رسول اکرمﷺ کی مذہبی رواداری

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 30 اکتوبر2020ء)

مذہبی رواداری سے مراد یہ ہے کہ اپنے مذہب کو صحیح سمجھتے ہوئے مختلف مذہبی عقائد رکھنے والوں کے وجود کو تسلیم کرنا، اُن کے آزادیٔ ضمیر و عقیدہ کے حق کو قبول کرنا اور اُن کے حقوق کا تحفظ کرنا، نیز اختلافِ عقیدہ کو عدل اور معروف معاشرتی تعلقات کے رستہ میں حائل نہ ہونے دینا۔
ماہنامہ ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان جون، جولائی 2012ء میں مکرم سیّد میر محمود احمد ناصر صاحب کے قلم سے رسول اکرم ﷺ کی مذہبی رواداری کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون رسالہ ’’الفرقان‘‘ ربوہ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے۔
1۔ آنحضورﷺ نے دنیا کے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اور دیگر اقوام کے ماضی میں بلند روحانی مدارج پر فائز ہونے کے حوالے سے آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کہ روحانی بادشاہت اب اُن سے چھن رہی ہے بلکہ اگر وہ ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں تو اس بادشاہت کے دروازے پہلے سے بڑھ کر اُن پر کھولے جائیں گے۔ آخرت میں جنّت ملے گی اور دنیا کی نعماء بھی دی جائیں گی۔
2۔ مذہبی عدم رواداری کا ایک بڑا محرک اہلِ مذاہب کا یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن کے پاس جو تعلیم ہے وہ ایسی نادر و نایاب ہے جس سے دیگر مذاہب کلیۃً محروم ہیں۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ روحانی سلسلہ کی حضرت آدمؑ کے ذریعہ داغ بیل ڈالتے ہوئے ہی میری بشارت

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ

کے الفاظ میں دے دی تھی۔ اور میری تعلیم سابقہ مذاہب کی تعلیمات کا تسلسل اور تکمیل ہے۔ اور میرے ظہور سے تمہارے انبیاء کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔
3۔ آنحضورﷺ نے اسلام کی سچائی سے بھری ہوئی تعلیم مخالفین کے سامنے پیش کرنے کے بعد اور نہ ماننے کی صورت میں عواقب سے ڈرانے کے بعد فرمادیا:

لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْن۔

یعنی ماننا یا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔
4۔ جو دشمنی مشرکین اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ کی اُس کے مقابلے میں آنحضورﷺ نے عدل و انصاف کا وہ معیار پیش کیا جورواداری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ (سورۃ المائدہ)
5۔ آنحضورﷺ نے مخالفین کے ظلم و ستم کے جواب میں حسن و احسان کا جو سلوک فرمایا وہ قرآن کریم کی اس تعلیم کے مطابق تھا کہ قضاو قدر کے مطابق اور مخالفین کی طرف سے تم پر جانی و مالی مصائب کے پہاڑ ٹوٹیں گے اور اُن کی دل آزار باتیں سنوگے لیکن اگر تم صبر کرو اور خدا کو اپنی پناہ کا ذریعہ بناؤ تو یہ ایک عظیم کارنامہ ہوگا۔
6۔ قرآن کریم کے فرمان کے مطابق کہ ’’جن چیزوں کو تمہارے مخالفین خدا کے مقابلے میں پکارتے ہیں اُن کو بھی بُرابھلا نہ کہو، گالی نہ دو ورنہ وہ نادانی میں اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے …۔ ‘‘ (الانعام:108)
ایک دوسری جگہ مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دیتے ہوئے دیگر مذاہب کے معابد کی بے حرمتی کرنے سے منع فرمادیا۔ بلکہ آنحضورﷺ نے تو محض دوسروں کے جذبات کی خاطر خود کو دیگر انبیاء کے مقابلے میں فضیلت دینے سے بھی منع فرمادیا۔
7۔ مذہبی اختلاف ایک حد تک معاشرتی تعلقات کو محدود کرتا ہے مگر اسلام نے تمام پاکیزہ چیزیں جائز قرار دیتے ہوئے اہل کتاب کا کھانا اور پاکدامن اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی۔ (المائدہ:6)
آنحضورﷺ نے صرف ایسے معاشرتی تعلقات رکھنے سے منع فرمایا جو دینی غیرت کے خلاف ہوں۔
8۔ اسلام نے پہلے دیگر مذاہب کے ساتھ باہمی مذہبی اختلافات پر پردہ ڈالنے اور مشترکہ تعلیم پر اکٹھے ہونے کی بات کی کہ یہ وہی دین ہے جو نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دیا گیا تھا۔ (شوریٰ:14) پھر سورۃالکافرون میں وضاحت فرمادی کہ یہ اشتراک خدائے واحد کی عبادت پرنہیں ہوسکتا۔
9۔ اسلام نے جہاں اپنے نقطۂ نظر کو پیش کرنے اور تبلیغ کرنے کی نصیحت کی ہے وہاں فساد اور جھگڑے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اور کسی کے جھگڑنے پر اس کا معاملہ خدا کے سپرد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ (آل عمران:21)
10۔ آنحضورﷺ نے سارے مذاہب کے توحید پر اکٹھے ہونے کی جو تجویز پیش فرمائی ہے اُس کی مثال ماضی میں کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ (آل عمران:64)
11۔ مذہبی عدم رواداری کا ایک باعث وہ کیفیت ہے جس میں دوسرا کسی اَور کا موقف سننے یا غور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کا علاج قرآن کریم نے سفر بتایا ہے جس کے نتیجے میں عقل سے کام لینے والا دل اور دوسروں کی بات سننے والے کان عطا ہوتے ہیں۔ (الحج:64)
12۔ مذہبی عدم رواداری کے نتیجے میں انسان اپنے مخالفین کی حقیقی خوبیوں کا بھی منکر ہوجاتا ہے۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ سب اہل کتاب ایک جیسے نہیں۔ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے عہد پر قائم ہیں، رات کو آیت اللہ پڑھتے اور سجدے کرتے ہیں۔ … ایسے لوگ جو نیکی بھی کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ (آل عمران:14تا 16)
13 ۔ آنحضرتﷺ نے کبھی کسی قوم پر جارحیت نہیں کی حتی کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دیا۔ ہمیشہ صرف اپنے دفاع میں ہی تلوار اٹھائی۔ بلکہ دشمن جارحانہ حملے کے بعد صلح کی طرف مائل ہوا تو آپؐ نے صلح کو ترجیح دی۔ حتیٰ کہ صلح حدیبیہ کے وقت جب آپؐ کی پوزیشن مخالفین کے مقابلے میں بہت مضبوط تھی لیکن آپ نے اپنی فتح کو صلح پر قربان کردیا اور بظاہر ایسے معاہدہ پر دستخط فرمائے جس میں ذلّت آمیز شرائط کو قبول کیا۔ کفّار نے اس معاہدے کو اپنی فتح سمجھا، صحابہؓ اس معاہدے کو ظاہری نظر میں اپنی توہین سمجھتے تھے مگر عرش پر خدا فرما رہا تھا:

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا … (سورۃ الفتح)

نتائج نے خداکے اس ارشاد کی تصدیق کی۔
14۔ آنحضورﷺ کی دشمنوں سے مذہبی رواداری کا ایک عظیم پہلو وہ دردبھری دعائیں ہیں جو مخالفین کے ظلم کے بعد اُن کی ہدایت کے لیے آپؐ کے دل سے اٹھیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SWpHb]

اپنا تبصرہ بھیجیں