عہد خلافت خامسہ میں پوری ہونے والی عظیم پیشگوئیاں اور نشانات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2011ء میں مکرم عبدالسمیع خان صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں خلافت احمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ایمان افروز واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
= زندہ خدا کی قائم کردہ خلافت کی سچائی کا ایک ثبوت یہ بھی ہوتا ہے کہ ماضی میں اہل اللہ کی طرف سے دی گئی خبریں اس عرصہ میں تکمیل کو پہنچتی ہیں اور اس مقدس وجود کے منجانب اللہ ہونے کی بھی دلیل بنتی ہیں جو سریر آرائے خلافت ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت عہد خلافت میں بھی صلحاء کی زبان سے کی جانے والی پیشگوئیاں پورا ہونے کا نظام جاری ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عالمِ کشف میں حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ سے فرمایا کہ اب تُو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔ یہ پیشگوئی آپؓ کی اولاد میں پوری ہوئی۔ اسی طرح 28 مئی 1907ء کے الہامات ہیں:
٭ عَمَّرَہُ اللہُ عَلیٰ خِلَافِ التَّوَقُّع۔ اس کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا ۔
٭ اَمَّرَہُ اللہُ عَلیٰ خِلَافِ التَّوَقُّع۔ اس کو یعنی شریف کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا۔
٭ جنوری 1907ء۔ شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔ فرمایا قاضی حَکم کو بھی کہتے ہیں۔ قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو ردّ کرے۔
٭ دسمبر 1907ء کا الہام ہے: اِنِّیْ مَعَکَ یَامَسْرُوْر۔ اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں ۔
= حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اصحاب کو بھی یہ خبر دی گئی تھی کہ حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کی اولاد میں سے آپؑ کے جانشین اور خلفاء پیدا ہوں گے۔ چنانچہ حضرت مولوی عبدالستار صاحبؓ ساکن خوست نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی زندگی میں دیکھا کہ ’’میاں محمود اور شریف احمد مسیح موعود کے ولی عہد ہیں‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی ایک رؤیا یوں بیان فرمائی کہ مَیں عربی بلاد میں ہوں اور ایک موٹر میں سوار ہوں۔ ساتھ ہی ایک اور موٹر ہے جو غالباً میاں شریف احمد صاحب کی ہے۔ پہاڑی علاقہ ہے اور اس میں کچھ ٹیلے سے ہیں۔ ایک جگہ جا کر دوسری موٹر جو میں سمجھتا ہوں میاں شریف احمد صاحب کی ہے کسی اَور طرف چلی گئی ہے اور میری موٹر اَور طرف۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری موٹر ڈاک بنگلے کی طرف جارہی ہے۔ بنگلہ کے پاس جب میں موٹر سے اترا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے، میرے پاس آئے ہیں، میں اس وقت اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف جانا چاہتا ہوں لیکن ان عربوں کے آجانے کی وجہ سے آگیا ہوں۔ انہوں نے آتے ہی کہا: السلام علیکم یاسیّدی۔ مَیں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم عربی بلاد سے آئے ہیں اور ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہیں اور ہم آپ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔ اس پر مَیں نے ان سے پوچھا کہ کس غرض سے آپ تشریف لائے ہو؟ تو ان کے لیڈر نے جواب دیا کہ:

جِئْنَا لِنَسْتَشِیْرَکُ فِی الْاُمُورِ الْاِقْتِصَادِیَّۃ وَالتَّعْلِیْمِیَّۃ۔

اور غالباً سیاسی اور ایک اور لفظ بھی کہا۔ اس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور ان سے کہا کہ مکان میں آجایئے، وہاں مشورہ کریں گے۔ جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چُنا ہؤا ہے اور کرسیاں لگی ہیں۔ میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں، ان کے لئے یہ انتظام ہو۔ اور میں آگے دوسرے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور اردگرد اس طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسے کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے۔ میں نے ان کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لئے ہے۔ ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔…
مضمون نگار کے خیال میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے مراد حضور انور ایدہ اللہ ہیں۔ ان کی موٹر کا راستہ الگ ہوجانے سے مراد الگ الگ حکمت عملی ہے جو پہلے اور تھی اب MTA کے ذریعہ بدل گئی ہے۔ نیز عرب حضور سے قادیان میں نہیں ملے کیونکہ حضور کا مستقر لندن ہے۔ اسی لئے رؤیا میں انگریزوں کا ذکر بھی ہے۔ اور پھلوں سے مراد بیعتیں ہیں۔
= حضرت علیؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ روایت فرمائی کہ ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا جو حارث بن حراث کہلائے گا یعنی پیشہ کے اعتبار سے زمیندار ہوگا اس کے لشکر کا ایک سردار منصور نامی ہوگا اس سے آل محمدؐ کو تمکنت حاصل ہوگی اور اس کی مدد کرنا ہر مومن پر واجب ہوگا۔
یہاں حضرت مرزا منصور احمد صاحب ہی حارث حراث ہیں۔ خود حضور انور نے ایگریکلچرل اکنامکس میں M.Sc. کیا، احمدیہ زرعی فارم ٹمالے (غانا) کے مینیجر رہے اور غانا میں پہلی مرتبہ گندم اُگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔
= حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے خطبہ جمعہ 8مئی 1987ء میں اپنا یہ خواب بیان فرمایا تھا کہ حضرت بوزینب صاحبہ (صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی والدہ) تشریف لائی ہیں۔ قد بھی بڑا ہے۔ جس حالت میں جسم تھا اس کے مقابل پر زیادہ پُرشوکت نظر آتی ہیں ۔ آپ آکے مجھے گلے لگتی ہیں لیکن گلے لگ کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور بغیر الفاظ کے مجھ تک ان کا یہ مضمون پہنچتا ہے کہ مَیں خود نہیں ملنے آئی بلکہ ملانے آئی ہوں۔ اس کے معاً بعد ایک خیمہ سے حضرت پھوپھی جان نکلتی ہیں گویا کہ وہ اُن کو ملانے کی خاطر تشریف لائی تھیں۔ خواب میں ایسا منظر ہے کہ اَور نہ کوئی بات ہوئی ہے نہ کوئی اور نظارہ ہے۔ دائیں بائیں صرف خیمہ سے آپ کا نکلنا ہے اور بہت ہی خوش لباس ہیں، اچھی صحت ہے، آپ جب گلے لگتی ہیں تو اس قدر محبت اور پیار سے گلے لگتی ہیں اور اتنی دیر تک گلے لگائے رکھتی ہیں کہ اس خواب میں حقیقت کا احساس ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ جب میری آنکھ کھلی تو لذّت سے میرا سینہ بھرا ہو اتھا اوربالکل یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی مل کے گئی ہیں۔ لیکن اس میںایک غم کے پہلو کی طرف توجہ گئی کہ زینب نام میں ایک غم کا پہلو پایا جاتا ہے لیکن اُس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ یہ الوداعی معانقہ ہے۔ میرا دل اس طرف گیا کہ شاید جماعت پر کوئی اور ابتلا آنے والا ہے ایک غم کی خبر ہو گی ا س سے ۔فکر پیدا ہو گئی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو حفاظت میںرکھے گا۔
غالباً اس رؤیا میں حضرت بوزینب صاحبہؓ کے نام میں غم سے مراد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی وفات ہے۔ اور ان کا بغیر لفظوں کے یہ پیغام پہنچانا کہ میں خود ملنے نہیں آئی بلکہ ملانے آئی ہوں میں یہ مضمون ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ذریعہ سلسلہ خلافت کو جوڑنے آئی ہیں۔ اور قد زیادہ پُرشوکت نظر آنے سے مراد بھی خلافت کا مقام ہے۔
= سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رؤیا میں ایم ٹی اے پر ٹیلی فون کالوں اور اعتراضوں کا جواب دینے کا ذکر بھی موجود ہے۔ فرماتے ہیں: مَیں نے دیکھا کہ کسی سرکاری افسر نے کوئی تقریر ایسی کی ہے جس میں احمدیت پر کچھ اعتراضات ہیں۔ اس کو سن کر حضرت مسیح موعودؑ ایک پبلک فون کی جگہ پر چلے گئے اور فون پر اس کی تردید شروع کی۔ مگر بجائے آپ کی آواز فون میں جانے کے، ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اس فون میں آپ نے سب اعتراضوں کو ردّ کیا ہے جو اس افسر کی طرف سے لئے گئے ہیں۔
= ایم ٹی اے کے ذریعہ مواصلاتی فتوحات کے تذکرہ کے دوران خلافت خامسہ میں اس کی نئی شاخوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اس کا تذکرہ بھی سابقہ پیشگوئیوں میں موجود ہے۔
٭ 23 جون 2003ء سے ایم ٹی اے کی نشریات Asia Sat 3 پر شروع ہوگئیں اور دنیا کے آخری جزیرہ تاویونی میں بھی واضح سگنل موصول ہونے لگے۔
٭ 22؍اپریل 2004ء سے ایم ٹی اے کے دوسرے چینل MTA الثانیہ کا اجراء ہوا۔
٭ 23 مارچ 2006ء کو ایم ٹی اے کے نئے آٹومیٹڈ براڈ کاسٹ سسٹم کا افتتاح ہوا۔
٭ 10 جولائی 2006ء کو انٹرنیٹ پر ایم ٹی اے کی نشریات شروع ہوگئیں۔
٭ 23 مارچ 2007ء کو ایم ٹی اے العربیہ کا اجراء ہوا۔ اس چینل نے عرب دنیا میں ایک ہلچل مچادی ہے۔
= حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے خبردی تھی کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔
یہ الہام مختلف رنگوں میں پورا ہوتا رہا مگر خلافت خامسہ میں اس الہام نے ایک نیا جلوہ دکھایا اور 16دسمبر 2005ء کو قادیان کی مسجد اقصیٰ سے معجزانہ طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کی صورت میں مسیح موعود کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچنے لگی اور یہ پیغام جلسہ کے خطابات کے علاوہ 5خطبات جمعہ اور ایک خطبہ عیدالاضحی کی صورت میں گونجتا رہا۔
اس کے 3 ماہ بعد 28؍اپریل 2006ء کو زمین کے کنارے فجی سے حضور کا خطبہ جمعہ زمین کی تمام بلندیوں اور پستیوں میں نشر ہوا جسے فجی کے نیشنل ٹی وی نے بھی Live نشر کیا۔ حضور نے 2 مئی 2006ء کو جزیرہ تاویونی پر لوائے احمدیت لہرایا جہاں سے Date Line گزرتی ہے۔
پس قادیان سے زمین کے کناروں تک اور زمین کے کناروں سے تمام دنیا تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کا ابلاغ احمدیت کے مواصلاتی اور فضائی دَور کا نیا سنگ میل ہے۔
= حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے 1920ء میں ایک مضمون میں ’احمدیہ جہاز‘ کا نظریہ پیش کیا تاکہ مبلغین اور احمدی حجاج باآسانی سفر کرسکیں۔
٭ بعد ازاں 1924ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے سفر یورپ میں اس خواہش کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ حضورؓ کا منشاء تھا کہ اپنے جہاز تجارت اور تبلیغ کی اغراض میں معاون ہوں گے۔
٭ حضورؓ نے 1936ء کی مجلس مشاورت میں بھی اپنی اس خواہش کا یوں اظہار فرمایا: ’’مَیں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش! یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کاش! یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں‘‘۔
٭ اللہ تعالیٰ نے خلافت خامسہ میں یہ حیرت انگیز معجزہ دکھایا کہ حضور انور کے دورۂ امریکہ 2008ء کے بعد حضور جس جہاز سے کینیڈا تشریف لے گئے، اسے خلافت فلائٹ کانام دیا گیا۔ یہ سفر 24 جون 2008ء کو دنیا کی چوتھی بڑی ہوائی کمپنی Continental ایئرلائن پر کیا گیا۔ مکرم منعم نعیم صاحب (نائب امیر یو ایس اے) اس ایئرلائن کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ اس جہاز میں سفر کرنے والے احباب کی تعداد 27 تھی۔ جو بورڈنگ کارڈ مہیا کیا گیا اس پر صد سالہ خلافت جوبلی کا Logo بنا ہوا تھا اور ایک طرف منارۃ المسیح کی تصویر تھی۔ کارڈ کے اوپر لکھا ہوا تھا “Khilafat Flight” اور ایک حصہ پر Ahmadiyya Muslim Community لکھا ہؤا تھا اور نچلے حصہ میں “Khilafat Centenary Celebration” کے الفاظ درج تھے۔
= اسی طرح دنیابھر میں مساجد کی تعمیر، نیز شدید زلازل اور غیرمعمولی طوفانوں سے زمین کے تہ و بالا ہونے کی پیشگوئیاں بھی خلافتِ خامسہ کے دَور میں حیرت انگیز شان سے پوری ہورہی ہیں۔
الغرض پیشگوئیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ایک طرف خلافت احمدیہ کی صداقت کو آشکار کر رہا ہے تو دوسری طرف خدائے لم یزل کی عظمت کے ترانے گا رہا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/6eyTo]

اپنا تبصرہ بھیجیں