علم آثار قدیمہ (Archeology)

ماہنامہ ’’خالد‘‘ اگست 2012ء میں مکرم وحید احمد طاہر صاحب کے قلم سے علم آثار قدیمہ کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔
یونانی زبان سے ماخوذ اصطلاح ’’آرکیالوجی‘‘ کے لغوی معانی ہیں:
’’انسان اور اس سے متعلق اداروں، رسموں اور چیزوں کی ابتداء اور ان کے ارتقاء کا مطالعہ‘‘۔
قرآن کریم میں اس علم کے حوالے سے یہ پیش خبری دی گئی تھی:
’’اور جب قبریں اکھاڑی جائیں گی۔‘‘ (الانفطار:82)
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
سورۃالزلزال کی تیسری آیت میں تو بتایا گیا ہے کہ زمین اپنے مخفی خزانے اُگل دے گی اور سورۃالانفطار کی مندرجہ بالا آیت آثار قدیمہ کی دریافت کی واضح طور پر خبر دے رہی ہے … قرآن کریم کی بہت سی آیات قدیم مدفون بستیوں اور تہذیبوں کی طرف انسان کو بار بار اور براہ راست متوجہ کرتے ہوئے اُسے ان آثار قدیمہ کی کھدائی اور ان کی تباہی کے اسباب کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دلاتی ہیں۔ (الہام، عقل،علم اور سچائی صفحہ514)
آرکیالوجی کا آغاز پندرھویں صدی عیسوی میں ہوا جب قدیم فن پاروں کے جمع کرنے کا شوق اپنے عروج پر تھا۔ اسی سلسلے میں قدیم یونانی مجسموں کے حصول کے لیے کھدائی کا کام ہوا اور یہی جستجو اور تلاش آثارِ قدیمہ کے مضمون میں بدل گئی۔ پہلے قدیم رومنوں اور یونانیوں کی معدوم آبادیوں کو کھوجا گیا۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں Heinrich Schijliemann اور Arthur Evans نے ہزاروں سال پرانے یونانی شہر Troy اور Crete ڈھونڈ نکالے۔ ان دریافتوں نے بھی آثار قدیمہ کو بطور علم عمدہ تحریک فراہم کی۔
نپولین بوناپارٹ کے ساتھ موجود فرانسیسی ماہرین نے قدیم مصری آثار پر خاصا مبسوط کام کیا اور یوں مصر کی تاریخ کے کئی اہم ادوار پر کام شروع ہوا۔
ایڈورڈ ابنسن نے بائبل کے جغرافیہ پر کام کرتے ہوئے قدیم تحریروں کا مطالعہ کیاچنانچہ میسوپوٹیمیا کے آثار قدیمہ میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں قابل قدر کام ہوا۔ 1947ء میں Dead Sea Scrolls پڑھنے میں کامیابی کے بعد اس خطے میں ہونے والی تحقیق نے نیا رُخ اختیار کرلیا۔
برصغیر میں وادیٔ سندھ اور گندھارا تہذیب جبکہ امریکہ کی مایا تہذیب کے آثار انیسویں صدی میں دریافت ہوئے۔
ڈنمارک کے ایک ماہر آثار قدیمہ Christian Jurgensen Thomsen نے 1832ء میں ہتھیاروں اور دیگر استعمال شدہ چیزوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کو بنیاد بناکر تمدّنی ترقی کے مختلف مراحل بیان کیے۔ اُس کی تحقیق کے مطابق حجری دَور (Stone Age)، کانسی کا دَور (Bronze Age) اور لوہے کا دَور (Iron Age) اہم تمدّنی ادوار قرار پائے۔ جدید سائنسی ترقی نے بھی آثار قدیمہ کو اہم تحقیقی اوزار فراہم کیے۔ ان کی مدد سے حیوانی اور نباتاتی باقیات کا مطالعہ کرکے معلوم ہوا کہ انسان نے کب زراعت اور گلّہ بانی کا آغاز کیا۔ جدید تحقیق میں پرانی تہذیبوں کے زمانی تعین کے لیے تابکار کاربن اور پوٹاشیم آرگون (Potassium-argon dating) کی شرح انحطاط سے مدد لی جاتی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/N51ug]

اپنا تبصرہ بھیجیں