سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ برطانیہ 2010ء

سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ برطانیہ 2010ء کا کامیاب انعقاد
سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی بابرکت شمولیت ۔ تقسیم ا نعامات اور اختتامی خطاب
(مختلف علمی وورزشی مقابلہ جات ۔ باربی کیو۔ تربیت اولاد فورم، وصیت فورم اور
مختلف ابتلائوں اور ان کے نتیجہ میں جماعت پر نازل ہونے والے افضال الٰہی کا تذکرہ)

( محمود احمد ملک، ناظم رپورٹنگ اجتماع)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن 17 دسمبر 2010ء)

روحانی جماعتوں کے لئے روحانی اجتماعات کی اہمیت کئی پہلوؤں سے بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس طرح تعلیم و تربیت کے مواقع میسر آتے ہیں، اخلاقی سطح بلند ہوتی ہے۔ علمی اور ورزشی پروگراموں میں شمولیت کے علاوہ تلقین عمل اور دیگر تعمیری پروگراموں میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ دوستوں کی باہم ملاقات بھی اس کا ایک اہم مقصد ہے لیکن برطانیہ کے اجتماعات کی سب سے بڑی برکت خلافت کی قربت اور حضور انور ایدہ اللہ کی نصائح براہ راست سننے کی سعادت نصیب ہونا بھی ہے۔ یہ ساری برکات اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال کے سالانہ اجتماع انصاراللہ کے ذریعہ برطانیہ کے انصار کو ایک بار پھر میسر آئیں۔ الحمدللہ علیٰ ذٰلک
امسال مجلس انصار اللہ برطانیہ کا سہ روزہ سالانہ اجتماع یکم تا 3؍ اکتوبر 2010ء (بروز جمعۃ المبارک ، ہفتہ ، اتوار) اسلام آباد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت کامیابی سے منعقد ہوا۔ الحمدللہ۔ امسال بھی لجنہ اماء اللہ برطانیہ کا سالانہ اجتماع بھی انہی ایام میں اسلام آباد میں ہی منعقد کیا گیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دونوں اجتماعات ایک ہی مقام پر منعقد کرنے کے حوالے سے پہلا تجربہ گزشتہ سال کیا گیا تھا جو اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے کامیاب رہا تھا اور برطانیہ کے دُوردراز علاقوں سے آنے والی فیملیوں کے لئے بہت آسانی ہوگئی تھی۔ چنانچہ امسال بھی یہ سلسلہ جاری رکھا گیا۔
انصاراللہ کے اجتماع کے حوالے سے کئی ماہ پہلے عملی کام کا آغاز کردیا گیا تھا اور ایک اجتماع کمیٹی مکرم مرزا عبدالرشید صاحب کی سرکردگی میں مختلف امور سرانجام دینے کے لئے سرگرم عمل ہوچکی تھی۔
اجتماع کا پہلا دن
یکم اکتوبر 2010ء بروز جمعۃ المبارک اجتماع کا باقاعدہ افتتاح سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ سے فرمایا۔ حضور انور کا خطبہ جمعہ اسلام آباد میں نصب کی جانے والی مارکیوں میں براہ راست سنا گیا جس میں حضور انور نے اجتماع کے بنیادی مقصد عبادت اور خصوصاً نماز کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔
حسب پروگرام مجلس انصاراللہ برطانیہ کی مجلس شوریٰ کا انعقاد یکم اکتوبر 2010ء بروز جمعۃ المبارک کیا گیا تھا جس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز قریباً گیارہ بجے صبح محترم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ عہد دہرانے اور دعا کرنے کے بعد محترم صدر صاحب نے افتتاحی تقریر میں گزشتہ سال کے اہم امور کا ذکر کیا اور آئندہ پیش آمدہ معاملات کے حوالے سے حاضرین کی راہنمائی کی۔ اس کے بعد مجلس شوریٰ کے لئے منتخب ہونے والی تجاویز پر غور کے لئے دو سب کمیٹیوں جن کا تعلق تربیت اور مال کے شعبہ جات سے تھا، کے اجلاسات بعد ازاں شروع کردیئے گئے۔ مجلس شوریٰ کے اختتامی اجلاس میں سب کمیٹیوں کی رپورٹس پر غور کرنے اور مختصر بحث کرنے کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دیدی گئی۔ یہ سفارشات منظوری کے لئے سیدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کی جائیں گی۔
یکم اکتوبر 2010ء بروز جمعۃ المبارک کی شام قریباً سات بجے نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد اجتماع کے پہلے اجلاس کے آغاز سے قبل لوائے انصار اللہ لہرانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے لوائے انصاراللہ جبکہ محترم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ برطانیہ نے لوائے برطانیہ لہرایا۔ دعا کے بعد اجتماع کے افتتاحی اجلاس کی کاروائی کا آغاز محترم امیر صاحب برطانیہ کی صدارت میںہوا۔
تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد محترم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں برطانیہ میں ہونے والی جماعتی ترقیات کے ضمن میں بیان کیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ آج جو مارکی انصاراللہ کے اجتماع کے لئے لگائی گئی ہے، اتنے ہی سائز کی مارکی جلسہ سالانہ کے انعقاد کے لئے لگائی جاتی تھی۔ لیکن اب اسلام آباد اجتماع کے لئے چھوٹا ہوگیا ہے۔آپ نے بتایاکہ خلافت احمدیہ وہ نعمت عظمیٰ ہے جس کی برکت سے اور جس کی ہدایات پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمیشہ کامیابیاں ہی عطا فرمائی ہیں چنانچہ حضور انور کی ہدایات کے مطابق لیفلٹس کی تقسیم اور بسوں پر دیئے جانے والے محبت کے پیغام، نیز قرآن کریم جلانے کی دھمکی سے متعلق جماعت احمدیہ کے ردّعمل نے ہمارے لئے جہاں عوام کے ذہنوں میں احمدیت کی تعلیم کی عظمت اجاگر کی ہے وہاں دوسرے مسلمانوں کے ردّعمل نے اُن کی حیثیت بھی واضح کردی ہے۔
محترم امیر صاحب نے خلافت سے وابستگی نہ ہونے کے باعث عام مسلمانوں کی حالت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ والسال میں احمدیہ مسجد کے قیام کے وقت وہاں کے ملّاؤں نے ایک جلوس نکالا جس میں بڑے بڑے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا: “No Mosque”۔ اسی طرح ایسٹ لندن میں ہماری مسجد کے افتتاح کے موقع پر تشریف لانے والے انگریز پولیس کمانڈر نے بتایا کہ اُن کو اِس تقریب میں شمولیت سے روکنے کے لئے ملّاؤں کا ایک وفد اُن سے ملا اور مختلف دلائل دیئے کہ کیوں اُنہیں اِس تقریب میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ آخری اور پُرزور دلیل یہ تھی کہ احمدی برطانوی حکومت کے ایجنٹ ہیں اس لئے ان سے بچنا چاہئے۔
محترم امیر صاحب نے بتایا کہ برطانیہ میں اسلامی اخلاق کے کئی پہلو یہاں کی معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں اس لئے اگر ہم برطانوی عوام کو اسلام کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تقویٰ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کو بھی عمدہ بنانا ہوگا اور آج تبلیغ کے میدان میں یہی بات سب سے زیادہ اہم ہے۔ نیز خلافت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے خلافت احمدیہ کی ترقی اور حضور انور کی صحت و عافیت کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ ہماری ترقیات خلافت سے ہی وابستہ ہیں۔
اس کے بعد ’’ذکرحبیبؑ‘‘ کے عنوان سے مکرم نصیر احمد قمر صاحب نے تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یورپ میں تبلیغ کے لئے تڑپ اور اس کے لئے کی جانے والی کوششوں کو تفصیل سے بیان کیا اور ا س سلسلہ میں حضورعلیہ السلام کی زندگی کے مختلف واقعات اور آپ کی تحریرات و فرمودات بیان کرتے ہوئے انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ حضورعلیہ السلام کو اسلام کا ایسا درد تھا کہ حضورؑ فرماتے ہیں کہ پندرہ سولہ سال کی عمر سے ہی مجھے شوق تھا کہ صلیبی فتنہ کا قلع قمع کروں۔ اور اس مقصد کے لئے آپؑ مختلف اعتراضات کو اکٹھا کرتے اور پھر اُن کا مدلّل جواب دیتے۔ نوجوانی میں آپ کے دائیں بازو کی ہڈی کسی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی اور بعد میں ساری عمر اُس ہاتھ سے چائے کی پیالی اٹھانا بھی آپؑ کے لئے ممکن نہیں تھا لیکن جب اسلام کے دفاع کی بات تھی تو آپؑ نے اپنے اُسی ہاتھ سے اسّی(80) سے زیادہ شاندار کتب تصنیف فرمائیں۔ اور اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا کہ ’’اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے ، وہ کیا ہے ہمارا اسی راہ میں مرنا‘‘۔ اسی طرح حضورؑ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی میرا پیارا بننا چاہتا ہے اور میری دعائیں لینا چاہتا ہے تو اُسے چاہئے کہ وہ ہمیں یقین دلادے کہ وہ خادم دین ہے۔
اس تقریر کا انگریزی میں خلاصہ مکرم ڈاکٹر مجیب الحق خانصاحب نے پیش کیا جس کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں ’’باربی کیو ‘‘ سے لطف اندوز ہونے کے بعد اجتماع کا پہلا روز بخیروخوبی اختتام کو پہنچا۔
اجتماع کا دوسرا دن
ہفتہ 2 ؍اکتوبر2010ء کو صبح پانچ بجے نماز تہجد ادا کی گئی۔ نماز فجر کے بعد مکرم عبدالمومن طاہر صاحب انچارج عربی ڈیسک نے درس قرآن کریم دیا۔
اجتماع کا پہلا اجلاس صبح قریباً دس بجے تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جس میں علمی مقابلہ جات (تلاوت، نظم اور فی البدیہہ تقریر) منعقد ہوئے۔ اسی دوران میدان عمل میں والی بال، گولہ پھینکنا اور کلائی پکڑنا وغیرہ کے ابتدائی مقابلہ جات کا انعقاد بھی ہوا۔ قبل از دوپہر علمی اور ورزشی مقابلہ جات کے پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ گئے جس کے بعد دوسرا اجلاس بعنوان ’’تربیت اولاد‘‘ منعقد ہوا۔
تربیتی اجلاس کا آغاز دوپہر ایک بجے مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم سے ہوا ۔ پہلی تقریر مکرم چودھری محمد ابراہیم صاحب کی اردو زبان میں تھی جس میں انہوں نے اعلان نکاح کے موقع پر تقویٰ کی اہمیت اور رشتہ کے پس منظر میں قول سدید کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ دوسری تقریر میں مکرم ڈاکٹر شبیر احمد بھٹی صاحب نے انگریزی زبان میں رشتوں کے ٹوٹنے کی وجوہات بیان کیں۔ شادی کے بعد ساس اور بہو کے حوالے سے اختلافات کو تقویٰ میں کمی کا نتیجہ ثابت کیا۔ پھر غیروں میں شادی کرنے کے بداثرات پر روشنی ڈالی اور غیروں کی طرف سے احمدی بچوں اور بچیوں کو باقاعدہ ورغلانے کی کوششوں کے حوالے سے بعض مشاہدات بیان کئے۔ تیسری تقریر میں محترم امیر صاحب نے فرمایا کہ دراصل جماعتی تعلق میں کمی کے باعث ہمارے بچے غیروں کے فتنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی نسلوں کی تربیت کے حوالے سے اپنے فرض کو پہچانیں اور اپنے بچوں کے دوست، ناصح اور حقیقی سرپرست بن کر دکھائیں۔ آپ نے بتایا کہ حضور انور کے ارشاد پر جماعت نے تحقیق کی ہے کہ رشتوں کے ختم ہونے کی وجوہات کیا ہیں یعنی کیا ثقافت کا فرق، عادات میں فرق، جان بوجھ کر تکلیف پہنچانے کی کوشش یا پھر تقویٰ کی کمی۔ تو ہمیں معلوم ہوا ہے کہ صبر کی کمی ایک بہت بڑا عنصر ہے اور تکبر دوسری بڑی وجہ ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اپنے گھروں میں بھی باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں، کم از کم ایک کھانا سب لوگ اکٹھے کھائیں۔ جماعتی تقاریب میں بچوں کو ہمراہ لے کر آئیں اور خلیفۂ وقت سے تعلق مضبوط کریں۔
نمازوں کی ادائیگی اور وقفۂ طعام کے بعد تیسرے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا ۔ اس اجلاس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ برطانیہ نے بتایا کہ جماعت پر آنے والے مختلف ابتلاؤں اور اُن کے نتیجے میں ہونے والے افضال الٰہی کا تذکرہ ہوگا۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کی تھی۔ آپ نے آنحضرت ا کی بابرکت زندگی میں دشمنان اسلام کی طرف سے دیئے جانے والے مصائب اور مسلمانوں کے صبر کے واقعات کو نہایت تفصیل سے اور بہت پُراثر انداز میں بیان کیا اور خصوصاً طائف کے سفر، شعب ابی طالب میں اسیری کے عرصہ اور غزوات کے علاوہ دیگر مواقع پر دشمنوں کی طرف سے دھوکہ دے کر صحابہؓ کی شہادت کے واقعات کو بیان کیا۔ آپ کی تقریر کے بعد مکرم خالد چغتائی صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کا کلام ’’دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل برمانے دو‘‘ خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔
دوسری تقریر مکرم اخلاق احمد انجم صاحب مربی سلسلہ کی تھی۔ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ حضورؑ پر نہ صرف کفر کے فتوے لگائے گئے اور متعدد جھوٹے مقدمات بنائے گئے بلکہ آپؑ کے صحابہؓ کو شہید بھی کیا گیا لیکن دشمن ہمیشہ ناکام و نامراد رہا۔ اسی طرح 1934 ء میں فتنہ احرار نے قادیان میں آکر شورش کی لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت جرأت سے احرار کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم سارے مل جاؤ، اور دن رات منصوبے کرو۔ منصوبے کمال تک پہنچا دو لیکن یاد رکھو کہ تم نامراد ہوکر مٹی میں مل جاؤگے اور مَیں اور میری جماعت فتح پائیں گے۔
تیسری تقریر مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ کی انگریزی زبان میں تھی۔ آپ کا موضوع 1953ء میں جماعت احمدیہ پر ہونے والے مظالم کا بیان تھا جن کے دوران حکومت بھی واضح طور پر جماعت کے خلاف سرگرم عمل تھی۔ حتیٰ کہ گورنر پنجاب اسماعیل چندریگڑھ نے حضرت مصلح موعودؓ پر بولنے کی پابندی کا حکم بھی جاری کیا۔ جس پر حضورؓ نے یہ پیغام لانے والے افسر سے کہا کہ میری گردن تمہارے گورنر کے ہاتھ میں ہے اور تمہارے گورنر کی گردن میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے …۔ چند ہی روز میں حیرت انگیز طور پر گورنر کو نااہل قرار دے کر اُس کے عہدے سے الگ کردیا گیا۔ اسی طرح چیف منسٹر ممتاز دولتانہ کی متعصبانہ اور معاندانہ حرکتیں تھیں اور اُس کا بدانجام بھی اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا۔ اُ س کا وزیراعظم بننے کا خواب چکناچور ہوکر ختم ہوگیا۔ اسی بارہ میں حضورؓ نے فرمایا تھا کہ اللہ میری مدد کے لئے دوڑا چلا آرہا ہے۔ اگرچہ 1953ء کے فتنہ میں بعض احمدیوں کو شہید بھی کیا گیا لیکن بعد میں مخالفین نے اقرار کیا کہ فتنہ کے بعد جماعت کی مضبوطی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس تقریر کے بعد مکرم جمیل الرحمن صاحب نے 1974ء کے حوالہ سے کہی جانے والی اپنی ایک نظم پیش کی جس کا پہلا شعر ہے:

تمام شہر میں اِک حشر سا بپا دیکھا
گلی گلی میں روا ظلم ناروا دیکھا

اگلی تقریر مکرم لئیق احمد طاہر صاحب کی تھی جو 1974ء میں احمدیت کے خلاف اٹھنے والے فتنہ کے عینی شاہد بھی تھے۔ آپ نے اِس فتنہ کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور اسلامی کانفرنس کے بعد خلافت احمدیہ کے خلاف چلنے والی اِس تحریک کے روح رواں سیاسی لوگوں کے بدانجام کو بیان کیا جن میں بھٹو، شاہ فیصل، عیدی امین اور بعض دوسرے شامل ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی قومی اسمبلی میں حاضری کے حوالے سے حضورؒ خود فرماتے ہیں کہ باون گھنٹے مجھ سے سوالات پوچھے گئے اور اِس دوران مَیں نے خدا کے فرشتوں کو اپنے ساتھ کھڑے ہوئے دیکھا۔ چنانچہ جب ایک بار اُس زمانہ کے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق سے سوال کیا گیا کہ جس کارروائی کے تحت احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا ہے، اُس کو پوشیدہ کیوں رکھا گیا ہے تو اُن کا جواب تھا کہ اگر وہ کارروائی دکھادی جائے تو آدھا ملک احمدی ہوجائے۔ فاضل مقرر نے احمدیوں کی قربانیوں کی داستانیں بھی بیان کیں اور احمدیوں پر مظالم توڑنے والوں کے بدانجام کا بھی ذکر کیا۔ اس تقریر کے بعد مکرم مجاہد جاوید صاحب نے محترمہ صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ کی درج ذیل نظم اپنی خوبصورت آواز میں پیش کی:

عرفان کی بارش ہوتی تھی جب روز ہمارے ربوہ میں
اے کاش کہ جلدی لَوٹ آئیں وہ دن وہ نظارے ربوہ میں

اس اجلاس کی اگلی تقریر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن و مبلغ انچارج یوکے کی انگریزی میں تھی جس کا موضوع 1984ء میں خلیفہ وقت کی ہجرت اور اُس کے ثمرات تھا۔ آپ نے اِس ہجرت کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے ضیاء الحق کی دشمنی کے اظہار اور مختلف واقعات سے اُس کے عملی اقدامات بیان کئے پھر ہجرت کے سفر کے دوران معجزانہ واقعات بھی بیان کئے اور پھر مباہلہ کے نتیجہ میں ضیاء الحق کی ہلاکت کا واقعہ بیان کیا۔ اس واقعے کی لیکھرام کی ہلاکت سے مماثلت کا بھی اظہار کیا کیونکہ دونوں واقعات میں قاتل کا سراغ نہیں مل سکا۔ آپ نے ہجرت کے بعد نہایت عظیم الشان ترقیات کو اختصار سے بیان کیا جن میں وقف نو سکیم کا اجراء، صدسالہ جوبلی کا انعقاد، قادیان کے تاریخی دورے کی کامیابی، مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کا اجراء اور دیگر بے شمار سکیموں اور تحریکات کا اجراء شامل ہیں۔ تقریر کے اختتام سے قبل آپ نے خلافت خامسہ کی خصوصیات پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔ قریباً اسی وقت لجنہ مارکی میں کلوز سرکٹ ٹی وی کے ذریعے بھی یہ پروگرام دکھانا شروع کردیا گیا۔
محترم امام صاحب کی تقریر کے بعد مکرم چودھری منصور احمد صاحب نے محترمہ صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ کی یہ نظم خوش الحانی سے پیش کی:

جو الٰہی جماعت کی تقدیر ہیں
ہم پہ بھی تو وہی ابتلا آگئے

اس کے بعد مکرم سید نصیر احمد شاہ صاحب چیئرمین مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ نے اپنی انگریزی تقریر میں بیان کیا کہ آپ کو واقعۂ لاہور سے اگلے ہی دن لاہور پہنچنے کا اتفاق ہوا اور آپ دونوں مقامات پر گئے۔ دونوں جگہ آپ نے عینی شاہدین سے ملاقات کی اور اُن سے واقعات سنے۔ یہ سب لوگ نہایت غم کی کیفیت سے گزرنے کے باوجود ایمان کی دولت سے مالامال تھے۔ آپ کو محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے یہ واقعہ سنایا کہ جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر وہ ہر شہید کے گھر والوں سے تعزیت کرنے کے لئے گئے تو ایک ایسے گھر میں بھی گئے جن کا واحد کفیل شہادت کا رتبہ پاچکا تھا۔ حالات سن کر آپ آبدیدہ ہوگئے۔ اس پر اُس شہید کی سترہ سالہ بیٹی نے آپ کو تسلّی دینی شروع کی۔ یہی کیفیت دیگر جگہوں پر بھی نظر آئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے دشمن کا کوئی ظلم کسی احمدی کو ایمان کی راہ میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹاسکا۔ آپ نے شہدائے لاہور کے حوالے سے مکرم ڈاکٹر فضل الرحمن بشیر صاحب کی ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی اور ایک ویڈیو فلم کے ذریعے احمدیوں پر پاکستان میں ہونے والے مظالم اور احمدیوں کے جرأتمندانہ ردّعمل کی تصویرکشی بھی کی۔
اِس اجلاس کے آخری مقرر مکرم لطف الرحمن صاحب تھے جو احمدیہ مسجد ماڈل ٹاؤن میں کھیلی جانے والی دہشت گردی کی حرکت کے عینی شاہد تھے۔ آپ نے بیان کیا کس طرح مربی سلسلہ مکرم محمود احمد شاد صاحب آخری وقت تک بڑے حوصلے اور جرأت کے ساتھ کھڑے ہوکر احمدیوں کو ہدایات دیتے رہے اور نہتے احمدیوں نے اِس ظالمانہ حملے کے دوران کوئی واویلا نہیں کیا بلکہ اگر گولیوں کے چلنے کی آوازوں کے علاوہ کوئی آواز سنائی دیتی تو وہ کلمہ طیبہ کی اور دیگر دعاؤں کی تھی۔ حتیٰ کہ اس موقع پر کسی نے آواز دی کہ میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف میں سے اگر کوئی ہو تو مسجد کے ہال میں آجائے تو ایسے احمدی والہانہ انداز میں گولیوں کی بوچھاڑ کی پروا کئے بغیر مسجد میں چلے گئے اور اپنے زخمی بھائیوں کو طبّی امداد دینے لگے۔
اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سٹیج ڈیزائن کا پس منظر بھی شہدائے احمدیت کو خراج عقیدت پیش کرنا ہی تھا۔ چنانچہ مسجد دارالذکرلاہور کے عکس کے ساتھ قرآن کریم کی جو آیت (سورۃالاحزاب آیت 24) دی گئی ہے اُس کا تعلق بھی اسی مضمون سے ہے۔ آیت کا اردو اور انگریزی ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ یہ ہے: ’’مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے پورا کردکھایا۔ پس اُن میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منّت کو پورا کردیا اور اُن میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز (اپنے طرز عمل میں) کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔ بینر کے بائیں جانب ایک نظم کے چند اشعار بھی تحریر ہیں۔ پہلا شعر یوں ہے:

گلشن احمد کو مہکاتی ہے خوشبوئے شہید
اٹھ رہی ہے رشک سے ہر اک نظر سوئے شہید

اس نہایت ایمان افروز اجلاس کا اختتام مکرم صدر صاحب مجلس اور محترم امیر صاحب کے مختصر خطابات سے ہوا۔ جس کے بعد حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی اقتداء میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی گئیں اور پھر کھانا پیش کیا گیا۔
اجتماع کا تیسرا دن
اتوار 3 ؍اکتوبر2010ء کو صبح پانچ بجے نماز تہجد ادا کی گئی۔ نماز فجر کے بعد مکرم ظہیر احمد خان صاحب استاذالجامعہ نے درس حدیث دیا ۔
قریباً دس بجے آج پہلا اجلاس شروع ہوا جس میں تقریر اور حفظ قرآن کے مقابلہ جات منعقد کروائے گئے۔ اس کے بعد وصیت فورم منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مکرم منصور احمد کاہلوں صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ نے کی۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی تھی۔ آپ نے بتایا کہ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گزشتہ سال اجتماع کے موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ صف دوم کے انصار وصیت کرنے کی طرف خاص توجہ دیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے بعض ارشادات بھی محترم امام صاحب نے پڑھ کر سنائے مثلاً ’’ایمانداری کی مہر اُس پر لگے گی جو اِس نظام میں شامل ہوتا ہے‘‘۔ ’’یہ نظام طیب اور خبیث کے گروہوں میں فرق ہے۔ بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا اور اُن کی پردہ دری ہوگی‘‘۔ ’’اس کام میں سبقت دکھانے والے راستبازوں میں شمار ہوں گے‘‘۔ ’’اس نظام کا حصہ بنوگے تو بہشتی زندگی پاؤگے‘‘۔
اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مرزا نصیر احمد صاحب استاذالجامعہ کی تھی۔ آپ نے بھی وصیت کے حوالے سے حضور انور کی خواہش کو بیان کرنے کے بعد مختلف وساوس اور اُن کے علاج کا ذکر کیا جو کسی انسان کے وصیت کرنے کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والوں کے لئے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کا وارث بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کے بعد لجنہ مارکی سے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کو براہ راست انصار مارکی میں بھی سنایا اور کلوزسرکٹ ٹی وی کے ذریعہ دکھایا گیا۔
(حضور انور کے اس خطاب کا خلاصہ الفضل انٹرنیشنل میں شائع ہو چکاہے)۔
اس کے بعد انصار مارکی میں وصیت کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی ۔ بعد ازاں محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت یوکے نے مختلف مقابلوں میں دوم اور سوم آنے والوں میں انعامات تقسیم کئے اور اس طرح یہ اجلاس بھی اختتام پذیر ہوا۔ اور پھر کھانے کا وقفہ ہوا۔
سہ پہر چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشریف لاکر ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں جس کے بعد تلاوت قرآن کریم سے اجتماع کے اختتامی اجلاس کا آغاز ہوا پھر تمام انصار نے حضور انور کی نیابت میں انصار اللہ کا عہد دہرایا۔ بعد ازاں نظموں کے بعد محترم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔ آپ نے بتایا کہ امسال حاضرین کی تعداد 1600 سے زیادہ ہے جو کہ گزشتہ سال 1400 تھی۔ اس کے بعد تقریب تقسیم انعامات ہوئی اور علمی و ورزشی مقابلہ جات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے انصار اور دوران سال مجموعی طور پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مجالس اور ریجن کے زعماء کرام نے حضور انور کے دست مبارک سے انعامات حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اپنے اختتامی خطاب میں سیّدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روایات میں سے انتخاب پیش فرمایا جو رجسٹر روایات صحابہ سے لی گئی تھیں۔
(حضور انور کے اختتامی خطاب کا خلاصہ الفضل انٹرنیشنل میں شائع ہو چکاہے)۔
خطاب کے آخرپر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی جس کے ساتھ یہ سالانہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
اس اجتماع کے حوالہ سے اہم بات یہ بھی ہے کہ تینوں روز موسم نہ صرف ابر آلود رہا بلکہ شدید بارش بھی ہوئی جس کی وجہ سے اگرچہ ورزشی مقابلہ جات پر اثر پڑا تاہم احباب نے مکمل نظم و ضبط کے ساتھ علمی اور تربیتی پروگرام سے بھرپور استفادہ کیا اور اللہ کے فضل سے حاضری پر کوئی منفی اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے۔ الحمدللہ

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں