دوالمیال میں احمدیت کا آغاز

دوالمیال۔ ضلع چکوال کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو اگر چہ قادیان سے بہت دُور کوہستان نمک میں واقع ہے لیکن یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی اصحاب پیدا ہوئے جن میں سے بعض نے پیدل مسافت طے کرکے قادیان جاکر حضور علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔
دوالیال کی وجہ شہرت اس گاؤں کو بطور انعام دی جانے والی ایک توپ بھی ہے جو پہلی جنگ عظیم میں بہادری کے صلے میں حکومت کی طرف سے دوالمیال کو دی گئی تھی اور آج بھی وہاں نصب ہے۔ اس توپ کو دوالمیال لاکر نصب کرنے والے محترم کپتان ملک غلام محمد صاحب ایک فدائی احمدی بزرگ تھے۔
دوالمیال کے پہلے احمدی حضرت حافظ ملک شہباز خان صاحب تھے جو ایک متقی اور مبارک وجود تھے اور آپ کا سلسلہ درس و تدریس اپنے مکان میںہی جاری رہتا تھا۔ ایک بار آپ نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک بڑا چمکدار ستارہ مشرق سے نکلا ہے اور جوں جوں وہ اونچا ہوتا گیا زمین اور آسمان دونوں اس سے روشن ہوتے گئے۔ کچھ عرصہ بعد ایک باہر سے آنے والے شخص نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی خبر دی تو آپ نے اس سے پو چھا کہ قادیان دوالمیال کے کس طرف واقع ہے ؟ اس نے جواب دیا مشرق کی طرف۔ یہ سنتے ہی حضرت حافظ صاحب احمدی ہو گئے۔ گو آپ صحت کی کمزوری کی بناء پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زیارت سے فیضیاب نہ ہو سکے لیکن مرتے دم تک احمدیت کے شیدائی رہے۔ آپ نے 2؍ مئی 1926ء کو وفات پائی اور دوالمیال میں ہی دفن ہوئے۔
حضرت حافظ ملک شہباز خان کا ذکر خیر محترم ریاض احمد ملک صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ 20؍اکتوبر 1996ء میں شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں