عبد السلام سکول لاہور

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جون 2009ء میں مکرم محمد زکریاو رک صاحب کے قلم سے عبدالسلام سکول آف میتھے میٹیکل سائنسز لاہور سے متعلق ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ مجھے پاکستان میں پروفیسر عبدالسلام صاحب سے وابستہ چار یادگاریں دیکھنے کا موقعہ ملا ہے:
(1) جھنگ کے محلہ فاروقیہ میں ڈاکٹر سلام کا گھر جہاں آپ کی پیدائش ہوئی تھی اور جہاں گورنمنٹ کی طرف سے ایک خستہ حال یادگاری تختی لگی ہوئی ہے۔ مکان کی رکھوالی کیلئے ایک چو کیدار یہاں موجود ہے۔
(2) گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کا شعبہ جہاں دیوار پر شعبہ کے سربراہوں کے نام لکڑی کی تختی پر دیوار پر آویزاں ہیں۔ یہ شعبہ بڑے وسیع وعریض ہال میں ہے جس کا نام اب ’سلام ہال‘ ہے۔
(3) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں فزکس کا شعبہ جہاں سلام چیئر کا دفتر ہے اور جس کے سربراہ پروفیسر غلام مرتضیٰ ہیں۔ یہاں راہداری کی دونوں طرف دیواروں پرڈاکٹر سلام کی تصاویر آویزاں ہیں۔
(4) لا ہور کے محلہ نیو مسلم ٹاؤن میں قائم عبدالسلام سکول آف میتھے میٹیکل سائنسز جو ریاضی میں تحقیق کرنے والا عالمی ادارہ ہے۔ اسے حکومت پنجاب نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی زیر نگرانی 2004ء میں قائم کیا تھا جس کا مقصد ریاضی کے علوم میں ریسرچ اور ایڈوانس سٹڈیز ہے ۔ سکول کے ڈائریکٹر جنرل پر وفیسر ڈاکٹر رضا چوہدری ہیں جو واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی میں بیس سال تک تدریس کا فریضہ انجام دینے کے بعد پاکستان لوٹے ہیں۔ یہ سکول اس وقت ساؤتھ ایشیا میں سب سے مضبوط ادارہ ہے جہاں سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری دی جاتی ہے۔ سکول کا نصب العین یہ ہے کہ پروفیشنل سائنسدانوں کی تربیت کی جائے تا کہ وہ علوم ریاضی کے مختلف شعبوں میں تحقیق کا کام کر سکیں۔ سکول کا ایک نہایت اہم کام پوسٹ ڈاکٹرل فیلوشپ کو شروع کرنا تھا۔ اس کے لئے پہلے پاکستانی طلبہ دیگر ممالک میں جایا کرتے تھے مگر اب غیرممالک سے طلباء پاکستان آرہے ہیں۔ اس سال چین، جرمنی، رومانیہ، امریکہ اور ازبکستان سے طلبہ آئے ہیں۔ اس وقت یہاں 106 سکالرز ریسرچ کا کام کر رہے ہیں جن میں سے 18 پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ ایک خاتون مس شاہین نذیر ایشیا کی سب سے کم عمر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی طالبہ ہیں۔
یہاں کی فیکلٹی سو فی صد غیر ملکی ہے۔یعنی 43 ریاضی دان جن میں سے بعض فل ٹائم اور بعض وزیٹنگ پروفیسرزہیں اُن کا تعلق اِن بارہ ممالک سے ہے: برطانیہ، جرمنی، امریکہ، چین، سویڈن، ناروے، روس، رومانیہ، جارجیا، بلغاریہ، چیکو سلاواکیہ اور ہالینڈ۔ یہ پروفیسرز پی ایچ ڈی کے طلباء کے کام اور پوسٹ ڈاکٹرل فیلوز کے تحقیقی کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ فیکلٹی کے ممبران اور طلبہ کے اب تک دوصد سے زائد ریسرچ پیپرز دنیا کے مشہور ریاضی کے جریدوں میںشائع ہوچکے ہیں۔غیر ممالک کی22 یونیورسٹیوں کے ساتھ ایکس چینج پروگرام بھی جاری ہے۔
ریاضی کو پاکستان میںسیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے طلباء میں مقبول بنانے میں بھی اس ادارہ نے قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انٹرنیشنل مقابلہ شروع کیا گیا ہے جس کانام کانگروز آف میتھے میٹکس ہے۔ اس میں تیسرے سے تیرھویں گریڈ تک کے طالب علم حصہ لے سکتے ہیں۔ اس مقابلے میں 2005ء میں 6,000 طالبعلموں نے حصہ لیا تھا جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 37,000 تھی۔ بین الاقوامی سطح پریہ مقابلہ ہر سال 17مارچ کو منعقد ہوتا ہے۔ گزشتہ سال مختلف ممالک کے تین ملین طلباء نے اس میں حصہ لیا تھا۔ پاکستان بین الاقوامی مقابلے کا ممبر 2005ء میں بنا تھا جبکہ ہندوستان کو اس کی ممبر شپ ابھی تک نہیں ملی۔
2005ء میں پا کستان نے پہلی بار ایک مقابلہ IMO یعنیInternational Mathematical Olympiad (جو میکسیکو میں منعقد ہوا تھا) اُس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے لئے رومانیہ کے ریاضی کے دو پروفیسروں نے طلباء کی مدد کی تھی۔ پاکستانی طلباء نے اس موقعہ پر ریاضی کے چند ایسے مسائل پیش کئے تھے جن کو اوّل درجہ کا قرار دیا گیا تھا۔ 2007ء میں پاکستان نے مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
طلباء کے لئے Communication Skills پروگرام بھی جاری ہے تاکہ بولنے اور لکھنے میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ خود اعتمادی پیدا کی جائے۔ فیکلٹی کے ممبران کی پرفا رمنس بڑھانے کیلئے نومبر 2006ء سے پروفیشنل ڈیو یلپمنٹ ورکشاپس شروع ہیں۔ پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں ریاضی کی تعلیم دینے کیلئے کوچنگ سینٹرز کھولے گئے ہیں اور پاکستانی یونیورسٹیوں کے ریاضی کے پروفیسروں کے لئے ریاضی کی چند شاخوں میں intensive coursesشروع کئے گئے ہیں۔
2009ء میں یہاں چوتھی عالمی کانفرنس بعنوان 21st Century Mathematics
منعقد ہوئی۔ سکول کے پاس اس وقت ٹاپ کلاس کے میتھے میٹیکل سائنسدان ہیں جو اپلائیڈ اور پیورمیتھ میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ یہ سائنسدان ماحولیات، بائیوسائنسز اور انڈسٹری کیلئے میتھے میٹیکل ماڈلنگ فراہم کرنے کے قابل ہیں۔
سکول سے اعلیٰ معیار کا تحقیقی جریدہ Journal of Prime Research in Mathematics شائع ہوتا ہے۔ اسی طرح ریاضی کیلئے ایک اَورمیگزین بھی شائع ہوتا ہے جس کا نام Math Track ہے۔
روزانہ علمی مذاکرہ بھی منعقد ہوتا ہے جس میں ریاضی کی مختلف شاخوں میں ہو نے والی نئی تحقیقات کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ ادارہ کی عمدہ کارکردگی کے پیش نظر انٹرنیشنل سائینٹفک ما نیٹرنگ ایجنسی نے پاکستان کو ’’رائزنگ سٹار‘‘ کا درجہ عطا کیا ہے ۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/MUqtv]

اپنا تبصرہ بھیجیں