صحابہ رسولؐ کا انفاق فی سبیل اللہ اور ایثار

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14فروری2005ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالسمیع خانصاحب مضمون میں آنحضورﷺ کے صحابہ ؓ کے انفاق فی سبیل اللہ اور ایثار سے متعلق واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آنحضرتﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! اجر کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: سب سے بڑا صدقہ یہ ہے کہ تُو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو اور مال کی ضرورت اور حرص رکھتا ہو، غربت سے ڈرتا ہو اور خوشحالی چاہتا ہو۔ صدقہ و خیرات میں ایسی دیر نہ کر یہاں تک جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تُو کہے فلاں کو اتنے دے دو اور فلاں کو اتنا۔ حالانکہ وہ مال اب تیرا نہیں رہا وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا یعنی اب تیرے اختیار سے نکل چکاہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا بنیادی جزو ایثار ہے۔ اور سب سے افضل انفاق وہ ہے جب انسان مزید کا طلبگار ہو مگر اپنی ضروریات اور خواہشات کا قلع قمع کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا مال اور دولت قربان کردے۔
ایک دفعہ آنحضرتﷺ کو ایک چادر کی شدید ضرورت تھی۔ ایک صحابیہ نے اپنے ہاتھ سے چادر بن کر آپؐ کی خدمت میں پیش کی۔ آپؐ اسے زیب تن کر کے صحابہ کی مجلس میں آئے تو آپؐ کے جسم مبارک پر وہ بہت جچ رہی تھی۔ مگر حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ چادر مجھے دیدیں۔ رسول اللہؐ جب مجلس سے واپس تشریف لے گئے تو چادر ان کو بھجوادی۔ دوسرے صحابہؓ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ سے بہت ناراض ہوئے کہ انہوں نے چادر کیوں مانگی مگر انہوں نے کہا کہ میں نے تو یہ چادر اس لئے مانگی تھی کہ مجھے بطور کفن پہنائی جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
ایک صحابی حضرت ربیعہ الاسلمیؓ غربت کی وجہ سے شادی نہ کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے خود ان کا رشتہ کروایا۔ ولیمہ کا وقت آیا تو حضورؐ نے انہیں فرمایا: عائشہؓ کے پاس جاؤ اور آٹے کی ٹوکری لے آؤ۔ وہ فرماتے ہیں میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس ٹوکری میں تھوڑا سا آٹا ہے اور اس کے علاوہ کھانے کی کوئی اَور چیز نہیں لیکن چونکہ حضورؐ نے فرمایا ہے اس لئے لے جاؤ چنانچہ اس آٹے سے ولیمہ کی روٹیاں پکائی گئیں۔
حضرت ابو بصرہ غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں قبول اسلام سے قبل آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور نے مجھے بکری کا دودھ پیش کیا جو آپ کے اہل خانہ کے لئے تھا۔ حضورؐ نے مجھے سیر ہو کر وہ دودھ پلایا اور صبح میں نے اسلام قبول کر لیا۔
ایک بار حضرت علیؓ نے کسی معاملہ میں درخواست کی تو حضور ﷺ نے فرمایا ابھی تو اہل صفہ کا انتظام نہیں ہوا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں تمہیں دیدوں اور اہل صفہ کو اس حال میں چھوڑ دوں کہ بھوک سے ان کے پیٹ دہرے ہوتے رہیں۔
یہی سبق تھے جو آنحضرتﷺ کے صحابہؓ نے اپنے آقا و مولیٰ سے سیکھے۔
ایک بار رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ کیا آج تم میں سے کسی نے مسکین کو کھلایا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ فوراً اٹھے گھر پہنچے ان کے بیٹے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اس سے لے لیا۔ وہ لے کر مسجد گئے اور وہاں ایک سائل ملا تو روٹی کا وہ ٹکڑا اسے دیدیا۔
حضرت دکینؓ بن سعید فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم 440آدمی تھے اور ہم نے حضورؐ سے غلہ مانگا۔ آپؐ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا اٹھو اور انہیں دو۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ میرے پاس تو صرف اتنا ہے جو میرے اور میرے بچوں کے لئے گرمی کے موسم میں کفایت کرے۔ آپؐ نے فرمایا اٹھو اور دو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر گھر آئے۔ کمرہ کھولا تو وہاں کھجوروں کا چھوٹا سا ڈھیر تھا۔ ہم میں سے ہر آدمی نے اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا۔ مگر خدا کی قدرت کے اس ڈھیر میں ذرّہ برابر کمی نہ آئی۔
ایک دفعہ حضرت علیؓ کے پاس کسی سائل نے آکر سوال کیا تو آپ نے حضرت حسنؓ یا حسینؓ سے فرمایا کہ اپنی امّاں سے جا کر کہو میں ان کے پاس چھ درہم چھو ڑ آیا ہوں ان میں سے ایک درہم دیدیں۔ چنانچہ وہ صاحبزادے گئے اور واپس آکر کہا کہ اماں جان کہتی ہیں کہ آپ نے آٹا خریدنے کے لئے وہ چھ درہم چھوڑے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ بندے کا ایمان سچا نہیں ہوسکتا جب تک کہ بندہ کو اس چیز پر جو اللہ کے قبضہ میں ہو، زیادہ اعتما نہ ہو بہ نسبت اس چیز کے جو بندے کے قبضہ میں ہو۔ پھر فرمایا کہ جا کر اپنی اماں سے وہ چھ درہم لے آؤ۔ حضرت فاطمہؓ نے وہ رقم بھیج دی اور حضرت علیؓ نے وہ چھ کے چھ درہم اس سائل کو دیدئیے۔
اسی طرح ایک مسکین نے حضرت عائشہؓ سے کچھ مانگا۔ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں سوائے ایک چپاتی کے اور کچھ نہ تھا۔ آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا یہ روٹی سائل کو دیدو۔ خادمہ نے کہا کہ پھر آپ کس چیز روزہ افطار کریں گی حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ روٹی ضرور اس سائل کو دیدی جائے۔
ایک دفعہ کسی مسکین نے حضرت عائشہؓ سے کھانا طلب کیا۔ ان کے سامنے انگور کا ایک خوشہ رکھا ہوا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے ایک آدمی سے کہا کہ یہ خوشہ اٹھا کر سائل کو دے دو۔ اس آدمی نے تعجب کیا مگر آپ نے یہ آیت پڑھی: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرَا یَّرَہ اگر کوئی ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا تو اس کا بدلہ پائے گا۔
ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ نے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے۔ شام ہونے تک آپ نے سب کے سب تقسیم کردئیے۔ اس دن آپ کا روزہ بھی تھا۔ افطاری کا وقت آیا تو لونڈی نے کہا کہ گھر میں آج افطاری کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ایک بار بیمار تھے۔ آپ نے فرمایا: میرا دل مچھلی کھانے کو چاہتا ہے۔ لوگوں نے آپ کے لئے مچھلی تلاش کی۔ بڑی تلاش کے بعد صرف ایک مچھلی ملی جسے ان کی بیوی حضرت صفیہ نے کھانے کے لئے تیار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے سامنے پیش کیا۔ اتنے میں ایک مسکین آیا اور حضرت ابن عمرؓ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے مچھلی اٹھا کر اسے دیدی۔ گھر والوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ہمیں اس مچھلی کی تلاش میں تھکا دیا تھا، ہم مسکین کو درہم دیدیتے ہیں، وہ درہم اس کے لئے مچھلی سے زیادہ مفید ہوگا، آپ مچھلی کھا کر اپنی خواہش پوری کیجئے۔ مگر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ اس وقت میرے نزدیک یہی مچھلی محبوب ہے اور مَیں اِسے ہی صدقہ کروں گا۔
حضرت سعید بن عامرؓ ایک دفعہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگئے۔ حضرت عمرؓؓ کا دورِ خلافت تھا جب ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے ایک ہزار دینار حضرت سعیدؓ کو بھجوا دئیے۔ وہ یہ دینار لے کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور واقعہ بتایا۔ بیوی نے کہا آپ اس رقم سے کچھ کھانے پینے کا سامان اور غلہ خرید لیں۔ فرمانے لگے کیا میں تجھے اس سے بہتر بات نہ بتاؤں۔ ہم اپنا مال اس کو دیتے ہیں جو ہمارے لئے تجارت کرے اور ہم اس کی آمدنی سے کھاتے رہیں اور اس مال کی ضمانت بھی وہی دے۔ بیوی نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔ حضرت سعیدؓ بن عامر نے وہ تمام دینار اللہ کی راہ میں خرچ کر دیے اور تنگی اور ترشی میں گزارہ کرتے رہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں بہت زیادہ مبتلائے مشقت ہوں۔ آنحضرتﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا آج کی رات اسے کون مہمان کے طور پر ٹھہرائے گا۔ حضرت ابو طلحہؓ انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ میں۔ چنانچہ وہ اسے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کے لئے ہے؟ اس نے کہا سوائے بچوں کے کھانے کے اَور کچھ نہیں۔ انہوں نے بیوی سے کہا: بچوں کو کسی چیز سے بہلا دے اور جب وہ شام کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دے۔ اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ بجھا دینا۔ چنانچہ انہوں نے مہمان کی آمد پر چراغ گل کر دیا اور بچوں کو سلادیا اور خود دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ بیٹھ کر اندھیرے میں منہ ہلاتے رہے گویا کھانا کھا رہے ہیں۔ اس طرح گھر کے سب لوگ فاقہ سے رہے اور مہمان نے سیر ہو کر کھانا کھایا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس نے رسول اللہﷺ کو وحی کے ذریعہ سے اس واقعہ کی خبر دی۔ حضورؐ نے صبح حضرت ابوطلحہؓ کو بلایااور ہنستے ہوئے فرمایا کہ رات تم نے مہمان کے ساتھ کیا کیا۔ اللہ تعالیٰ کو تم دونوں کی یہ بات بہت پسند آئی ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک جمعہ کو ایک بدحال شخص مسجد میں داخل ہوا۔ آنحضرتﷺ نے اس کی خاطر صدقہ کی تحریک فرمائی۔ صحابہؓ نے کچھ کپڑے پیش کئے تو رسول اللہؐ نے وہ کپڑے اسے دیدئیے۔ اگلے جمعہ کو وہ پھر آیا اور رسول اللہؐ نے جب صدقہ کی تحریک کی تو اس نے دو کپڑوں میں سے ایک پیش کر دیا۔ مگر رسول اللہؐ نے فرمایا کہ تم اپنا کپڑا اٹھا لو۔
حضرت جریرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں ایک غریب قوم کے لوگ حاضر ہوئے جو ننگے پاؤں اور ننگے بدن تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر رسول اللہﷺ کا چہرہ متغیر تھا اور آپ نے صحابہؓ کو جمع کر کے خطاب کیا اور ان کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔ صحابہؓ نے دینار، درہم، کپڑے اور جو اور کھجور صدقہ کیا یہاں تک کہ کپڑوں اور غلے کے دو ڈھیر جمع ہوگئے۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہؐ کا چہرہ یہ منظر دیکھ کر سونے کی ڈلی کی طرح چمک رہا تھا۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/lgG0o]

اپنا تبصرہ بھیجیں