خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر احبابِ جماعت کا والہانہ اظہار تجدیدِ عہد

مجلس مشاورت ربوہ 2008ء کے آخری روز مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے صدسالہ جوبلی کے موقع پر تجدید وفا کا اظہار کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تحریک کی تائید میں اراکین مشاورت نے پُرجوش اور پُراخلاص خیالات کا اظہار کیا جو ما ہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جون 2008ء کی زینت ہیں۔ بعدازاں محترم مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے تجدیدِ عہدِ وفا کی ایک قراردار پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
مکرم نذیر احمد صاحب خادم۔ بہاولنگر
ایک گاؤں میں ایک چوہدری صاحب پر لوگوں نے پتھر پھینکے اور انہوں نے ایک عمارت میں جا کر پناہ لی اور بعد میں حضرت خلیفہ ثالث ؒ کے پاس حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضور! بہت بے عزتی ہوئی۔ فرمایا: کیا ہوا۔ عرض کیا: لوگوں نے مجھ پر پتھر پھینکے اور اوباشوں نے مٹی اور خاک ڈالی، بہت بے عزتی ہوئی۔ حضور نے فرمایا: چوہدری صاحب یاد رکھیں کہ جب تک ساری دنیا کے دلوں میں ہم اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت پیدا نہ کرلیں او ر آپؐ کی عزت کو قائم نہ کرلیں اس وقت تک ہم اپنی عزت کا دعویٰ نہیں کرسکتے!۔
مکرم شیخ کریم الدین صاحب ۔ بہاولنگر
خلافت خامسہ کانظارہ ہم نے ایم ٹی اے پر دیکھا۔ رات کو جب یہ اعلان ہواکہ حضور کا انتخاب ہوگیا ہے اور حضور نے فرمایا ہے: بیٹھ جائیں۔ تو لوگ سڑک پر بیٹھ گئے۔ یہ نظارے ہیں خلافت کے۔
پس خلافت کی برکت کو سمجھنا چاہیے خلافت کی قدر کرنی چاہیے۔ میری 1945ء کی پیدائش ہے اور 63 سال میری عمر ہے، میں نے 1968 ء میں وکالت شروع کی۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ میری وکالت کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ میں یہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ میں نے آج تک وکالت میں اتنا کام کیا ہے خدا کے فضل سے کہ شائد پاکستان میں کسی اوروکیل نے اتنا کام کیاہی نہ ہو۔ اور آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کامیابی کا راز کیا ہے۔ 1980ء میں میرا نام سیشن جج بہاولنگر نے بطور ایڈیشنل سیشن جج تقرری کیلئے بھجوایا۔ اس وقت امتحان وغیرہ نہیں ہوتا تھا، دو نام جاتے تھے ضلع سے، ایک منتخب ہوتا تھا اور ایک Refuse ہوجاتا تھا۔ ہمارے ضلع کے وزیر قانون نے کہا کہ دو نام گئے ہیں ایک آپ کا نام گیا ہے، میں چیف جسٹس سے بات کر آیا ہوں جس دن آپ کا انٹرویو ہو، مجھے بتانا۔ میں نے کہا: میں نے تو انٹر ویو کے لئے جانا ہی نہیں۔ مَیں ان دنوں قائد ضلع تھا میں نے خلیفہ ثالث ؒ کی خدمت میں خط لکھا کہ حضور میں قائد ضلع ہوں میرے پاس اتنے مقدمات ہیں۔ میں جماعت کی یہ خدمت کررہا ہوں مجھے یہ آفر ہوئی ہے۔ حضور مشورہ دیں کیا مجھے نوکری کرنی چاہیے کہ نہیں؟۔ حضور کا خط موصول ہوا کہ اگر وکالت اچھی ہے تو نوکری نہیں کرنی۔ تو میں انٹرویو پر ہی نہیں گیا۔ وزیر قانون سے میں نے کہا کہ میں نے اپنے بزرگوں سے مشورہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ نوکری نہیں کرنی۔ تو یہ ہے برکت!۔
میرا سب سے چھوٹا بیٹا آٹھ سال کا ہوگیا۔ چار بیٹے تھے بیٹی کوئی نہیں تھی کہ خلیفہ رابعؒ نے وقفِ نو کی تحریک فرمائی۔ ہم نے حضورؒ کی خدمت میں لکھا کہ بیٹی کی خواہش ہے، وقف کردیں گے حضور دعا کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ سال کے وقفہ کے بعد بیٹی دی اور اس کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ہم نے اس کو وقف کردیا۔جب وہ بیٹی پیدا ہوئی تو ہم نے ہسپتال کے عملے کو سو روپیہ دیا (اس وقت سو روپیہ کافی ہوتا تھا) تو انہوں نے کہا شیخ صاحب کو غلطی لگ گئی ہے لڑکی ہوئی ہے اور یہ پیسے دے رہے ہیں۔ لیکن لیڈی ڈاکٹر جانتی تھی، اُس نے کہا کہ اِن کو چاہیے ہی لڑکی تھی۔
مکرم پیر افتخار الدین صاحب۔ راولپنڈی
جب خلافت رابعہ کا انتخاب ہو رہا تھا تو میں نے یہ سن رکھا تھا کہ جب نیا خلیفہ خدا بناتا ہے تو اس وقت ایک عجیب انتشارِ روحانیت دنیا میں برپا کرتا ہے۔ اس وقت خاکسار اپنی جماعت کا ادنیٰ سا خادم بھی نہیں تھا۔ لیکن صرف یہ بات پوٹلی میں باندھ کر خلافت کے انتخاب کے وقت حاضر ہوگیا اور خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہا کہ میں نے تو کبھی کوئی اس طرح کی ایمان افروز بات اپنی زندگی میں دیکھی نہیں ہوئی۔ آج پہلی دفعہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہاں آرہا ہوں اور انتشار روحانیت کا کوئی واقعہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
خاکسار گھر سے ایک تحریر بخدمت حضرت خلیفۃالمسیح الرابع لے آیا تھا کہ خاکسار اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بیعت حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔ جب لوگوں کو بیعت کے لئے مسجد مبارک کے ہال میں آنے کی اجازت ملی تو اتنے ہنگامے میں، اتنی دنیا کے اندر یہ بظاہر ناممکن تھا کہ وہ تحریر میں حضور کو پیش کرسکوں گا۔ لیکن اس انتشار روحانیت کا نظارہ کروانے کے لئے اور خدا نے اس نا چیز کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے یہ سامان کیا کہ کچھ نوجوانوں نے خاکسار کو دھکیلنا شروع کردیا اور کہا کہ آپ ذرا اُدھر چلے جائیں اور وہ اُدھر جانا ایسا ہوا کہ بالکل حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ، جو حضورؒ کے آگے تشریف فرما تھے، اُن کے گھٹنوں کے درمیان بیٹھنے کا موقعہ مل گیا اور جب خلافت کا اعلان ہوا تو وہ تحریری بیعت میں نے حضورؒ کی خدمت میں پیش کردی۔
پھر ایم ٹی اے کے ذریعے دنیا نے یہ واقعہ بھی دیکھا کہ ایک انسان جو کمرہ میں بیٹھا ہوا ہے، جس کو لوگ دیکھ نہیں رہے اور جس سے ابھی پوری طرح روشناس بھی نہیں ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے یہ پیغام دیا ہے کہ احباب بیٹھ جائیں تو وہ لوگ بھی تھے جو سہارے کے سوا بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن ایک سر بھی نہیں دیکھا گیا جو کھڑا رہ گیا ہو۔ یہ نظارہ جن غیراحمدیوں نے دیکھا، انہوں نے بھی ہمیں مبارکباد دی کہ آپ لوگ ہی دنیا کی قیادت کے قابل ہیں۔
مکرم چوہدری حمید نصراللہ صاحب۔ لاہور
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کی وفات کے موقع پر چوہدری ظفراللہ خان صاحبؓ لندن میں تھے۔ خواجہ کمال الدین صاحب بھی وہاں ہوا کرتے تھے تو خواجہ صاحب نے چوہدری صاحبؓ سے کہا کہ ظفر اللہ خان! حضرت صاحب تو فوت ہوگئے، اب میں سوچتا ہوں کہ کون خلیفہ بنے گا۔ پھر ایک شخص کا نام لیا اور کہنے لگے کہ بہت غصے والا ہے جماعت دوڑ جائے گی، دوسرے کا نام لیا تو کہا کہ اس میں بہت نرمی ہے وہ سنبھال نہیں سکے گا۔ پھر کہا کہ میاں محمود ہے ’’پر اودھی عمر بڑی چھوٹی اے‘‘۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ جو آخری نام آپ نے لیا ہے اس میں جو نقص ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔ اور عمر تو بڑھ ہی جائے گی۔
اگر ہم تھوڑا سا بھی غور کریں تو ان خلفاء کا اپنے اپنے وقت پر آنا اپنے اندر وہ خوبی اور وہ ضرورت رکھتا ہے جو اس زمانے کے لئے ضروری تھی۔
حضرت خلیفہ ثالثؒ کے انتخاب کے موقع پر میری پہلی ملاقات حضورؒ کے ساتھ اُس وقت ہوئی جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب آئے۔ تو میں لے کر حاضر ہوا تو وہاں پر حضورؒ نے جو بات بیان کی یہ میں تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہر احمدی کو واضح ہوجائے خلیفہ کی پوزیشن کیا ہوتی ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا میں جب خلیفہ بننے کے بعد اندر آیا تو میں نے دو نوافل پڑھے۔ نوافل پڑھنے کے لئے میں نے جائے نماز کو بچھایا تو میں نے دیکھا کہ میرا جائے نماز ذرا سا کعبہ کی طرف نہیں ہے تو میں نے اس کو بالکل کعبے کی طرف کردیا۔ اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اگر تُوکہیں اِدھر اُدھر غلطی کھا بھی گیا تو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس پر مجھے بڑی تسلی ہوئی۔
پس یہ مقام ہے خلافت کا جو خدا نے عطا کی ہے وہی اِس کی حفاظت کرے گااور وہی اس کو راستہ دکھلائے گا۔ 1974ء کا واقعہ ہوا تو اُس وقت میں کوئی عہدیدار نہیں تھا۔ اُس وقت امیر صاحب لاہور نے مجھے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تو میں اس کی ہدایت لینے کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں پیش ہوا۔ حضرت صاحب نے فرمایا: اگر لاہور کی بڑی جماعت ہدایت لینے کے لئے آئے گی تو چھوٹی چھوٹی جماعتیں کیا کریں گی؟ جائو اور جا کر کام کرو، جو دل میں آتا ہے وہ کرو، میں دعا کروں گا۔ ان الفاظ نے مجھے اتنی تقویت بخشی کہ اُس دن سے لے کر آج تک کبھی میرے دل میں خوف پیدا نہیں ہوا، ساری زندگی، کسی بات سے نہ کسی افسر سے۔
پھر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ساتھ وقت گزرا۔ میں حضورؒ کو پہلے بھائی طاری کہا کرتا تھا۔ بچپن سے ہی قادیان میں بھی ہم اکٹھے ہوتے تھے۔ مجھ سے تھوڑے ہی بڑے تھے۔ ایک دفعہ بات کرتے کرتے میں نے کہا بھائی… پھر فوراََ کہا: حضور!
تو میں نے کوئی ایسی جذباتی بات نہیں کی تھی لیکن میں نے دیکھا کہ حضورؒ کے آنسو بہنے شروع ہوگئے اور آواز بھرّا گئی۔ تو مجھے خیال آیا کہ یہ خلیفہ جب بن جاتا ہے تو آدمی جیسے فوت ہوتا جاتا ہے، اپنے لئے ختم ہوتا جاتا ہے صرف خدا کے لئے رہتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے دل میں یک دم ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں خلیفہ وقت کیلئے محبت پیدا کرتا ہے ویسے ہی جس کو خلیفہ مقرر کرتا ہے اس کے دل میں اسی لمحے ساری جماعت کے لئے محبت پیدا کرتا ہے اور اس کا اظہار ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے۔
1974ء میں حضرت خلیفہ ثالثؒ کے جماعت کے ساتھ سلوک کو دیکھ کر ایک آدمی نے کہا تھا کہ جیسے مرغی بچوں کو لے کر بیٹھ جاتی ہے ویسے خلیفہ ثالث ساری جماعت کو لے کے بیٹھ گئے۔ حضرت خلیفہ رابعؒ نے جب لندن تشریف لے جانی تھی تو ایک اجلاس میں لوگوں کو جمع کیا۔ ان سے مشورہ کیا تو سب نے کہا کہ حضور کو باہر چلے جانا چاہیے تو حضور نے فرمایا اگر آپ مجھے مشورہ دیتے کہ نہ جائو تو پھر بھی چلا جاتااور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے کوئی خوف ہے، میں بہت دعا کرتا رہا اور سوچتا رہا اور میں نے دل میں سوچا کہ جماعت کی خاطر میں یہ جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوں، یہ کونسی ایسی بات ہے۔ لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میں تو جان قربان کردوں گا لیکن خلافت کا کیا بنے گا!۔
حالات اس وقت ایسے ہی تھے۔ اگر خدانخواستہ کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا تو پھر کوئی خلیفہ چننا بڑا مشکل ہوجانا تھا۔ حضور نے وہ فیصلہ کیا اور یہاں سے جب ہم روانہ ہوئے ہیں۔ تو فجر سے پہلے کا وقت تھا۔ آگے جاکر ہم نے فجر کی نماز ادا کی۔ گاڑی مَیں چلا رہا تھا حضورؒ میرے بائیں طرف تشریف رکھتے تھے۔ گاڑی چلتی رہی اور حضورؒ نے فجر کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد نماز کے بعد پھر حضورؒ نے اونچی اونچی آواز میں دعائیں پڑھنی شروع کیں اور رقت طاری ہوگئی اور یہ سلسلہ کوئی آدھا گھنٹہ جاری رہا۔ میرے دل میں بڑا خوف آیا۔ میں نے سوچا اگر یہی حالت رہی تو حضور تو پہنچ جائیں گے کراچی، میں رستے میں ہی رہ جاؤں گا۔ تو میں نے کسی طرح بہانے سے اس بات کو پلٹا، اور حضورؒ کی جو میزبانی اور مہمان نوازی کا پہلو تھا، اس کو میں نے چھیڑا تو میں نے بیگم صاحبہ سے کہا کوئی کافی وغیرہ بھی ساتھ لائی ہیں یا ویسے ہی آگئی ہیں۔ تو حضرت صاحب فوراً چونکے تو کہنے لگے: ہاں ہاں دیکھو حد ہوگئی، کافی دو۔ تو وہ بات جو ہے وہ ٹل گئی۔ لیکن اُس کو جماعت کا بھی غم تھا اور اس طرح جماعت کو چھوڑ کر جانے کا بھی غم تھا۔ اور وہاں میں رہا کوئی تین مہینے یہاں سے ہجرت کرنے کے بعد۔ کوئی ایک نماز ایسی نہیں تھی کہ جس میں حضورؒ کی رقّت کی وجہ سے ساری جماعت چیخیں نہیں مارتی تھی۔ جب حضورؒ نماز پڑھاتے تھے اتنا غم دل میں تھا۔ لیکن سلسلے کے کام کو پھر بھی جاری رکھا اور بڑھایا۔ جو نتائج نکلے ہیں وہ ساری جماعت کے سامنے ہیں۔
جب خدا تعالیٰ کے نزدیک اگلے خلیفہ کا وقت آگیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس کا الیکشن ہوا اور اس الیکشن میں یہ جو نظارہ دیکھا کہ جیسے ہی حضورؒ نے اندر فرمایا دوست بیٹھ جائیں تو باہر ساری جماعت بیٹھ گئی۔ مغربی دنیا میں تو لوگ مانتے ہی نہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہو گیا ہے کہ ایسی محبت نہیں ہوسکتی۔ انسان کو انسان سے یہ محبت اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے دل میں خلیفہ وقت کی محبت پیدا کرتا ہے اور اس کو قائم رکھتا ہے۔ اگر کسی کے دل میں خلیفہ وقت کے لئے محبت نہ ہو تو وہ فکر کرے۔
آج ایک سو سال خلافت کا گزر گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی نجات اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وابستہ کی ہے اور وہ خلیفہ وقت ہی ہے جس کے ساتھ مل کر ساری جماعت چلے گی تو دنیا میں امن قائم ہوگا۔ ایک جسٹس صاحب اور محترم کرنل عطاء اللہ صاحب مرحوم حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے ملنے کے لئے لاہور تشریف لائے۔ خاکسار بھی وہاں تھا۔ آپس میں بے تکلفی تھی اس لئے گفتگو ہوتی رہی تو حضرت صاحب نے دنیا کے امن کے متعلق بات کی جو فرقوں کے درمیان اور صوبوں کے لڑائی مار کٹائی ہو رہی تھی اُس حوالہ سے حضرت صاحب نے فرمایا کہ نفرت جو ہے اس کا ایک چکر ہوتا ہے۔ جتنی کرتے چلے جائو اتنی بڑھتی چلی جائے گی۔ ایک ایسا ہاتھ ہونا چاہیے جو ظلم کی چکّی کو یوں لگے کہ زخمی ہو اور تھوڑا سا پیچھے ہو، پھر لگے اور زخمی ہو اور پھر پیچھے ہٹے۔ پھر جیسے ہی چکّی کی رفتار کم ہوجائے تو وہ اس کو پکڑ لے اور ظلم کی چکی کو روک دے۔ انہوں نے دریافت کیاکہ مرزا صاحب وہ ہاتھ کہاں ہے؟ تو حضرت صاحب نے اپنا ہاتھ یوں آگے بڑھایا اور فرمایا: وہ ہاتھ جماعت احمدیہ کا ہے جس پر آپ جتنا بھی ظلم کریں گے جتنا بھی اس کو کاٹیں گے جتنا بھی زخمی کریں گے وہ آگے آپ سے مقابلہ نہیں کرے گا وہ ہمیشہ آپ کوظلم سے روکنے کے لئے کوشش کرتا رہے گا۔
مکرم شیخ مظفر احمد صاحب ، فیصل آباد
ایک وہ شخص تھا جس نے اپنی تیل کی دولت پر خلافت احمدیہ کی طرف میلی آنکھ اٹھانے کی جرأت کی تھی اور مجھے یاد ہے کہ اُس وقت کے خلیفہ نے کہا تھا کہ انسان کے دل سے نکلے ہوئے چشمہ کا تیل کا چشمہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔
مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب
یہ ہماری سعادت ہے کہ ہم نے وہ زمانہ پایا ہے جب جماعت احمدیہ اپنی پہلی صدی مکمل کررہی ہے اور دوسری صدی شروع ہونے والی ہے۔ جماعت نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس کی وجہ خلیفہ وقت کے ساتھ اخلاص اور محبت کا تعلق اور وفاداری اور اطاعت ہے۔
جب 1956ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے انتخاب خلافت کے لئے مجلس قائم فرمائی تو یہ اعلان فرمایا کہ اس طریق سے منتخب ہونے والے تیسرے، چوتھے، پانچویں اور آئندہ سب خلفاء کو میں بشارت دیتا ہوں کہ اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی خلافت احمدیہ سے ٹکرلے گی تو وہ طاقت تباہ ہوجائے گی اور خلیفہ وقت کامیاب ہوگا اور فائزالمرام ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کے جو افضال جماعت پر نازل ہوئے وہ خلافت کی مکمل اطاعت کی وجہ سے ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ خلیفہ استاد ہے، جماعت شاگرد ہے، جو بات خلیفہ وقت کے منہ سے نکلے اس کو عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا۔ تو ہمیں ہمیشہ اپنے کان خلیفۂ وقت کی آواز پر مرتکز کرنے چاہئیں۔
بیعت کی دسویں شرط میں حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار اطاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا۔ اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عہد پر اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مکرم حافظ مظفر احمد صاحب
محبت خلافت کے ساتھ ایک طبعی امر ہے جو اللہ تعالیٰ ایک مومن کے دل میں اچانک پیدا کرتا ہے اور ہم نے ہر دفعہ ایک شعلہ کی طرح اس محبت کو اپنے دلوں میں پیدا ہوتے دیکھا ہے لیکن حضور کے مطابق محبت کا اظہار تبھی ممکن ہے جب ہم خلافت کی غیرمعمولی اطاعت کرنے والے ہوں۔ حضرت خلیفہ ثالثؒ فرماتے تھے کہ جماعت اور خلیفہ ایک وجود کانام ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں تمہارے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتا ہوں۔ گھوڑے سے گر گئے، کمر میں تکلیف تھی، فرماتے تھے میں سجدہ نہیں کرسکتا مگر میں تکلیف کے ساتھ سجدہ کر کے اسی میں تمہارے لئے دعائیں کرتا ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے تھے تمہارے لئے درد رکھنے والا، تمہارے لئے محبت کرنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا،تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف ماننے والا، تمہارے لئے خداکے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔ اُن کے لئے نہیں ہے جنہوں نے خلافت کو نہیں مانا۔ حضرت خلیفہ ثالثؒ فرماتے تھے: میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔ میں نے آپ کی تسکین قلب کے لئے، آپ کا بار ہلکا کرنے کے لئے، آپ کی پریشانیوں کو دُور کرنے کے لئے اپنے ربّ رحیم سے قبولیت دعا کا نشان مانگا اور وہ نشان آپؒ کو عطا کیا گیا اور یہی نشان ہر خلیفہ کو عطا کیا گیا ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو بھی یہی قبولیت دعا کا نشان عطا کیا گیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے میری دعائیں تمہاری دولت
تمہارے درد و الم سے تر ہیں میرے سجود و قیام کہنا

آنحضرت ﷺ کے بعد جو خلافت حضرت ابوبکرؓ کی قائم ہوئی تھی ایک صحابی نے کہا تھا کہ اگر ابوبکر نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جب بعض ریشہ دوانیاں ہوئیں تو ایک صحابی نے کہا: ولَوزالت نزال الخیر عنہ۔ اگر یہ خلافت ہٹ گئی تو دیکھنا کہ ہر خیر و برکت سے محروم ہو جائو گے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ آج ہم خوشی کے ترانے گانے کے اہل ہیں کہ اگر خدا کا یہ انعام ہم پر نہ ہوتا تو ہم کس طرح عبادتیں کرتے کس طرح ہدایت پاتے کس طرح مالی قربانیاں کرتے!یہ خدا کا خاص فضل اور احسان ہے۔
مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا وصال ہوا۔ ابھی انتخاب ہونا تھا تو لاہور سے آیا ہوا ایک صحافی مختلف لوگوں سے پوچھ رہا تھا کہ خلافت کے انتخاب میں کون کون Candidate ہے ؟ ہر ایک نے یہی کہا کہ Candidate کوئی نہیں ہوتا جس کو خدا کھڑا کردے۔ کہتا ہے مجھے یقین ہو گیا یہ جماعت بڑی چالاک جماعت ہے، بات کو اس طرح چھپایا ہوا ہے کہ وضاحت نہیں کرتے۔ آخر ایک معمر بزرگ دیہاتی کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور اُن سے بھی دو چار باتوں کے بعد یہی پوچھا کہ بابا جی کنے خلیفہ بننا اے؟۔ وہ دیہاتی بابا غصے میں آکر کہنے لگا کہ ہم کون ہوتے ہیں خلیفہ بنانے والے۔ اُس نے آسمان پر بنادیا ہے۔ہم نے صرف اُس کی تائید میں ہاتھ کھڑے کرنے ہیں۔
واقعۃً یہ بات بالکل جدا ہے دنیا سے۔ اللہ جانتا ہے جس کو بنانا ہے اور جس کو بناتا ہے اُس کو پہلے ہی اپنے انتخاب میں رکھا ہوتا ہے۔ حضور جب ناظر اعلیٰ تھے تو ایک دن میرے کچھ عزیز آئے کہ کھاریاں جانا ہے۔ آپ بھی چلیں، شام کو آجائیں گے۔ مَیں ناظر صاحب اعلیٰ کے پاس گیا اور اجازت مانگی۔ کہنے لگے چلے جائو۔ میں نے کہا: اجازت نہیں مشورہ دیں۔ فرمانے لگے: پھر نہ جائو۔ اِس پر مَیں نے عزیزوں سے کہا کہ آپ لوگ جائیں میں نہیں جا رہا۔ وہ کہنے لگے کہ ہم اجازت لے لیتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں۔ شام کو اطلاع آئی کہ کار کے ڈرائیورکو ہارٹ اٹیک ہوا۔ کار نے آٹھ قلابازیاں کھائیں اور سب کے کسی کا بازو ٹوٹا کسی کا کچھ اَور۔ اور ڈرائیور کی وفات ہوگئی۔
تو اُس کو خدا نے چنا ہوا تھا پہلے ہی۔ ایک شخص نے مجھ سے خلیفہ رابع کے وقت میں پوچھا کہ آئندہ خلیفہ کون ہوگا؟۔ میں نے کہا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ کہنے لگا ہاں۔ میں نے کہا کبھی والدہ سے پوچھنا کہ جب باپ فوت ہوجائے گا تو نکاح کس سے کریں گی۔ اس پر فوراً اُس نے معذرت کی۔
ہم سب کا فرض ہے کہ آج ہم دل سے عہد کریں کہ ہم ایک خدا کے پجاری رہیں گے۔ غیر اللہ کو کسی Level پر کوئی وقعت نہیں دیں گے۔ مثلاً اللہ کا وقت غیراللہ کو نہیں دینا۔ یہ ایک ٹیسٹ ہے انسان کا چوبیس گھنٹوں میں خدا تعالیٰ نے صرف ایک گھنٹہ مانگا ہے اپنے بندے سے۔ اور وہ بھی اکٹھا نہیں بلکہ پانچ وقتوں میںاُس کو تقسیم کردیا۔ اور جو شخص تیئس گھنٹے پر مطمئن نہیں،چوبیسواں گھنٹہ بھی وہ دنیا پر خرچ کرتا ہے، اُس نے خدا کی توحید کا کیا پھل پایا۔
مکرم میر محمود احمد صاحب
چار خلفاء سے براہِ راست فیض پانے کا موقع ملا ہے۔ ان کی محبت و شفقت، نصیحت، راہنمائی … خطبات اور درس اور تقاریر سننے کا موقع ملا۔ ان کو پیار کرنے ان سے گلے لگنے ان کا بوسہ لینے کی توفیق ملی اور ان کی دعائوں کا مورد بنتا رہا۔
چار خلفاء سے براہِ راست اور خلیفۃالمسیح الاوّلؓ سے براہِ راست تو نہیں لیکن میرے باپ اور میری ماں بڑی محبت سے آپس میں اُن کے متعلق بات کیا کرتے تھے۔ پھر مرقات الیقین پڑھی اور ان کے حالات زندگی پڑھے۔ اُن کی عظمت کا احساس ہوا۔ میں شاید تیرہ چودہ سال کا نہایت بیوقوف لڑکا تھاجب میرے والد کی وفات ہوئی۔ حضرت مصلح موعودؓ ہمارے گھر میں ہی سارا دن رہے۔ نماز مغرب پڑھائی اور والد صاحب کے متعلق ایک تقریر کی اور تقریر کے معاً بعد میں کھڑا ہونا شروع ہوا تو پتہ نہیں تھا کہ کیوں کھڑا ہو رہا ہوں۔ اور کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور! میں اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کی شفقتیں اور محبتیں اور رحمتیں۔ آج تک ایک لقمہ نہیں کھایا جو اُن کا دیا ہوا نہ ہو۔ آج تک ایک شلوار اور کرتہ نہیں پہنا جو اُن کا عطیہ نہ ہو۔
پھر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ۔ میں ایسا شدید بیمار ہوا اور گلے میں ایک ایسی جگہ cut تھا کہ سپیشلسٹ کو جب مَیں نے بتایا تو کہنے لگا: Then how are you talking and how are you alive. تو خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی دعائیں ہیں جنہوں نے مجھے بچایا ہوا ہے۔ خلیفۃالمسیح الرابعؒ میاں طاری ہوتے تھے۔ سفر بھی اُن کے ساتھ کئے، سیریں بھی کیں، بحث و مباحثہ بھی ہوتا تھا۔ چھیڑ چھاڑ اُن سے رہتی تھی۔ لیکن جس لمحہ خلیفہ بنتے ہیں اور خلیفہ بن کر اندر گئے ہیں۔ پہلی پیالی چائے کی انہوں نے ختم نہیں کی تھی کہ میں نے ان کے ہاتھ سے چھینی ہے اور وہ تبرک پیا جس کا ایک گھنٹہ پہلے میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
اور خلیفۃالمسیح الخامس۔ وہ واقعہ تو آپ سن چکے ہیں مسجد کے باہر بیٹھنے والا۔ اگر نیچے پانی بھی تھا تو بھی وہیں لوگ بیٹھ گئے۔ حضور نے خلیفہ منتخب ہونے کے معاً بعد کاغذ کے گلاس میں پانی پیا جو اُسی وقت اُن سے میں نے لیا اور پی لیا۔ گویا دو خلفاء کا تبرک پینے کا موقع خلافت کے معاً بعد ملا۔
ہم دو سال پہلے امریکہ میں تھے۔ خبر آئی کہ انتہائی خطرناک قسم کا طوفان آج رات دس بجے Hit کرے گا۔ صبح سے بوندا باندی شروع ہوگئی۔ ہوائیں تیز چلنی شروع ہوگئیں۔ دس بجنے میں دس منٹ تھے اور پورا زور شروع ہوچکا تھا۔ میں نے انگلستان میں اپنے بچوں کو ٹیلی فون کرکے کہا کہ ذرا حضرت صاحب کو فون کردو کہ یہاں اس طرح طوفان آنے والا ہے دعا کریں۔ وہ کہنے لگی کہ ابا میں کس طرح کروں، رات کا وقت ہے۔ میں نے کہا: اگر تمہیں جھاڑ پڑی تو مجھے پڑے گی، ناراضگی ہوئی تو مجھ سے ہوگی، تم فون کردو۔ کہنے لگی: نہیں ابا میں نہیں کرسکتی۔ میں نے کہا: دیکھو! میں نے تمہیں کہہ دیا ہے کہ تم میری طرف سے حضرت صاحب کو یہ فون کردو۔ پھر میں نے بڑے اطمینان کے ساتھ فون رکھا اور دیکھا تو نہ ہوائیں تھیں نہ بوندا باندی۔ ہم سے چار میل کے فاصلہ پر مسجد بیت الرحمن کی سات دن تک بجلی بند رہی۔ لیکن ہمارے گھر کی بجلی یوں ذرا ڈِم ہوئی اور پھر اسی طرح ہو گئی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی وفات ہوئی تو اُس دن لاس اینجلس کی مسجد کو آگ لگ گئی اور جماعت کو ادھر حضور کی وفات کی اطلاع آ گئی۔ جماعت نے فوری طور پر ایک عمارت میں، Mormens کی عمارت تھی، جماعت کا کام منتقل کردیا۔ وہیں نماز ہوتی تھی، وہیں ٹیلی ویژن رکھ دیا۔ جب انتخاب کے بعد تسکین کی وہ کیفیت پیدا ہوئی تو Mormen پادری جس نے سارا نظارہ دیکھا تھا، کہنے لگا کہ عجیب نظارہ ہے دنیا میں جب کوئی شخص Election جیتتا ہے تو نعرے لگاتا ہے، خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ مَیں نے تو یہ پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ الیکشن ہوا، اِن کے ووٹ سب سے زیادہ ہیں اور اِن کی آنکھوں میں آنسو ہیں!۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wdYRa]

اپنا تبصرہ بھیجیں