے کہ کام میں فلاں فلاں کمی رہ گئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس طرح کمی پوری فرماتاہے کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کمی کو پورا فرمایا۔لیکن جیساکہ مَیں نے کہا،اس کے آگے جھکتے ہوئے اوردعائیں کرتے ہوئے جب ہم اپنے کام کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فضل فرماتا چلا جاتاہے۔ اس لئے ہمیشہ شکراداکرتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے ہوئے ہر احمدی کو اپنے کام کرنے چاہئیں اور یہی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے بنتے ہوئے اپنے کاموں کو سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ،اس کا فضل مانگتے ہیں، اس کی مدد مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے وعدے کے مطابق کہ اگر تم شکرگزار بندے بنو گے تو مَیں مزید برکت ڈالوں گا،برکتیں نازل فرماتا چلا جاتاہے۔ اپنے فضلوں اور برکتوں سے ہمیں نوازتا چلا جاتاہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ایک نئی جگہ تھی ا س کی وجہ سے فکر تھی کہ بعض کمیاں اور خامیاں رہ جائیں گی لیکن کارکنوں نے اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے بڑی محنت سے کام کیاہے اور یہ بھی شکرکے مضمون کا ہی حصہ ہے کہ جو ذرائع اور وسائل اللہ تعالیٰ نے مہیافرمائے ہیں ،جوجسمانی طاقتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ نے مہیافرمائی ہیں ان سے بھرپور کام لواورپھرمعاملہ خدا پر چھوڑ دو۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کہاجائے کہ اے اللہ گزشتہ سال تو کام بڑے اچھے ہوگئے تھے ہم تیرا شکرادا کرتے ہیں کہ تونے ہماری بڑی مدد فرمائی اس سال بھی ہمارے کام اچھے کردے لیکن جہاں تک ہمارا سوال ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اتنی محنت کرسکیں جتنی پہلے کرتے تھے۔ پہلے سے ہی اگر آپ نعمت سے انکاری ہوجائیں توپھر اللہ تعالیٰ کے شکرکے مضمون کونہ سمجھنے والی بات ہوگی۔شکریہی ہے کہ اپنی جو محنتیں ہیں ،جو جو استعدادیں ہیں ان کو اپنی نااہلیوں کے باوجود بھرپور طورپر بجا لایا جائے، ان کے مطابق عمل کیا جائے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑا جائے تو یہ شکرگزاری ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں جوتمام استعدادیں ہیں ،جسمانی طاقتیں ہیں، وسائل ہیں ،ان کو بھرپورطورپر استعمال کرنا بھی ضروری ہے اور ان کو بھرپورطورپر استعمال کرنے سے ہی شکرگزاری کا مضمون ہر ایک پر واضح ہوتاہے۔ اور یہی مضمون ہمیں اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ ہم تیرے شکرگزار ہیں کافی نہیں بلکہ شکرگزاری یہ ہے کہ پہلے جو اللہ تعالیٰ نے فضل کئے ہیں ان کا ذکرکرو اور آئندہ کے لئے اپنی استعدادوں کو بھرپورطور پر استعمال کرو۔جو ظاہری وسائل ہیں ان کو استعمال کرو کیونکہ یہ شکر نعمت ہے۔ اوراس شکر نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید فضل کے دروازے کھلتے ہیں اور ان میں ظاہری کاموں کے علاوہ یہ جو مَیں نے بتایاکہ استعدادیں ہیں۔ ظاہری طورپر اپنے ہاتھ سے کام کرنے ہیں، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگی گزارنابھی ہے۔ نیک اعمال بجا لانا بھی ہے،دعاؤں پر زور دینا بھی ہے۔ بندوں کے حقوق ادا کرنابھی ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون اور شکرکے جذبات کو بڑھانا بھی ہے۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا،ان کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ پس آج احمدی ہی ہیں جو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ نیک اعمال،اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور ایک دوسرے کے لئے شکرانے کے جذبات سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی سمیٹتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں ان نیکیوں پرچلنے والے لوگ بہت ہیں۔اور اسی لئے ہم ہرآن جماعت پراللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوتے دیکھتے ہیں اوراس پراللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہیں۔اوریہ شکرکے جذبات ہر موقع پراورخاص طورپر جلسوں پر پہلے سے بڑھ کرادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی صورت میں ہمیں نظر آتے ہیں۔پس یہ اصل مضمون ہے جو کبھی کسی احمدی کو بھولنانہیں چاہئے۔
شکرانے کے ان جذبات کی وجہ سے مَیں تمام کارکنان کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں۔کارکنوں کی اکثریت ایسی ہے جویہاں کے پلے بڑھے بچے اور نوجوان ہیں۔ سب نے بڑی محنت سے رات دن ایک کرکے اپنے فرائض کی ا دائیگی کی۔ اور ان ملکوں میں جہاں بچوں اور نوجوانوں کی ترجیحات بالکل اور طرح کی ہیں عجیب وغریب قسم کی مصروفیات ہیں۔ خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی مصروفیات ہیں ایک احمدی بچے اور نوجوان کی ترجیح اللہ تعالیٰ کی خاطر،اس کے حکموں پرچلتے ہوئے، کام کرنا اور نیک اعمال بجا لانا ہے۔ یہ لوگ دنیاوی کھیل کود کو پس پشت ڈال کراللہ تعالیٰ کی خاطر اس کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ نہ رات دیکھتے ہیں ،نہ دن۔بعض کارکنوں کو تو مَیں نے خود دیکھاہے کہ مختلف وقتوں میں جس طرح انہوں نے یہ تین دن،رات دن جاگ کر گزارے ہیں۔کوئی کھیل نہیں ہورہے،کوئی اور اس قسم کی دلچسپی کی باتیں نہیں ہو رہیں بلکہ بڑی توجہ سے،بڑی محنت سے،مہمانوں کی خدمت کررہے ہیں۔ خاموشی سے مہمانوں کی خدمت کے لئے کمربستہ ہیں۔ پھریہ تین دن ہی نہیں بلکہ جلسے کے کاموں میں سے بعض توچند مہینے پہلے شروع ہوتے ہیں لیکن ڈیوٹیاں ہفتہ دس دن پہلے سے شر وع ہوجاتی ہیں اورکم از کم ایک ہفتہ بعد تک یہ کام چلتے ہیں۔لیکن یہ تمام والنٹیئرز جن میں بچے بھی ہیں،نوجوان بھی ہیں، بڑی عمر کے بھی ہیں ،اپنی دلچسپیوں اور اپنے کاموں کو قربان کرتے ہوئے یہاں ڈیوٹیوں کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں۔وبہرحال ان سب کارکنان کا مَیں شکریہ ادا کردیتا ہوں۔اور سب سے بڑی جزا تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو جزادے۔ یہ کارکنان جو اتنی قربانی کرکے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے آتے ہیں ان سے بھی مَیں کہنا چاہتاہوں کہ آپ کو اس خدمت کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ آپ کو بھی اس خدمت کی وجہ سے شکرگزار ہونا چاہئے اور شکر کرنا چاہئے۔یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ان مہمانوں کی خدمت کی آ پ کو توفیق دی اور اپنے خاص فضل سے پردہ پوشی فرمائی کیونکہ بہت سے کاموں میں کمیاں ، خامیاں رہ جاتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی پردہ پوشی فرمائی اور تمام کام خیریت سے انجام کو پہنچے۔
اس پردہ پوشی کے ضمن میں یہ ذکر کردوں کہ ایک مہمان کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے تھے۔مَیں نے ان سے پوچھا کہ دوسری جگہ جلسہ ہونے کی وجہ سے بعض کمیاں رہ گئی ہوں گی،آپ کوتکلیف ہوئی ہوگی۔توان کا یہ کہنا تھاکہ اس سے اچھا انتظام ہوہی نہیں سکتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ اس طرح پردہ پوشی فرماتاہے۔ پس اس بات کو آ پ میں مزید بہتری اورشکرگزاری پیدا کرنے کا باعث بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے جن انعاموں سے آپ کو نوازا ہے اس کا مزید اظہار ہونا چاہئے۔ اعمال صالحہ بجا لانے کی طرف مزید توجہ پیدا ہونی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ اس شکرگزاری کے عمل کی وجہ سے مزید فضلوں کے راستے آپ کے لئے کھولے۔
اسی طرح جلسہ سننے والوں کو بھی مَیں یہ کہنا چاہتاہوں کہ آپ کو بھی شکرگزاری کے جذبات سے بھرا ہوا ہونا چاہئے۔ وہ جو یہاں آ کر جلسہ میں شامل ہوئے ان کواس بات پراللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنا چاہئے کہ اس نے توفیق دی کہ آپ لوگ براہ راست یہاں آ سکے اور جلسہ سن سکے۔ جو دنیا کے مختلف ملکوں میں بیٹھ کر جلسہ سن رہے تھے کئی جگہوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہمیں یوں لگ رہا تھاکہ ہم بھی وہیں موجود ہیں۔ تو بہرحال جو دُور بیٹھ کر جلسہ سنتے رہے ان کو بھی خداتعالیٰ کا شکرادا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی انتہائی عاجزانہ قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے MTA جیسی نعمت سے ہمیں نوازا ہے جس سے دنیا کا ہر احمدی دور بیٹھے ہوئے جلسوں میں شامل ہو جاتاہے۔ پس تمام جماعت کو جلسوں کو سننے کی وجہ سے جو جلسہ کے چند دنوں میں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ہیں یا بعض نیک اعمال بجا لانے کی طرف توجہ ہوئی ہے،اس کی توفیق ملی ہے،جیسا کہ لوگ زبانی اور خطوط میں بھی اظہار کرتے ہیں ،ا ب ہر ایک کا یہ کام ہے کہ شکرانے کے طور پر اور اس شکرگزاری کے اظہار کے طور پر ان پاک تبدیلیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں اور جب آپ اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہوئے ان تبدیلیوں میں دوام حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کو مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے تو پھر خداتعالیٰ کے فضلوں کے مزید دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔
پس جہاں مَیں تمام مہمانوں کا ان کے بھرپور تعاون کی وجہ سے شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں۔ بہت سی باتیں انہوں نے برداشت کیں اور انتظامیہ اور کارکنوں سے تعاون کیا اور انتظامیہ کو کسی Panic سے یا بعض موقعوں پر شرمندگی سے بچایا اور معمولی سہولتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وہاں شامل ہونے والے تمام مہمان خود بھی شکرگزاری کے جذبات سے اپنے اندر، اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ان تبدیلیوں کواپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔
پھر ہم حکومت کے اس محکمہ کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمیں جلسہ کرنے کے لئے بڑا وسیع میدان جو محفوظ بھی تھا مہیا کیا اور پھر بھرپور تعاون بھی کیا۔ شروع میں بعض سہولتوں کے انکار ہونے کی وجہ سے فکر تھی،مثلاً پانی کی سپلائی تھی، سیوریج وغیرہ کا نظام تھا، اس کے لئے گو متبادل انتظام کر لیا گیا تھا لیکن اس میں بھی بعض قباحتیں نظر آتی تھیں جو جلسہ کی انتظامیہ کے خیال میں تو اہم نہیں تھیں لیکن میرا خیال تھا کہ بعض باتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔بہر حال جن سہولتوں کو مہیا کرنے سے انتظامیہ نے پہلے انکار کیا تھا وہ ایک دن پہلے مہیا کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔
پھر آرمی کی جگہ ہونے کی وجہ سے مستقل سیکیورٹی کا بھی انتظام انہوں نے رکھا اورپولیس کے ساتھ مل کر اس میں بھی تعاون کیا۔ بہرحال جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں وہا ں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی ان لوگوں کا بھی شکرادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے کام میں آسانی پیدا کی۔اس میدان کی جو جگہ تھی جہاں جلسہ ہوا، اس لحاظ سے بھی فکر تھی کہ چھاؤنی کاعلاقہ ہے،آرمی کا علاقہ ہے اور 7؍جولائی کے واقعہ کے بعداس اہم علاقہ میں جلسہ کرنے سے ہمیں کہیں روک نہ دیں ،اجازت کینسل نہ کردیں۔کیونکہ عموماً معاہدوں میں یہ شق رکھی جاتی ہے کہ مالک کے پاس یہ حق محفوظ ہوتاہے کہ اگر وہ چاہے تو عین موقع پر اپنی ضرورت کے تحت وہ جگہ دینے سے انکار کردے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ان لوگوں کے دل نرم ہی رکھے۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ آئندہ انتظامات مکمل کر کے جو نئی جگہ ہے وہاں جلسہ منعقد کر سکیں اور اس جلسہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ایک بہت بڑا فضل جماعت پر فرمایا ہے کہ جیساکہ اعلان ہو چکاہے آئندہ جلسہ کے لئے ہمیں ایک بڑی باموقع اور بڑی جگہ بھی میسر فرما رہاہے۔ اللہ کرے کہ کاغذی کارروائی بھی مکمل ہو جائے اور جماعت جلد اس زمین کا قبضہ بھی لے لے اور کسی قسم کی روک بیچ میں نہ آئے۔ اس انعام پر بھی ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکرادا کریں کم ہے۔
اللہ تعالیٰ کے یہ فضل اور انعام ہیں جوہمیں مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانے والے ہونے چاہئیں۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی اعلان کیاتھاکہ تمام دنیا کے احمدی جو سہولت سے اس نئی زمین کو خریدنے میں حصہ ڈال سکتے ہیں ، ڈالیں۔ کیونکہ یہ جگہ عملاً تو صرف U.K. والوں کے لئے نہیں ہے بلکہ اس جلسے کی حیثیت چونکہ ایک عالمی جلسہ کی بن چکی ہے اس لحاظ سے پوری دنیا اس کو استعمال کررہی ہے۔ اگر صرف U.K.کا ہی جلسہ ہو اور باہر کے لوگ اس میں شامل نہ ہوں تو U.K.کا جلسہ تومیرے خیال میں اسلام آباد میں ہی کافی ہوسکتاہے۔ بہرحال اس تحریک پر احباب نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور حسب توفیق لے بھی رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب وعدہ کنندگان کو ادائیگیاں کرنے کی بھی جلد توفیق عطا فرمائے۔ اس لئے ان وعدہ کرنے والوں کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی جزا دے۔ مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰU.K. کی جماعت کے افراد بھی اور دوسرے ملکوں میں سے صاحب حیثیت جلد ہی وعدہ کو پورا کر کے رقم ادا کرنے والے ہوں گے تاکہ جلد قیمت ادا کی جاسکے۔ اور یہی چیزہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا اور شکرادا کرنے والا بنائے گی اور اس طرح آپ مزید اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر برستا دیکھیں گے۔
اس دفعہ جلسہ پر اللہ کے جو بہت سارے فضل ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی فضل ہوا،جس کے لئے ہم خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکرادا کریں کم ہے کہ جماعت کے تعارف کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود بخود پیدا فرمائے۔ بعض میڈیا اور اخباروں نے اس طرح خبروں کی اشاعت کی جس سے نہ صرف جماعت کا تعارف ہوا بلکہ اسلام کابھی نام روشن ہوا۔اور بعض جگہ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ ٹرین بم دھماکوں میں ملوث پاکستانی تھے،پاکستانیوں کا نام لیا جارہاہے۔تو اس جلسہ کی وجہ سے بعض جگہ پاکستان کے نام سے بھی دھبہ دھلتاہواہمیں نظر آتاہے۔یہاں بی بی سی نے اور میڈیانے،مختلف ٹیلیویژن سٹیشنوں نے،اخباروں نے عموماً بڑی اچھی کوریج دی، اور پہلے سے بہتر دی۔اسی طرح امریکہ کے ایک ٹی وی چینل نے لوائے احمدیت لہرانے کی تقریب دکھائی اور ساتھ یہ خبر نشر کی کہ U.K.میں مسلمان بہت بڑی امن کانفرنس منعقد کررہے ہیں۔ پھر آسٹریلیا کے سرکاری چینل ِSBF نے جلسہ سالانہ U.K.کی جھلکیاں نشر کیں۔ کہتے ہیں کہ عموماًاس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اور جو خبر نشر کی اس کا عنوان تھا ’دومسلم علماء کا اختلاف رائے‘ ایک احمدیہ مسلم کمیونٹی لندن میں اوردوسرا آسٹریلیا کا۔ اور آسٹریلیا والے کے بارہ میں بتایاکہ وہ شدت پسندی کے حق میں ہیں۔اس میں بھی لوائے احمدیت لہرانے کی تقریب دکھائی گئی۔ جماعت کا مختصر تعارف کروایا گیا۔ محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں
“Love for all hatred for none”
کے بارہ میں بتایا گیاکہ یہ جماعت کا ماٹو ہے۔ لندن کے جلسے کے مختلف مناظر دکھا کر بتایا گیا کہ تیس ہزار کے قریب لوگ جمع ہوکریہ کانفرنس منعقد کررہے ہیں۔
اسی طرح سپین کے دو ٹیلیویژن چینلز نے خبر دی۔ اور انہوں نے آج تک کبھی ہماری خبر نہیں دی۔ جلسہ کے جھلکیاں دکھائیں ،لوائے احمدیت لہراتاہوا دکھایا گیا۔ اب MTA ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں حکومتوں کے جو ٹیلی ویژن چینلز ہیں ان پر بھی لوائے احمدیت لہراتاہوا دکھایا جا رہاہے۔لوگوں کوملتے ہوئے دکھایا گیا۔ایک اور ٹیلی ویژن چینل نے جلسہ کے مناظر دکھاتے ہوئے لندن بم دھماکے کے حوالے سے یہ بتایا کہ دنیا کے سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہوتے اور پھر نہ ہی ہرپاکستانی جماعت دہشتگرد ہے۔یعنی پاکستان پر جو یہ الزام ہے اس کوبھی اس نے دھونے کی کوشش کی۔آگے لکھتے ہیں کہ یہ جماعت احمدیہ ہے جو لندن میں دنیا کے ممالک سے تیس ہزار کی تعداد میں جمع ہے اور جو انہوں نے Observation دی ہے اس کے نیچے بیان کرتے ہیں کہ دیکھیں کتنا پیارا ماحول ہے۔ تو دیکھیں آج کی دنیا کوبھی نظر آرہا ہے کہ اسلام کی صحیح علمبردار اگر کوئی جماعت ہے تو یہی جماعت ہے جو آنحضرت ﷺکے عاشق صادق کی جماعت ہے،جو اسلام کا صحیح نام دنیا میں پھیلانے والی جماعت ہے۔ پاکستان میں حکومت ہمیں غیر مسلم کہتی ہے اوردنیا ہمیں پاکستان کے سفیر کے نام سے پکار رہی ہے۔
ابھی جب میں جمعہ کے لئے آرہا تھاتو خبر آئی کہ پاکستان میں دشمنی کا یہ حال ہے کہ ربوہ میں ہمارے جو دو پریس ہیں نصرت آرٹ پریس اورضیاء الاسلام پریس، پولیس ان کوسیل کرنے کے لئے آئی ہوئی تھی اورشاید الفضل کوبھی بند کردیں۔ ایک طرف تو دنیا یہ سمجھتی ہے کہ جماعت احمدیہ اسلام کا صحیح نقشہ پیش کر رہی ہے۔ دوسری طرف یہ لوگ جواسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ،روکیں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ چاہے جتنی مرضی روکیں ڈال لیں ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپربارش کے قطروں کی طرح نازل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک دوپریس بند کرنے سے جماعت احمدیہ کی ترقیات کوتو نہیں روک سکتے۔ ہاں یہ خطرہ ضرور ہے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے نیچے نہ آجائیں۔
اصل میں ہم تو اللہ تعالیٰ پرایمان لانے والے ہیں،اس کے پیارے نبیﷺ پر مکمل اور کامل ایمان لانے والے ہیں،آپؐ پر اتری ہوئی شریعت پر عمل کرنے والے ہیں۔اور آنحضرت ﷺکے عاشق صادق کی جماعت میں شامل لوگ کسی ایک ملک کے سفیر نہیں ہیں،پاکستان کے سفیر ہونے یا کسی خاص ملک کا سفیر ہونے کا سوال نہیں ہے بلکہ ہم اسلام کے سفیرہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم کے سفیر ہیں جوآنحضرت ﷺپر نازل ہوئی اور اس تعلیم کے سفیر ہیں جو محبتیں بکھیرنے والی ہے نہ کہ نفرت پھیلانے والی۔اللہ تعالیٰ ہمیں شکر کے جذبات سے لبریز رکھتے ہوئے ہمیشہ اس تعلیم پر عمل کرنے اور اعمال صالحہ بجا لانے کی توفیق دیتاچلا جائے۔ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھتے رہیں۔اور پھر اس کے ان فضلوں کو دیکھتے ہوئے،اس کے آگے جھکتے ہوئے سجدات شکر بجا لانے والے ہوں۔
جس دن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکرہو رہاتھایعنی جلسہ کے دوسرے دن،اس دن اللہ تعالیٰ نے بارش بھیج کریہ بتایا تھاکہ جس طرح تم اس بارش کے قطرے نہیں گن سکتے اوریہ جو جھڑی لگی ہوئی ہے اس کے قطروں کو نہیں گن سکتے اسی طرح میرے پیارے مسیح کی جماعت پر میرے افضال کی جو بارش ہو رہی ہے اس کو بھی تم گن نہیں سکتے۔پس تمہارا کام ہے کہ ان فضلوں کی بارش کے ساتھ اپنے دلوں کو مزید شکرگزاری کے جذبات سے لبریز کرتے چلے جاؤ،اپنے آپ کومزید شکرگزار بندہ بناتے چلے جاؤ۔
عموماً تیزبارش میں MTA کا رابطہ بھی متأثر ہوتا ہے لیکن جب میری تقریر کے دوران تیز بارش ہوئی ہے تورابطہ تقریباً مسلسل قائم رہاہے اور شاید ایک آدھ منٹ کے علاوہ جو میری تقریر سے پہلے ہوچکا تھا اور کوئی ایسی خاص روک نہیں آئی۔اس بارش کی وجہ سے جو لندن میں بھی ہو رہی تھی انتظامیہ کو بڑی فکر ہورہی تھی کیونکہ بعض دفعہ Link نہیں رہتا۔ بلکہ جس کمپنی کے ذریعہ سے جلسہ گاہ سے آگے سگنل بھجوانے کا کام تھا اس کے جو نمائندے وہاں موجود تھے،انگریز تھے،اس نے کہاکہ ایسی بارش میں عموماً رابطے متأثر ہوتے ہیں، اس طرح Linkنہیں رہتا لیکن لگتاہے تمہاراخدا سے کوئی خاص تعلق ہے جو اس کام کو سنبھالے ہوئے ہے۔تویقینا اس نے سچ کہا ہے۔ ہمارے کام تو ہمارا خدا ہی کرتاہے اورپھر ہماری عاجزانہ کوششوں سے بے انتہا پھل ہمیں عطا فرماتاہے۔
پھر پولیس اور آرمی کے افسران جیسا کہ مَیں نے ذکرکیا ہے انہوں نے بہت تعاون کیا ہے۔وہ بھی بڑے خوش ہیں اورحیران ہیں کہ وہ ان حالات کی وجہ سے جوآج کل تھے۔ ان کا جس طرح خیال تھا،پریشانی بھی تھی ان کو کہ پتہ نہیں کس قسم کی مشکل ڈیوٹی ہوگی جو ہمیں دینی پڑے گی۔ وہ لوگ بھی بڑے حیران تھے کہ یہ تو سارے کام خود ہی کررہے ہیں اور اتنے پرامن ہیں اور محبت بکھیرنے والے ہیں،ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔بلکہ بعض نے تو یہ اظہارکیاکہ آئندہ سال کے لئے ہماری ابھی سے اپنے ساتھ ڈیوٹی لگوالو۔ کہتے ہیں کہ ایسی آسانی ڈیوٹی تو ہم نے زندگی بھر کبھی نہیں کی۔
پس یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جوہمیں نظر آرہے ہیں۔اس شکرکے مضمون کو سمجھتے ہوئے ہر احمدی کوچاہئے کہ شکرگزار بندہ بنا رہے اوراعمال صالحہ بجا لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں میں شامل رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اورہم اس شکرگزاری کے نتیجہ میں پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں۔اللہ کرے۔ آمین۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/8jyuV]

اپنا تبصرہ بھیجیں