شہیدکا درجہ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 19 جون 2020ء)

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘(شہداء نمبر۔ شمارہ 2۔ 2010ء) میں یہ حدیث درج ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ جابر!آج مَیں تمہیں پریشان اور اُداس دیکھ رہا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا حضوؐر! میرے والد شہید ہوگئے ہیں اور کافی قرض اور بال بچے چھوڑ گئے ہیں۔ حضورﷺ فرمانے لگے: کیا مَیں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ کس طرح تمہارے والد کی اللہ تعالیٰ کے حضور پذیرائی ہوئی۔ مَیں نے کہا: ہاں حضور ضرور سنائیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اگر کسی سے گفتگو کی ہے تو ہمیشہ پردے کے پیچھے سے کی ہے لیکن تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اس سے آمنے سامنے گفتگو کی اور فرمایا:میرے بندے!مجھ سے جو مانگنا ہے مانگ، مَیں تجھے دوں گا۔ تو تمہارے والد نے جواباً عرض کیا: اے میرے ربّ! مَیں چاہتا ہوں کہ تُو زندہ کرکے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری خاطر دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مَیں یہ قانون نافذ کرچکا ہوں کہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے دنیا میں نہیں لَوٹاؤں گا۔ (ترمذی ابواب التفسیر)

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/90ggW]

اپنا تبصرہ بھیجیں