خلفاء احمدیت۔ اہلِ دانش کی نظر میں

جماعت احمدیہ بھارت کے خلافت سووینئر میں خلفائے احمدیت کے بارے میں اہل دانش کی آراء پر مشتمل ایک طویل مضمون بھی شامل اشاعت ہے۔ جس میں سے محض انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ
٭ مولوی ظفر علی خانصاحب ایڈیٹر ’’زمیندار‘‘ لاہور نے حضورؓ کے انتقال پر لکھا: ’’ مولوی حکیم نورالدین ایک زبردست عالم اور جید فاضل … کی شخصیت اور قابلیت ضرور اس قابل تھی جس کے فقدان پر تمام مسلمانوں کو رنج اور افسوس کرناچاہئے۔ کہا جاتاہے کہ زمانہ سو برس تک گردش کرنے کے بعد ایک باکمال پیدا کرتاہے۔ الحق ۔اپنے تبحر علم و فضل کے لحاظ سے مولاناحکیم نور الدین بھی ایسے ہی باکمال تھے۔ ‘‘
٭ منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہؔ اخبار لاہور نے لکھا: ’’ آپ نے متعدد کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور متانت کے ساتھ معترضوں کو دندان شکن جواب دئے۔ اور بعض تصانیف میں بڑی تحقیق و تدقیق کاثبوت بہم پہنچایا۔ سب سے زیادہ شہرت و عزت اپنی جماعت میں آپ کو قرآن شریف کے (حقائق) و معارف کی تشریح کے باعث حاصل ہوئی۔ جس میں آپ علوم جدیدہ و تازہ تحقیقات فلسفہ پر نظر رکھتے تھے اور اسلام کو فطرت کے مطابق ثابت کرتے تھے‘‘۔
٭ اخبار انسٹیٹیوٹؔ گزٹ (علیگڑھ) رقمطراز ہے: ’’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حکیم صاحب مرحوم ایک نہایت بلند پایہ عالم، عامل اور علوم کے بہت بڑے خادم تھے … اور ایک طبیب حاذق ہونے کی حیثیت سے بھی آپ خلق اللہ کی بہت خدمت بجا لاتے تھے۔ ‘‘
٭ آریہ سماجی اخبار ’’مسافر‘‘ آگرہ نے لکھا: ’’اصولاً ہمارے اور ان کے خیالات میں اتنا ہی فرق تھا جتنا قطب جنوبی و قطب شمالی کے درمیان ہے۔ لیکن پھر بھی یہ نہ کہنا دیانت کاخون ہوگا کہ وہ راسخ الاعتقاد ایماندار و نیک آدمی تھے۔ علاوہ بریں ہم جانتے ہیں کہ ان کے دل میں اشاعت اسلام کا بڑا درد اور قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے سے خاص محبت تھی۔ ‘‘
٭ حکیم عبدالکریم برہمؔ ایڈیٹر اخبار ’’مشرق‘‘ گورکھپور نے لکھا: ’’احمدی سلسلہ میں یہ خلیفۃ المسیح اور عام طور پر مسلمانوں میں اپنے تبحر علمی اور زہد و اتقاء کی خوبیوں سے نہایت محترم اور اسلام کے محاسن اور اسکی اشاعت میں کوشاں تھے … ایک سچے خدا پرست اور پکے موحد تھے اور ان کی زندگی اسلام کے پاک نمونہ پر بسر ہوئی۔ وہ صرف مذہبی پیشوا نہیں تھے بلکہ اعلیٰ درجہ کے طبیب بھی تھے اور اعلیٰ درجہ کی کتابوں کے فراہم کرنے اور خلق اللہ کو فائدہ پہنچانے کاخاص ذوق تھا‘‘۔
٭ مولوی انشاء اللہ خانصاحب ایڈیٹر ’’وطن اخبار‘‘ امرتسر نے لکھا: ’’مولوی صاحب مرحوم کیا بلحاظ طبابت و حذاقت اور کیا بلحاظ سیاحت علم و فضیلت و علمیت ایک برگزیدہ بزرگوار تھے، علم سے انکو عشق تھا‘‘۔
٭ ’’ میونسپل گزٹ‘‘ لاہور نے لکھا: ’’مرحوم جیسا کہ زمانہ واقف ہے ایک بے بدل عالم اور زہد اور اتقاء کے لحاظ سے مرزائی جماعت کیلئے تو واقعی پاکباز اور ستودہ صفات خلیفہ تھے۔ لیکن اگر ان کے مرزائیانہ مذہبی عقائد کو نظر انداز کرکے دیکھا جائے تو بھی وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بے شک ایک عالم متبحرو جید فاضل تھے۔… آپ کی وفات مرزائی جماعت کے لئے ایک صدمہ عظیم اور عام طور پراہل اسلام کے لئے بھی کچھ کم افسوسناک نہیں‘‘۔
٭ اخبار ’’ وکیلؔ ‘‘ امرتسر نے لکھا: ’’آپ کے علم و فضل کاہر شخص معترف تھا اور ان کے علم اور بردباری کاعام شہرہ تھا ان کی روحانی عظمت و تقدس کے خود مرزا صاحب بھی قائل تھے‘‘۔
٭ مرزاحیرت دہلوی ایڈیٹر ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی لکھتے ہیں: ’’حکیم صاحب سے ہمیں ذاتی تعارف حاصل تھا … آپ نے اپنی عمر میں صدہا بے خانماں اور غریب طلباء کو پرورش بھی کیا اور پڑھابھی دیا۔ … آپ بہت ہی منکسرالمزاج اور خلیق تھے۔ ساتھ ہی ہر ایک کام سچائی اور راستبازی سے کرتے تھے‘‘۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ
٭ اخبار ’’مشرق‘‘ؔگورکھپور نے ’’حضرت امام جماعت احمدیہ کے احسانات‘‘ کے عنوان سے لکھا: ’’ جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پرہیں۔ آپ ہی کی تحریک سے ’’ ورتمان ‘‘ پر مقدمہ چلایا گیا۔ آپ ہی کی جماعت نے ’’رنگیلا رسول‘‘ کے معاملہ کو آگے بڑھایا۔ سرفروشی کی اور جیل خانہ جانے سے خوف نہیں کھایا۔ آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر پنجاب کو انصاف وعدل کی طرف مائل کیا ۔… اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہورہے ہیں۔ایک احمدی جماعت ہے جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سرانجام دے رہی ہے‘‘۔
٭ اخبار ’’ہمت‘‘ؔ لکھنؤ نے حضورؓ کی طرف سے سیرۃالنبیؐ کے جلسوں کے انعقاد کی تجویز پر لکھا: ’’جناب امام جماعت احمدیہ کی یہ مبارک تجویزبے حد مقبول ہو رہی ہے … جماعت احمدیہ کی سنجیدہ اور ٹھوس تبلیغی سرگرمیاں ہر حیثیت سے مستحق مبارک باد ہیں اور ہمارے نزدیک مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس نہایت مفید اور اہم تجویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پوری سعی سے کام لیں‘‘۔
٭ مولانا ظفر علی خان صاحب مدیر اخبار ’’زمیندار‘‘ لاہور نے جلسہ عام میں کہا: ’’احمدیوں کی مخالفت کا احرار نے محض جلبِ زر کیلئے ڈھونگ رچا رکھا ہے ۔ … کوئی ان احرار سے پوچھے۔ بھلے مانسو! تم نے مسلمانوں کا کیا سنوارا ہے ، کوئی اسلامی خدمت تم نے سرانجام دی ہے، کیا بھولے سے بھی تم نے تبلیغ اسلام کی؟ احراریو ! کان کھول کر سن لو ۔ تم اور تمہارے لگے بندھے مرز ا محمود کامقابلہ قیامت تک نہیں کرسکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن ہے، قرآن کاعلم ہے ۔ تمہارے پاس کیاخاک دھرا ہے ۔…۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔ مختلف علوم کے ماہر ہیں دنیا کے ہریک ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے‘‘۔
٭ ایک شیعہ اخبا ر ’’ذوالفقار‘‘ؔ لاہور کے مدیر نے حضورؓ کی طرف سے ولی عہد برطانیہ کو کتاب ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘ دیئے جانے پر لکھا: ’’ہم خلیفہ ثانی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اسلام میں ہمت کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ … تحفہ شہزادہ ویلز کا بہت ساحصہ ایسا ہے جو تبلیغ اسلام سے لبریز ہے اور ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھتے ہوئے غیر احمدی ضرور رشک کریں گے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اخبار نویسی کے میز پر تعصب کی مالا گلے سے اتار کررکھ دیتے ہیں۔ اس واسطے اس تحفہ کو دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ اس تحفہ میں فاضل مصنف نے سنت رسول اللہ پر پورا پورا عمل کیاہے ۔ دعوت اسلام کو بڑی آزادی اور دلیری کے ساتھ برطانیہ کے تخت و تاج کے وارث تک پہنچا دیا ہے… آخر میں ہم ضرور کہنے پر مجبور ہیں کہ مرزا محمود احمد صاحب نے اپنے سلسلہ کی فلاح و بہبود کے واسطے وہ کام کیا ہے جس سے دوسرے فرقہ والے مسلمانوں کو بجائے حسد کے ایک سبق حاصل کرنا چاہئے‘‘۔
٭ نامورادیب علامہ نیاز فتح پوری نے حضورؓ کی رقم فرمودہ تفسیر کبیر کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ تحریر کیا: ’’مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیاز اویۂ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے ۔ آپ کی تبحر علمی، آپ کی وسعتِ نظر، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔… آپ نے ھٰؤُلآئِ بَنَاتِی کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے، اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔‘‘
٭ پروفیسر عبد المنان بیدلؔ صدر شعبہ فارسی پٹنہ یونیورسٹی نے تفسیر کبیر خود پڑھنے اور دیگر دانشوروں سے تبادلہ خیالات کے بعد فرمایا: ’’ مرزا محمود کی تفسیر کے پایہ کی کوئی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی‘‘۔
٭ مفسر قرآن علامہ عبد الماجد دریاآبادی مدیر ’’صدقؔ جدید‘‘ نے حضورؓ کی وفات پر لکھا: ’’قرآن اور علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اُولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں۔ ان کا اللہ انہیں صلہ دے۔ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند وممتازمرتبہ ہے ‘‘۔
٭ ہفت روزہ ’’خاور‘‘ ؔلاہور کے مدیر نے آل مسلم پارٹیز شملہ کانفرنس کے حوالہ سے لکھا: ’’ (حضور) ایک روحانی پیشوا سمجھے جاسکتے ہیں۔ مگر راقم الحروف نے شملہ کانفرنس کے موقع پر آپ کو سیاسیات حاضرہ سے پوراواقف راستباز اور صاف گو بزرگ پایا … (آپ نے) چند منٹ کیلئے جو تقریر کی وہ ممدوح کی انتہائی راستبازی اور راستگوئی کی دلیل تھی ‘‘۔
٭ حضورؓ کی تصنیف ’’ ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کاحل‘‘ پر اخبار ’’انقلاب‘‘ لاہور کا تبصرہ : ’’جناب مرزا صاحب نے اس تبصرہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ یہ بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا جو مرزا صاحب نے انجام دیا ‘‘۔
٭ اخبار سیاست ؔنے حضور ؓ کی تصنیف’’ سائمن کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ ‘‘ کے ضمن میں تحریر کیا:۔
’’ مذہبی اختلافات کی بات چھو ڑ کر دیکھیں تو جناب بشیرالدین محمود احمد صاحب نے میدان تصنیف و تالیف میں جو کام کیا ہے وہ بلحاظ ضخامت و افادہ ہر تعریف کا مستحق ہے۔ …آپ کی سیاسی فراست کا ایک زمانہ قائل ہے۔ … (سائمن رپورٹ پر آپ کی تنقید) کے مطالعہ سے آپ کی وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کا طرز بیان سلیس اور قائل کردینے والا ہوتا ہے۔ آپ کی زبان بہت شستہ ہے‘‘۔
٭ حضور ؓ کے انتقال پر صحافی محمد شفیع (م۔ش) نے اخبار ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنے کالم میں لکھا : ’’(انہوں نے) جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صدر انجمن احمدیہ کو ایک فعال اور جاندار ادارہ بنایا اس سے اُنکی بے پناہ تنظیمی قوت کاپتہ چلتا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی لیکن انہوں نے پرائیویٹ طور پر مطالعہ کرکے اپنے آپکو واقعی علامہ کہلانے کا مستحق بنا لیا تھا … ایک نہایت سلجھے ہوئے مقرر اور منجھے ہوئے نثر نگار تھے‘‘۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ
٭ فرینکفورٹ کے روزنامہ Sachsenh ‘A’ Bruckeنے صفحہ اوّل پر حضورؒ کاایک بڑے سائز کا فوٹو شائع کرکے نیچے لکھا: ’’ محبت کاایک سمندر، جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا ناصر احمد ‘‘۔
٭ سوئس ریڈیونے حضورؒ کی پریس کانفرنس کی تفصیلی خبر نشر کی۔ اور اپنے نمائندے کے حوالے سے بیان کیا کہ: ’’پُروقار شخصیت ، پیغمبرانہ انداز، سفید لمبی داڑھی۔ … اکہتر سالہ بزرگ شخصیت کے مالک حضرت مرزا ناصر احمد خود اپنے الفاظ کی رُو سے محبت اور رواداری کے سفیر ہیں ۔آپ کے نزدیک قرآن کا مرکزی پیغام یہ ہے: ’’وہ مقدس کتاب قرآن جو ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہر شخص کایہ حق ہے کہ اس کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں ، استعدادوں اور باطنی قوتوں کی بھرپور اور مکمل نشوونما کی جائے ‘‘۔
٭ ہالینڈ کے اخبار ہفت روزہ نیو NU نے حضورؒ کے حوالہ سے دی جانے والی خبر پر عنوان لگایا: ’’اسمبلی کے پریس رُوم میں پیغمبرانہ باتیں‘‘۔ رپورٹر نے لکھا: ’’ہم نے ایک مقدس وجود سے ہاتھ ملائے۔ یہ ہے وہ تأثر جو حضرت حافظ مرزا ناصر احمد امام جماعت احمدیہ سے مل کر دل میں اُبھرتا ہے۔ آپ یورپی خدوخال رکھتے ہیں۔ اور چہرہ سے آپ کے نور جھلکتا ہے جو اہلِ مغرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے‘‘۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ
٭ جرمن اخبار Neue Presse لکھتا ہے: ’’ایک سچے خلیفہ کے ذریعہ مشرقی ہیرو کاایک نیا تصور ابھرا ہے… آپ کے پیغام میں سب سے متاثر کرنے والی بات یہ ہے کہ آپ امن کا شہزادہ ہیں۔ دس ملین سے زیادہ پیروکاروں کے پیشوا نے کہا: ’’ہتھیار ہاتھ میں لے کر بنی نوع انسان کے دل فتح نہیں کئے جاسکتے اس طرح کے جہاد مقدس کا کوئی وجود نہیں‘‘۔
٭ کوپن ہیگن کے اخبار Aktulet نے لکھا: ’’خلیفۃ المسیح بلاشبہ پُر اثر شخصیت کے مالک ہیں‘‘۔
٭ ڈنمارک کااخبار ’’بی ٹی‘‘ لکھتا ہے: ’’گزشتہ شام ہمیں خلیفۃ المسیح سے پندرہ منٹ کی ملاقات کا موقع عنایت ہوا لیکن اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک اس پُرکشش شخصیت کے ساتھ، جسے قدرت نے مزاح کی حس سے بھی حصہ وافر عطا کیا ہے، ہماری ملاقات طول پکڑتی چلی گئی اور پینتالیس منٹ تک جاری رہی‘‘۔
٭ آسٹریلین صحافی جیمز ایس مرے کا مشاہدہ ہے: ’’آپ زبردست خود اعتمادی کے مالک ہیں ‘‘۔
٭ سیرالیون کے صدر کے ذاتی نمائندہ اور وزیر صحت، سماجی و مذہبی امور مسٹر ایکن اے جبریل نے جلسہ سالانہ UK 1992ء پر کہا کہ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے پہلی ملاقات کی تواس کا گہرا اثر میرے دل پر پڑا، میں حضور سے بار بار ملنا چاہتا ہوں۔
٭ کیتھولک پادری جناب شیل آرلد پولیستاد نے 1986ء میں حضور ؒ سے ناروے میں ملاقات کی اور وہاں کے اخبار”Stavanger Aftenbla” میں اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا: ’’امام جماعت احمدیہ بغیر کسی ظاہری شان و شوکت کے موجود تھے۔ مگر وہ طبعی وقار جو ایک حقیقی مذہبی رہنما کا طرہ ٔ امتیاز ہے ان میں بدرجہ اتم نظرآرہا تھا۔ آپ سیاہ رنگ کی شیروانی اور سفید طرہ دار عمامہ میں ملبوس تھے … آپ کا سارا وجود ایک ایسی طمانیت کامظہر تھا جس کی بنیاد خدا تعالیٰ کی ہستی پر گہرے ایمان سے نصیب ہوسکتی ہے۔ بلا شبہ یہ مقام طمانیت انہیں اسی راہ کو بہتر ین اور مسلسل طورپر اپنانے سے ملا ہے جسے وہ برحق جانتے ہیں۔ ہاں وہی مذہب جو کامل فرمانبرداری کا پیامبر ہے‘‘۔
٭ لارڈ ایرک ایوبری نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2002ء پر اپنے خطاب میں کہا: ’’میں خاص طور پر آپ کے سربراہ حضرت مرزا طاہر احمد کو خراجِ تحسین پیش کرتاہوں جن کی دانشمندانہ قیادت نے آپ کو مشکلات کے گرداب سے بچا لیا اور امید واثق ہے کہ ان کی قیادت جماعت احمدیہ کے لئے نہ صرف برطانیہ میں بلکہ پوری دنیا میں ایک روشن مستقبل پیدا کرے گی جس سے ساری انسانیت کو فائدہ ہوگا‘‘۔
٭ کینیڈا میں بوسنیا ریلیف سنٹر کے ڈائریکٹر جناب محمود باثق نے جلسہ سالانہ برطانیہ 1994ء کے موقع پر کہاکہ ’’میں نے حال ہی میں کروشیا اور زاغرب کا دورہ کیاہے جہاں میری بوسنیا کے صدر علی جاہ عزت بیگوچ سے ملاقات ہوئی۔ انہوںنے میرے توسط سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اور تمام احمدیوں کو سلام بھجوایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ : ’’حضور ؒ ایسی قیادت بوسنیا کو بھی نصیب ہو‘‘۔
٭ برطانوی ممبر آف پارلیمنٹ ٹام کاکس نے حضورؒ کی کتاب”Revelation,Rationality, Knowledge & Truth” پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’آپ ہمہ جہت صلاحیتوں کی مالک شخصیت ہیں اور مختلف النوع علوم کے ماہر ہیں۔ آپ ایک حاذق طبیب اور سائنسی علوم سے بہرہ ور، ایک جید فلاسفر اور منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ دراصل آپ ابن سینا اور ابن رشد کی طرح علم کا بے پناہ خزانہ ہیں اور انواع و اقسام کے مضامین اور علم کی مختلف شاخوں پرخوب دسترس رکھتے ہیں۔ اس نہایت وسیع اور گہرے علم کے ساتھ ساتھ جو مختلف جہتوں سے آپ کو حاصل ہے، آپ اسلام کی تعلیمات کی حکمت اور عظمت کو سمجھنے میں دیگر تمام دنیا سے بلند ایک ممتاز مقام پر فائز ہیں۔ حقیقت کے منکر اور دہریوں کے خلاف آپ کے دلائل قاطع ہیں اور ایسے ہیں کہ انہیں اُن کے ناقابل فہم اور بعید از عقل خیالات کے بارہ میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیں۔ اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت قرآن کاوہ گہرا اور عظیم علم ہے جو آپ کسی نظریئے کی تائید میں پیش فرماتے ہیں۔ دراصل مذہبی صحائف کاعلم محض ذاتی مطالعہ کی بنا پرحاصل نہیںکیا جاسکتا۔ یہ تحفہ خداوندی ہے جو صرف چند لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ ؒ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو الہام کی نعمت سے حصہ پاتے ہیں۔ اورجنہیں خدا تعالیٰ اپنی جناب سے ان نعمت عظمیٰ کے لئے چن لیتا ہے ۔ میں نہایت وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اسلامی دنیا کے علم و فضل سے بہرہ ور لوگوں کے سردار ہیں ۔اور میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ‘‘۔
٭ MQM کے بانی لیڈر جناب الطاف حسین نے حضورؒ کی وفات پرکہا : ’’ایک عظیم رہنما اور سکالر اس دنیا سے رخصت ہؤا ہے اور اپنے پیچھے ایک بڑا خلا چھوڑ گیا ہے۔ ان کی یاد اَنمٹ اور ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘۔
٭ ایک جاپانی مسلم سکالر پروفیسر رمضان اسوزا کہتے ہیں: ’’حالیہ ملاقات میں مَیں نے محسوس کیاکہ آپ کے اندر ایک غیر معمولی جذب اور کشش کی طاقت پیدا ہوگئی ہے … میں سمجھتا ہوں کہ عالم اسلام کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ ایسی جذب اور کشش رکھنے والی روحانی شخصیت ان میں موجود ہے‘‘۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ
٭ فجی کے نائب اور قائمقام صدر Hon. Ratu Joni Madraiwiwiنے ایوانِ صدر میں حضورانور کو خوش آمدید کہا۔ نیز حضور کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب کے متعلق کہا: ’’میری نظر سے آپکادعوت نامہ گذر ا تھا لیکن مجھے آفس والوں نے صحیح طرح بتایا نہیں۔ مجھے علم نہیں تھا کہ ہمارے ملک میں اتنی بڑی شخصیت تشریف لارہی ہے اور اب جبکہ میں حضور سے مل چکا ہوں تو میرے لئے مشکل ہے کہ آپکی ریسپشن چھوڑ کر کسی اَور تقریب میں شامل ہوں‘‘۔
٭ مسٹر اجے انڈین ہائی کمشنر فجی نے اپنے خطاب میں کہا: ’’آج کا دن فجی کیلئے تاریخی دن ہے۔ ہم میں حضور موجود ہیں جن کا پیغام امن و محبت اور بھائی چارہ اور اخوت کا ہے جو اسلام کی بنیادی تعلیم ہے‘‘۔
٭ قادیان کے MLA اور پنجاب پولیوشن کنٹرول بورڈ کے صدر ترپت راجندر سنگھ باجوہ نے حضور انور کی بھارت آمد پر بہت ہی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’ہماری خوش قسمتی ہے کہ جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ کے مقدس قدم ہمارے ملک کی زمین پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے آنے سے بہت سی برکتیں بھی آئیں گی جس کا ابھی اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ‘‘۔
٭ سابق وزیر پنجاب سردار سیوا سنگھ سیکھواں نے کہا: ’’میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ جماعت احمدیہ کے روحانی خلیفہ اتنی روشن اور کھلی ذہنیت کے مالک ہیں اور مجھے سب سے بڑی خوشی اس بات کی ہے کہ وہ پنجابی ہیں۔ جب میں نے ان سے لڑکھڑاتی اردو میں بات کرنا چاہی تو حضور نے مجھے کہا کہ تم پنجابی میں بات کرو اور انہوں نے بہت ہی اچھی پنجابی میں گفتگو کی‘‘۔
٭ سرو دھرم سدبھائو کمیٹی ہوشیارپور کے صدر انو راگ سود کے گھر پرمنعقدہ خصوصی تقریب میں معزز شہریوں نے حضور انور کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہاں ’’ہند سماچار گروپ آف اخبارات‘‘ کے چیف ایڈیٹر جناب وجے کمار چوپڑہ نے کہا کہ ’’ ایک روحانی خلیفہ کا کسی کے گھر آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ زمین کے ساتھ جڑے ہیں لوگوں سے جو ملنے کاسلسلہ ہے اس سے ہی دلوں کے فاصلے کم ہوں گے۔ آپ ہی ہیں جنہوں نے پیار، امن کی خوشبو بکھیرنی ہے‘‘۔
٭… اخبار امرؔ اُجالا نے لکھا: ’’جمعہ کا دن قادیان کے شہر والوں کیلئے عید سے کم نہیں تھا کیونکہ جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد بنا کسی مذہبی تفریق کے مختلف محلوں میں جاکر اپنے چاہنے والوں سے ملے۔ مہندر سنگھ باجوہ اور ان کی بیوی نے بتایا کہ جمعہ کادن ان کے لئے خوشیوں بھرا ثابت ہوا کیونکہ پچھلے چار دن سے وہ خلیفہ کے درشن کرنا چاہتے تھے۔ ادھر شام لال کے گھر پر بھی خلیفہ کے پہنچنے پر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا‘‘۔
٭ سنت سماج کے پردھان سنت کشمیرا سنگھ نے کہا: ’’مرزا صاحب کا ہاتھ خدا نے پکڑا ہؤا ہے۔ جو بھی ان کا ہاتھ پکڑے گا اُس کا تعلق بھی خدا سے ہوجائیگا‘‘۔
٭ پدم شری وجے کمار چوپڑہ چیف ایڈیٹر ہندسماچار نے کہا ’’جماعت احمدیہ بھی قادیان سے انسانیت کا پیغام لیکر چلی ہے۔ جب بھی بھارت پر کوئی مشکل آئی ہے جماعت احمدیہ نے ہمیشہ مدد کی ہے۔ تمام اکناف عالم کو یہی پیغام دیا ہے کہ ہم سب ایک ہیں ۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے‘‘۔ایڈیٹر موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ سے کہا کہ ’’آج جہاں جماعت احمدیہ دنیا کی ترقی کیلئے گامزن ہے وہیں انہیں چاہئے کہ وہ بھارت میں جہاں کے مدرسوں میں مسلم بچوں کی بہت بڑی تعداد تعلیم حاصل کررہی ہے، دوسرے ممالک کی طرح سکول و کالج کھولے جائیں۔ آپ ہم سب کے خلیفہ ہیں ۔ہماراپہلا حق بنتا ہے۔ مسلم بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کرکے بھارت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں۔ بھارت میں کوئی جات پات نہیں کی جاتی۔ آج بھارت کا صدر بھی ایک مسلم ہے‘‘۔
٭ شری بلوندر سنگھ منٹو باجوہ پردھان پنجاب کسان و کھیت مزدور سیل نے کہا: ’’میں نے بہت سے لوگوں سے ملاقات کی ہے، جو نور میں نے حضور صاحب میں دیکھا ہے ایسا میں نے کسی اَور میں نہیں دیکھا‘‘۔
٭ لائنز کلب قادیان کے پردھان کشوری لال جلکا نے کہا ’’ میری بہت خواہش تھی کہ میں حضور صاحب سے ملوں لیکن جب میں ملا تو مجھے ایسا لگا جیسے میری سبھی مرادیں پوری ہوگئی ہوں‘‘۔
٭ روزانہ اجیت جالندھر (گورداسپور ایڈیشن) کے نامہ نگار نے لکھا کہ :’ آج جماعت احمدیہ جس طرح امن عالم کیلئے کوشش کرکے کام کررہی ہے اس سے دنیا بھر کے بڑے لیڈر بھی بہت متاثر ہیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا بھارت کا سفر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے آنے سے بھارت میں احمدیہ جماعت کو ہی نہیں بلکہ پورے بھارت کو فائدہ ہوگا اور بھارت ترقی اور اونچائی کی طرف لگاتار بڑھتا رہے گا‘‘۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/gPbex]

اپنا تبصرہ بھیجیں