رسول کریم ﷺ کا عشق قرآن

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5 نومبر 2004ء میں شامل اشاعت مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے ایک مضمون میں آنحضورﷺ کا قرآن کریم سے عشق مختلف پہلوؤں سے بیان کیا گیا ہے۔
قرآن اللہ تعالیٰ کا وہ پاک کلام ہے جسے مشہور قادرالکلام عرب شاعر لبید نے سنا تو اس کی عظمت کے آگے شعر کہنے چھوڑ دئیے۔ حضرت عمرؓ کا قبول اسلام بھی قرآنی تائید کا اعجاز تھا۔ ایک وقت تھا جب وہ رسول اللہؐ کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کر کے گھر سے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں اپنی بہن کے ہاں سورۃ طٰہٰکی ابتدائی آیات پڑھتے ہی بے اختیار کہہ اُٹھے: یہ کتنا خوبصورت عزت والا کلام ہے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔
سردار قریش عتبہ قریش کا نمائندہ بن کر رسول کریمؐ کو سمجھانے کی غرض سے آیا تو آپؐ نے اسے سورۃ حٰم فُصِّلَتْ کی ابتدائی آیات سنائیں۔ اس پر وہ بے اختیار کہہ اُٹھا کہ خدا کی قسم! یہ نہ تو شعر ہے نہ کسی کاہن کا کلام ہے اور نہ جادو ہے۔ مَیں نے محمدؐ سے ایسا کلام سنا ہے کہ آج تک کبھی ایسا کلام نہیں سنا۔
اس پاک کلام کی اصل شان اس وقت ظاہر ہوتی تھی جب خود خدا کا رسول اس کی تلاوت کر کے سناتا تھا جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کا رسول مطہر صحیفے پڑھتا تھا۔ اُن میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں (البینۃ: 3)۔ نیز فرمایا کہ (اے رسول) تو کبھی کسی خاص کیفیت میں نہیں ہوتا اور اس کیفیت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اسی طرح (اے مومنو!) تم کوئی (اچھا) عمل نہیں کرتے مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کام میں مصروف ہوتے ہو۔ (یونس: 62)
اللہ تعالیٰ کو محمدﷺ کی تلاوت قرآن پر اس لئے بھی پیار آتا تھا کہ وہ ایک عجب جذب، سوزوگداز اور عشق و محبت کے ساتھ اس پاک کلام کی تلاوت کرتے تھے۔ آپؐ کی تلاوت کی عظمت اور شان قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے کہ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جیسے تلاوت کا حق ہے۔ یہی لوگ ہیں جو اس کتاب پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔
حضرت انسؓ نے پوچھنے پر بتایا کہ رسول کریمؐ لمبی تلاوت کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر سنائی۔ اسے لمبا کیا پھرالرحمان کو لمبا کر کے پڑھا پھر الرحیم کو۔ حضرت ابو ھریرہؑ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی چیز کو کان لگا کر توجہ سے نہیں سنتا جتنا نبی کریمؐ کی تلاوت قرآن کو سنتا ہے۔ جب وہ خوبصورت لحن اور غنا کے ساتھ بآواز بلند اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریمؐ تلاوت کرتے ہوئے آیت پر وقف کرتے تھے۔ فاتحہ میں ہر آیت پر رکتے تھے۔
رسول کریمؐ تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک لفظ واضح اور جدا کر کے پڑھتے۔ سوزوگداز میں ڈوبی ہوئی یہ آواز کبھی بلند ہوجاتی اور کبھی دھیمی۔ کسی نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ بہترین تلاوت کونسی ہے؟فرمایا: جس کو سن کر احساس ہو کہ یہ شخص اللہ سے ڈرتا ہے یعنی خشیت الٰہی سے لبریز تلاوت اور یہ تلاوت آپؐ کی ہی ہوتی تھی۔آپؐ کا تو اوڑھنا بچھونا ہی قرآن تھا۔ عموماً رات کو بھی زبان پر قرآن ہی ہوتا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی رات کو اچانک آنکھ کھل جاتی تو زبان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کی آیات جاری ہوتیں۔
آپؐ رات کو تیسرے پہر تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو اٹھتے ہی سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرماتے جن کا مضمون خالق کائنات کی تخلیق ارض وسماء اور اس میں موجود نشانات پر غور و فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کے بعد انسان کے دل میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی عبادت کا شوق اور ولولہ بیدار ہوتا ہے۔
اسی طرح رات کو بستر پر جاتے ہوئے بھی حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق نبی کریمؐ آخری تین سورتوں کی تلاوت کر کے ہاتھوں میں پھونکتے اور ہاتھ اپنے جسم پر پھیر کر سو جاتے۔ آپؓ کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ سونے سے قبل رسول اللہؐ سورۂ الزمر اور بنی اسرائیل کی بھی تلاوت کرتے تھے۔ حضرت جابرؓ کے مطابق سونے سے قبل آنحضرتﷺ سورہ الٓم السجدہ اور سورۂ ملک کی تلاوت کرتے تھے۔
حضرت عرباضؓ بن ساریہ کی روایت کے مطابق رسول کریمؐ بستر پر جاتے ہوئے وہ سورتیں جو اللہ کی تسبیح کے ذکر سے شروع ہوتی ہیں۔ (یعنی الحدید الحشر، الصّف، الجمعہ، التغابن اور الاعلیٰ) پڑھتے تھے اور فرماتے تھے ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔ حضرت خبابؓ کا بیان ہے کہ رسول کریمؐ بستر پر جانے سے قبل سورۂ کافرون سے لے کر آخر تک تمام سورتیں (اللھب، النصر، الاخلاص، الفلق، الناس) پڑھ کر سوتے تھے۔
حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریمﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملی۔ آپٍؐ نے پہلے سورہ البقرہ پڑھی۔ آپؐ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رُک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرے مگر رُک کر پناہ مانگی۔ پھر نماز میں قیام کے برابر آپؐ نے رکوع فرمایا۔ جس میں تسبیح وتحمید کرتے رہے۔ پھر اسی قیام کے برابر سجدہ کیا۔ سجدہ میں بھی یہی تسبیح اور دعا پڑھتے رہے۔ پھر کھڑے ہو کر آل عمران کی تلاوت کی۔ پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک سورۃ پڑھتے رہے۔
رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس میں قرآن شریف کی تلاوت کا شغف اپنے عروج پر ہوتا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نیکیوں میں سب لوگوں سے سبقت لے جانے والے تھے اور سب سے زیادہ آپ کی یہ شان رمضان میں دیکھی جاتی ہے۔ جب جبریل ؑ آپؐ سے ملاقات کرتے تھے اور یہ ملاقات رمضان کی ہر رات کو ہوتی تھی۔ جس میں رسول کریمؐ سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے یعنی آپؐ سے قرآن سنتے بھی تھے اور آپؐ کو سناتے بھی تھے۔ اس زمانے میں رسول اللہؐ کی نیکیوں کا عجب عالم ہوتا تھا۔ آپؐ تیز آندھی سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔ جب ان پر رحمان خدا کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے خدا کے حضور ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ خشوع میں انہیں اور بڑھا دیتا ہے۔ (بنی اسرائیل:110) ۔ دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن کا کلام سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں۔
نبی کریمؐ قرآن شریف کے مضامین میں ڈوب کر تلاوت کرتے تھے اور اس کے گہرے اثرات آپؐ کی طبیعت پر ہوتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ! آپؐ کے بالوں میں سفیدی جھلکنے لگی ہے۔ فرمایا ہاں! مجھے سورۂ ھود، الواقعہ، المرسلات، النبا اور التکویر نے بوڑھا کر دیا ۔ (ان سورتوں میں گذشتہ قوموں کا ذکر ہے جو رسولوں کے انکار کی وجہ سے ہلاک ہوئیں)۔ رسول کریمؐ نے بعض مواقع پر صحابہ کو سوزوگداز سے بھری آواز میں قرآن کریم کی تلاوت سنائی۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ایک دفعہ انہیں سورہ رحمان تلاوت کر کے سنائی۔ رسول کریمؐ نے سورت کی تلاوت مکمل ہونے پر اس سکوت کو توڑتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک قومِ جن کو جب یہ سورت سنائی تو انہوں نے تم سے بھی بہتر نمونہ دکھایا۔ جب بھی میں نے

فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان

کی آیت پڑھی تو وہ قوم جواب میں کہتی تھی۔

لَابِشَیْ ءِ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ وَلَکَ الْحَمْد۔

یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو جھٹلاتے نہیں اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔
قیس بن عاصمؓ نے نبی کریمؐ سے وحی سننے کی خواہش کی تو آپؐ نے سورۃ الرحمان سنائی، پھر اُس کی خواہش پر تین بار سنائی۔ جس پر وہ کہہ اٹھا خدا کی قسم اس کلام میں روانی اور ایک شیرینی ہے اس کلام کا نچلا حصہ زرخیر ہے تو اوپر کا حصہ پھلدار ہے۔ اور یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔
ایک دفعہ حضرت ابی بنؓ کعب نے رسول کریمؐ کی موجودگی میں صحابہ کو قرآن کی تلاوت سنائی تو سب پر رقت طاری ہو گئی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا رقت کے وقت دعا کو غنیمت جانو کیونکہ رقت بھی رحمت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ایک روز آپؐ نے فرمایا کچھ قرآن سناؤ۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے جس میں آپؐ کو تمام انبیاء پر گواہ لانے کا ذکر ہے (النساء:42) تو آپؐ ضبط نہ کر سکے اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا بس کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہؐ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔ آپؐؐ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر پڑے۔ پھر بیس مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپؐ روتے روتے گر پڑتے۔ آخر میںمجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔
کندہ قبیلہ کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ سے نشانِ صداقت طلب کیا۔ آپؐ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کلام پر باطل کبھی بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے۔ پھر آپؐ نے سورۂ الصافات کی ابتدائی چھ آیات کی تلاوت فرمائی۔ یہاں تک کہ آواز گلوگیر ہوگئی۔ آپؐ ساکت بیٹھے تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ لوگ یہ عجیب ماجرا دیکھ کر حیران ہوکر کہنے لگے کیا آپؐ اپنے بھیجنے والے کے خوف سے روتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اسی کا خوف مجھے رُلاتا ہے جس نے مجھے صراط مستقیم پر مبعوث فرمایا ہے۔ مجھے تلوار کی دھار کی طرح سیدھا اس راہ پر چلنا ہے اگر ذرا بھی میں نے اس سے انحراف کیا تو ہلاک ہوجاؤں گا۔
مختلف نمازوں میں آنحضورﷺ قرآن کریم کے مختلف حصوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس حوالہ سے کئی روایات بیان کی جاتی ہیں۔
تلاوتِ قرآن شروع کرنے سے پہلے آنحضورؐ تعوذ پڑھتے تھے نیز ہر اہم کام کی طرح تلاوت سے پہلے بھی بسمِ اللّہ کا پڑھنا موجب برکت سمجھتے تھے۔ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپؐ کو لمبی آواز کے ساتھ آمین کہتے بھی سنا گیا۔ ایک روایت کے مطابق آپؐ کو بقرہ کی دعائیہ آیات کے آخرپر جبرائیل ؑ نے آمین کہنے تلقین کی تھی۔ اسی طرح کئی آیات کے جواب میں بھی آپؐ بعض کلمات کہا کرتے تھے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ سورۃ نصر کے نازل ہونے کے بعد نبی کریمﷺ نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر اس میں

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ

(یعنی اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرو اور اس سے بخشش طلب کرو) کے ارشاد قرآنی کی تعمیل میں یہ دعا پڑھتے تھے:

سُبْحَانَکَ رَبَّنّا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔

الغرض قرآن آپؐ کی روح کی غذا تھا۔ اور آپؐ کی قلبی کیفیت یہی تھی۔ ؎

دل میں یہی ہے ہردم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گردگھوموں کعبہ میرا یہی ہے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/j1PT9]

اپنا تبصرہ بھیجیں