دشمنوں اور اپنوں سے حسنِ سلوک

معاند احمدیت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ ’’اشاعتہ السنہ‘‘ کو احمدیت اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں وقف کر رکھا تھا۔ جب اس رسالہ کے کچھ خریداران احمدی ہو گئے تو باوجود منع کرنے کے مولوی صاحب نے رسالہ ان کے نام جاری رکھا اور چندہ کا مطالبہ کرنے لگے اور بالآخر حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ان کی شکایت کی۔ حضور علیہ السلام نے ان احمدی دوستوں کو لکھوایا ’’روپیہ بھیج دیں۔ کبھی میرے ساتھ تعلق رکھتا تھا اور وہ جس قدر مانگتا ہے بطور احسان کے دے دیں‘‘۔
اسی طرح مولوی صاحب پر تنگدستی کا ایسا زمانہ بھی آیا جب کوئی کاتب رسالہ لکھ کر نہ دیتا تھا تب انہوں نے حضورؑ کی خدمت میں مدد کی درخواست کی تو آپؑ نے فرمایا ’’وہ اپنی کاپیاں اور مضمون لے کر آ جاویں، میں اپنا کام بند کرکے ان کا کام کروا دوں گا خواہ وہ میری مخالفت میں ہی ہو‘‘۔
حضور علیہ السلام کے اپنوں اور غیروں کے ساتھ احسانات اور وسیع حوصلگی کے کئی واقعات محترم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ نومبر 1995ء کی زینت ہیں۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓرضی اللہ عنہ گورداسپور سے ایک خط لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ سخت گرمی تھی اور رات سو بھی نہ سکے تھے۔ حضور اقدسؑ خط لیتے ہی شربت لانے کے لئے گھر میں تشریف لے گئے۔ جب واپس تشریف لائے تو حضرت مفتی صاحبؓ گرمی اور تکان کے باعث اونگھ رہے تھے۔ مفتی صاحب کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ حضورؑ پنکھا جھل رہے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا ’’تھکے ہوئے تھے سو جاؤ اچھا ہے‘‘ ۔ پھر شربت پلایا۔
حضور اقدس علیہ السلام نے کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا بلکہ اکثر بادشاہوں کی طرح مونہہ مانگی چیز عنایت فرمائی۔ کسی نے کرتہ کا سوال کیا تو اپنا کرتہ اتار کر دے دیا۔ ڈاکیہ نے سردی کی شکایت کی تو آپؑ نے اسے دو کوٹ دکھائے کہ جو پسند ہو لے لو۔ اس نے دونوں پسند کئے اور آپؑ نے عطا فرما دیئے۔
آپؑ کے مخلص مرید حضرت حافظ نور احمد صاحب سوداگر کا کاروبار خسارہ کی وجہ سے بند ہو گیا تو انہوں نے حضور علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا۔ حضورؑ نے ایک صندوقچی ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا جتنا چاہیں لے لیں۔ انہوں نے حسبِ ضرورت لے لیا گو حضورؑ یہی فرماتے رہے کہ سارا ہی لے لیں۔ حافظ صاحبؓ کہا کرتے تھے کہ حضورؑ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/0VnTF]

اپنا تبصرہ بھیجیں