دورِ خلافتِ ثالثہ کا طائرانہ نظر سے جائزہ

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ جون 1995ء کے شمارے میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کے 17 سالہ دورِ خلافت کا ایک مختصرجائزہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب کے قلم سے شاملِ اشاعت ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ آسمانی پیشگوئیوں کے حامل وجود تھے۔ زمامِ خلافت سنبھالنے سے قبل ہی آپؒ نے سلسلہ کی عظیم الشان خدمات انجام دینے کی توفیق پارہے تھے اور مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر، جامعہ احمدیہ کے پرنسپل، تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل، افسر جلسہ سالانہ، صدر مجلس انصاراللہ اور صدرانجمن احمدیہ کے صدر رہنے کے علاوہ حفاظت مرکز قادیان اور تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ آپؒ کے مبارک دور میں بہت سی تعلیمی، تربیتی، مالی اور علمی تحریکات کا آغاز ہوا جن میں فضل عمر فاؤنڈیشن، وقفِ عارضی، تعلیم القرآن، تحریک جدید دفتر سوم، وقف جدید دفتر اطفال، وقف بعد از ریٹائرمنٹ، مجالس موصیان کا قیام، اتحاد بین المسلمین، نصرت جہاں سکیم اور صدسالہ جوبلی کی عظیم الشان تحریک شامل ہیں۔ آپؒ ہی کے دور میں مسجد اقصیٰ ربوہ کی تعمیر ہوئی اور خلافت لائبریری کی جدید عمارت کے علاوہ احمدیہ بکڈپو اور ’’وَسِعَ مَکَانَکَ‘‘ کے تحت متعدد گیسٹ ہاؤسز تعمیر ہوئے۔
خلافت ثالثہ کے دور میں ہی 1974ء کا وہ پُر آشوب دور بھی آیا جب آپؒ نے نہایت حوصلہ اور شجاعت سے جماعت احمدیہ کی راہنمائی فرمائی اور قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے وفد کی قیادت کی۔ آپؒ کے دور میں اشاعت قرآن کا عظیم منصوبہ تیار کیا گیا اور اس پر عمل شروع ہوا۔ انٹرنیشنل ایسو سی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس و انجینئرز اور احمدیہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ خیل للرحمٰن کلب اور گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کا اجراء ہوا۔
آپؒ ہی کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ پہلی بار پورا ہوا اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے نوبل پرائز لے کر حضرت اقدسؑ کی اس پیشگوئی کو پورا کیا کہ’’میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی وجہ سے سب کا مونہہ بند کر دیں گے‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/GQ0Q4]

اپنا تبصرہ بھیجیں