سمندر کی گہرائیوں میں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍ستمبر 2006ء میں مکرم پروفیسر طاہر احمد نسیم صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے جس میں سمندر کی گہرائیوں میں انسانی جسم پر اثرات پر سیرحاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔
پانی چونکہ ہوا کی نسبت بہت زیادہ کثیف ہوتا ہے اس لئے اس کے اندر تیرنے والی چیزوں پر اس کا بہت زیادہ پریشر پڑتا ہے۔ صرف 15 میٹر پانی کے نیچے جانے کی صورت میں کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً گھپ اندھیرا، شدید ٹھنڈک اور پانی کا دباؤ۔ یہ دباؤ اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ انسان سانس لینے کے لئے ہوا کو خود Suck نہیں کر سکتا بلکہ ہوا کو نیچے پریشر کے ساتھ اُس کے جسم میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ پھر غوطہ خور کو ایک بھاری او رمضبوط سٹیل کا ہیلمٹ پہننا ہوتا ہے۔ اور اس ہیلمٹ کے وزن کو متوازن کرنے کے لئے اسی وزن کے جوتے پہننے ہوتے ہیں تا کہ وہ ہیلمٹ کے وزن سے پانی میں سر کے بل الٹا نہ کھڑا ہو جائے۔ سردی سے محفوظ رکھنے والے خاص سوٹ میں ہیلمٹ کے ساتھ دیکھنے کے لئے شیشے کے پینل آنکھوں کے سامنے لگے ہوتے ہیں اور پریشر کے ساتھ ہوا اس تک پہنچنے کی ٹیوب لگی ہوتی ہے۔ اسے ایک سٹیل کی تار کے ساتھ بحری جہاز یا کشتی سے سمندر میں اتارا اور واپس اوپر کھینچا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جو 1840ء میں سمندر میں ڈوبے ہوئے ایک جہاز کو ہٹا کر بحری راستہ صاف کرنے کے لئے پہلی بار استعمال کیا گیا تھا اور دیر تک یہی طریقہ استعمال ہوتا رہا۔ لیکن اس طریقہ میں ایک تو غوطہ خور زیادہ گہرائی میں نہیں جا سکتا تھا اور دوسرے اسے ہوا کی ٹیوب اور اوپر نیچے آنے جانے کی تار کو الجھنے سے بچانے کے لئے بہت احتیاط کرنا پڑتی تھی اس لئے وہ ڈوبے ہوئے جہاز کے اندرونی حصوں اور سمندر کے اندر کی چٹانوں کے غاروں وغیرہ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے 1942ء میں Aqualung ایجاد کیا گیا۔ اس میں دباؤ کے ساتھ بھری ہوا کے سلنڈر کوغوطہ خور اپنی پشت پراٹھا کر ساتھ لے جاتا ہے۔ اس سلنڈر میں ایک ایسا والو لگا ہوتا ہے جو جس قدر گہرائی میں غوطہ خور پہنچتا ہے پانی کے پریشر کے مطابق ہوا کے پریشر کو بھی زیادہ کرتا جاتا ہے تا کہ اسے سانس لینے میں آسانی رہے۔
لیکن اس میں پھر ایک اور مشکل سامنے آ جاتی ہے۔ ایک تو حد سے زیادہ بڑھی ہوئی سردی اور دوسرا پانی کا بے تحاشا دباؤ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پریشر تلے سانس لینے کے نتیجہ میں ہوا جو عام حالت میں ہر سانس کے لینے کے بعد پھیپھڑوں سے باہر نکل جاتی ہے، وہ خون میں جذب ہونے لگتی ہے اور اگر غوطہ خور پانی سے اچانک باہر آجائے تو اسے خون کے اندر ہوا کے جمع شدہ بلبلوں کی وجہ سے اس قدر شدید درد ہوتی ہے کہ یا تو وہ مستقل طور پر بیکار ہو جاتا ہے اور یا اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس عارضہ کو The Bends کہتے ہیں اور اس سے بچنے کے لئے صرف د س منٹ تک گہرے پانی میں کام کرنے کے بعد کئی گھنٹے پانی میں رہ کر خود کو Decompress کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اورمشکل یہ ہے کہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں یہ چار حصے نائٹروجن اور ایک حصہ آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہے۔ قدرت نے ہمارا نظام تنفس اس طرح بنایا ہے کہ آکسیجن جس کی ہمیں زندہ رہنے کے لئے اشد ضرورت ہے وہ ہر سانس کے اندر لینے پر ہمارے خون میں جذب ہو جاتی ہے لیکن نائٹروجن ہمارے استعمال شدہ خون میں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کے ساتھ مل کر ہمارے ہر باہر کو دھکیلے جانے والے سانس کے ساتھ باہر نکل جاتی ہے۔ پانی کے پریشر تلے دباؤ والی ہوا کے سانس لینے کی وجہ سے آکسیجن کے ساتھ کچھ نائٹروجن بھی ہمارے خون میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان کی حالت نشے میں مدہوش ہونے کی سی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کئی غوطہ خور اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ انہوں نے اس مدہوشی کی حالت میں اپنے منہ کو پانی سے محفوظ رکھنے والے Mouthpiece اتار دیئے تھے۔اس کیفیت سے محفوظ رہنے کے لئے آج کل غوطہ خور عام ہوا کی بجائے سلنڈروں میں آکسیجن اور ہیلیم گیس کی آمیزش کے سانس لیتے ہیں لیکن اس میں یہ خرابی ہے کہ اس سے گلے سے آواز پیدا کرنے والی Chords میں ایسا اثر ہوتا ہے کہ جب غوطہ خور ٹیلیفون یا کسی اور ذریعہ سے پانی سے اوپر والے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو ان کی آواز ایسی باریک سی ہو تی ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
Aqualung کی مدد سے انسان زیادہ سے زیادہ 120 میٹر کی گہرائی تک جا سکتا ہے۔چنانچہ اس کا ایک علاج یہ نکالا گیا کہ غوطہ خور خود تیرنے کے بجائے اپنے آگے انجن سے چلنے والی ایک لمبی سی گاڑی کو دونوں ہاتھ میں پکڑ کر تیرتا تھا۔ دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ راکٹ کی شکل کی ایک موٹر میں آگے پیچھے دو آدمی بیٹھ کر اسے کار کی طرح چلاتے تھے۔ لیکن یہ زیادہ گہرائی میں نہیں جا سکتی تھی اور انسان کا سمندر کے نیچے جانے کا اصل مقصد ان گاڑیوں سے پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ یعنی سمندر کی گہرائیوں میں پائی جانے والی معدنیات تک رسائی۔ تہ میں تیل کے ذخائر کی تلاش ، سمندری حیات پر تحقیق اور ان سب سے بڑھ کر دورحاضر کے جنگی تقاضے۔
پھر Bathysphere ایجاد ہوا۔ یہ ڈیڑھ میٹر قطر کا سٹیل کی موٹی چادر کا ایک مضبوط گولا تھا جو سٹیل کی موٹی تار کے ساتھ سمندر میں اتارا گیا۔ اس میں سانس لینے کے لئے آکسیجن کے سلنڈر رکھے گئے تھے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کے لئے خاص قسم کے کیمیکلز مہیا کئے گئے تھے۔ یہ گولہ 924 میٹر کی گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ گویا ایک بے جان گولہ تھا جو ادھر ادھر حرکت نہیں کر سکتا تھا اور پھر اتنی لمبی تار۔ اگر وہ ٹوٹ جائے تو؟ چنانچہ اسے ناقابل عمل قرار دے کر ترک کر دیا گیا۔ لیکن پہلے اس گولہ کے ساتھ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم لگایا گیا پٹرول کے پانی سے ہلکا ہونے کی وجہ سے یہ ڈرم پانی میں تیرتا رہتا تھا۔ گولہ میں خاص بھاری وزن رکھا گیا تھا تاکہ اگر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس وزن کو پانی میں پھینک دیا جائے۔ اس میں دو بجلی کی موٹریں لگی ہوئی تھیں اور باہر کی جگہ کے مشاہدہ کرنے اور تصویریں لینے کے لئے سرچ لائٹ اور کیمرے بھی لگے ہوئے تھے۔ اس گاڑی کو Bathyscaphe کانام دیا گیا ۔ یہ 4160 میٹر کی گہرائی تک پہنچی اور باقاعدہ ادھر ادھر گھوم پھر کر بہت قیمتی معلومات جمع کیں۔
سمندر کی گہرائی 10900 میٹر تک ہے یعنی تقریباً سات میل۔ جبکہ مضبوط سے مضبوط آبدوز بھی صرف چار سو میٹر تک جاسکتی ہے۔ بالآخر امریکی بحریہ نے اگست 1953ء میں کثیر لاگت سے تیار کیا ہوا Bathyscaphe سمندر میں اتارا اور یہ بحرالکاہل کی گہری ترین جگہ Marianas Trench تک جاپہنچا جو 10,900 میٹر گہری ہے۔
وہاں یہ حیرت انگیز بات معلوم ہوئی کہ اس ناقابل یقین اندھیرے اور ناقابل بیان دباؤ والی اتھاہ گہرائیوں میں بھی سمندری مخلوق موجود تھی۔ مچھلیاں اور دیگر ان گنت اقسام کی مخلوق۔ تحقیق ہونے لگی کہ اس مخلوق کا خول کس قدر مضبوط ہوگا، یہ روشنی کیسے پیدا کرتی ہوگی، دشمن سے بچنے کا طریق کیا ہوگا، نظام تنفس کا طریق کیا ہوگا؟ معلوم ہوا کہ یہ جانور خود اپنی روشنی پیدا کر سکتے ہیں۔ انتہائی حساس Feelers کے ذریعہ اردگرد کی اشیاء کا پتہ چلا سکتے ہیں مخصوص الیکٹرک فیلڈ کے ذریعہ اپنا راستہ معلوم کرسکتے ہیں۔
اس وقت سمندر کی گہرائیوں میں سفر کے لئے جدید ترین مشین Submersible استعمال ہورہی ہے۔ اس کے نیچے بنے ہوئے ایک خصوصی کمرے میں جو پانی سے بھرا ہوتا ہے اور جس میں پریشر پیدا کیا جاتا ہے غوطہ خور سوار ہو کر گہرے پانی میں جاتے ہیں۔ جب وہ مشین مطلوبہ گہرائی تک پہنچ جاتی ہے تو غوطہ خور تیر کر باہر نکل آتے ہیں اور کام ختم کرنے کے بعد پھر مشین میں واپس آ جاتے ہیں اب کمرہ سے پانی خارج کر دیا جاتا ہے لیکن پریشر برقرار رکھا جاتا ہے جو مشین کے واپس پانی کے اوپر پہنچنے کے بعد نکال دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ غوطہ خور The bend سے محفوظ رہتے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/QHyru]

اپنا تبصرہ بھیجیں