خلفائے احمدیت اور مباہلہ

مباہلہ کا مطلب ہے کہ کسی مسئلہ میں واضح دلائل کے باوجود دو گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو جھوٹے پرخدا کی لعنت ڈال کرہرفریق اپنا معاملہ خدائے علیم و خبیرکے سپرد کرتے ہوئے آخری فیصلہ چاہے۔ جماعت احمدیہ برطانیہ کے ’’خلافت سوونیئر‘‘ کے ایک مضمون میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے خلفائے احمدیت کی مباہلہ کے حوالہ سے کامیابیوں کا مختصر ذکر کیا ہے۔
فتح مکّہ کے بعد مختلف علاقوں کے وفود تحقیق کے لئے مدینہ آنے لگے۔ 10ھ میں 60مسیحیوں کا ایک وفد وادیٔ نجران سے پانچ صد میل کی مسافت طے کرکے مدینہ پہنچا۔ نجران ہرقل شاہ روم کے ماتحت ایک خود مختار عیسائی ریاست تھی۔ وفد نے رسول کریم ﷺ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی بن باپ پیدائش اور دیگر مذہبی امور کے بارہ میں بحث کی۔ اُن پر اتمام حجت کے بعد آنحضور ﷺ نے انہیں قرآنی حکم کی روشنی میں آخری طریق فیصلہ کے طور پر مباہلہ کی دعوت دی۔ بعض سردارمباہلہ پر آمادہ ہوگئے مگران کے لارڈ بشپ نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ سچے ہوئے توہم ایک سال میں تباہ ہوجائیں گے کیونکہ نبی سے مباہلہ کرکے کبھی کوئی بچ نہیں سکا۔ تم اگر اس کا دین نہیں مانتے تو اس سے معاہدہ کرلو۔ چنانچہ وہ آنحضور ﷺ سے معاہدہ کرکے واپس لوٹے۔
آیت مباہلہ کے مطابق مباہلہ کا اوّلین حق اس امام کو ہوتا ہے جو مدعی الہام یا مامور من اللہ ہو۔ پھر امام کی متابعت میں اس کے نائبین کو بھی یہ حق تفویض ہوتا ہے۔ دعاکایہ مقابلہ زبانی بھی ہو سکتا ہے اور تحریری بھی۔ اور مباہلہ کا نتیجہ کاذب فریق پرلعنت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو عذاب کی کوئی بھی شکل ہوسکتی ہے ۔
حضرت مسیح موعودؑ نے سب سے پہلے 1886ء میں آریہ لیڈروں کو دعوت مباہلہ دی۔ اگرچہ نامور آریوں نے تو اس دعوت کاکوئی جواب نہ دیا۔ البتہ آریہ لیڈر لیکھرام مقابلہ پر آیا اور 6مارچ 1897ء کو مباہلہ کاعبرتناک نشان بن کر ہلاک ہوا۔ پھر1902ء میں حضورؑ نے امریکہ کے عیسائی لیڈر ڈاکٹر ڈوئی کو مباہلہ کا چیلنج دیا جو 8مارچ 1907ء کو سخت ذلیل و رسواہو کر آپؑ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہوا اس جہاں سے کوچ کر گیا۔
اگرچہ مسلمان علماء بھی حضرت مسیح موعودؑ سے مباہلہ کا اصرار کررہے تھے لیکن حضورؑ جزوی اختلاف کی بناء پر مباہلہ کرنے سے گریز فرماتے رہے۔ چنانچہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے 1891ء میں حضورؑ کووفات وحیات مسیح پر مباہلہ کی دعوت دی تو حضورؑ نے اس کی بجائے دعا کرنے کے مقابلہ کی تجویز دی۔
جب حضورؑ نے ’’ازالہ اوہام‘‘ میں اپنا دعویٰ مسیحیت شائع کیا اور علماء ہند کی طرف سے آپؑ پر فتویٰ کفر لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر حضورؑ نے 10دسمبر 1892ء کو اِن مکفّرین کو پہلی مرتبہ مباہلہ کی دعوت دی اور 1896ء میں ’’انجام آتھم‘‘ میں ایک سو سے زائد نامور مسلمان علماء ،صوفیااور سجادہ نشینوں کو نام بنام دعوت مباہلہ دی۔ جواباً بعض علماء نے بالبداہت یہ مباہلہ قبول کیا اور حضورؑ کی زندگی میں ہی مباہلہ کا نشان بن کر راہیٔ ملک عدم ہوئے۔جیسے مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب۔ علماء کے ایک اور گروہ نے اعلانیہ تودعوت مباہلہ قبول نہیں کی مگر مخالفت اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے، وہ بھی مباہلہ کی قہری تجلی کا نشان بنے مثلاً مولوی عبدالعزیز لدھیانوی، مولوی محمد لدھیانوی، سعداللہ لدھیانوی، مولوی غلام رسول رسل بابا اور مولوی غلام دستگیر قصوری وغیرہ ہلاک ہوکر مباہلہ کا نشان بنے تو مولوی نذیر حسین دہلوی اور مولوی اصغر علی مختلف بلاؤں میں گرفتار ہو کر مباہلہ کی قہری تجلی کی زَد میں آئے۔ اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے مباہلہ کے نتیجہ میں حضورؑ کو غیرمعمولی برکات اور مالی و علمی فتوحات سے نوازا۔
ہر چند کہ حضور علیہ السلام کی نیابت میں آپؑ کے خلفاء کو مباہلہ کا حق حاصل تھا مگر اس کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی۔ خلافت ثانیہ میں مباہلہ کے بعض مواقع تو پیش آئے مگر مباہلہ ہو نہیں سکا۔
1918ء میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ لیکن اُن کے خیال کے برخلاف حضورؓ نے نہ صرف یہ چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا بلکہ شرائط بھی شائع کردیں۔ اس پر خواجہ صاحب نے گھبراہٹ میں کبھی یہ لکھا کہ ’’میں نے مباہلہ کی حیثیت سے ان کو چیلنج نہیں دیا تھا‘‘ تو دوسری طرف مریدوں میں عزت قائم رکھنے کی خاطر یہ بھی لکھ دیا کہ ’’میں نے ان کی تیرہ کی تیرہ شرطیں تسلیم کرلی ہیں‘‘۔ پھر جان چھڑانے کے لئے خواجہ صاحب نے کئی عجیب شرائط رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا مثلاً ’’20ہزار احمدیوں کے دستخط اور پتے مجھے دکھائے جائیں جن کو ایک کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ جب وہ کمیٹی ان کے احمدی ہونے کی تصدیق کر دے گی تو میں قادیان جائوں گا‘‘۔ لیکن جب اُن کو کوئی جائے فرار نہ ملی تو آخر مباہلہ نہ کرنے کا الزام حضورؓ پر ہی لگادیا اور ازخود آئندہ مباہلہ سے لاتعلقی ظاہر کرکے عملاً شکست تسلیم کرلی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے یہ دیکھ کر کہ سچ اور جھوٹ کا بذریعہ مباہلہ فیصلہ ہندوستان میں ایک معیار سمجھا جانے لگا ہے تو دیگر مخالف علماء پر بھی اتمام حجت مناسب سمجھی اور علمائے دیو بندو فرنگی محل کو مباہلہ کا چیلنج دیا مگر علمائے دیو بند نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔
جولائی1931ء میں سید محمد شریف ساکن گھڑیالہ ضلع لاہور امیر اہلحدیث نے بذریعہ اشتہار حضورؓ کو مباہلہ کاچیلنج دیا اور ازخود مقام وغیرہ کا اعلان کردیا۔ حضورؓ نے یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے جب مسنون شرائط بیان کیں تو امیر اہلحدیث نے مسنون مباہلہ کی شرائط قبول کرنے سے انکار کردیا۔
1935ء میں احرار نے جب احمدیوں پر ایک سازش کے تحت آنحضرت ﷺکی توہین کے الزامات لگائے تو حضورؓ نے اس الزام کی پُرزور تردید کی اور سچ اور جھوٹ میں فرق کے لئے مباہلہ کا چیلنج دیا۔ اس چیلنج کے شائع ہونے پر اگرچہ بعض احراریوں نے قادیان آکر مباہلہ قبول کیا مگر مباہلہ کے مخاطب احراری لیڈروں نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ تب حضورؓ نے 6؍ستمبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں احرار کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے گورداسپور آنے پر رضامندی ظاہر کی اور احرار کے پانچ لیڈروں کو مقابلہ پر آنے کی دعوت دی۔ مشہور آریہ اخبار’’پرکاش ‘‘ (لاہور) نے اس بارہ میں لکھا کہ ’’مرزائیوں اور احراریوں کے درمیان کشیدگی اس انتہاتک پہنچ گئی ہے کہ وہ اب ایک دوسرے کو مباہلہ کا چیلنج دینے لگ پڑے ہیں۔ احراریوں کی تو خدا جانے لیکن مرزائیوں نے پہل کردی ہے۔ دیکھئے احراری خلیفہ صاحب کا مذکورہ چیلنج منظور کرتے ہیں یا اسے اُسی طرح شیر مادر کی طرح پی جاتے ہیں جس طرح آنجہانی منشی غلام احمد قادیانی کا مباہلہ کا چیلنج مولوی ثناء اللہ پی گئے تھے‘‘۔
اخبار پرکاش کا اندازہ درست نکلاکیونکہ احرار نے بالآخر حیلوں بہانوں سے مباہلہ سے راہ فرار اختیار کرنے کی اور حضورؓ نے اُن کی اکثر شرائط منظور کرکے اُن کی کوشش ناکام بنانے کی کوشش کی۔ تب احرار نے یکطرفہ طور پر مقا م و تاریخ مباہلہ کا اعلان کردیا۔ احرار کی یہ روش دیکھ کر حضورؓ نے 30؍ اکتوبر 1935 ء کو ایک پمفلٹ میں حلفیہ طور پر اپنے عقیدہ کا اعلان کیا۔ تو احرار مباہلہ کی شرائط طے کرنے کی بجائے ملک بھر میں یہ تحریک کرنے لگے کہ 23؍ نومبر 1935ء کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ قادیان پہنچیں (گویا فساد کی نیت تھی) حالانکہ احرار کی کانفرنس کو حکومت نقضِ امن کے باعث پہلے ہی روک چکی تھی۔ اس پر حضورؓ نے 10؍ نومبر 1935ء کو یہ اعلان فرمایا کہ: ’’میں صاف لفظوںمیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم قادیان میں مباہلہ کے لئے تیار ہیں مگر کانفرنس کے لئے نہیں … میرے اس اعلان کے بعد پھر شرائط اور تاریخ طے کئے بغیراگر احرار قادیان آئیں تو … اس کی ذمہ داری یا تو حکومت پر ہوگی یا احرار پر۔ جماعت احمدیہ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی‘‘۔ اس کے باوجود احرار نے قادیان پہنچنے کی تحریک جاری رکھی بلکہ یہ جھوٹا پراپیگنڈا بھی شروع کیا کہ حضورؓ نے بذریعہ تار قادیان میں مباہلہ ہونے کی اطلاع دیدی ہے۔ تاہم حکومت وقت نے احرار کی فتنہ پردازی کو محسوس کرکے قادیان میں اجتماع پر پابندی لگادی۔ اس پر احرار نے قادیان میں جمعہ پڑھنے کی اجازت چاہی جو حکومت نے اُن کے بدارادے بھانپتے ہوئے نہ دی جس پر احرارنے احتجاجاً جمعہ نہ پڑھنے کا ہی اعلان کر دیا۔ البتہ مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری امیر شریعت احرار سرکاری حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمعہ پڑھنے نکلے اور گرفتار ہوکر چار ماہ کے لئے قید ہوگئے۔ اُس زمانہ میں ایک صحافی ابوالعلاء چشتی نے اخبار ’’احسان‘‘ میں لکھا: ’’میں مرزا بشیرالدین محمود نہیں جس سے مباہلہ کرنے کا نام سن کر رہنما یانِ احرار کے بدن پر رعشہ طاری ہوجاتا ہے‘‘۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے دَور میں مباہلہ کی نوبت اس وقت آئی جب آمر مطلق جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان نے احمدیوں کو اپریل 1984ء میں آرڈیننس کے ذریعہ بنیادی انسانی حقوق و مذہبی آزادی سے محروم کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف احمدیوں کے خلاف مقدمات اور تعزیری سزائوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا بلکہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے لئے حضورؒ کو مجبوراً پاکستان سے انگلستان ہجرت کرنی پڑی۔ ضیاء کے عناد و تعصب کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دسمبر 1984ء میں اُس نے اعلان کیا کہ ’’احمدی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں یاپھر ملک چھوڑ جائیں‘‘۔ جواباً حضورؓ نے خطبہ جمعہ 14؍دسمبر 1984ء میں جو اعلان فرمایا، وہ دراصل یکطرفہ مباہلہ کا چیلنج ہی تھا۔ جس کے آخر میں دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے انجام کی خبر بھی دی۔
جب ضیاء اور اُس کے مذہبی کارندے الزام تراشیوں میں بڑھتے چلے گئے تو 10جون 1988ء کو حضورؒ نے جماعت احمدیہ کے معاند مکفرین و مکذبین کوباقاعدہ تحریری مباہلہ کا چیلنج دیا۔ اور مباہلہ پمفلٹ میں حضرت مسیح موعودؑ کی زبان سے دعوت مباہلہ بیان کرکے پھر جماعت احمدیہ اور اس کے امام پر قریباً ساٹھ متفرق الزامات کی نفی کرتے ہوئے سات مرتبہ لَعۡنَۃُ اللہِ عَلٰی الۡکَاذِبِیۡن تحریر کرکے ان کی تردید کی۔ پھراپنے عقائد بیان کرکے چیلنج دیا کہ اگر ہمارے یہ عقائد نہیں تو مخالفین اِن کے جھوٹا ہونے کا اعلان کرکے لَعۡنَۃُ اللہِ عَلٰی الۡکَاذِبِینۡ کہیں۔ پھر سچے پر اللہ کی رحمتیں اور جھوٹے پر غضب نازل ہونے کی دعا کی گئی اور مضمون کے آخر میں حضورؒ نے اپنے دستخط ثبت فرماکر گویا مباہلہ میں پہل کردی۔
اس مباہلہ کا اوّل مخاطب جنرل ضیاء الحق تھا کیونکہ اُس نے یہاں تک اعلان کر دیا تھا کہ ’’احمدیت ایک کینسر ہے جسے میں نکال باہرپھینکوںگا‘‘۔ مباہلہ کا پمفلٹ 10جون 1988ء کو شائع کرکے عام تقسیم کرنے کے علاوہ ا خبارات میں شائع کروا دیا گیااور صدر پاکستان اور سربرآوردہ مکفر علماء کو بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک بھی بھجوایا گیا۔
جب دو ماہ بعد تک ضیاء الحق کی طرف سے نہ تو مباہلہ کا کوئی جواب آیا اور نہ ہی مخالفت میں کمی نظر آئی تو خدا کی تقدیر حرکت میں آنے لگی۔ اور 12اگست 1988ء کو حضورؓ نے اپنی ایک تازہ رؤیا بیان کرکے واضح فرمایا کہ جس قوم کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا ہے اس کی سزا مقد ر ہوچکی ہے۔ صرف پانچ روز بعد 17؍اگست کو خدا تعالیٰ کی وہ قہری تجلی ظاہر ہوئی جس نے اس آمر مطلق کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے عبرت کا نشان بنا دیا۔ اُس کی ہلاکت کے دو روزبعد خطبہ جمعہ میں حضورؒ نے فرمایا کہ آج جنرل ضیاء الحق کی موت پر جو علماء صدمے کا اظہار کر رہے ہیں، یہ وہی ہیں جو کل تک ان کو گالیاں دے رہے تھے اس لئے اِن کے ردّ عمل نے بتادیا کہ موت کا کوئی صدمہ نہیں، اِن کو اس بات کا صدمہ ہے کہ خدا کا ایک نشان احمدیت کے حق میں ظاہر ہوگیا، اُس کی سیاہی ہے جو چہروں پر پھر گئی ہے۔ لیکن اِس نشان کو دیکھ کر ہم احمدیوں پر حمد کرنا اور درود کثرت سے پڑھنا واجب ہوگیا ہے۔
مباہلہ میں ایک نشان اسلم قریشی کے زندہ ہونے کا بھی ظاہر ہوا کیونکہ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا تھا کہ اسلم قریشی کے اغواء اور قتل میں امام جماعت احمدیہ ملوث ہیں۔ 1984ء میں اسلم قریشی کی غائبانہ نماز جنازہ تک پڑھ دی گئی اور اُس کے نام پر ہی احمدیوں کے خلاف تحریک چلائی گئی۔ اس کے جواب میں حضورؒ نے تحریرفرمایا ’’میں بحیثیت امام جماعت احمدیہ یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ افتراء ہے لَعۡنَۃُ اللہِ عَلٰی الۡکَاذِبِیۡنَ‘‘۔ چنانچہ یہ محیّرالعقول معجزہ تھا کہ پانچ سال سے غائب اور نام نہاد مغوی اور مقتول اسلم قریشی مباہلہ کے صرف ایک ماہ بعد اچانک زندہ ہو کر سامنے آگیا جس کی تشہیر سارے قومی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل پر کی گئی۔
حیرت ہے کہ کسی کو بھی اس تحریری مباہلہ کا چیلنج کھلم کھلا قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ البتہ بعض علماء نے سستی شہرت کے لئے ایسی شرائط عائد کر دیں جو ناممکن العمل تھیں۔ اُن میں سے ایک پاکستان عوامی تحریک اورادارہ منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری ہیں جنہوں نے مباہلہ میں درج ایک حصہ کے بارہ میں کہا کہ انہیں انشراح نہیں۔البتہ جو حصہ بانی جماعت احمدیہ کی صداقت اور دعویٰ سے متعلق تھا اس کے بارہ میں انہوں نے اعلان کیا کہ’’احمدیوں کے کفر و ضلالت میں کوئی شبہ نہیں…‘‘۔ تاہم چیلنج کو دستخط کرکے قبول کرنے کی بجائے انہوں نے مینار پاکستان پر آکر مباہلہ کرنے کا چیلنج دیدیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ؒ ان مخصوص مخالفانہ حالات میں پاکستان نہیں آسکتے۔
جب اُنہیں اُن کی ہی کتب کے حوالوں سے مسنون مباہلہ کی طرف بلایا گیا تو موصوف نے ان گزارشات کو درخور اعتناء نہ سمجھالیکن سستی شہرت اور مباہلہ کو مشتبہ کرنے کی خاطر یہ اعلان و اظہار کرتے رہے کہ گویا انہوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا ہے اور 12 ربیع الاوّل کی رات مینار پاکستان پر وہ مرزا طاہر احمد کا انتظار کریں گے۔ چنانچہ اُس روز انہوں نے ازخود مینار پاکستان کے جلسہ میں یہ اعلان کیا کہ آج ہم نے مرزا طاہر احمد کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہزاروں کی تعدا د میں فرزندان توحید کی موجودگی میں اس کے مباہلہ کے لئے انتظار کرکے اس کے بعد بحث کو ختم کر دیا ہے … ۔
گو بظاہر تو علامہ موصوف جماعت احمدیہ کی شکست اور اپنی فتح کے نقارے بجاتے نظر آتے ہیں لیکن امر مباہلہ کو مشتبہ کرنے اور جزوی طور پرمباہلہ قبول کرنے کے نتیجہ میں ان پر جو لعنتوں کی مار پڑی، اس کی تفصیل نہایت عبرت انگیز ہے۔ چنانچہ1990ء میں انہوں نے اپنے بعض مزعومہ مقاصد کے حصول کے لئے اپنے گھر میں فائرنگ اور قاتلانہ حملہ کا ڈھونگ رچایا۔ جس کی تحقیق لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج پر مشتمل ٹربیونل نے کی اور تفصیلی تحقیق اور شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ میں لکھا کہ’’ طاہر القادری پر کسی قسم کاحملہ نہیں ہوا۔ واقعہ جھوٹ ہے‘‘۔ اگرچہ اس مقدمہ کے دوران انہوں نے عدالت کو متضاد بیان بھی دئے کہ’’انہوں نے قادیانیوں کے خلاف مباہلہ میں شرکت کی‘‘۔ اوریہ بیان بھی دیا کہ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف کوئی کتاب نہیں لکھی اورنہ ہی کوئی مباہلہ کیا تھا۔ لیکن جرح کے دوران تسلیم کیا کہ ’’مباہلہ کا چیلنج مرزا طاہر احمد نے دیا تھا۔ میرے علاوہ چند علماء نے اس کو قبول کیا لیکن مرزا طاہر احمد کے نہ آنے کی وجہ سے صرف ختم نبوت کانفرنس ہوئی‘‘ وغیرہ۔
دیوبندی مسلک اور مجلس تحفظ ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے مولوی منظور احمد چنیوٹی نے بھی اس دعوت مباہلہ کو حسب شرائط قبول کرکے دستخط کرنے کے بجائے نئی دعوت مباہلہ دے کر مشتبہ کرنے کی کوشش کی۔ نیزیہ اعلان بھی کیا کہ ’’میں 15ستمبر 1989ء تک زندہ رہوں گا تاہم قادیانی جماعت اس وقت تک زندہ نہیں رہے گی‘‘۔ جواباً حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ ’’انشاء اللہ تعالیٰ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے۔ ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہوچکی ہے۔ منظور چنیوٹی اگر زندہ رہا تو اس کو ایک ملک ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو۔ اس کی ذلت اور رسوائی دیکھنا آپ کے مقدر میں لکھا گیا ہے۔
انشاء اللہ تعالیٰ‘‘۔ حضورؒ کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے بار بار پوری ہوئی۔ چنانچہ جلد ہی منظور چنیوٹی نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ’’انہوں نے 15ستمبرتک صرف مرزا طاہر احمد کے ختم ہوجانے کی بات کی تھی ساری قادیانی جماعت کی نہیں‘‘۔
اس اخباری بیان کے کچھ عرصہ بعد ہی منظور چنیوٹی کے دست راست محمد یار شاہد نے اِس کے بارہ میں کہا کہ ’’اگر اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تو اہم انکشافات کروں گا جس سے ان پردہ نشینوں کے اصل کرتوتوں سے شہریوں کو آگاہی ہوگی‘‘۔ پھر ایک اخبار میں چنیوٹ کے شہریوں کی قرارداد شائع ہوئی کہ ’’مولانا چنیوٹی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے‘‘۔ نیز چنیوٹ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے قاری یامین گوہر نے کہا کہ ’’منظور چنیوٹی نے محض چندہ بٹورنے کے لئے ختم نبوت کا لیبل لگا رکھا ہے‘‘۔ حتّٰی کہ مولوی اللہ یار ارشد نے بھی جلسہ میں تقریر کی جو اخبارات میں بعنوان ’’پنجاب اسمبلی میں مولانا منظور چنیوٹی کا کردار ملت اسلامیہ کی رسوائی کا سبب بنا‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ نامور شاعر اور دانشور علامہ سید محسن نقوی نے کہا کہ ’’مولانا چنیوٹی اپنے علاقہ میں مذہبی منافرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ تعصبات کے زہر سے فضا کو مکدّر کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔علامہ محسن نقوی نے مطالبہ کیا کہ منظور احمد چنیوٹی کو اس کے غیر شریفانہ رویہ کی بناء پر اسمبلی کی رکنیت سے خارج کیاجائے‘‘۔ اس کے بعد علماء کونسل نے بھی بیان دیا کہ ’’منظور چنیوٹی آئین کی پاسداری کے حلف سے منحرف ہوگئے۔ وطن سے غداری کرنے پر مقدمہ چلایا جائے‘‘۔
مولوی چنیوٹی کے لئے پنجاب اسمبلی کی رکنیت اعزاز کے بجائے توہین کا ذریعہ بن گئی۔ چنانچہ بے شمار مواقع پر منظور چنیوٹی کو دیگر اراکین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مثلاً
= اسمبلی میں منظور چنیوٹی نے جب ایک خاتون کے دوپٹہ نہ اوڑھنے کے بارہ میں کہا تو رکن اسمبلی نوابزادہ غضنفر علی نے کہا کہ مولانا کو ایوان سے باہر نکالاجائے یہ ہروقت خواتین کے دوپٹے ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ فضل حسین راہی نے کہا کہ مولانا صاحب! اُن کے پاؤں کی طرف بھی دیکھ لیا کریں کہ انہوں نے کون سے رنگ کی جوتی پہنی ہوئی ہے ۔
= ایک اَور موقع پر منظور چنیوٹی کے ریمارکس پر اپوزیشن واک آؤٹ کرگئی۔ اور جب منظور چنیوٹی کی طرف سے الفاظ واپس لینے اور معذرت کرنے پر ارکان واپس آئے تو سردار فاروق لغاری نے سپیکر سے کہا کہ جب ایسی بے ہودہ باتیں ہوں تو فوراًنوٹس لیں۔ انتظا رنہ کریں۔ نام تو مولانا ہے لیکن جیسی باتیں انہوں نے کی ہیں ہم کو شرم آتی ہے۔ سپیکر نے بھی مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ریمارکس اور الفاظ کو نازیبا اور ناشائستہ قرار دیا اور منظور چنیوٹی کو اپنے ناشائستہ الفاظ پر ایوان میں تین بار معذرت کرنا پڑی۔
ایک اخبار نے اس پر لکھا کہ مولانا قادیانیوں کے خلاف خطابات کے ماہر ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف تقریر کرنے میں یہ سہولت موجود ہے کہ ان کے خلاف زیبا، نازیبا،شائستہ، ناشائستہ لب و لہجے میں جو کچھ بھی کہا جائے چل جاتا ہے۔ بے چارے آگے سے بولتے ہی نہیں۔ کوئی احتجاج کرے یا ردّ عمل کا اظہار کرے تب معذرت کی صورت بنتی ہے ۔خاموش رہنے کی صورت میں بھلا کون معذرت کرتا ہے … مولانا منظور احمد چنیوٹی ناشائستہ خطابت کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
= ایک موقع پر سپیکر اسمبلی نے مولانا چنیوٹی کی بات کا سختی سے نوٹس لیا مولانا چنیوٹی نے ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کے لئے دعائے مغفرت کا معاملہ پیش کیا۔ مولانا منظور چنیوٹی نے کہا کہ ضیاء الحق کی موت پر تو سارا عالمِ اسلام رو رہا تھا۔ اس پر سپیکر نے مولانا چنیوٹی کو سختی سے کہا کہ وہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔ منظور چنیوٹی اس پر بہت سیخ پا ہوئے او ر سپیکر اور ایوان کے خلاف مسلسل نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئے۔ اس وقت فضل حسین راہی نے کہا کیا ہی اچھا ہو اگر منظور چنیوٹی ہمیشہ کے لئے واک آؤٹ کر جائیں۔‘‘
= ایک موقع پر رکن اسمبلی ذاکر شاہ نے کہا: ’’چنیوٹی صاحب نے تو مقدمات اسلام بھی نہیں پڑھا اس لئے وہ فتویٰ نہیں دے سکتے۔ وہ عربی زبان سے بھی ناواقف ہیں‘‘۔ فضل حسین راہی نے کہا: ’’یہ سرکاری مولوی ہے‘‘۔ ذاکر شاہ نے کہا: ’’یہ فتویٰ فروش مولوی ہے‘‘۔ اسلم گورداسپوری کے مطابق: ’’مولانا صرف ملک میں فساد چاہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں۔‘‘
= جب منظور چنیوٹی نے اسمبلی میں کہا کہ ’’مباہلہ کے تحت15 ستمبر تک میرے قتل کی پیشگوئی کرنے پر مرزا طاہر احمد کو انٹرپول کے ذریعہ بلا یا جائے‘‘۔ تو خواجہ محمد یوسف نے کہا:’’مولانا کے مرنے سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہیں بلٹ پروف جیکٹ دی جائے۔ … مولانا چنیوٹی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مولانا اسلم قریشی کو قادیانیوں نے غائب کیاہے۔ اگر اسلم قریشی مل جائیں تو میں اپنے آپ کو پھانسی دے دوں گا۔ اسلم قریشی مل گئے لیکن مولانا چنیوٹی نے اپنے آپ کو پھانسی نہیں دی۔‘‘
چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ جس معاند نے مباہلہ کو جزوی طور پر بھی تسلیم کیا یا اِس کو مشتبہ کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اُسے ذلیل اور خائب و خاسر کیا جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کی تائیدو نصرت پہلے سے بڑھ کر شان سے ظاہر فرماتا چلا جا رہا ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9bx6A]

اپنا تبصرہ بھیجیں