علاقہ بلتستان کے پہلے احمدی – محترم مولوی غلام محمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍مئی 1999ء میں علاقہ بلتستان کے پہلے احمدی محترم مولوی غلام محمد صاحب کا ذکر خیر مکرم فضل اللہ طارق صاحب نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ محترم مولوی صاحب کی وفات اپنے گاؤں ’’دُم سُم‘‘ میں 10؍مارچ 1999ء کو ہوئی۔
محترم مولوی صاحب کو قرآن کریم پڑھنے کا شروع ہی سے بہت شوق تھا۔ 1966ء کے لگ بھگ سورۃ آل عمران کی تلاوت کرتے ہوئے جب ایک ایسی جماعت کا ذکر آیا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والی ہے، تو آپ سوچنے لگے کہ ایسی کونسی جماعت ہے۔ علماء سے بھی پوچھا اور دعائیں بھی کیں۔ اس دوران خپلو کے ایک دوکاندار نے سودا ایک ایسے اخبار کے کاغذ میں لپیٹ کر بھجوایا جس میں جماعت کی کوششوں کا ذکر تھا۔ چنانچہ آپ پیدل چھبیس میل کا فاصلہ طے کرکے خپلو پہنچے اور اُس دکاندار سے ملے۔ پتہ چلا کہ یہ ’’الفضل‘‘ اخبار ہے اور فلاں استاد کے گھر سے آیا ہے۔ آپ نے استاد صاحب کا پتہ کیا تو علم ہوا کہ وہ تین دن پہلے وہاں سے جاچکے ہیں۔ چنانچہ آپ اُن کے پیچھے پیچھے تین دن کا پیدل سفر کرکے سکردو پہنچے اور مکرم محمد یوسف صاحب دیوانی صدر جماعت احمدیہ سے ملاقات کرکے بیعت کی خواہش ظاہر کی۔ احمدیوں نے مشورہ دیا کہ بیعت میں جلدی نہ کریں اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں۔ چنانچہ آپ واپس دُم سُم آگئے اور دعائیں شروع کردیں۔ پھر ایک خواب دیکھی جس میں ایک نورانی بزرگ نے اپنے تیسرے خلیفہ کی بیعت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ آپ نے غالباً 1967ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی بیعت کرلی۔
پھر آپ کے دل میں ربوہ جانے کی خواہش زور پکڑنے لگی لیکن دوری اور وسائل کی کمی آڑے آتی رہی۔ آخر آپ نے اپنی ایک زمین کسی کو اس شرط پر دی کہ وہ آپ کے بیٹے عبدالوہاب صاحب کو ربوہ چھوڑ آئے۔ وہ شخص بددیانت نکلا اور اُس نے راولپنڈی کے ایک مدرسہ میں عبدالوہاب صاحب کو داخل کروادیا۔ جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کو بہت افسوس ہوا اور آپ دسمبر 1972ء میں اپنے بیٹے کو لے کر ربوہ پہنچے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملاقات کرکے بیٹے کے ربوہ میں قرآن حفظ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جسے حضورؒ نے ازراہِ شفقت منظور فرمالیا۔
حافظ عبدالوہاب صاحب نے تین سال کے عرصہ میں قرآن کریم حفظ کرلیا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اُنہیں بلاکر فرمایا کہ جامعہ احمدیہ میں داخل ہو جائیں۔ حافظ صاحب نے عرض کی کہ جامعہ میں تو تعلیم کم از کم میٹرک ہے جبکہ مَیں نے کوئی جماعت بھی پاس نہیں کی صرف قرآن کریم حفظ کیا ہے اور کچھ لکھنا پڑھنا ہی سیکھا ہے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ کچھ لکھ کر دکھاؤ۔ حافظ صاحب نے ’’بسم اللہ…‘‘ لکھ کر دکھائی تو حضورؒ نے فرمایا تم ٹھیک لکھتے ہو، جامعہ میں داخل ہو جاؤ، مَیں دعا کروں گا، اللہ تعالیٰ تم کو کامیاب کرے گا۔
چنانچہ حیرت انگیز طور پر دنیاوی تعلیم سے نابلد لیکن قرآنی نور سے منور حافظ عبدالوہاب صاحب نے 1984ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کرلی۔ مگر آپ کی زندگی نے وفا نہ کی اور آپ 16؍اکتوبر 1989ء کو وفات پاگئے۔ محترم مولوی غلام محمد صاحب نے اس صدمہ کو خدا کی رضا جان کر صبر سے گزار دیا۔
محترم مولوی صاحب اپنے علاقے کی ایک مشہور شخصیت تھے۔ سینکڑوں لوگوں کو آپ نے قرآن کریم پڑھایا۔ ریڈیو پاکستان سے کئی سال تک بلتی زبان میں پروگرام کرتے رہے۔ پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ آپ نے چار شادیاں کیں۔ تین بیویوں کے ہاں ایک ایک اولاد ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں