سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللّٰہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کینیڈا 2004ء کے موقع پر مستورات سے خطاب

آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے آپ کو احمدی گھرانے میں پیدا فرمایا
اعلیٰ معیار نہ صرف اپنے اندر قائم کرنے ہیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی رائج کرنے ہیں۔ اور جب یہ معیار قائم ہو جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے اس کے بدلے میں تمہارے لئے بخشش کا سامان تیار کیا ہے۔
قرآن کریم اور حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں پردہ کے متعلق اسلامی تعلیم
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللّٰہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا
جلسہ سالانہ کینیڈا کے موقع پر مستورات سے خطاب فرمودہ 3؍ جولائی 2004ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔
(سورۃ الأحزاب آیت 36)

اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردارمرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبرکرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کئے ہیں۔
احمدی عورت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے اُسے اِس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق دی۔ آپ جو اِس وقت یہاں میرے سامنے بیٹھی ہیں آپ میں سے بہت بڑی اکثریت ہے جنہوں نے احمدی ماں باپ کے گھر میں جنم لیا، احمدی ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ اس پر بھی آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے آپ کو احمدی گھرانے میں پیدا فرمایا اور ایک بہت بڑے ابتلاء سے بچا لیا۔ کیا پتہ آپ میں سے کتنی اگر احمدی گھر میں پیدا نہ ہوئی ہوتیں توان برکات سے فائدہ بھی اٹھا سکتیں یا نہیں جو اس زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس اگر انسان غور کرے تو اس کا رُواں رُواں اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر شکر کرنے لگ جاتا ہے۔ یہاں کئی عورتیں ایسی بھی بیٹھی ہیں جنہوںنے خود بیعت کی، اس زمانے کے امام کو پہچانا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے والی اور آپؐ کے ارشاد پر عمل کرنے والی بنیں اور اپنے ماحول سے، اپنے خاندان سے، اپنے گھر والوں سے، ٹکر لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے زمانے کے امام کو قبول کیا۔ یقینا یہ ان کے لئے بہت ہمت اور قربانی کا کام ہے۔ کئی عورتیں مجھے مل چکی ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے خود احمدیت قبول کی اور پھر اپنے خاندان کی طرف سے کیا کیا تکلیفیں ان کو ملیں اور برداشت کرنی پڑیں۔ آپ سب چاہے وہ پیدائشی احمدی ہیں یا خود بیعت کرکے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئی ہیں جب تک آپ جماعت احمدیہ کے ساتھ وابستہ ہیں، جب تک حضرت اقدس مسیح موعودؑکی جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں، اللہ کرے کہ یہ وابستگی ہمیشہ قائم رہے اور کبھی ابتلا نہ آئے،اس وابستگی کی وجہ سے بہرحال آپ پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ آپ کی گودوں سے احمدیت کی نسل نے نکل کر دنیا میں پھیلنا ہے اور پھیل رہی ہے۔
اس لئے آپ لوگوں کو اُس عہد کی وجہ سے جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس زمانہ کے امام سے کیا ہے، نئی نسل کی تربیت کے لئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی، اپنے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنے ہوں گے، اپنا ایک مطمح نظر بنانا ہو گا، ایک مقصد بنانا ہو گا۔ اور ایک سچے احمدی مسلمان کا مقصد یہی ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔ اِن نیکیوں میں آگے بڑھنے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہو گا، اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہو گا۔ ایک مومن عورت کی جو خصوصیات اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں وہ اپنے اندر پید اکرنی ہوں گی۔ اس دنیا کی چکا چوند اور معاشرے کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ اور نہ صرف اپنے آپ کو بچانا ہے بلکہ جماعت احمدیہ کی امانتیں یعنی وہ بچے اور وہ نسلیں جو آپ کی گودوں میں پل رہے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد کیا ہے ان کو بھی بچانا ہو گا۔ ان کی تربیت کی طرف بھی اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ توجہ دینی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے ایک مومن عورت کی، ایک کامل مسلمان عورت کی، کیا خصوصیات بتائی ہیں جس نے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں اور نہ صرف اپنے اندر قائم کرنے ہیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی یہ رائج کرنے ہیں۔ اور جب یہ معیار قائم ہوجائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خوش ہو کہ مَیں نے اس کے بدلے میں تمہارے لئے بخشش کا سامان تیار کیا ہے اور بہت بڑے انعام تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیںجو تمہیں اگلے جہان میں ملیں گے اور ان اعلیٰ معیاروں کی وجہ سے تم زندگی میں بھی اپنے میں اور اپنی نسلوں میں ان کو دیکھو گے۔اس لئے صرف دنیا کی عارضی رونقوں اور خوشیوں کے پیچھے ہی نہ پڑ جاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ بھی پیش نظر رکھو یہ خصوصیات کیا ہیں۔ مَیں مختصراً ان کاذکر کرتا ہوں۔
آغاز میں جومَیں نے آیت پڑھی ہے اس میں فرمایا کہ کامل فرمانبرداری اختیار کرو۔ کیونکہ اسلام نام ہے فرمانبرداری کا۔ جب تم نے بیعت کرلی تو جو احکامات ہیں ان کی پوری پابندی کرو۔ نظام جو تمہارے لئے لائحہ عمل بنائے اس پر مکمل طور پر کاربند ہو۔ اس پر مکمل طور پر چلو۔ نظام جماعت کے لئے تمہارے دل میں کبھی کسی قسم کا شک و شبہ یا کسی بھی قسم کا کوئی بال نہ آئے۔ نظام خلافت تمہارے اندر قائم ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ایسا ہو بھی تو خلیفۂ وقت کو پیش کرو۔ اگر تم اس طرح اپنی اور اپنی اولادوں کی زندگی گزارنے والی ہو گی تو پھر تم ایمان میں بھی ترقی کروگی۔ اور جب تم ایمان میں ترقی کرو گی تو روحانیت میں بھی ترقی کر رہی ہو گی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عرفان اور اس کا قرب بھی حاصل کر رہی ہو گی۔
پھر فرمایا کہ یہ بھی تمہاری خصوصیت ہونی چاہئے کہ تم ہمیشہ سچ بولنے والی ہو۔ کہیں کبھی یہ نہ ہو کہ تمہارا ذاتی مفاد تمہیں سچ سے دور لے جائے۔ اپنا فائدہ حاصل کرنے کے لئے کبھی یہ نہ ہو کہ تم جھوٹ بول جاؤ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر تم اپنے دعویٰ میںسچی نہیں۔ یہ بیعت کا اقرار جو تم نے کیا ہے تم اس میں سچی نہیں ہو گی۔ یاد رکھیں اگر ماں میں غلط بیانی کی عادت ہو گی تو بچوں میں بھی وہ عادت لاشعوری طور پر پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ اور پھر جب یہ گندی جاگ لگتی ہے تو باقی نیکیوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ تو سچ کے اعلیٰ معیار قائم کریں بلکہ قول سدید سے کام لیں یعنی اس حد تک سچ بولیں کہ کوئی ایسا لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ نکلے جس سے کئی مطلب نکالے جا سکتے ہوں،جو ہوشیاری اور چالاکی سے آپ نے ادا کیا ہو تاکہ ضرورت پڑے تو میں اس سے مُکر جائوں۔ صاف اور کھری بات کریں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بعض گھریلو مسائل میں بعض ایسی باتیں کی جائیں جوبچوںکو اپنے بڑوں سے پرے ہٹانے والی ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ عورتیں بچوں کے سامنے گھر بیٹھ کر ایسی باتیں کر جاتی ہیں کہ جن سے ان کے ساس سسر یا دادا دادی کی کمزوریاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ بات ا س طرح نہیں ہوتی جس طرح بیان کی جا رہی ہوتی ہے۔ بلکہ بہو اپنی ناراضگی کی وجہ سے جو اس کو اپنی ساس اور سسر سے ہے تو ڑ مروڑ کر بات کر رہی ہوتی ہے۔ تو نہ صرف بچوں میں بلکہ جب اس عورت کے میکے میں یہ بات پہنچتی ہے تو پھر دونوں گھروں کے بڑوں میں لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں، رنجشیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے سچ یہ ہے کہ بات کرنے سے پہلے اس کا اچھی طرح تجزیہ کرو۔ اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر وہ برائی کسی بڑے میں ہے بھی توضرور اس کا چرچا کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ فلاں بزرگ میں برائی ہے۔ پردہ پوشی کا بھی حکم ہے، لحاظ کا بھی حکم ہے، اپنے خاندان کی عزت اور وقار رکھنے کا بھی حکم ہے۔ سچ کا یہاں یہ مطلب ہے کہ اگر تمہیں کسی ایسے معاملے میں جو نظام جماعت میں پیش ہوتا ہے یا کہیں بھی پیش ہوتا ہے، اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے یا اپنے رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے ماں باپ کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو تم اس وجہ سے پریشان نہ ہو یا جھوٹ نہ بولو کہ اس سے مجھے نقصان پہنچ سکتا ہے یا میرے عزیزوں اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس گواہی کو پھر حوصلے سے دو۔ قرآن کریم میں تو یہ آیا ہے کہ دشمن کے خلاف بھی ایسی گواہی نہ دو یا دشمن قوم بھی تمہیں جھوٹ بولنے پر مجبور نہ کرے۔
پھر ایک خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ صبر بھی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ اگر یہ تمہارے اندر پید اہو جائے تو بہت سارے جھگڑے گھریلو بھی، ہمسایوں کے ساتھ بھی، رشتہ داروں کے ساتھ بھی پیدا ہی نہیں ہوں گے۔اس لئے صبر کرنے کی عادت اپنے اندر پیدا کرو اور اپنی اولادوں کے اندر بھی پیدا کرو۔
پھر عاجزی کا وصف ہے جو بہت بڑا وصف ہے۔ اگر انسان اس پر نظر رکھے اور ہمیشہ یہ احساس رہے کہ مَیں تو کچھ چیز نہیں۔ بڑائی کا احساس تو مقابلہ کی چیز ہے یعنی نسبتی مقابلہ۔ اگر ہم اپنی نظر ذرا وسیع کریں اور ان نسبتوں سے آگے جاکر بھی دیکھیں جو ہمیں سامنے نظر آتی ہیں تو بڑائی کا احساس، اپنے کچھ ہونے کا احساس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ایک پیسے والی عورت مالی لحاظ سے اپنے سے کم عورت کواگر تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے یا کم نظر سے دیکھتی ہے یا اس کو اپنے سے کمتر سمجھتی ہے اور ا س کو دیکھ کر نا ک بھوں چڑھاتی ہے، پسند نہیںکرتی کہ اس کے پاس بیٹھے، تو پھر جب اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہو اُسے اس وقت حوصلہ دکھانا چاہئے۔ معاشی لحاظ سے ا س سے بہتر عورت اگر اس سے یہی سلوک کر رہی ہو پھر بھی حوصلہ دکھائیں۔ ایک عورت کو اس وقت جو تکلیف کا احساس ہوتا ہے جب اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہو، کوئی اس کو کم نظر سے دیکھ رہا ہو، تو وہی احساس پھر آپ کودوسرے کے لئے بھی کرنا چاہئے۔ یہ احساس آپ کے دل میں دوسروں کے لئے بھی پیدا ہونا چاہئے اور یہ احساس رہناچاہئے کہ یہ دنیا کی چیزیں تو عارضی چیزیں ہیں، آنی جانی چیزیں ہیں۔نہ خاندانی وجاہت پر فخر کرنے کی ضرورت ہے، نہ اولاد پر فخر کرنے کی ضرورت ہے، نہ مالی لحاظ سے بہتر ہونے پر فخر کرنے کی ضرورت ہے، نہ علم میںزیادہ ہونے پر فخر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور پھر دین کے معاملے میں تو یہ بالکل ہی ناجائز ہے کہ کوئی کہے کہ مَیں زیادہ عبادت گزار یا زیادہ نیک ہوں۔ اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عاجز رہیں۔ یہی آپ کی بڑائی ہے۔ اور ہمیشہ عاجز بنی رہیں۔ یہ عاجزی اپنی نسلوںمیں بھی پیدا کریں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والوںکو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عاجزی کو بہت پسند فرمایا تھا۔ اور الہاماً فرمایا تھا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔
پھر اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے والی عورتوں کی یہ خصوصیت بیان کی گئی کہ صدقہ کرنے والی ہوں، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والی ہوں۔ نیکیوں پر قائم رہنے اور بلائوں کو دور کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے۔ صدقہ و خیرات کی عادت ڈالیں، اپنی اولاد کو عادت ڈالیں۔ اپنے بچوں کو عادت ڈالیں تاکہ اللہ تعالیٰ نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق دے اور نیکیاں کرنے کی بھی توفیق دے۔ اور اس وجہ سے آپ پر رحمتوں اور فضلوں کی بارشیں برساتا رہے۔
پھرفرمایا کہ وہ روزہ رکھنے والی ہوں۔ یہ نہ ہو کہ بہا نے تلاش کرکرکے روز ے چھوڑنے والی ہوں۔ پھر اس کے تمام لوازمات کے ساتھ روزہ رکھنے والی ہوں چاہے وہ نفلی روزے ہوں یا فرض روزے ہوں۔ بعض دفعہ بعض نوجوانوں میں روزہ رکھنے کی تو بڑی خواہش ہوتی ہے، بڑا جوش ہوتا ہے لیکن پوری طرح اس کا احترام نہیںہو رہا ہوتا۔ بعض اپنی خوراک کو کنٹرول کرنے کے لئے، اپنے وزن کو مینٹین (Maintain) کرنے کے لئے فاقے تو کر لیتی ہیں، لیکن نمازوں کی طرف پوری توجہ نہیں ہوتی، نوافل کی طرف پوری توجہ نہیں ہوتی، قرآن کریم پڑھنے کی طرف پوری توجہ نہیں ہوتی۔ یہ بھی روزہ کا ضروری حصہ ہیں۔ اگر روزہ رکھا ہے تو نمازیںبھی باقاعدہ پڑھیں، اور دل لگا کر،خوشی سے، ذوق سے، شوق سے نمازیں پڑھیں، نفل کے لئے اٹھیں، نفل پڑھیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کرنا ضروری ہے۔
قرآن کریم پڑھیں اور پوری توجہ سے پڑھیں، سمجھ کر پڑھیں تاکہ قرآن کریم کے اندرجو احکامات ہیں، اس کی جو خوبصورت تعلیم ہے، اس کا جو حسن ہے وہ بھی آپ کو نظر آئے۔ تو روزے اس وقت روزے کہلا سکتے ہیں جب عبادات سے سجائے ہوئے ہوں۔اور جب عبادات کی طرف توجہ پیدا ہو گی تو دنیا داری سے ایسے ہی ذہن صاف ہو جائے گا، دنیاداری ذہن سے بالکل نکل جائے گی۔ اور جب دنیاداری آپ کے ذہنوں سے نکل گئی تو سمجھ لیں کہ آپ نے وہ مقصد پا لیا جس کے لئے آپ پیدا کی گئی ہیں۔
پھر کامل ایمان والوں کی ایک نشانی یا خصوصیت یہ بتائی گئی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے بخشش کا سلوک کرے گا کہ وہ فروج کی حفاظت کرنے والی ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد جسم کا ہر سوراخ ہے۔ یعنی آنکھ، کان، ناک، منہ وغیرہ ہر چیز۔ فرمایا اگر ان کی حفاظت کر لو تو تمہارے نفوس کا تزکیہ ہو گا۔ تمہارے ذہن پاک رہیں گے۔ فروج کی حفاظت کے ساتھ دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ غض بصرسے کام لو، یعنی نگاہیں نیچی رکھو۔نہ غیر مرد کو دیکھو، نہ غیرضروری چیزوں کو دیکھو جن سے ذہن میں انتشار پیدا ہوتا ہو۔ جس سے ذہن میں برے خیالات پیدا ہوتے ہوں۔ا گر پردہ کرکے برقعہ پہن کر ہر آنے جانے والے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیں تو اس سے پردے کا توکوئی فائدہ نہیں۔ یہ تو لباس ہے جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔ نظروںمیں حیا ہونی چاہئے، نظریں نیچی رہنی چاہئیں یہ قرآن کریم کا حکم ہے۔ اگر ایسی حالت رکھیں گی تو خود بھی غیروں کو دیکھنے سے محفوظ رہیں گی اور خود بھی بہت ساری برائیوں سے بچ جائیں گی۔ اور مرد بھی جن میں بعضوں کو گھورنے کی عادت ہوتی ہے وہ بھی احتیاط کریں گے۔ وہ بھی ڈر کے رہیں گے۔ اسی طرح گندی، بیہود ہ، فضول فلمیں دیکھنا بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ اگر آپ یہ دیکھ رہی ہیں چاہے اکیلی بیٹھ کر دیکھ رہی ہیں تو تب بھی اس ماحول میں آپ کے ذہن کے ساتھ ساتھ آپ کے بچوں پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہو گا۔ بلکہ آپ کا ذہن ہی اس میں اتنا ڈوبتا چلا جائے گا کہ آپ کو نیکی کرنے کی توجہ ہی پیدا نہیں ہو گی اور پھراس طرح آپ اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کر سکیں گی کیونکہ یہ فلمیں آپ کے خیالات کو، جیسا کہ میں نے کہا، پراگندہ کرنے والی ہوں گی۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ باہر تو یہ اظہار ہو، برقعہ پہن کر آرہی ہوں۔ مسجد میں تو حجاب میں اور کوٹ میں ہوں لیکن گھروں میں بیہودہ فلمیں دیکھی جا رہی ہوں۔ بعض گھروں کی شکایتیں آتی ہیں کہ وہاں فلمیں دیکھتے ہیں۔ بعض بچے شکایت کر دیتے ہیں کہ ہماری مائیں ایسی فلمیں دیکھتی ہیں۔
پھر جیسا کہ فرمایا کہ کان بھی فروج میں داخل ہیں۔ اگر آپ ایسی مجلسوں میں بیٹھتی ہیں جہاں بیہودہ گوئیاں ہورہی ہیں، دوسروں کا ہنسی مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یا نظام جماعت کے خلاف کوئی باتیں ہو رہی ہیں۔ یا کسی عہدیدار کے خلاف کوئی باتیں ہو رہی ہیں تو یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے فروج کی حفاظت کرنے والی نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ بھی چاہے بول رہی ہیں یا نہیں مگر وہاں بیٹھ کر اس استہزا میں، اس مذاق میں، اس بیہودہ مذاق میں شامل ہو گئی ہیں اور اپنے ذہن کو بلا وجہ گندہ کر رہی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ آہستہ آہستہ یہ باتیں آپ کی تمام نیکیوں کو کھا جائیں گی۔ اس لئے ایسی مجلسوں سے بھی بچیں۔
پردے کے معاملات بعض دفعہ زیادہ سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے اب میں پہلی بات کو دوبارہ لیتا ہوں۔ پردے کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں۔ ان کی تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ اور یہ وضاحت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ سے کروں گا۔
آپؑ فرماتے ہیں:
’’اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانے کی طرح بند رکھی جاوے۔ قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ڈھانک کر رکھیں۔ ’’وہ غیرمرد کو نہ دیکھیں۔ جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے وہ بے شک جائیں، لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ298-297 جدید ایڈیشن)
تو جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا آپؑ نے ایک اور جگہ فرمایا: نظر کا پردہ یہی ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو اور ان میں حیا ہو۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’ آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں‘‘۔یعنی قیدخانہ نہیں۔’’ بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ جب پردہ ہو گا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے‘‘۔ یعنی ایک انصاف کرنے والا کہہ سکتا ہے جس کا پردے کے خلاف یا پردے کے حق میں کسی قسم کا رجحان نہیں ہے جو انصاف پہ قائم ہونے والا ہو ’’کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد وعورت اکٹھے بلا تامّل اور بے محابا مل سکیں، سیریں کریں، کیونکر جذبات نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیں گے۔ بسااوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اورعورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔ یہ گویا تہذیب ہے۔ اِنہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ ایسے موقعہ پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دو جمع ہوں، تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے‘‘۔ یعنی اس کھلی کھلی بے حیائی کی اجازت دینے سے جو یورپ میں ہے۔ اور آپ دیکھ رہے ہوں گے ہر گلی میں، ہر سڑک پر ایسی بے حیائیاں نظر آجاتی ہیں۔
پھر فرمایا کہ:
’’ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جا رہی ہے۔ یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔ لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔ اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔ بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ 22-21جدید ایڈیشن)
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’ یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں۔ لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔ یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔ جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو‘‘۔
آپ یہاں ان ملکوں میں رہتے ہیں۔ یہاں کی اخلاقی حالت کا اندازہ خود ہی کرلیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آج سے سو سال پہلے بتا دیا ہے:’’ اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔ بدنظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصّہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہو گا ‘‘۔ آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں اور اگر گہری نظر ہو تو آبزرو (Observe) کرسکتے ہیں۔
’’ مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔ نہ خد اکا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیاوی لذات کواپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو‘‘۔آپؑ نے فرمایا ٹھیک ہے تم چاہتے ہو آزاد ہو جاؤ، پردہ سانس روکتا ہے یا بہت ساری روکیں ڈالتا ہے پھراس سے پہلے یہ ہے کہ مردوںکی پہلے اصلاح کر لو۔تمہیں کیا پتہ کہ ان کے ذہنوں میں کیا کچھ ہے۔’’ اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات سے مغلوب نہ ہو سکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضرور ی ہے کہ نہیں۔ ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے‘‘۔ اس لئے عورت تو بہرحال نازک ہے، مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اور ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ چاہے کسی معاشرے میں ایک دو چار واقعات بھی ہو رہے ہوں وہ بہرحال قابل فکر ہوتے ہیں۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
’’ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجے پر غور نہیں کرتے۔ کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اپنے ضمیر سے فتویٰ لو۔ دیکھو جو تمہارا دل کہتا ہے کہ یہ برائی ہے وہ برائی بہرحال ہے۔ اگر وہ برائی نہیں ہے تو تمہیں کبھی دل ٹوکے گا نہیں، دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہو گا کہ تم کیا کر رہی ہو، کئی سوال نہیں اٹھیں گے۔
قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدّ نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ۔ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ (النور:۳۱)

کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا‘‘۔
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ105-104جدید ایڈیشن)
تو قرآن کی تعلیم تو بہرحال جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ کے خیالات معاشرے میں رہ کر کچھ بگڑ گئے ہیں تو وہ بہرحال جھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اور پھر یہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ بکریوں کو شیروں کے آگے ڈالنا ہے تو یہ اسی طرح ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔ آئے دن یہ قصے اخبارمیں پڑھنے کو ملتے ہیں اور دیکھنے کو بھی ملتے ہیں۔اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس (Complex) میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر کوئی کمپلیکس ہے تو اپنے دماغ سے نکال دیں اور اپنی پاکدامنی کی خاطر قرآنی حکم پر عمل کریں۔ اسی میں آپ کی عزت ہے اور اسی میں آپ کا وقار ہے۔
ایک جگہ فرمایا کہ یہ بھی دو طرح کے گروپ بن گئے ہیں ایک تو یہ کہتا ہے کہ پردہ اس سختی سے کرو کہ عورت کو گھر سے باہر نہ نکلنے دو۔ اور دوسرایہ ہے کہ اتنی چھوٹ دے دو کہ سب کچھ ہی خلط ملط ہو جائے۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’ اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مردعورت سے اورعورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچا رہے۔ کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذرا سی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔ یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے‘‘۔
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ106جدید ایڈیشن)
تو اس میں مزید فرما دیا کہ نفس کو پھسلنے سے بچانے کے لئے پردہ کرو تو اس میں صرف برقعہ یا حجاب کام نہیں آئے گا۔ اگر آپ برقعہ پہن کر مردوں کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کر دیں، مردوں سے مصافحے کرنا شروع کردیں تو پردہ کا تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پردہ کامقصد تو یہ ہے کہ نامحرم مرداور عورت آپس میں کھلے طور پر میل جول نہ کریں، آپس میں نہ ملیں، دونوں کی جگہیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ اگر آپ اپنی سہیلی کے گھر جا کر اس کے خاوند یا بھائیوں یا اور رشتہ داروں سے آزادانہ ماحول میں بیٹھی ہیں۔ چاہے منہ کو ڈھانک کے بیٹھی ہوتی ہیں یا منہ ڈھانک کر کسی سے ہاتھ ملا رہی ہیں تو یہ تو پردہ نہیں ہے۔ جوپردے کی غرض ہے وہ تو یہی ہے کہ نامحرم مرد عورتوں میں نہ آئے اور عورتیں نامحرم مردوں کے سامنے نہ جائیں۔ ہر ایک کی مجلسیں علیحدہ ہوں۔ بلکہ قرآن کریم میں تو یہ بھی حکم ہے کہ بعض ایسی عورتوں سے جو بازاری قسم کی ہوں یا خیالات کو گندہ کرنے والی ہوں ان سے بھی پردہ کرو۔ ان سے بھی بچنے کا حکم ہے۔ اس لئے احتیاط کریں اور ایسی مجلسوں سے بچیں۔ پھر لباس کا پردہ ہے۔ جب برقعہ پہنیں، یا حجاب لیں یا سکارف لیں یا دوپٹہ پہنیں یا نقاب لیں جو بھی لے رہی ہوں تو بال چھپے ہوئے ہونے چاہئیں۔ بال نظر نہیں آنے چاہئیں، ماتھا سامنے سے ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔ سامنے کم از کم ٹھوڑی تک کپڑا ہونا چاہئے۔ منہ اگر ننگا ہے تو میک اپ نہیں ہونا چاہئے۔ بعض پیشوں میں یا کام میں منہ ننگا کرنا پڑ جاتا ہے، بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔ کوئی بیمار ہے، کسی کو سانس ٹھیک نہیں آ رہا تو منہ ننگا کیا جا سکتا ہے لیکن پھر اس طرح بناؤسنگھار بھی نہیں ہونا چاہئے۔
سکولوں اور کالجوں میں بھی لڑکیاں جاتی ہیں اگر کلاس روم میں پردہ، سکارف لینے کی اجازت نہیں بھی ہے تو کلاس روم سے باہر نکل کر فوراً لینا چاہئے۔ یہ دو عملی نہیں ہے اور نہ ہی یہ منافقت ہے۔ اس سے آپ کے ذہن میں یہ احساس رہے گا کہ مَیں نے پردہ کرنا ہے اور آئندہ زندگی میں پھر آپ کو یہ عادت ہو جائے گی۔ اور اگر چھوڑ دیا تو پھر چھوٹ بڑھتی چلی جائے گی اور پھر کسی بھی وقت پابندی نہیں ہوگی۔ پھر وہ جو حیا ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔
پھر اپنے عزیز رشتہ داروں کے درمیان بھی جب کسی فنکشن میں یا شادی بیاہ وغیرہ میں آئیں تو ایسا لباس نہ ہو جس میں جسم اٹریکٹ (Attract) کرتا ہو یا اچھا لگتا ہو یا جسم نظر آتا ہو۔ آپ کا تقدس اسی میں ہے کہ اسلامی روایات کی پابندی کریں اور دنیا کی نظروں سے بچیں۔
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور انہوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا۔ یعنی ادھر ادھر ہونے کی کوشش کی اور فرمایا: اے اسماء! عورت جب بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو یہ مناسب نہیں کہ اس کے منہ اور ہاتھ کے علاوہ کچھ نظر آئے۔ اور آپؐ نے اپنے منہ اور ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا۔(ابوداؤد کتاب اللباس باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا)
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نیکیاں جب تم اپنالو، یہ خصوصیات جو ایک مومنہ عورت میں ہونی چاہئیں اختیار کر لو تو پھر ان کو مزید چمکانے کے لئے، ان کو مزید پالش(Polish) کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کرو۔ اس کو اٹھتے بیٹھتے یاد رکھو، اس کی محبت، اس کی خشیت اپنے دلوں میں قائم کرو۔ اس کی عبادت کی طرف توجہ دیتے رہو۔ جب تم یہ معیار حاصل کر لو گے تو پھر تم سمجھو کہ دنیاکی غلاظتوں سے بچ گئی اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والی ہوگئی۔ اور پھرایسی عورتوں کو اللہ تعالیٰ کا رسولؐ بہت بڑی خوشخبری دیتے ہیں، بلکہ ضمانت دیتے ہیں۔
ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی عورت پنجوقتہ نماز پڑھتی ہے، رمضان کے روزے رکھتی ہے، اپنی عصمت کی حفاظت کرتی ہے، اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے داخل ہو جا۔ (مسند احمد بن حنبل مسند العشرۃالمبشرۃ بالجنۃ)
دیکھیں کتنی بڑی خوشخبری ہے ایسی عورتوں کو جو ہر طرح سے اپنے آپ کو احکامات کا پابند کرنے والی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ وہ اسلامی احکامات پر عمل کرنے والی ہوں، تزکیہ نفس کرنے والی ہوں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والی ہوں، اپنی اولادوں کی صحیح اسلامی رنگ میں تربیت کرنے والی ہوں تاکہ یہاں اگلی نسلیں بھی ان برکات اورانعامات سے حصہ لیتی رہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ خدا کرے کہ آپ کی نسلوں اور اولادوں میں بھی نظام خلافت سے ہمیشہ وہی وفا، اخلاص اور محبت کا تعلق قائم رہے جو آپ کے چہروں پر نظر آتا ہے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ جلسہ کی کارروائی کا آج دوسرا دن ہے اس کے بعد پھر شام کو کارروائی ہو گی تو اس کارروائی کے دوران ادھر ادھر پھر کرباتیں کرنے یا مجلس لگانے کی کوشش نہ کریں۔ اس عادت کو ختم کریں۔ جلسہ کی کارروائی کو غور سے سنیں اور جو کچھ سنیں اس کو یاد بھی رکھیں اور زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں، ان سے فائدہ بھی اٹھائیں اور آگے اپنی اولادوں کی تربیت میں بھی اس کواستعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/NDEam]

اپنا تبصرہ بھیجیں