زندگی بھر کی اذیت سے کڑا تھا وہ دن – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 دسمبر 2011ء میں سانحہ لاہور کے حوالہ سے کہا گیا مکرم ڈاکٹر فضل الرحمن بشیر صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

زندگی بھر کی اذیت سے کڑا تھا وہ دن
جب مری روح کا ہر زخم چھلک اُٹھا تھا
دکھ تو پہلے بھی بہت جھیلے تھے ، اس روز مگر
شعلۂ غم تھا کہ رگ رگ میں بھڑک اُٹھا تھا

وہ جو معصوم نہتے بھی تھے۔ محصور بھی تھے
لبِ محراب جو تڑپا تو تڑپتا ہی رہا
آگ اگلتی رہی بندوق ، اُگلتی ہی رہی
خون زخموں سے جو بہتا تھا وہ بہتا ہی رہا

یوں رگِ جان سے چھلکا در و دیوار پہ خوں
کسی پوشاک پہ چھینٹے ، کسی دستار پہ خوں
عہدِ جمہور پہ اک حرفِ ملامت ٹھہرا
کسی پیشانی سے بہتا لب و رخسار پہ خوں

کبر شاہوں کا اُٹھائے ہوئے سر ڈولتا ہے
جب کوئی خاک میں آنکھوں کے گہر رولتا ہے
’’لب خاموش کی خاطر وہی لب کھولتا ہے
جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتا ہے‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں