رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ یکم اپریل 2008ء میں مکرم لقمان احمد کشور صاحب کے قلم سے آنحضورﷺ کے تبرکات اور محبوب آقا کے عاشق غلاموں کے محبت کے مختلف انداز بیان کئے گئے ہیں۔
٭ حضرت زہرہ بن معبدؓ جب بچے تھے تو آپؓ کی والدہ آپؓ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائیں اور عرض کیا اس کی بیعت لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا! ابھی یہ بچہ ہے۔ پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ اس برکت کو ان کے دادا اِس نظر سے دیکھتے کہ اِن کو لے کر بازار غلہ خریدنے جاتے۔
٭ حضرت سائبؓ بن یزید بیمار ہوئے تو آپؓ کی خالہ آپؓ کو آنحضور ﷺ کی خدمت میں لے گئیں۔ آنحضورؐ نے آپؓ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔ اس کے بعد آنحضور ﷺ نے وضو کیا تو وضو سے بچے ہوئے متبرک پانی کو آپؓ نے پی لیا۔
٭ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو وہ بچے کو آنحضور ﷺ کی خدمت میں لائے۔ آپؐ نے اس کا نام رکھا اور اپنے منہ میں کھجور رکھ کر چبائی اور پھر اس بچے کے منہ میں ڈالی اور اس کے لئے دعا کی۔
٭ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ حضرت اسماء ان کو لے کر آنحضورؐ کی خدمت میں آئیں۔ آپؐ نے بچے کو اپنی گود میں رکھا کھجور لے کر چبائی اور بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کے لئے دعا کی۔
٭ آپؐ کے وضو کا بچہ ہوا پانی صحابہ کے لئے آب حیات تھا۔ ایک دفعہ حضرت بلالؓ نے آپؐ کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو اس وقت موجود تمام صحابہ اس تبرک کی طرف وفور محبت سے جھپٹے۔
٭ صحابہؓ کو آنحضورﷺ کے تبرکات کی حفاظت کا بھی بہت خیال رہتا۔ چنانچہ حضرت امام علی بن حسین روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے بعد جب ہم لوگ مدینہ واپس آئے تو حضرت مسورؓ بن مخرمہ مجھے ملے اور کہا کہ رسول اللہؐؐ کی تلوار جو آپ کے پاس ہے مجھے دیدو ایسا نہ ہو کہ یزیدی لوگ اسے بھی چھین لیں اور کہا کہ اگر آپ یہ تلوار مجھے دے دیں تو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جب تک جسم میں جان باقی ہے کوئی شخص اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔
٭ حضرت عائشہؓ کے پاس آنحضور ﷺ کا ایک جبہّ تھا جو آپؓ کی وفات کے بعد حضرت اسماء نے محفوظ کر لیا اور پھر اسی تبرک سے خود بھی برکت پاتیں اور جب کوئی شخص بیمار ہوتا تو اس جبہ کو دھو کر اس کا پانی مریض کو دیتیں۔
٭ حضرت کعبؓ بن زہیر کے قصیدہ کے صلہ میں آنحضرت ﷺ نے جو چادر انہیں عطا فرمائی تھی، یہ چادر بعد میں حضرت امیر معاویہ نے ان کے بیٹے سے خرید لی جسے اموی خلفاء عیدین کے موقعہ پر اوڑھ کر نکلتے تھے۔
٭ آنحضورﷺ کا پانی پینے والا پیالہ حضرت انس بن مالکؓ کے پاس محفوظ تھا۔ ایک بار وہ ٹوٹا تو انہوں نے اسے چاندی کے تاروں سے جڑوایا۔ اسی طرح حضرت سہلؓ اور حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے بھی آپؐ کے پیالے بطور تبرک محفوظ رکھے ہوئے تھے۔
٭ آنحضور ﷺ کے چند بال حضرت ام سلمہؓ نے بطور تبرک شیشی میں محفوظ کئے ہوئے تھے۔ کئی بیمار برتن میں پانی بھیجتے تو آپؓ وہ بال اس پانی میں ڈالتیں اور پھر اس متبرک پانی کو مریض اپنی شفا کیلئے پیتا تھا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/dpGt9]

اپنا تبصرہ بھیجیں