سیدنا مصلح موعودؓ

قبولیتِ دعا
حضرت سیدہ مہر آپا فرماتی ہیں کہ جن دنوں حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو حکومت نے احمدیت کے جرم میں قید کر رکھا ہوا تھا۔ انہی گرمیوں کی ایک شام رات کے کھانے کے وقت حضرت مصلح موعودؓ نے گرمی کی شدت اور بے چینی کا اظہار فرمایا تومیرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ’’پتہ نہیں ناصر اور میاں صاحب کا اس گرمی میں کیا حال ہوگا، خدا معلوم انہیں کوئی سہولت بھی میسر ہے یا نہیں‘‘۔ حضورؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ وہ صرف اس جرم پر ماخوذ ہیں کہ ان کا کوئی جرم نہیں۔ اس لئے مجھے اپنے خدا پر کامل یقین و ایمان ہے کہ وہ جلد ہی ان پر فضل کرے گا‘‘۔ اس کے بعد آپؓ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپؓ عشاء کی نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔ گریہ و زاری کا وہ منظر میں بھول نہیں سکتی اور اس کیفیت کو قلمبند نہیں کرسکتی۔ اس گریہ میں تڑپ اور بیقراری بھی تھی اور ایمان و یقینِ کامل بھی تھا…۔ پھر یہی منظر تہجد کے وقت دیکھا… اگلی صبح جو پہلا تار ملا وہ یہ خوشخبری لئے ہوئے تھا کہ دونوں اسیران رہا ہوچکے ہیں۔
سادگی کی دلنشیں مثالیں
حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت سیدہ مہرآپا کو نکاح کے بعد جو پہلا خط تحریر فرمایا اس میں لکھا ’’سپاہیوں کی بیویاں سادہ ہوا کرتی ہیں۔ تمہارے اماں ابا اپنی محبت شفقت سے مجبور ہوکر اگر تمہارے رخصتانہ کی تیاری میں غیرمعمولی اسراف کریں اور جہیز وغیرہ کی تیاری میں اس حد تک بڑھیں کہ وہ زیر بار ہو جائیں تو تم ان کو ایسا نہ کرنے دینا… مجھے یہ خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ میری وجہ سے اہمیت دیتے ہوئے وہ رخصتانہ کو اپنے لئے پریشانی کا موجب بنالیں‘‘۔
حضرت سیدہ بیان فرماتی ہیں کہ ڈلہوزی میں قیام کے دوران ایک بار حضورؓ کھانا کھانے کے لئے تشریف لائے لیکن بغیر کھانا کھائے اپنے کمرہ میں چلے گئے اور کچھ دیر بعد یہ چِٹ بھیجی کہ ’’میں نے تحریک جدید کے ماتحت روکا ہوا ہے کہ میز پر صرف ایک ڈش ہو…۔ ‘‘ دراصل حضورؓ کے حکم کے بعد سے ایک ڈش ہی پکا کرتی تھی لیکن کبھی کبھی ڈش حسب پسند نہ ہونے کی وجہ سے یا نمک مرچ کی کمی بیشی کی وجہ سے احتیاطاً دوسری ڈش پکالی جاتی تاکہ حضورؓ کچھ نہ کچھ کھالیں ۔ لیکن آپؓ نے ہمیں دوسری ڈش کی اجازت نہ دی۔
تعلیم و تربیت کے بعض پہلو
حضرت مصلح موعودؓ نے ڈلہوزی میں قیام کے دوران ایک لڑکا رکھا ہوا تھا جس کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھتے اور فرماتے کہ یہ غریب اور بے وطن لوگ ہیں۔ اسی لئے اس کی اکثر شکایات پر درگزر فرماتے ۔ ایک روز تحقیق کرنے پر وہ جھوٹا ثابت ہوا تو آپؓ کو شدید غصہ آیا اور آپؓ نے اسے بلاکر دو چھڑیاں لگائیں اور توبہ کروائی۔ اس دن کے بعد وہ لڑکا واقعی راہ راست پر آگیا اور یہی ایک تادیبی مار تھی جس سے پہلے یا بعد میں حضورؓ کو میں نے کبھی کسی خادم پر ہاتھ اٹھاتے یا اس طرح ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔
حضورؓ نے ایک صاحب کو ان کی غلطی پر اخراج کا حکم دیا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بار بار معافی کی درخواست کی۔ ایک روز میں نے عرض کیا کہ سلسلہ کے معاملہ میں اگرچہ مجھے کچھ کہنے کا حق نہیں لیکن ان کی اس قدر منتیں اور بیقراری دیکھ کر میں آپ سے ان کی معافی کے لئے درخواست کرسکتی ہوں۔ یہ سن کر آپ متبسم ہوئے اور پھر فرمایا ’’جب ہم اس قسم کی تادیبی کارروائی کسی کے لئے کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم اسے اپنے سے کاٹ دینا چاہتے ہیں۔…غرض یہی ہوتی ہے کہ ان کی اصلاح ہو جائے اور خداتعالیٰ ان کو ضائع نہ کرے۔ مجھے ان کے لئے یہ فیصلہ دیتے ہوئے روحانی اذیت ہوتی ہے اور میں اس دوران ان کی بھلائی اور اصلاح کے لئے دعائیں بھی کرتا ہوں …‘‘
شفقت علی خلق اللّہ
حضرت مصلح موعودؓ کو ہومیوپیتھک سے بہت دلچسپی تھی اور مریض تھے کہ یہ بھی نہ سوچتے کہ حضور کے آرام کا وقت ہے یا کھانے کا یا سلسلہ کے کاموں کا۔ وہ چلے آتے اور آپؓ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے اور دوا بناکر دیتے۔ بعض دفعہ میں چِڑ جاتی۔…آپ ؓ نصیحت فرمایا کرتے ’’اگر تم لوگ اپنے اندر خدمت خلق اور بھلائی کا جذبہ صحیح رنگ میں پیدا کروگے تو پھر تمہیں سردی اور گرمی ، آرام و راحت کا احساس بھی مٹ جائے گا۔ تم اللہ کی مخلوق سے محبت کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
حضرت سیدہ مہر آپا بیان کرتی ہیں کہ گرمیوں کی ایک رات اچانک بارش آگئی۔ ہم اٹھ کر سامان لپیٹنے لگے۔ میرا اصرار تھا کہ حضور جلدی کمرے میں چلے جائیں، میں بستر لے کر آتی ہوں۔ اور آپؓ مصر تھے کہ میں تمہارے ساتھ کام کروں گا۔ میں نے گھنٹی دے کر خادمہ کو مدد کے لئے بلانا چاہا تو فرمایا ’’نہیں، کام کرنے والے اس وقت سو رہے ہوں گے‘‘۔ چنانچہ ہم سر سے پاؤں تک بھیگتے ہوئے کمرے تک پہنچے۔
۔ …٭ …٭…٭…۔
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے گھر میں خدمت کی توفیق پانے والی ایک خاتون (مکرم طاہر احمد صاحب کی والدہ محترمہ) نے حضورؓ کی ذات بابرکات کے بعض پہلوؤں پرا پنے مضمون مطبوعہ ماہنامہ ’’ مصباح‘‘ ربوہ فروری 1997ء میں روشنی ڈالی ہے۔
وہ لکھتی ہیں کہ ایک روز حضرت ام ناصرؓ کے ہاں حضورؓ کی باری تھی۔ آپؓ دوپہر کے کھانے پر تشریف لائے تو دیکھا کہ دسترخوان پر سب بچوں کے برتن الگ الگ رکھے ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا: ’’کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ آپ سب دو دو مل کر ایک پلیٹ میں کھا لیا کرو اور گلاس بھی مل کر استعمال کرلیا کرو …مَیں جب یہاں سے گزرتا ہوں خادمہ برتن دھو رہی ہوتی ہے‘‘ ۔ حضورؓ کی اس نصیحت میں برتنوں کا مسئلہ نہ تھا بلکہ آپ کی نظر خادمہ کی محنت پر تھی جس سے آپؓ کے دل کو تکلیف ہوئی۔
مضمون نگاربیان کرتی ہیں کہ ان کی ایک بہن کو حضرت مصلح موعود ؓ کی صاحبزادی بی بی امتہ الرشید نے اپنی بیٹی بنالیا اور اپنے ہمراہ سندھ لے گئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد جب حضورؓ سندھ تشریف لے گئے اور وہاں بچی کو دیکھا تو واپس آکر اس کی والدہ سے کہا کہ بچی کو واپس بلائیں اوراسے سکول میں داخل کروائیں تاکہ پڑھائی کرسکے … حضورؓ کے ارشاد پر عمل ہوا اور آج وہی بچی ہائی سکول کی ہیڈمسٹرس ہے اور اس کے ماتحت کئی پرائمری سکول ہیں۔
ایک بارحضرت سیدہ امّ ناصرؓ کے ہاں بچے کھیل رہے تھے جن میں مضمون نگار خود بھی شامل تھیں کہ حضورؓ کے کسی صاحبزادے نے غصہ میں انہیں تھپڑ لگادیا۔ تو ایک دوسرے صاحبزادے نے اپنے بھائی کی شکایت اسی وقت اند ر پہنچائی جہاں حضورؓ بھی تشریف فرما تھے۔ حضورؓ نے بچوں کو بلایا اور مضمون نگار کی طرف اشارہ کرکے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ہے؟ جب وہ کوئی جواب نہ دے پائے تو اِن سے فرمایا: ’’جس طرح اس نے تمہیں مارا ہے تم بھی اس کو مارو‘‘۔ … حضورؓ کے بار بار فرمانے کے باوجود بھی جب انہیں بدلہ لینے کی ہمت نہ ہوئی تو حضور نے بیٹے کو خوب ڈانٹ پلائی اور اِنہیں فرمایا ’’اب پھر یہ تمہیں کبھی نہیں مارے گا‘‘۔ یہ واقعہ حضورؓ کے عالی ظرف کا آئینہ دار ہے کہ ایک طرف آپؓ کا بیٹا اور دوسری طرف ایک غریب لڑکی۔ لیکن حضورؓ کی شفقت سب پر یکساں تھی۔
۔…٭…٭…٭…۔
صداقت مسیح موعودؑ کی دلیل
محترم مولانا نورالحق صاحب دعوت الی اللہ کے لئے قادیان سے روانہ ہونے لگے تو حضرت مصلح موعودؓ نے الوداعی ملاقات میں ان سے دریافت فرمایا کہ اب تبلیغ کے دوران عام طور پر کونسا اعتراض کیا جاتا ہے؟ عرض کیا ’صداقت حضرت مسیح موعودؑ کے بارہ میں‘۔ اس پر حضورؓ نے بڑے جلال سے فرمایا ’’کیا میرا وجود صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کافی نہیں؟‘‘ وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے پیشگوئی مصلح موعود پر غور کیا تو صداقت مسیح موعود ؑ کے دلائل کا ایک بحر بیکراں نظر آیا۔
علوم ِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائیگا
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا فروری 1997ء میں محترم مرزا فضل الرحمٰن صاحب کے قلم سے حضرت مصلح موعودؓ کی یاد میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں مضمون نگار نے چند واقعات حضورؓ کی غیرمعمولی صفات کے حوالہ سے تحریر کئے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ میں ایک انگریز دوست کے ہمراہ حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوچ کر بہت پریشان تھا کہ اب ترجمان کے فرائض مجھے ادا کرنے پڑیں گے کہ اچانک حضورؓ نے انگریزی میں یہ بتاکر کہ حضورؓ کی ظاہری تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے، یہاں تک کہ میٹرک بھی پاس نہیں اور پہلی مرتبہ اٹلی کے حکمران مسولینی سے انگریزی میں بات کی تھی … حضورؓ نے 45 منٹ کے قریب انگریزی میں ہی اسلام اور عیسائیت کے بارے میں سیرحاصل گفتگو فرمائی۔ بعد میں اس انگریز نے برملا حضورؓ کی عمدہ انگریزی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر حضورؓ خود اپنی تعلیم کے بارے میں نہ بتاتے تو میں کبھی نہ مانتا۔
سخت ذہین و فہیم ہوگا
مضمون نگار کے ایک دوست رضوان صاحب جو ایئرفورس میں ملازم تھے حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت قبول فرمانے کی درخواست کی۔ آپؓ نے فرمایاکہ تم تو جانتے ہو کہ محاذ جنگ سے سپاہی بھگوڑا ہو جائے تو دوسروں کے لئے دلشکنی کا موجب ہوتا ہے اس لئے پہلے سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کرو پھر بیعت کرنا۔ … کچھ عرصہ بعد وہ مولویوں کی زہر افشانی کے باعث احمدیت کی مخالفت کرنے لگے اور پھر اس نیت سے سلسلہ کی کتب کا مطالعہ شروع کیا کہ جو عبارات مسلمانوں کے خلاف ہوں انہیں اکٹھا کرکے ہیڈ کوارٹر بھیجیں۔ گو ان کی نیت نیک نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے حضورؓ کا یہ قول پورا کرنا تھا کہ مطالعہ کرو چنانچہ ادھر وہ رپورٹ کرنے کی نیت سے مطالعہ کر رہے تھے اور ادھر خدا ان کے دل کی کایا پلٹ رہا تھا۔ ایک رات انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا جو ایک پہاڑ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے اور لوگ جوق در جوق آپؑ کی زیارت کے لئے جارہے تھے۔ صبح اٹھتے ہی انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا اور دوسرا خط اپنے والد محترم کو لکھا کہ میں نے حق کو پالیا ہے اور احمدیت قبول کرلی ہے اب آپ کی مرضی ہے کہ مجھے چاہے جائیداد سے عاق کردیں وغیرہ۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسی روز ان کے والد نے بھی انہیں ایسا ہی خط لکھا کہ میں نے بڑی دعاؤں اور غور و فکر سے احمدیت قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تمہاری مرضی ہے مجھ سے اپنا تعلق رکھو یا نہ رکھو۔ یہ واقعہ حضرت مصلح موعودؓ کی فراست کا واضح ثبوت ہے کہ آپؓ نے پہلی ملاقات میں ہی یہ جان لیا کہ ابھی رضوان صاحب بیعت کے لائق نہیں ہیں اورسلسلہ کی کتب کے مطالعہ کے بعد ہی اس قابل ہوسکیں گے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/fGCiF]

اپنا تبصرہ بھیجیں